TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of transactions - کتاب: لین دین کے مسائل - Book 23 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 23 of Sahih Muslim, with 21 chapters and 161 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

161 Hadith · 21 Chapters
زمین کو کرایہ پر دینا
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَطَاءً، فَقَالَ: أَحَدَّثَكَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكْرِهَا»، قَالَ: نَعَمْ
Sulaiman b. Musa asked Ata': Did Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who has land should cultivate it himself, or let his brother cultivate it, and should not give on rent ? He said: Yes.
ہمام نے حدیث بیان کی ، کہا : سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے سوال کیا اور کہا : کیا آپ کو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو ( تو بہتر ہے ) وہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے اور اسے کرائے پر نہ دے؟ " انہوں نے جواب دیا : ہاں
3921
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ
Jabir (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having forbidden Mukhabara.
عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ ( غلط شرطوں کے ساتھ بٹائی پر دینے ) سے منع فرمایا
3922
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا تَبِيعُوهَا»، فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: مَا قَوْلُهُ، وَلَا تَبِيعُوهَا يَعْنِي الْكِرَاءَ؟ قَالَ: «نَعَمْ
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: He who has surplus of land should either cultivate it himself, or let his brother cultivate it, an should not sell it. I (the narrator) said to Sa'id: What does his statement do not sell it mean? Does it imply rent ? He said: Yes.
سعید بن میناء نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس فالتو زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے اور اسے ( استفادے کے لیے ) فروخت نہ کرو ۔ " میں ( سلیم بن حیان ) نے سعید سے پوچھا : " اسے فروخت نہ کرو " سے کیا مراد ہے؟ کیا آپ کی مراد کرایہ پر دینے سے تھی؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں
3923
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُصِيبُ مِنَ الْقِصْرِيِّ وَمِنْ كَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ فَلْيُحْرِثْهَا أَخَاهُ، وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا
Jabir b. 'Abdullah reported: We used to cultivate land on rent during the lifetime of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and we got a share out of the grain left in the ears after threshing them and something unspecified. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who has land should cultivate it or let his brother till it, otherwise he should leave it.
زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین بٹائی پر دیتے اور ( باقی ساری پیداوار میں سے حصے کے علاوہ ) گاہے جانے کے بعد خوشوں میں بچ جانے والی گندم اور اس طرح کی چیزیں ( پانی کی گزرگاہوں کے ارد گرد ہونے والی پیداوار ) وصول کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو کاشت کاری کے لیے ( عاریتا ) دے دے ورنہ اسے ( خالی ) پڑا دہنے دے
3924
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ ابْنُ عِيسَى: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ الْأَرْضَ بِالثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ بِالْمَاذِيَانَاتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ لَمْ يَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَلْيُمْسِكْهَا
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported: We used to get land (on rent) during the lifetime of Allah's Messeuge, ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with a share of one-third or one-fourth (of the produce from the land irrigated) with the help of canals. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up (to address) and said: HRe who has land should cultivate it, and if he does not cultivate it, he should lend it to his brother, and if he does not lend it to his brother, he should then retain it.
ہشام بن سعد نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہیں ابوزبیر مکی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض ، نالوں ( کے کناروں کی پیداوار ) کے عوض زمین لیتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو تو ( بہتر ہے ) وہ اسے کاشت کرے ۔ " اگر وہ خود اسے کاشت نہیں کرتا تو اپنے بھائی کوعاریتا دے دے ، اگر وہ اسے اپنے بھائی کو بھی نہیں دیتا تو اس کو اپنے پاس رکھ لے
3925
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَهَبْهَا، أَوْ لِيُعِرْهَا
Jabir (Allah he pleased with him) reported: I heard Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who has (surplus) land should donate it (to others), or lend it.
ابو عوانہ نے ہمیں سلیمان ( اعمش ) سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوسفیان ( طلحہ بن نافع ) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جس کے پاس زمین ہو تو ( بہتر ہے کہ ) وہ اسے ہبہ کرے یا عاریتا دے دے
3926
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا رَجُلًا
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters, but with a slight change of words.
عمار بن رُزَیق نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے کہا : " وہ اسے کاشت کرے یا کسی اور آدمی کو کاشت کاری کے لیے دے
3927
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ»، قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: كُنَّا نُكْرِي أَرْضَنَا، ثُمَّ تَرَكْنَا ذَلِكَ حِينَ سَمِعْنَا حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
Jabir b. `Abdullah (Allah be pleased with them) reportedthat Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had forbidden renting of land. Bukair (one of the narrators) said: Nafi` reported to me that he heard Ibn `Umar (Allah be pleased with them) saying: We usedto give land on rent; we then abandoned this practice when we heard the hadith of Rafi` b. Khadij.
بکیر نے حدیث بیان کی کہ انہیں عبداللہ بن ابی سلمہ نے نعمان بن ابی عیاش سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو ( ممنوعہ طریقے سے ) کرائے پر دینے سے منع فرمایا ۔ بکیر نے کہا : مجھے نافع نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم اپنی زمینیں بٹائی پر دیتے تھے ، پھر جب ہم نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث سنی تو اسے ترک کر دیا
3928
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
Jabir (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbidding the selling (renting of) uncultivated land for two years or three.
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالی زمین کی دو یا تین سالوں کے لیے بیع کرنے سے منع فرمایا
3929
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ»، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ: عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ
Jabir (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbidding selling of (produce) in advance for two years, and in the narmtion of Ibu Abd Shaiba (the words are): Selling of the fruits (on the tree) in advance for two years.
سعید بن منصور ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حمید اعرج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن عتیق سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : پھلوں کی کئی سال کے لیے بیع سے ( منع فرمایا
3930
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who has land should cultivate it or lend it to his brother, but if he refuses, he should retain his land.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کی زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو عاریتا دے دے ، اگر وہ نہیں مانتا تو اپنی زمین اپنے پاس رکھے ۔ " ( غلط طریقے سے بٹائی پر نہ دے
3931
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ نُعَيْمٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنْهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْحُقُولِ»، فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: الْمُزَابَنَةُ: الثَّمَرُ بِالتَّمْرِ، وَالْحُقُولُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbidding Muzabana, and Huqul. Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) said: Muzabana means the selling of fruits for dry dates and Huqul is the renting of land.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ مزابنہ اور حُقول سے منع فرما رہے تھے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : مزابنہ سے مراد ( کھجور پر لگے ) پھل کی خشک کھجور سے بیع ہے اور حقول سے مراد زمین کو ( اس کی پیداوار کے متعین حصے کے عوض ) بٹائی پر دینا ہے
3932
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbidding Muhaqala and Muzabana.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا
3933
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ»، وَالْمُزَابَنَةُ: اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ، وَالْمُحَاقَلَةُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having forbidden Mazabana and Muhaqala. Muzibana means the buying of fruits on the trees and Muhaqala is the renting of land.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ۔ مزابنہ درخت پر لگی کھجور کو ( خشک کھجور کے عوض ) خریدنا ہے اور محاقلہ سے مراد زمین کو کرائے پر دینا ہے
3934
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا، وقَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «كُنَّا لَا نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى كَانَ عَامُ أَوَّلَ، فَزَعَمَ رَافِعٌ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ
Zaid b. Amr reported: I heard Ibn Umar (Allah be pleased with them) say: We did not see any harm in renting of the land, but as the first year was over Rafi' alleged Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having forbidden that.
حماد بن زید نے ہمیں عمرو ( بن دینار ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتی کہ وہ پہلا سال آیا جس میں ( یزید کی امارت کے لیے بیعت لی گئی ) تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
3935
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: فَتَرَكْنَاهُ مِنْ أَجْلِهِ
This hadith has been narrated on the authority of Amr b. Dinar with the same chain of transmitters but (in) the hadith transmitted on the authority of 'Uyainah (the words are): We abandoned it (renting) on account of that.
سفیان ( بن عیینہ ) ، ایوب اور سفیان ( ثوری ) سب نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور ابن عیینہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : تو ہم نے ان ( رافع رضی اللہ عنہ ) کی وجہ سے ( احتیاطا ) اسے چھوڑ دیا
3936
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «لَقَدْ مَنَعَنَا رَافِعٌ نَفْعَ أَرْضِنَا
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported: Rafi forbade us from benefitting from our land (in the form of rent).
مجاہد سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رافع رضی اللہ عنہ نے ہماری زمین کا منافع ہم سے روک دیا
3937
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، حَتَّى بَلَغَهُ فِي آخِرِ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يُحَدِّثُ فِيهَا بِنَهْيٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ»، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدُ، وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا بَعْدُ قَالَ: زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا
Nafi reported that Ibn Umar (Allah be pleased with them) rented his land during the lifetime of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and during the caliphate of Abu Bakr and that of Umar and that of Uthman (Allah be pleased with them) and during the early period of Muawiya's caliphate until at the end of Muawiya's reign, it reached him (Ibn 'Umar) that Rafi b. Khadij (Allah be pleased with him) narratted (a hadith) in which (there was a decree) of prohibition by Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He (Ibn 'Umar) went to him (Rafi b. Khadij) and I was with him and he asked him, whereupon he said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to forbid the renting of land. So Ibn Umar (Allah be pleased with them) abandoned it, and subsequently whenever he was asked about it, he said: Rafi b. Khadij (Allah be pleased with him) alleged that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade it.
یزید بن زریع نے ہمیں ایوب سے خبر دی اور انہوں نے نافع سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور حضرت ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دور امارت میں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی ایام تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنی زمینوں کو بٹائی پر دیتے تھے حتی کہ حضرت معاویہ کی خلافت کے آخری ایام میں انہیں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت بیان کرتے ہیں ، چنانچہ وہ ان کے پاس گئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا ، انہوں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمینوں کو بٹائی پر دینے سے منع فرماتے تھے ۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا ۔ بعد ازیں جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے : رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
3938
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ: فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub and he made an addition in the hadith narrated by Ibn Ulayya in which he said: Ibn Umar abandoned it afterwards and he did not rent it (the land).
حماد بن زید اور اسماعیل ( ابن علیہ ) دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابن علیہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے ، کہا : اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا اور وہ اسے ( اپنی زمین کو ) کرائے پر نہیں دیتے تھے
3939
Sahih
زمین کو کرایہ پر دینا
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَتَّى أَتَاهُ بِالْبَلَاطِ، فَأَخْبَرَهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ
Nafi reported: I went to Rafi b. Khadij in the company of Ibn 'Umar (All be pleased with them) until he (Ibn 'Umar) came to him at Balat (a place near Prophet's Mosque at Medina) and he (Rafi b. Khadij) informed him that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had forbidden the renting of land.
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی طرف گیا یہاں تک وہ ان کے پاس بَلاط کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے انہیں ( ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ) بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا تھا
3940
Sahih

Chapters

21
01
ملامسہ اور منابذہ کی بیع باطل ہے
8 Hadith
02
کنکر پھینک کر بیع کرنا اور ایسی بیع کرنا جس میں دھوکا ہو ‘باطل ہیں
1 Hadith
03
حبل الحبلہ کی بیع حرام ہے
1 Hadith
04
مسلمان )بھائی کی بیع پر بیع کرنا ‘اس کے سودے پر سودا بازی کرنا ‘بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانا اور جانور کے تھنوں میں دودھ روکنا حرام ہے
8 Hadith
05
باہر سے لایا جانے والا سامان (راستے میں جا کر )خریدنا حرام ہے
5 Hadith
06
شہری کا دیہاتی کے لیے بیع کرنا حرام ہے
6 Hadith
07
جس جانور کا دودھروکا گیا ہو ‘اس کی بیع
6 Hadith
08
خریدے گئے سامان کو قبضے میں لینے سے پہلے آگے بیچنا باطل ہے
15 Hadith
09
نا معلوم مقدار میں کھجور کے ڈھیر کو (متعین مقدار کی )کھجور وں کے عوض بیچنا حرام ہے
2 Hadith
10
مجلس (ایک جگہ موجود گی )ختم ہونے سے پہلے بیچنے یا خریدنے والے کو سودا واپس کرنے کا اختیار ہے
5 Hadith
11
بیع میں سچ بولنا اور حقیقت حال کو واضع کرنا
2 Hadith
12
جو شخص بیع میں دھوکا کھاتا ہو
2 Hadith
13
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
13 Hadith
14
عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے
26 Hadith
15
جو شخص کھجور کا ایسا درخت فروخت کرے جس پر پھل لگا ہو
7 Hadith
16
بیع محاقلہ ‘مزانبہ ‘مخابرہ ‘صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھلو ں کو بیچنا اور بیع معاومہ یعنی کئی سالوں کے لیے (درخت کا پھل )بیچ دینا ممنوع ہے
8 Hadith
17
زمین کو کرایہ پر دینا
30 Hadith
18
زمین کو غلہ کے عوض بٹائی پر دینا
7 Hadith
19
سونے اور چاندی کے عوض زمین کو کرایہ پر دینا
4 Hadith
20
مزارعت (زمین کو پیدا وار کی متعین مقدار کے عوض )اور مؤاجرت (نقدی کے عوض کرائے پر دینے )کا حکم
2 Hadith
21
کسی کو زمین عاریتاًدینا
3 Hadith
No chapter matched that.