TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of jihad and expeditions - کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے اختیار کردہ طریقے - Book 34 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 34 of Sahih Muslim, with 50 chapters and 181 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

181 Hadith · 50 Chapters
Chapter: Permissibility of deceit in war
جنگ میں چال چلنا جائز ہے
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ، وَزُهَيْرٍ، قَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَرْبُ خَدْعَةٌ
It is narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: War is a stratagem.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنگ ایک چال ہے
4539
Sahih
Chapter: Permissibility of deceit in war
جنگ میں چال چلنا جائز ہے
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَرْبُ خَدْعَةٌ
This hadith has also been narrated on the authority of Abu Huraira.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنگ ( دشمن کو ) دھوکے ( میں رکھنے ) کا نام ہے
4540
Sahih
Chapter: It is disliked to wish to meet the enemy, and the command to be steadfast when meeting the enemy
جنگ میں دشمن سے مقابلہ کرنے کی آرزو کرنے کی ممانعت اور اگر مقابلہ ہو جائے تو صبر کرنے کیا حکم
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Do not desire an encounter with the enemy; but when you encounter them, be firm.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو ، لیکن جب تمہارا ان سے مقابلہ ہو تو صبر کرو
4541
Sahih
Chapter: It is disliked to wish to meet the enemy, and the command to be steadfast when meeting the enemy
جنگ میں دشمن سے مقابلہ کرنے کی آرزو کرنے کی ممانعت اور اگر مقابلہ ہو جائے تو صبر کرنے کیا حکم
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ كِتَابِ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ حِينَ سَارَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ، يُخْبِرُهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ، يَنْتَظِرُ حَتَّى إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ»، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «اللهُمَّ، مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ، وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ
It is narrated by Abu Nadr that he learnt from a letter sent by a man from the Aslam tribe, who was a Companion of the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and whose name was 'Abdullah b. Abu Aufa, to 'Umar b. 'Ubaidullah when the latter marched upon Haruriyya (Khawarij) informing him that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in one of those days when lie was confronting the enemy waited until the sun had declined. Then he stood up (to address the people) and said: O ye men, do not wish for an encounter with the enemy. Pray to Allah to grant you security; (but) when you (have to) encounter them exercise patience, and you should know that Paradise is under the shadows of the swords. Then the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up (again) and said: O Allah. Revealer of the Book, Disperser of the clouds, Defeater of the hordes, put our enemy to rout and help us against them.
ابونضر سے روایت ہے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی ، جنہیں عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، کے خط سے روایت کی ، انہوں نے عمر بن عبیداللہ کو ، جب انہوں نے ( جہاد کی غرض سے ) حروریہ کی طرف کوچ کیا ، یہ بتانے کے لیے خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض ایام ( جنگ ) میں ، جن میں آپ کا دشمن سے مقابلہ ہوتا ، انتظار کرتے ، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا ، آپ ان ( ساتھیوں ) کے درمیان کھڑے ہوتے اور فرماتے : " لوگو! دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگو ، ( لیکن ) جب تم ان کا سامنا کرو تو صبر کرو اور جان رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے ۔ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے ، بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے! انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر نصرت عطا فرما
4542
Sahih
Chapter: It is recommended to pray for victory when meeting the enemy
دشمن سے مقابلہ کے وقت فتح کی دعا کرنا مستحب ہے
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ، فَقَالَ:«اللهُمَّ، مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللهُمَّ، اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ
It is narrated on the authority of Ibn Abu Aufa that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) cursed the tribes (who had marched upon Medina with a combined force in 5 H) and said: O Allah, Revealer of the Book, swift in (taking) account, put the tribes to rout. O Lord, defeat them and shake them.
خالد بن عبداللہ نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدینہ پر حملے کرنے والے ) لشکروں کے خلاف یہ دعا کی : " اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے! جلد حساب کرنے والے! سب لشکروں کو شکست دے ، اے اللہ! انہیں شکست دے اور ان کے قدم لرزا دے
4543
Sahih
Chapter: It is recommended to pray for victory when meeting the enemy
دشمن سے مقابلہ کے وقت فتح کی دعا کرنا مستحب ہے
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «هَازِمَ الْأَحْزَابِ»، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَه«اللهُمَّ»،
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abu Aufa with a slight variation of words.
وکیع بن جراح نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ۔ ۔ ( آگے ) خالد کی حدیث کے مانند ہے ، البتہ انہوں نے " ( اے ) لشکروں کو شکست دینے والے " کے الفاظ کہے اور آپ کے فرمان " اللهم " کا ذکر نہیں کیا
4544
Sahih
Chapter: It is recommended to pray for victory when meeting the enemy
دشمن سے مقابلہ کے وقت فتح کی دعا کرنا مستحب ہے
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: «مُجْرِيَ السَّحَابِ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Uyaina through another chain of transmitters (who added the words) the Disperser of clouds in his narration.
اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے ابن عیینہ سے ، انہوں نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں " بادلوں کو چلانے والےکے الفاظ کا اضافہ کیا
4545
Sahih
Chapter: It is recommended to pray for victory when meeting the enemy
دشمن سے مقابلہ کے وقت فتح کی دعا کرنا مستحب ہے
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: «اللهُمَّ، إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ
It is narrated on the authority of Anas that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said on the day of the Battle of Uhud: O Allah, if Thou wilt (defeat Muslims), there will be none on the earth to worship Thee.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( جنگِ ) احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بار بار ) یہ فرما رہے تھے : " اے اللہ! اگر تو یہ چاہتا ہے تو ( آج کےبعد ) زمین میں تیری عبادے نہ کی جائے گی ۔ " ( تیری عبادت کرنے والی آخری امت ختم ہو جائے گی
4546
Sahih
Chapter: The prohibition of killing women and children in war
جنگ میں عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی حرمت
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثِ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
It is narrated on the authority of 'Abdullah that a woman was found killed in one of the battles fought by the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He disapproved of the killing of women and children.
لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غزوے میں ایک عورت مقتول ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل پر ( سخت ) ناگواری کا اظہار کیا ( اور اس سے منع فرما دیا
4547
Sahih
Chapter: The prohibition of killing women and children in war
جنگ میں عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی حرمت
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «وُجِدَتِ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَغَازِي، فَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
It is narrated by Ibn 'Umar that a woman was found killed in one of these battles; so the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade the killing of women and children.
عبیداللہ بن عمر نے ہمیں نافع کے حوالے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : غزوات میں سے ایک غزوے میں ایک عورت مقتول ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا
4548
Sahih
Chapter: Permissibility of killing women and children in night raids, so long as it is not done deliberately
شب خون میں عورتوں اور بچوں کے بلا ارادہ قتل ہو جانے کا جواز
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الذَّرَارِيِّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ؟ يُبَيَّتُونَ فَيُصِيبُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ ، فَقَالَ: «هُمْ مِنْهُمْ
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said: They are from them.
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
4549
Sahih
Chapter: Permissibility of killing women and children in night raids, so long as it is not done deliberately
شب خون میں عورتوں اور بچوں کے بلا ارادہ قتل ہو جانے کا جواز
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نُصِيبُ فِي الْبَيَاتِ مِنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: «هُمْ مِنْهُمْ
It is narrated by Sa'b b. Jaththama that he said (to the Holy Prophet): Messenger of Allah, we kill the children of the polytheists during the night raids. He said: They are from them.
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! شب خون میں ہم مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچا دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : وہ انہی میں سے ہیں
4550
Sahih
Chapter: Permissibility of killing women and children in night raids, so long as it is not done deliberately
شب خون میں عورتوں اور بچوں کے بلا ارادہ قتل ہو جانے کا جواز
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: لَوْ أَنَّ خَيْلًا أَغَارَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: «هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ
Sa'b b. Jaththama has narrated that the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked: What about the children of polytheists killed by the cavalry during the night raid? He said: They are from them.
عمرو بن دینار نے مجھے خبر دی کہ انہیں ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر کچھ گھڑ سوار رات کو دھاوا بولیں اور مشرکوں کے ( ساتھ ان کے کچھ ) بیٹوں کو ( بھی ) قتل کر دیں ( تو گناہ تو نہیں ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں
4551
Sahih
Chapter: Permissibility of cutting down the trees of the Kuffar and burning them
کافروں کے درختوں کو کاٹنا اور جلانا جائز ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ، وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ»، زَادَ قُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْحٍ فِي حَدِيثِهِمَا: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ
It is narrated on the authority of 'Abdullah that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) ordered the date-palms of Banu Nadir to be burnt and cut. These palms were at Buwaira. Qutaibah and Ibn Rumh in their versions of the tradition have added: So Allah, the Glorious and Exalted, revealed the verse: Whatever trees you have cut down or left standing on their trunks, it was with the permission of Allah so that He may disgrace the evil-doers (lix.
یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید نے لیث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے کھجور کے درخت جلائے اور کاٹ ڈالے اور یہ بویرہ کا مقام تھا ( جہاں یہ درخت واقع تھےقتیبہ اور ابن رمح نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : " تم نے کھجور کا جو درخت کاٹ ڈالا یا اسے اپنی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو وہ اللہ کی اجازت سے تھا اور اس لیے تاکہ وہ ( اللہ ) نافرمانوں کو رسوا کرے
4552
Sahih
Chapter: Permissibility of cutting down the trees of the Kuffar and burning them
کافروں کے درختوں کو کاٹنا اور جلانا جائز ہے
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَحَرَّقَ»، وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ: وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ ... حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ ، وَفِي ذَلِكَ نَزَلَتْ: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا} [الحشر: 5] الْآيَةَ
It is narrated on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) caused the date-palms of Banu Nadir to be cut down and burnt. It is in this connection that Hassan (the poet) said: It was easy for the nobles of Quraish to burn Buwaira whose sparks were flying in all directions, in the same connection was revealed the Qur'anic verse: Whatever trees you have cut down or left standing on their trunks.
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے کھجوروں کے درخت کاٹے اور جلا دیے ۔ اسی کے بارے میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "" بنو لؤی ( قریش ) کے سرداروں کے لیے بویرہ میں ہر طرف پھیلنے والی آگ کی کوئی حیثیت نہ تھی اور اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : "" تم نے کھجور کا جو بھی درخت کاٹا یا اسے چھوڑ دیا ۔ ۔ "" آیت کے آخر تک
4553
Sahih
Chapter: Permissibility of cutting down the trees of the Kuffar and burning them
کافروں کے درختوں کو کاٹنا اور جلانا جائز ہے
وحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: «حَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ
Abdullah b. Umar reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) burnt the date-palms of Banu Nadir.
عبیداللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کی کھجوروں کے درخت جلا دیے
4554
Sahih
Chapter: War booty has been made permissible for this Ummah only
اموال غنیمت کو خاص کر اس امت کے لیے حلال کیا گیا ہے
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ: لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا، وَلَمَّا يَبْنِ، وَلَا آخَرُ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا، وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا، وَلَا آخَرُ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا - أَوْ خَلِفَاتٍ - وَهُوَ مُنْتَظِرٌ وِلَادَهَا ، قَالَ: فَغَزَا فَأَدْنَى لِلْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: أَنْتِ مَأْمُورَةٌ، وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللهُمَّ، احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ ، قَالَ: فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ، فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ، فَقَالَ: فِيكُمْ غُلُولٌ، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَبَايَعُوهُ، فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ، فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ، فَبَايَعَتْهُ ، قَالَ: فَلَصِقَتْ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ، أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ ، قَالَ: فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا، فَطَيَّبَهَا لَنَا
It has been narrated by Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: One of the Prophets made a holy war. He said to his followers: One who has married a woman and wants to consummate to his marriage but has not yet done so; another who has built a house but has not yet erected its roof; and another who has bought goats and pregnantshe-camels and is waiting for their offspring-will not accommpany me. So he marched on and approached a village at or about the time of the Asr prayers. He said to the sun: Thou art subserviant (to Allah) and so am I. O Allah, stop it for me a little. It was stopped for him until Allah granted him victory. The people gathered the spoils of war (at one place). A fire approached the spoils to devour them, but it did not devour them. He (the Holy Prophet) said: Some of you have been guilty of misappropriation. So one man from each tribe should swear fealty to me. The did so (putting their hands into his). The hand of one man stuck to his hand and the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Your tribe is guilty of misappropriation. Let all the members of your tribe swear fealty to me one by one. They did so, when the hands of two or three persons got stuck with his hand. He said: You have misappropriated. So they took out gold equal in volume to the head of a cow. They-placed it among the spoils on the earth. Then the fire approached the spoils and devoured them. The spoils of war were not made lawful for any people before us, This is because Allah saw our weakness and humility and made them lawful for us.
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ ( احادیث ) ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انبیاء میں سے کسی نبی نے جہاد کیا تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا : میرے ساتھ وہ آدمی نہ آئے جس نے کسی عورت سے شادی کی ہے ، وہ اس کے ساتھ شب زفاف گزارنا چاہتا ہے اور ابھی تک نہیں گزاری ، نہ وہ جس نے گھر تعمیر کیا ہے اور ابھی تک اس کی چھتیں بلند نہیں کیں اور نہ وہ جس نے بکریاں یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہیں اور وہ ان کے بچہ دینے کا منتظر ہے ۔ کہا : وہ جہاد کے لیے نکلے ، نماز عصر کے وقت یا اس کے قریب ، وہ بستی کے نزدیک پہنچے تو انہوں نے سورج سے کہا : تو بھی ( اللہ کے حکم کا ) پابند ہے اور میں بھی پابند ہوں ، اے اللہ! اسے کچھ وقت کے لیے مجھ پر روک دے ۔ تو اسے روک دیا گیا ، حتی کہ اللہ نے انہیں فتح دی ۔ کہا : انہیں غنیمت میں جو ملا ، انہوں نے اس کو اکٹھا کر لیا ، آگ اسے کھانے کے لیے آئی تو اسے کھانے سے باز رہی ۔ اس پر انہوں نے کہا : تمہارے درمیان خیانت ( کا ارتکاب ہوا ) ہے ، ہر قبیلے کا ایک آدمی میری بیعت کرے ۔ انہوں نے ان کی بیعت کی تو ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا ۔ انہوں نے کہا : خیانت تم لوگوں میں ہوئی ہے ، لہذا تمہارا قبیلہ میری بیعت کرے ۔ اس قبیلے نے ان کی بیعت کی تو ( آپ کا ہاتھ ) دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ سے چمٹ گیا ۔ اس پر انہوں نے کہا : خیانت تم میں ہے ، تم نے خیانت کی ہے ۔ کہا : تو وہ گائے کے سر کے بقدر سونا نکال کر ان کے پاس لے آئے ۔ کہا : انہوں نے اسے مالِ غنیمت میں رکھا ، وہ بلند جگہ پر رکھا ہوا تھا ، تو آگ آئی اور اسے کھا گئی ۔ اموالِ غنیمت ہم سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھے ، یہ ( ہمارے لیے حلال ) اس وجہ سے ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عجز کو دیکھا تو اس نے ان کو ہمارے لیے حلال کر دیا ۔
4555
Sahih
Chapter: Spoils of War
اموال غنیمت کا بیان
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخَذَ أَبِي مِنَ الْخُمْسِ سَيْفًا، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَبْ لِي هَذَا»، فَأَبَى، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: 1]
A hadith has been narrated by Mus'ab b. Sa'd who heard it from his father as saying: My father took a sword from Khums and brought it to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Grant it to me. He refused. At this Allah revealed (the Qur'anic verse): They ask thee concerning the spoils of war. Say: The spoils of war are for Allah and the Apostle (viii. 1).
ابوعوانہ نے سماک سے ، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے خمس میں سے کوئی چیز لی ، اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : یہ مجھے ہبہ فرما دیں تو آپ نے انکار کیا ۔ کہا : اس پر اللہ عزوجل نے ( یہ حکم ) نازل فرمایا : " لوگ آپ سے اموالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجئے : اموالِ غنیمت اللہ کے لیے اور رسول کے لیے ہیں
4556
Sahih
Chapter: Spoils of War
اموال غنیمت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ: أَصَبْتُ سَيْفًا، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، فَقَالَ: «ضَعْهُ»، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ»، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ: نَفِّلْنِيهِ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «ضَعْهُ»، فَقَامَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، أَؤُجْعَلُ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ»، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: 1]
A hadith has been narrated by Mus'ab b. Sa'd who heard it from his father as saying: Four verses of the Qur'an have been revealed about me. I found a sword (among the spoils of war). It was brought to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He (my father) said: Messenger of Allah, bestow it upon me. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Place it there. Then he (my father) stood up and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Place it from where you got it. (At this) he (my father) said again: Messenger of Allah, bestow it upon me Shall I be treated like one who has no share in (the booty)? The Apostle of Allah (may peace be upon him said: Place it from where you got it. At this was revealed the verse: They ask thee about the spoils of war.... Say: The spoils of war are for Allah and the Messenger
شعبہ نے ہمیں سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئیں : مجھے ایک تلوار ملی ، ( پھر کہا : ) وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ تلوار مجھے مزید عطا فرما دیں ۔ تو آپ نے فرمایا : " اسے رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ( یہ تلوار ) مجھے مزید دے دیں ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " جہاں سے لی ہے وہیں رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ بھی مجھے عنایت فرما دیں ۔ تو آپ نے فرمایا : " اسے رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ مجھے عنایت فرما دیں ۔ کیا میں اس شخص جیسا قرار دیا جاؤں گا جس کے لیے ( جنگ میں ) کوئی فائدہ نہیں ہوا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم نے اسے جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دو ۔ " کہا : اس پر یہ آیت نازل ہوئی : " وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ کہہ دیجئے! غنیمتیں اللہ کے لیے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں
4557
Sahih
Chapter: Spoils of War
اموال غنیمت کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَنَا فِيهِمْ قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً، فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَا عَشَرَ بَعِيرًا، أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent an expedition to Najd and I was among the troops. They got a large number of camels as a booty. Eleven or twelve camels fell to the lot of every fighter and each of them also got one extra camel.
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ بھیجا ، میں بھی ان میں تھا ، انہوں نے بہت سے اونٹ غنیمت میں حاصل کیے تو ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ یا گیارہ گیارہ اونٹ تھا اور انہیں ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا تھا
4558
Sahih

Chapters

50
01
Chapter: Permissibility of raiding the Kuffar, who have been reached with the call of Islam, without giving prior warning
حملے کی پیشگی اطلاع دیے بغیر ان کافرو ں پر دھاوا بولنا جائز ہے جن کو اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہے اور وہ (ابھی تک شرارت پر امادہ ہیں)
2 Hadith
02
Chapter: Ruler appointing leaders of expeditions and advising them of the etiquette of war, etc.
بھیجے گے دستو ں پر امام کا امیر مقرر کرنا اور ان کو جنگ کے آداب وغیرہ کی تلقین کرنا
4 Hadith
03
Chapter: The command to show leniency and avoid causing aversion (towards Islam)
آسانی پیدا کرنے اور دور نہ بھاگنے کا حکم
4 Hadith
04
Chapter: The prohibition of betrayal
بد عہدی کی حرمت
10 Hadith
05
Chapter: Permissibility of deceit in war
جنگ میں چال چلنا جائز ہے
2 Hadith
06
Chapter: It is disliked to wish to meet the enemy, and the command to be steadfast when meeting the enemy
جنگ میں دشمن سے مقابلہ کرنے کی آرزو کرنے کی ممانعت اور اگر مقابلہ ہو جائے تو صبر کرنے کیا حکم
2 Hadith
07
Chapter: It is recommended to pray for victory when meeting the enemy
دشمن سے مقابلہ کے وقت فتح کی دعا کرنا مستحب ہے
4 Hadith
08
Chapter: The prohibition of killing women and children in war
جنگ میں عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی حرمت
2 Hadith
09
Chapter: Permissibility of killing women and children in night raids, so long as it is not done deliberately
شب خون میں عورتوں اور بچوں کے بلا ارادہ قتل ہو جانے کا جواز
3 Hadith
10
Chapter: Permissibility of cutting down the trees of the Kuffar and burning them
کافروں کے درختوں کو کاٹنا اور جلانا جائز ہے
3 Hadith
11
Chapter: War booty has been made permissible for this Ummah only
اموال غنیمت کو خاص کر اس امت کے لیے حلال کیا گیا ہے
1 Hadith
12
Chapter: Spoils of War
اموال غنیمت کا بیان
10 Hadith
13
Chapter: The killer is entitled to the belongings of the one who is killed
مقتول سے چھینے گے مال کا حقدار اس کا قاتل ہے
7 Hadith
14
Chapter: Additional rewards, and ransoming muslims in return for prisoners
زائد عطیہ دینا اور قیدیوں کے ذریعے سے مسلمانوں کا فدیہ دینا
1 Hadith
15
Chapter: Ruling on Fai' (Booty acquired without fighting)
فے کا حکم
5 Hadith
16
Chapter: How booty is to be shared among the fighters
(جنگ میں)میں حاضر ہونے والوں میں غنیمت کا مال تقسیم کرنے کی کیفیت
2 Hadith
17
Chapter: The support of the angels during the Battle of Badr, and the permissibility of the spoils
غزوہ بدر میں فرشتوں کے ذریعے مدد اور مال غنیمت کے استعمال کی اجازت
1 Hadith
18
Chapter: Tying up and detaining captives, and the permissibility of releasing them without a ransom
قیدی کو باندھنے ‘اس کو محبوس کرنے اور اس پر احسان کرنے کا جواز
2 Hadith
19
Chapter: Expulsion of the Jews from the Hijaz
حجاز سے یہود کو جلاوطن کرنا
3 Hadith
20
Chapter: Expulsion of Jews and Christians from the Arabian Peninsula
یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکالنا
2 Hadith
21
Chapter: Permissibility of fighting those who break a treaty; Permissibility of letting besieged people surrender, subject to the judgement of a just person who is qualified to pass judgement
جو عہد شکنی کرے اس سے جنگ اور قلعہ بند لوگوںکو کسی باصلاحیت اور عادل حاکم(منصف )کے فیصلے کے سپرد کرنے کا جواز
6 Hadith
22
جنگ کے لیے فوری اقدام اور دو باہم مختلف کاموں میں سے زیادہ اہم کو مقدم رکھنا
1 Hadith
23
Chapter: The Muhajirun returned to the Ansar the gifts of trees and fruits when they became independent of means through the conquests
جب فتوحات کی وجہ سے مہاجرین کو ضرورت نہ رہی تو انھوں نے عطیے میں دیےدرخت اور پھل انصار کو واپس کر دیے
2 Hadith
24
دار الحرب میں سے غنیمت میں ملی خوراک میں سے کھانا جائز ہے
2 Hadith
25
Chapter: The Prophet (saws) wrote to Heraclius, the ruler of Syria, inviting him to Islam
شام کےباد شاہ ہرقل کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا نامئہ مبارک
2 Hadith
26
Chapter: The Prophet (saws) wrote to the Kings of the Kuffar, inviting them to Islam
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے کافروں کے باد شاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط لکھ بھیجے
3 Hadith
27
Chapter: The Battle of Hunain
غزوہ حنین
8 Hadith
28
Chapter: The Battle of At-Ta'if
غزوہ طائف
1 Hadith
29
Chapter: The Battle of Badr
غزوہ بدر
1 Hadith
30
Chapter: The conquest of Makkah
فتح مکہ
3 Hadith
31
Chapter: Removal of Idols from around the Ka'bah
کعبہ کے چاروں طرف سے بتوں کی صفائی
2 Hadith
32
Chapter: No man if Quraish is to be captured then killed, after the conquest
فتح مکہ کے بعد(کبھی ) کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کرنے کا حکم
2 Hadith
33
Chapter: The truce of Al-Hudaybiyah
صلح حدیبیہ
10 Hadith
34
Chapter: Upholding Covenants
ایفائے عہد
1 Hadith
35
Chapter: The Battle of Al-Ahzab (The Confederates)
غزوہ احزاب
1 Hadith
36
Chapter: The Battle of Uhud
غزوہ احد
7 Hadith
37
Chapter: The intense wrath of Allah towards the one who was killed by the messenger of Allah (saws)
جس شخص کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ قتل کریں اس پر اللہ کا شدید غضب (نازل ہوتا ہے )
1 Hadith
38
Chapter: The persecution suffered by the prophet (saws) at the hands of the idolaters and hypocrites
مشرکو ں اور منافقوں کی طرف سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کوپہنچنے والی ایذاء
10 Hadith
39
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) and his steadfastness in the face of the hypocrites' persecution
منافقوں کی اذیت رسانی پر نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی دعا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا صبر
3 Hadith
40
Chapter: The slaying of Abu Jahl
ابو جہل کا قتل
2 Hadith
41
Chapter: The slaying of Ka'b Bin Al-Ashraf, the Tagut of the Jews
یہود کے شیطان کعب بن اشرف کا قتل
1 Hadith
42
Chapter: The Battle of Khaibar
غزوہ خیبر
5 Hadith
43
Chapter: The Battle of Al-Ahzab (The Confederates), also known as Al-Khandaq (The Ditch)
غزوہ احزاب اور وہی غزوہ خندق ہے
7 Hadith
44
Chapter: The Battle of Dhu Qarad and other battles
ذی ‌قرد ‌لڑائیوں ‌كا ‌بیان
2 Hadith
45
Chapter: Women participating in military expeditions with the men
عورتوں کا مردو کے ساتھ مل کر جہاد کرنا
4 Hadith
46
Chapter: Women who take part in military expeditions are to be given a reward but not a regular share; And the prohibition of killing children of the enemy
جہاد میں شریک عورتوں کو عطیہ دیا دائے گا اور (باقاعدہ) حصہ نہیں نکالا جائے گانیز جنگ کرنے والوں کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت
8 Hadith
47
Chapter: The number of campaigns of the Prophet (saws)
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے غزوات کی تعداد
7 Hadith
48
Chapter: The campaign of Dhat Ar-Riqa
غزوہ ذات الرقاع
1 Hadith
49
Chapter: It is disliked to seek the help of a disbeliever in wars (except in cases of necessity, or if he thinks well of the Muslims)
جہاد میں ضرورت کے سوا کسی کافل سے مدد لینا اور مسلمانوں میں اصس کا صائب الرائے سمجھا جانا ناپسندیدہ ہے
1 Hadith
50
Chapter: The words of the Prophet (saws): We (Prophets) have no heirs and whatever we leave behind is charity.
رسول اﷲ ﷺ کا قول کہ جو مال ہم چھوڑ جائیں اس کا کوئی وارب نہیں بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے۔
7 Hadith
No chapter matched that.