TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of transactions - کتاب: لین دین کے مسائل - Book 23 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 23 of Sahih Muslim, with 21 chapters and 161 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

161 Hadith · 21 Chapters
جو شخص بیع میں دھوکا کھاتا ہو
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: فَكَانَ إِذَا بَايَعَ يَقُولُ: لَا خِيَابَةَ
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah b. Dinar with the same chain of transmitters but these words are not found in it. When he buys he should say: There should be no attempt to deceive.
سفیان اور شعبہ دونوں نے عبداللہ بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، لیکن ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں : وہ جب سودا کرتا تو کہتا تھا : دھوکا نہیں ہو گا
3861
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا» نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ،
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade the sale of fruits until they were clearly in good condition, he forbade it both to the seller and to the buyer.
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک درختوں پر لگے ہوئے ) پھلوں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ ان کی ( پکنے کی ) صلاحیت ظاہر ہو جائے ۔ آپ نے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو ( ایسی بیع سے ) منع فرمایا
3862
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
Another chain on the authority of Ibn 'Umar narrated the same as the above hadith.
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
3863
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ، وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ» نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade the sale of palm-trees (i. e. their trults) until the dates began to ripen, and ears of corn until they were white and were safe from blight. He forbade the seller and the buyer.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ یا زرد ہو جائے اور کِھیل ( سٹہ ) ( کی بیع ) سے حتی کہ وہ ( دانے بھر کر ) سفید اور آفات سے محفوظ ہو جائے ۔ آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرمایا
3864
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَتَذْهَبَ عَنْهُ الْآفَةُ»، قَالَ: يَبْدُوَ صَلَاحُهُ: حُمْرَتُهُ وَصُفْرَتُهُ
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do not buy fruit until its good condition becomes clear, and (the danger) of blight is no more. He said: Its good condition becoming clear implies that it becomes red or yellow.
جریر نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پھل مت خریدو حتی کہ ان کی صلاحیت ظاہر ہو جائے اور اس سے آفت ( کا امکان ) ختم ہو جائے ۔ "" ( ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اس کی صلاحیت ( ظاہر ہونے ) سے اس کی سرخی اور زردی مراد ہے
3865
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ،
This hadith is reported or the authority of Yahya with the same chain of transmitters up to until its good condition becomes clear, but lie did not mention what follows (these words).
عبدالوہاب نے یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ " حتیٰ کہ اس کی صلاحیت واضح ہو جائے " تک حدیث بیان کی ، اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا
3866
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through another chain of transmitters.
ابن ابی فُدیک نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ضحاک نے نافع سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عبدالوہاب کی حدیث کی طرح روایت کی
3867
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَعُبَيْدِ اللهِ
Nafi, reported on the authority of Ibn Umar (Allah be pleased with them) a hadith like that narrated before.
موسیٰ بن عقبہ نے مجھے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک اور عبیداللہ کی حدیث کے مانند روایت بیان کی
3868
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger' ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do not buy fruits (on the trees) until their good condition becomes clear.
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم پھل نہ بیچو یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے
3869
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: مَا صَلَاحُهُ؟ قَالَ: تَذْهَبُ عَاهَتُهُ
In the hadith transmitted on the authority of Shu'ba it was stated that Ibn Umar (Allah be pleased with them) was asked what good condition implied. He said: When (the danger of) blight is no more.
سفیان اور شعبہ دونوں نے عبداللہ بن دینار سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، شعبہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : اس کی صلاحیت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا : اس سے آفت ( بورگر جانے اور بیماری لگ جانے ) کا وقت ختم ہو جائے
3870
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى - أَوْ نَهَانَا - رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ
Jabir (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade (or forbade us) the sale of fruits until they are ripe in a good condition.
ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک ) درخت پر لگے پھل کو بیچنے سے منع فرمایا ۔ ۔ یا کہا : ہمیں منع فرمایا ۔ ۔ یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو جائے
3871
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbidding the sale of fruit until its good condition is obvious.
عمرو بن دینار نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک ) درخت پر لگے پھل کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے
3872
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ، فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ، أَوْ يُؤْكَلَ، وَحَتَّى يُوزَنَ»، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا يُوزَنُ؟ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ: حَتَّى يُحْزَرَ
Abu Bakhtari reported: I asked Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) about the sale of dates. He said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade the sale of dates of the trees until one eats them or they are eaten (i. e. they are fit to be eaten) or until they are weighed (or measured). I said: What does it imply: Until it is weighed ? Thereupon a person who was with him (Ibn Abbas) said: Until he is able to keep it with him (after plucking them).
ابو بختری سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کھجور کی بیع کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ اس سے خود کھا سکے یا وہ کھائے جانے کے قابل ہو جائے ، اور یہاں تک کہ اس کا وزن کیا جا سکے ۔ میں نے کہا : اس کا وزن کیے جانے سے کیا مراد ہے؟ ان کے پاس موجود ایک شخص نے کہا : اس ( کے وزن ) کا اندازہ لگایا جا سکے
3873
Sahih
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبْتَاعُوا الثِّمَارَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do not sell the fruits until their good condition becomes evident.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( درختوں پر لگا ہوا ) پھل نہ خریدو یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے
3874
Sahih
عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbidding the sale of fruits until their good condition becomes evident and the purchase of dates for dates.
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے خبر دی ، نیز ہمیں ابن نمیر اور زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ انہی دونوں کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی کہ ہمیں زہری نے سالم سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے ( پکنے کی ) صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلہے پھل کی بیع سے اور پھل کو خشک کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا
3875
Sahih
عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے
قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا»، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: أَنْ تُبَاعَ
Zaid b. Thabit (Allah be pleased with him) said that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave a concession in case of the sale known as al-araya, there is an addition of the word an tuba'a in the hadith transmitted by Ibn Numair.
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمیں زید بن ثابت نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اجازت دی ۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : ( اجازت دی ) کہ اسے بیچا ( یا خریدا ) جائے
3876
Sahih
عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ»، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ سَوَاءً
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do not buy the fruit until their condition is clear, and do not buy the fresh dates. A hadith like this has been reported by Ibn 'Umar through another chain of transmitters.
ابن شہاب سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" پھل ( پکنے ) کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے مت خریدو اور نہ خشک کھجور کے عوض ( درخت پر لگا ) پھل خریدو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ بن عمرو نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، بالکل اسی کے مانند
3877
Sahih
عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ»، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يُبَاعَ ثَمَرُ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ، وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يُبَاعَ الزَّرْعُ بِالْقَمْحِ، وَاسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ بِالْقَمْحِ ‘قَالَ: وَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ‘وقَالَ سَالِمٌ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَنَّهُ رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ، أَوْ بِالتَّمْرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ
Sa'id b. al-Musayyib said that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade the transaction of Af Muzabana and Muhaqala. Muzabana means that fresh dates on the trees should be sold against dry dates. Muhaqala implies that the wheat in the ear should be sold against the wheat and getting the land on rent for the wheat (produced in it). He (the narrator) said that the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had aid: Do not sell fresh fruits on the trees until their good condition becomes manifest, and do not sell fresh dates on the trees against dry dates. Salim said: Abdullah informed me on the authority of Zaid b. Thabit, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having given concession afterwards in case of ariyya transactions by which dry dates can be exchanged with fresh dates, but he did not permit it in other cases.
ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ کی بیع سے منع فرمایا ۔ مزابنہ یہ ہے کہ کھجور پر لگے پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کیا جائے ، اور محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کو ( کٹنے سے پہلے ) گندم کے عوض فروخت کیا جائے اور زمین کو گندم کے عوض کرائے پر دیا جائے ۔ ( ابن شہاب نے ) کہا : مجھے سالم بن عبداللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی کہ آپ نے فرمایا : "" صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھل نہ خریدو ، اور نہ ( درخت پر لگے ) پھل کو خشک کھجور کے عوض خریدو ۔ "" سالم نے کہا : مجھے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اس ( ممانعت کے عام حکم ) کے بعد عَرِیہ کی بیع میں تروتازہ یا خشک کھجور کے عوض بیع کی رخصت دی ، اور اس کے سوا کسی بیع میں رخصت نہیں دی
3878
Sahih
عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ
Zaid b. Thabit (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (may peace he upon him) having given concession in case of 'ariyya for selling dry dates (with) fresh dates after measuring them out.
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ والے کو اجازت دی کہ وہ اسے ( اس پر موجود پھل کو ) مقدار کا اندازہ کرتے ہوئے خشک کھجور کے عوض بیچ لے
3879
Sahih
عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، حَدَّثَهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا، يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا
Zaid b. Thabit reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) give concession in case of 'ariyya transactions according to which the members of the household give dry dates according to a measure and then eat fresh dates (in exchange for it)
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی کہا : مجھے نافع نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے بارے میں رخصت دی ( عریہ یہ ہے ) کہ گھر والے ( اپنی طرف سے دیے گئے درخت کے پھل کا ) خشک کھجور کے حوالے سے اندازہ لگا کر اسے لے لیں تاکہ وہ تازہ کھجور کھا سکیں
3880
Sahih

Chapters

21
01
ملامسہ اور منابذہ کی بیع باطل ہے
8 Hadith
02
کنکر پھینک کر بیع کرنا اور ایسی بیع کرنا جس میں دھوکا ہو ‘باطل ہیں
1 Hadith
03
حبل الحبلہ کی بیع حرام ہے
1 Hadith
04
مسلمان )بھائی کی بیع پر بیع کرنا ‘اس کے سودے پر سودا بازی کرنا ‘بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانا اور جانور کے تھنوں میں دودھ روکنا حرام ہے
8 Hadith
05
باہر سے لایا جانے والا سامان (راستے میں جا کر )خریدنا حرام ہے
5 Hadith
06
شہری کا دیہاتی کے لیے بیع کرنا حرام ہے
6 Hadith
07
جس جانور کا دودھروکا گیا ہو ‘اس کی بیع
6 Hadith
08
خریدے گئے سامان کو قبضے میں لینے سے پہلے آگے بیچنا باطل ہے
15 Hadith
09
نا معلوم مقدار میں کھجور کے ڈھیر کو (متعین مقدار کی )کھجور وں کے عوض بیچنا حرام ہے
2 Hadith
10
مجلس (ایک جگہ موجود گی )ختم ہونے سے پہلے بیچنے یا خریدنے والے کو سودا واپس کرنے کا اختیار ہے
5 Hadith
11
بیع میں سچ بولنا اور حقیقت حال کو واضع کرنا
2 Hadith
12
جو شخص بیع میں دھوکا کھاتا ہو
2 Hadith
13
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
13 Hadith
14
عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے
26 Hadith
15
جو شخص کھجور کا ایسا درخت فروخت کرے جس پر پھل لگا ہو
7 Hadith
16
بیع محاقلہ ‘مزانبہ ‘مخابرہ ‘صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھلو ں کو بیچنا اور بیع معاومہ یعنی کئی سالوں کے لیے (درخت کا پھل )بیچ دینا ممنوع ہے
8 Hadith
17
زمین کو کرایہ پر دینا
30 Hadith
18
زمین کو غلہ کے عوض بٹائی پر دینا
7 Hadith
19
سونے اور چاندی کے عوض زمین کو کرایہ پر دینا
4 Hadith
20
مزارعت (زمین کو پیدا وار کی متعین مقدار کے عوض )اور مؤاجرت (نقدی کے عوض کرائے پر دینے )کا حکم
2 Hadith
21
کسی کو زمین عاریتاًدینا
3 Hadith
No chapter matched that.