TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of government - کتاب: امور حکومت کا بیان - Book 35 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 35 of Sahih Muslim, with 56 chapters and 271 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

271 Hadith · 56 Chapters
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: «حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا»، وَزَادَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، أَوْ بِعَرَفَاتٍ
Another version of the tradition does not qualify the slave with the epithets maimed, an Abyssinian but makes the addition: I have heard the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (say this) at Mina or 'Arafat.
بہز نے ہمیں شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی : انہوں نے " کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام " نہیں کہا ، اور یہ اضافہ کیا : انہوں ( ام الحصین رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ یا عرفات میں سنا
4761
Sahih
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا كَثِيرًا: ثُمَّ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ - حَسِبْتُهَا قَالَتْ: أَسْوَدُ - يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللهِ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا
It has been narrated on the authority of Yahya b. Husain who learnt the tradition from his grandmother. Umm Husain. He said': I heard her say: I performed Hajjat-ul-Wada' in the company of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said a lot of things (on this occasion). Then I heard him say: If a maimed slave is appointed a commander over you the narrator says: I think she said: a black stave who leads you according to the Book of Allah, then listen to him and obey him.
زید بن ابی انیسہ نے یحییٰ بن حصین سے ، انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا : میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں ، پھر میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اگر تم پر ایک کٹے ہوئے اعضاء والا غلام ، میرا گمان ہے آپ نے " کالا " بھی کہا ، حاکم بنا دیا جائے اور وہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق چلائے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو
4762
Sahih
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: It is obligatory upon a Muslim that he should listen (to the ruler appointed over him) and obey him whether he likes it or not, except that he is ordered to do a sinful thing. If he is ordered to do a sinful act, a Muslim should neither listen to him nor should he obey his orders.
لیث نے عبیداللہ سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان شخص پر حاکم کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے ، وہ بات اس کو پسند ہو یا ناپسند ، سوائے اس کے کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے ، اگر اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو اس میں سننا ( روا ) ہے نہ ماننا
4763
Sahih
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، كِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been transmitted on the authority of 'Ubaidullah.
ٰ قطان اور عبداللہ بن نمیر دونوں نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
4764
Sahih
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَأَوْقَدَ نَارًا، وَقَالَ: ادْخُلُوهَا، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: إِنَّا قَدْ فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا: «لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ: «لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ
It has been narrated on the authority of Abu 'Abd al-Rahman from 'Ali that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent a force (on a mission) and appointed over them a man. He kindled a fire and said: Enter it. Some people made up their minds to enter it (the fire), (carrying out the order of their commander), but the others said: We fled from the fire (that's why we have come into the fold of Islam). The matter was reported to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said to those who Contemplated entering (the fire at the order of their commander): If you had entered it, you would have remained there until the Day of Judgment. He commanded the act of the latter group and said: There is no submission in matters involving God's disobedience or displeasure. Submission is obligatory only in what is good (and reasonable).
زبید نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ایک شخص کو ان کا امیر بنایا ، اس ( امیر ) شخص نے آگ جلائی اور لوگوں سے کہا : اس میں داخل ہو جاؤ ۔ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کر لیا اور کچھ لوگوں نے کہا : ہم آگ ہی سے تو بھاگے ہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ان لوگوں سے جو آگ میں داخل ہونا چاہتے تھے ، فرمایا : " اگر تم آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے ۔ " اور دوسروں کے حق میں اچھی بات فرمائی اور فرمایا : " اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ، اطاعت صرف نیکی میں ہے
4765
Sahih
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، وَتَقَارَبُوا فِي اللَّفْظِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا، فَأَغْضَبُوهُ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ: اجْمَعُوا لِي حَطَبًا، فَجَمَعُوا لَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَوْقِدُوا نَارًا، فَأَوْقَدُوا، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ يَأْمُرْكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَسْمَعُوا لِي وَتُطِيعُوا؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَادْخُلُوهَا، قَالَ: فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالُوا: إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ، فَكَانُوا كَذَلِكَ، وَسَكَنَ غَضَبُهُ، وَطُفِئَتِ النَّارُ، فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ
It has been narrated on the authority of 'All who said: The Mersenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent an expeditionand appointed over the Mujahids a man from the Ansar. (While making the appointment), he ordered that his work should be listened to and obeyed. They made him angry in a matter. He said: Collect for me dry wood. They collected it for him. Then he said: Kindle a fire. They kindled (the fire). Then he said: Didn't the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) order you to listen to me and obey (my orders)? They said: Yes. He said: Enter the fire. The narrator says: (At this), they began to look at one another and said: We fled from the fire to (find refuge with) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (and now you order us to enter it). They stood quiet until his anger cooled down and the fire went out. When they returned, they related the incident to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said: If they had entered it, they would not have come out. Obedience (to the commander) is obligatory only in what is good.
ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر ، زہیر بن حرب اور ابوسعید اشج نے حدیث بیان کی ، الفاظ سب کے ملتے جلتے ہیں ، ( تینوں نے ) کہا : ہمیں وکیع نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابو عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور انصار میں سے ایک آدمی کو ان کا امیر بنایا اور لشکر کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کے احکام سنیں اور اس کی اطاعت کریں ، ( اتفاق سے ) اہل لشکر نے کسی بات میں امیر کو ناراض کر دیا ، اس نے کہا : میرے لیے لکڑیاں جمع کرو ۔ لشکر نے لکڑیاں جمع کیں ، پھر اس نے کہا : آگ جلاؤ ، انہوں نے آگ جلائی ، پھر کہا : کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا حکم سننے اور ماننے کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اس نے کہا : آگ میں داخل ہو جاؤ ، انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا : ہم آگ ہی سے بھاگ کر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔ وہ اسی موقف پر قائم رہے حتی کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھا دی گئی ، جب وہ لوٹے تو یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، آپ نے فرمایا : اگر یہ لوگ اس ( آگ ) میں داخل ہو جاتے تو پھر اس سے باہر نہ نکلتے ، اطاعت صرف معروف ( قابل قبول کاموں ) میں ہے
4766
Sahih
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been transmitted on the authority of A'mash.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں وکیع اور ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند سے اسی طرح حدیث بیان کی
4767
Sahih
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ
It has been narrated on the authority of Ubida who learnt the tradition from his father who, in turn, learnt it from his own father. 'Ubada's grandfather said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took an oath of allegiance from us on our listening to and obeying the orders of our commander in adversity and prosperity, in pleasure and displeasure (and even) when somebody is given preference over us, on our avoiding to dispute the delegation of powers to a person deemed to be a fit recipient thereof (in the eye of one who delegates it) and on our telling the truth in whatever position we be without fearing in the matter ef Allah the reproach of the reproacher.
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے یحییٰ بن سعید اور عبیداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبادہ بن ولید سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس بات پر بیعت کی کہ مشکل میں اور آسانی میں اور خوشی میں اور ناخوشی میں اور خود ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور اس بات پر بیعت کی کہ جن کے پاس امارت ہو گی ، امارت کے معاملے میں ان سے تنازع نہیں کریں گے اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے ( ہمیشہ ) حق نہیں گے اور اللہ کے ( دین پر چلنے کے ) معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے
4768
Sahih
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubada b. Walid with the same chain of transmitters.
یہی حدیث نے ہمیں ابن نمیر نے بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن عجلان ، عبیداللہ بن عمر اور یحییٰ بن سعید نے عبادہ بن ولید سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی
4769
Sahih
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ
The same tradition has been handed down through more than one chain of transmitters.
یزید بن ہاد نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے میرے والد نے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی ، ابن ادریس کی حدیث کے مانند
4770
Sahih
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللهُ، بِحَدِيثٍ يَنْفَعُ اللهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ، فَكَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا: «أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ»، قَالَ: «إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللهِ فِيهِ بُرْهَانٌ
It has been narrated on the authority of Junida b. Abu Umayya who said: We called upon 'Ubada b. Samit who was ill and said to him: May God give you health I Narrate to us a tradition which God may prove beneficial (to us) and which you have heard from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) called us and we took the oath of allegiance to him. Among the injunctions he made binding upon us was: Listening and obedience (to the Amir) in our pleasure and displeasure, in our adversity and prosperity, even when somebody is given preference over us, and without disputing the delegation of powers to a man duly invested with them (Obedience shall be accorded to him in all circumstances) except when you have clear signs of his disbelief in (or disobedience to) God-signs that could be used as a conscientious justification (for non-compliance with his orders).
جنادہ بن ابی امیہ سے روایت ہے ، کہا : ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے ، وہ ( اس وقت ) بیمار تھے ، ہم نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے ، ہم کو ایسی حدیث سنائیے جس سے ہمیں فائدہ ہوا اور جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، ( حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلایا ، ہم نے آپ کےساتھ بیعت کی ، آپ نے ہم سے جن چیزوں پر بیعت لی وہ یہ تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خوشی اور ناخوشی میں اور مشکل اور آسانی میں اور ہم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں ، سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اس کی اہلیت رکھنے والوں سے تنازع نہیں کریں گے ۔ کہا : ہاں ، اگر تم اس میں کھلم کھلا کفر دیکھو جس کے ( کفر ہونے پر ) تمہارے پاس ( قرآن اور سنت سے ) واضح آثار موجود ہوں
4771
Sahih
Chapter: The ruler is a shield from behind whom they fight and by whom they are protected
امام ‌مسلمانوں ‌كی ‌سپرہے
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ ""‏ إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَلَ كَانَ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرٌ وَإِنْ يَأْمُرْ بِغَيْرِهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ ‏""‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Prophet of Allah (ﷺ) said: A commander (of the Muslims) is a shield for them. They fight behind him and they are protected by (him from tyrants and aggressors). If he enjoins fear of God, the Exalted and Glorious, and dispenses justice, there will be a (great) reward for him; and if he enjoins otherwise, it redounds on him.
حضرت ‌ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌امام ‌سپر ‌ہے ‌اس ‌كے ‌پیچھے ‌مسلمان ‌لڑتے ‌ہیں ‌( كافروں ‌سے ) ‌اور ‌اس ‌كی ‌وجہ ‌سے ‌لوگ ‌بچتے ‌ہیں ‌تكلیف ‌سے ( ‌ظالموں ‌سے ‌اور ‌لٹیروں ‌سے ) ‌۔ ‌پھر ‌اگر ‌وہ ‌حكم ‌كرے ‌اللہ ‌سے ‌ڈرنے ‌كا ‌اور ‌انصاف ‌كرے ‌تو ‌اس ‌كو ‌ثواب ‌ہوگا ‌اور ‌جو ‌اس ‌كے ‌خلاف ‌حكم ‌دے ‌دے ‌تو ‌اس ‌پر ‌وبال ‌ہوگا ‌۔ ‌
4772
Sahih
Chapter: The obligation of fulfilling oaths of allegiance is owed to the first of two Caliphs
سب سے پہلے خلیفہ اور اس کے بعد جو سب سے پہلے ہو اس کی بیعت کے ساتھ وفاداری واجب ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ»، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ، فَالْأَوَّلِ، وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ
It has been narrated by Abu Huraira that the Prophet (may pceace be upon him) said: Banu Isra'il were ruled over by the Prophets. When one Prophet died, another succeeded him; but after me there is no prophet and there will be caliphs and they will be quite large in number. His Companions said: What do you order us to do (in case we come to have more than one Caliph)? He said: The one to whom allegiance is sworn first has a supremacy over the others. Concede to them their due rights (i. e. obey them). God (Himself) will question them about the subjects whom He had entrusted to them.
شعبہ نے ہمیں فرات قزاز سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے روایت کی کہ میں پانچ سال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہم مجلس رہا ، میں نے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا : " بنو اسرائیل کے انبیاء ان کا اجتماعی نظام چلاتے تھے ، جب ایک نبی فوت ہوتا تو دوسرا نبی اس کا جانشیں ہوتا اور ( اب ) بلاشبہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، اب خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے ۔ " صحابہ نے عرض کی : آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : پہلے اور اس کے بعد پھر پہلے کی بیعت کے ساتھ وفا کرو ، انہیں ان کا حق دو اور ( تمہارے حقوق کی ) جو ذمہ داری انہیں دی ہے اس کے متعلق اللہ خود ان سے سوال کرے گا
4773
Sahih
Chapter: The obligation of fulfilling oaths of allegiance is owed to the first of two Caliphs
سب سے پہلے خلیفہ اور اس کے بعد جو سب سے پہلے ہو اس کی بیعت کے ساتھ وفاداری واجب ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
The same tradition has been transmitted by a different chain of narrators.
حسن بن فرات نے اپنے والد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
4774
Sahih
Chapter: The obligation of fulfilling oaths of allegiance is owed to the first of two Caliphs
سب سے پہلے خلیفہ اور اس کے بعد جو سب سے پہلے ہو اس کی بیعت کے ساتھ وفاداری واجب ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، وَوَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ تَأْمُرُ مَنْ أَدْرَكَ مِنَّا ذَلِكَ؟ قَالَ: «تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ، وَتَسْأَلُونَ اللهَ الَّذِي لَكُمْ
It has been narrated on the authority of 'Abdullah who said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: After me there will be favouritism and many things that you will not like. They (his Companions) said: Messenger of Allah, what do you order that one should do if anyone from us has to live through such a time? He said: You should discharge your own responsibility (by obeying your Amir), and ask God for your right (by guiding the Amir to the right path or by replacing him by one more just and God-fearing).
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اب میرے بعد ( کچھ لوگوں سے ) ترجیحی سلوک ہو گا اور ایسے کام ہوں گے جنہیں تم برا سمجھو گے ۔ " صحابہ نے عرض کی : اللہ کے رسول! ہم میں سے جو شخص ان حالات کا سامنا کرے اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا : " تم پر ( حکام کا ) جو حق ہے تم اس کو ادا کرنا اور جو تمہارا حق ہے وہ تم اللہ سے مانگنا
4775
Sahih
Chapter: The obligation of fulfilling oaths of allegiance is owed to the first of two Caliphs
سب سے پہلے خلیفہ اور اس کے بعد جو سب سے پہلے ہو اس کی بیعت کے ساتھ وفاداری واجب ہے
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ جَامِعَةً ‏.‏ فَاجْتَمَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ ‏ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلاَّ كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلاَءٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا وَتَجِيءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِكَتِي ‏.‏ ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ هَذِهِ ‏.‏ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الآخَرِ ‏ ‏ ‏.‏ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ أَنْشُدُكَ اللَّهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهْوَى إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللَّهُ يَقُولُ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا‏}‏ قَالَ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ‏.‏
It has been narrated on the authority of 'Abd al-Rahman b. Abd Rabb al-Ka'ba who said: I entered the mosque when 'Abdullah b. 'Amr b. al-'As was sitting in the shade of the Ka'ba and the people had gathered around him. I betook myself to them and sat near him. (Now) Abdullah said: I accompanied the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on a journey. We halted at a place. Some of us began to set right their tents, others began to compete with one another in shooting, and others began to graze their beasts, when an announcer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) announced that the people should gather together for prayer, so we gathered around the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said: It was the duty of every Prophet that has gone before me to guide his followers to what he knew was good for them and warn them against what he knew was bad for them; but this Umma of yours has its days of peace and (security) in the beginning of its career, and in the last phase of its existence it will be afflicted with trials and with things disagreeable to you. (In this phase of the Umma), there will be tremendous trials one after the other, each making the previous one dwindle into insignificance. When they would be afflicted with a trial, the believer would say: This is going to bring about my destruction. When at (the trial) is over, they would be afflicted with another trial, and the believer would say: This surely is going to be my end. Whoever wishes to be delivered from the fire and enter the garden should die with faith in Allah and the Last Day and should treat the people as he wishes to be treated by them. He who swears allegiance to a Caliph should give him the piedge of his hand and the sincerity of his heart (i. e. submit to him both outwardly as well as inwardly). He should obey him to the best of his capacity. It another man comes forward (as a claimant to Caliphate), disputing his authority, they (the Muslims) should behead the latter. The narrator says: I came close to him ('Abdullah b. 'Amr b. al-'As) and said to him: Can you say on oath that you heard it from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )? He pointed with his hands to his ears and his heart and said: My ears heard it and my mind retained it. I said to him: This cousin of yours, Mu'awiya, orders us to unjustly consume our wealth among ourselves and to kill one another, while Allah says: O ye who believe, do not consume your wealth among yourselves unjustly, unless it be trade based on mutual agreement, and do not kill yourselves. Verily, God is Merciful to you (iv. 29). The narrator says that (hearing this) Abdullah b. 'Amr b. al-As kept quiet for a while and then said: Obey him in so far as he is obedient to God; and diqobey him in matters involving disobedience to God.
عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے میں مسجد میں گیا وہاں عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے پاس جمع تھے میں بھی گیا اور بیٹھا ۔ انہوں نے کہا ہم رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تھے ایک سفر میں تو ایک جگہ اترے ، کوئی اپنا ڈیرہ درست کرنے لگا ، کوئی تیر مارنے لگا ، کوئی اپنے جانوروں میں تھا کہ اتنے میں رسول اﷲ ﷺ کے پکارنے والے نے آواز دی نماز کے لیے اکٹھا ہوجاؤ ۔ ہم سب اپ کے پاس جمع ہوئے ۔ اپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر ضروری نہ ہو اپنی امت کو جو بہتر بات اس کو معلوم ہو بتانا اور جو بری بات ہو اس سے ڈرانا اور تمہاری یہ امت اس کے پہلے حصہ میں سلامتی ہے اور اخیر حصے میں بلا ہے اور وہ باتیں ہیں جو تم کو بری لگیں گی اور ایسے فتنے آویں گے کہ ایک فتنہ دوسرے کو ہلکا اور پتلا کردے گا ( یعنی بعد کا فتنہ پہلے سے ایسا بڑھ کر ہوگا کہ پہلا فتنہ اس کے سامنے کچھ حقیقت نہ رکھے گا ) او رایک فتنہ آوے گا تو مومن کہے گا اس میں میری تباہی ہے پھر وہ جاتا رہے گا اور دوسرا آوے گا مومن کہے گا اس میں میری تباہی ہے ۔ پھر جو کوئی چاہے کہ جہنم سے بچے او رجنت میں جاوے اس کو چاہیے کہ مرے اﷲ تعالیٰ اور پچھلے دن پر یقین رکھ کر اور لوگوں سے وہ سلوک کرے جیسا وہ چاہتا ہو کہ لوگ اس سے کریں ۔ اور جو شخص کسی امام سے بیعت کرے اور اس کو اپنا ہاتھ دے دیوے اور دل سے نیت کرے اس کی تابعداری کی تو اس کی طاعت کرے اگر طاقت ہو ۔ اب اگر دوسرا امام اس سے لڑنے کو آوے تو ( اس کو منع کرو اگر نہ مانے بعیر لڑائی کے تو ) اس کی گردن مارو ۔ یہ سن کر میں عبداﷲ کے پسا گیا اور ان سے کہا میں تم کو قسم دیتا ہوں اﷲ کی تم نے یہ رسول اﷲ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اشارہ کیا ہاتھ سے اور کہا میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا ۔ میں نے کہا تمہارے چچا کے بیٹے معاویہؓ ہم کو حکم کرتے ہیں ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے کے لیے او راپنی جانوں کو تباہ کرنے کے لیے اور اﷲتعالیٰ فرماتا ہے اے ایمان والو! مت کھاؤ اپنے مال ناحق مگر راضی سے دوداگری کرکے اور مت مارو اپنی جانوں کو بے شک اﷲ تعالیٰ تم پر مہربان ہے ۔ یہ سن کر عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ تھوڑی دیر تک چپ رہے پھر کہا معاویہؓ کی اطاعت کرو اس کام میں جو اﷲ کے حکم کے موافق ہو اور جو کام اﷲ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو اس میں معاویہؓ کا کہنا نہ مانو ۔
4776
Sahih
Chapter: The obligation of fulfilling oaths of allegiance is owed to the first of two Caliphs
سب سے پہلے خلیفہ اور اس کے بعد جو سب سے پہلے ہو اس کی بیعت کے ساتھ وفاداری واجب ہے
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with a different chain of transmitters.
وکیع اور ابومعاویہ دونوں نے اعمش سے اسی سند سے اسی کے مانند روایت کی
4777
Sahih
Chapter: The obligation of fulfilling oaths of allegiance is owed to the first of two Caliphs
سب سے پہلے خلیفہ اور اس کے بعد جو سب سے پہلے ہو اس کی بیعت کے ساتھ وفاداری واجب ہے
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ الصَّائِدِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ جَمَاعَةً عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ
It has been narrated on the authority of 'Abd Rabb al-Ka'ba as-Sa'idl who said: I saw a group of people near the Ka'ba.... Then he narrated the tradition as narrated by A'mash.
عامر نے عبدالرحمان بن عبد رب الکعبہ صائدی سے روایت کی ، کہا : میں نے کعبہ کے پاس ایک مجمع دیکھا ، پھر اعمش کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
4778
Sahih
Chapter: The command to be patient in the face of oppressive rulers and their selfishness
حکام کے ظلم اور ان کےخود کو ترجیع دینے پر صبر کرنے کا حکم
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَلَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا؟ فَقَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ
It has been narrated on the authority of Usaid b. Hudair that a man from the Ansar took the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) aside and said to him: Will you not appoint me governor as you have appointed so and so? He (the Messenger of Allah) said: You will surely come across preferential treatment after me, so you should be patient until you meet me at the Cistern (Haud-i-Kauthar).
محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک انصاری نے تنہائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی اور عرض کی : کیا جس طرح آپ نے فلاں شخص کو عامل بنایا ہے مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟ آپ نے فرمایا : " میرے بعد تم خود کو ( دوسروں پر ) ترجیح ( دینے کا معاملہ ) دیکھو گے تم اس پر صبر کرتے رہنا ، یہاں تک کہ حوض ( کوثر ) پر مجھ سے آن ملو ۔ " ( وہاں تمہیں میری شفاعت پر اس صبر و تحمل کا بے پناہ اجر ملے گا ۔ )
4779
Sahih
Chapter: The command to be patient in the face of oppressive rulers and their selfishness
حکام کے ظلم اور ان کےخود کو ترجیع دینے پر صبر کرنے کا حکم
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَلَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
This tradition has been narrated on the same authority through a different chain of transmitters. Another version of the tradition narrated on the authority of Shu'ba does not include the words: He took the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) aside.
ہمیں خالد بن حارث نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ بن حجاج نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ ایک انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں بات کی ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند
4780
Sahih

Chapters

56
01
Chapter: The people follow the Quraish and the Caliphate belongs to the Quraish
لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہی ہو گی
12 Hadith
02
Chapter: Appointing a successor or not doing so
کسی کو اپنا جانشین مقرر کرنے اور نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
03
Chapter: The prohibition of seeking or desiring a position of authority
امارت طلب طرنے اور اس کی حرص رکھنے کی ممانعت
4 Hadith
04
Chapter: It is disliked to be appointed to a position of authority unnecessarily
ضرورت کے بغیر امارت طلب کرنا مکروہ ہے
2 Hadith
05
Chapter: The virtue of a just ruler and the punishment of a tyrant; Encouragement to treat those under one's authority with kindness and the prohibition against causing them hardship
عادل حاکم کی فضیلت ‘ظالم حاکم کی سزا ‘رعایہ طے ساتھ نرمی کی تلقین‘اور ان پر مشقت ڈالنے کی ممانعت
13 Hadith
06
Chapter: Emphatic prohibition against stealing from the spoils of war (Ghulul)
اموال غنیمت میں خیانت کی شدید حرمت
4 Hadith
07
Chapter: The prohibition of giving gifts to agents
عاملوں(سرکاری ملازموں کو ملنے والے )ھدیوں کی حرمت
8 Hadith
08
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
26 Hadith
09
Chapter: The obligation of fulfilling oaths of allegiance is owed to the first of two Caliphs
سب سے پہلے خلیفہ اور اس کے بعد جو سب سے پہلے ہو اس کی بیعت کے ساتھ وفاداری واجب ہے
6 Hadith
10
Chapter: The command to be patient in the face of oppressive rulers and their selfishness
حکام کے ظلم اور ان کےخود کو ترجیع دینے پر صبر کرنے کا حکم
3 Hadith
11
Chapter: Obeying Rulers even if they withhold the people's rights
امراء (حکمرانوں ) کی اطاعت چاہے وہ حقوق ادا نہ کرتے ہو
2 Hadith
12
Chapter: The ruling on one who seeks to divide the muslims when they are united
مسلمانوں کی جمیعت میں تفریق ڈالنے والے کےبارے میں شریعت کا فیصلہ
3 Hadith
13
Chapter: When allegiance has been sworn to two caliphs
دب دو خلیفوں کے لیے بیعت لی جائے
1 Hadith
14
Chapter: The obligation to denounce rulers for that in which they go against Shari'ah, but they should not be fought so long as they pray regularly, etc
خلاف شرع امور میں حکام کے سامنے انکار کرنے کا وجوب اور جب تک وہ نماز پڑھنے رہیں ان خلاف جنگ کی ممانعت اور اس طرح کے دیگر امور
4 Hadith
15
Chapter: The best and worst of rulers
اچھے اور برے حاکم
3 Hadith
16
Chapter: It is recommended for the army to swear allegiance to the ruler when intending to fight, and an account of Bay'at Ar-Ridwan beneath the tree
جنگ سےقبل امام(سالار کا)فوج سے بیعت لینا مستحب ہے ‘اور درخت کے نیچے بیعت رضوان کا بیان
18 Hadith
17
Chapter: The prohibition against a Muhajir returning to settle in his former homeland
مہاجر کے لیے پھر سے اپنے وطن میں جا بسنے کی ممانعت
1 Hadith
18
Chapter: Swearing Allegiance and Pledging to adhere to Islam, to engage in Jihad and to do Good, after the conquest of Makkah, and the meaning of the phrase: There is No Hijrah (migration) after the Conquest.
فتح مکہ کے بعد اسلام ‘جہاد اور خیر پربیعتاور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہ ہونے کا مفہوم
8 Hadith
19
Chapter: How women gave their oath of allegiance
عورتوں کی بیعت کا طریقہ
2 Hadith
20
Chapter: Oath of allegiance pledging to hear and obey as much as possible
استطاعت کے مطابق حکم سننے اور ماننے کی بیعت
1 Hadith
21
Chapter: The age of responsibility
سن بلوغ کابیان
2 Hadith
22
Chapter: The prohibition of travelling with the Mushaf to the land of the disbelievers if there is the fear that it may fall into their hands.
کفار کے ہاتھ لگنے کا ڈر ہو تو کفار کی سر زمین میں قرآن پاک ساتھ لے جانے کی ممانعت
4 Hadith
23
Chapter: Horse Races and Training Horses for Racing
گھوڑ سواری میں مقابلہ اور گھوڑوں کودبلا کر کے جفاکش بنانا
2 Hadith
24
Chapter: Disliked qualities in Horses
گھوڑوں میں جو صفات نا پسند کی جاتی ہیں
3 Hadith
25
Chapter: The virtue of Jihad and going out (to fight) in the cause of Allah
جہاد اور اللہ کی راہ میں نکلنے کی فضیلت
8 Hadith
26
Chapter: The virtue of Martyrdom in the cause of Allah
اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے کی فضیلت
6 Hadith
27
Chapter: The virtue of going out in the morning or the evening in the cause of Allah
صبح کو یا شام کو اللہ کی راہ میں سفر کرنے کی فضیلت
6 Hadith
28
Chapter: The High Positions that Allah has prepared for the Mujahid in Paradise
اللہ تعالیٰ نے مجاہد کےلیے جنت میں کیا درجات تیار کیے ہیں
1 Hadith
29
Chapter: If a person is killed in the cause of Allah, all his sins will be expiated except debt
جو شخص اللہ کی راہ میں شہید ہو قرض کے علاوہ اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
5 Hadith
30
Chapter: The souls of the martyrs are in Paradise, and they are alive with their Lord and they have provision
شہداء کی ارواح جنت میں ہیں اور آپنے رب کے ہاں زندہ ہیں اور انھیں رزق دیا جاتا ہے
1 Hadith
31
Chapter: The virtue of Jihad and keeping watch over the frontier
جہاد اور سرحدو پر پہرا دینے کی فضیلت
6 Hadith
32
Chapter: Two Men, one of whom kills the other, and both will enter Paradise
ایسے دو آدمیوں کا بیان جن میں سےایک دوسرے کو قتل کرے اور دونوں جنت میں داخل ہو نگے
3 Hadith
33
Chapter: One who kills a disbeliever then keeps to the right path
کافر کو قتل کرنے کےبعد دین پرجمے رہنا
2 Hadith
34
Chapter: The virtue of Charity in the Cause of Allah, and its Manifold reward
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے صدقہ کرنے کی فضیلت اور اس کے اجر میں کئی گنا اضافہ
1 Hadith
35
Chapter: The virtue of helping the warrior who is fighting in the cause of Allah with mounts etc., and looking after his family in his absence
سواری وغیرہ کے ساتھ مجاہد کی مدد کرنے اور اس کے گھر والوں کا خیال رکھنے کی فضیلت
10 Hadith
36
Chapter: The sanctity of the wives of the Mujahidin, and the sin of the one who betrays them with regard to them
مجاہدین کی عورتوں کی حرمت(تحفظ)اور جس نے ان میں مجاہدین میں سے خیانت کی اس کا گناہ
3 Hadith
37
Chapter: The duty of Jihad is waived for those who have excuses
معذوروں سے جہاد کی فرضیت ساقط ہو جانا
2 Hadith
38
Chapter: Affirmation of Paradise for the Martyr
شہید کے لیے جنت کا ثبوت
6 Hadith
39
Chapter: One who fights so that the word of Allah will be supreme is fighting in the cause of Allah
جو شخص اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کرے وہی مجاہد (فی سبیل اللہ) ہے
4 Hadith
40
Chapter: One who fights to show off and gain a reputation deserves Hell
جس شخص نے دکھاوے اور نام و نمود کے لیےجنگ کی وہ جہنم کا مستحق ہے
2 Hadith
41
Chapter: The reward of those who fought and acquired spoils of war and those who did not acquire spoils of war
جس نے جنگ کی اور غنیمت حاصل کی اور جس کو غنیمت نہ ملی اس کے ثواب کا بیان
2 Hadith
42
Chapter: The words of the prophets saws: Deeds are but with intentions which includes fighting and other deeds
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان ’’تمام اعمال کا مدار نیت پر ہے اور اس میں جہاد اور دیگر اعمال بھی ہیں
2 Hadith
43
Chapter: It is recommended to seek Martyrdom in the Cause of Allah, Exalted is He.
شہادت فی سبیل اللہ طلب کرنا مستحب ہے
2 Hadith
44
Chapter: Criticism of one who dies without having fought (in Jihad) or having thought of fighting
اس شخص کی مذمت جو فوت ہو گیا اور اس نے جہاد کیا نہ دل میں جہاد کرنے کی بات کبھی سوچی
1 Hadith
45
Chapter: The reward of one who is kept from fighting by sickness or any other excuse
اس شخص کا ثواب جسے بیماری یا کسی اور عذر نے جہاد کرنے سے روک دیا
2 Hadith
46
Chapter: The virtue of campaigning by sea
سمندر میں (سفر)کر کے جہاد کرنے کی فضیلت
4 Hadith
47
Chapter: The virtue of guarding the frontier in the cause of Allah (Glorified and Exalted is He)
اللہ کی ر اہ میں سر حدپر پہرا دینے کی فضیلت
2 Hadith
48
Chapter: About the Martyrs
شہداء کا بیان
6 Hadith
49
Chapter: The virtue of Shooting and Encouragement to learn it, and criticism of the one who learns it and then forgets it
تیر اندازی کی فضیلت اور اس کی تلقین ‘جس نے اسے سیکھ کر بھلا دیا اس کی مذمت
4 Hadith
50
Chapter: Keeping animals' well being in mind when traveling, and the prohibition of halting in the road at the end of the night.
سفرکے دوران جانوروں کا خیال رکھنا اور رات کا آخری حصہ گزر گاہ پر گزارنے کی ممانعت
2 Hadith
51
Chapter: Travel is a kind of torment, and it is recommended for the traveler to hasten back to his family after finishing his business
سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے اپنا کام کر لینے کے بعد جلد گھر کو لوٹنا چاہیے
1 Hadith
52
Chapter: It is disliked to enter at night when coming home from a journey
مسافر کے لیے طروق (یعنی ) رات کو گھر میں داخل ہونا مکروہ ہے
10 Hadith
53
Chapter: The obligation of staying with the Jama'ah (main body) of the muslims when Fitn (tribulations) appear, and in all circumstances. The prohibition of refusing to obey and on splitting away from the Jama'ah
فتنہ اور فساد کے وقت بلکہ ہر وقت مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا
12 Hadith
54
Chapter: The virtue of horses; Goodness is tied to their Forelocks.
گھوڑوں کی فضیلت
11 Hadith
55
رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا
9 Hadith
56
Chapter: The ruler is a shield from behind whom they fight and by whom they are protected
امام ‌مسلمانوں ‌كی ‌سپرہے
1 Hadith
No chapter matched that.