TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6515 - Chapter: The Virtue Of Maintaining Ties With The Friends Of One's Father And Mother, Etc. - The book of virtue, enjoining good manners, and joining of the ties of kinshio - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
Chapter: The Virtue Of Maintaining Ties With The Friends Of One's Father And Mother, Etc.
باب: ماں باپ کے دوستوں اور ان جیسی حیثیت رکھنے والوں کے ساتھ نیک سلوک کی فضیلت
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ، كَانَ لَهُ حِمَارٌ يَتَرَوَّحُ عَلَيْهِ، إِذَا مَلَّ رُكُوبَ الرَّاحِلَةِ وَعِمَامَةٌ يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ، فَبَيْنَا هُوَ يَوْمًا عَلَى ذَلِكَ الْحِمَارِ، إِذْ مَرَّ بِهِ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: أَلَسْتَ ابْنَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، قَالَ: بَلَى، فَأَعْطَاهُ الْحِمَارَ، وَقَالَ: ارْكَبْ هَذَا وَالْعِمَامَةَ، قَالَ: اشْدُدْ بِهَا رَأْسَكَ، فَقَالَ لَهُ: بَعْضُ أَصْحَابِهِ غَفَرَ اللهُ لَكَ أَعْطَيْتَ هَذَا الْأَعْرَابِيَّ حِمَارًا كُنْتَ تَرَوَّحُ عَلَيْهِ، وَعِمَامَةً كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَأْسَكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ وَإِنَّ أَبَاهُ كَانَ صَدِيقًا لِعُمَرَ»
Abdullah b. Dinar reported that when 'Abdullah b. 'Umar set out to Mecea, 'he kept a donkey with him which he used as a diversion from the tedium of journey on the camel's back and had a turban which he tied round his head. One day, as he was riding the donkey a desert Arab happened to pass by him. He ('Abdullah b. 'Umar) said: Arn't you so and so? He said: Yes He gave him his donkey and said: Ride it, and tie the turban round your head. Some of his companions said: May Allah pardon you, you gave to this desert Arab the donkey on which you enjoyed ride for diversion and the turban which you tied round your. head. Thereupon he said: Verily I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The finest act of goodness is the kind treatment of a person to the loved ones of his father after his death and the father of this person was a friend of 'Umar
ابراہیم بن سعد اور لیث بن سعد دونوں نے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کی کہ وہ مکہ مکرمہ کے لیے نکلتے تو جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے تو ان کا گدھا ( ساتھ ہوتا ) تھا جس پر وہ سہولت کے لیے سواری کرتے ۔ اور ایک عمامہ ( ہوتا ) تھا جو اپنے سر پر باندھتے تھے ۔ تو ایسا ہوا کہ ایک دن وہ اس گدھے پر سوار تھے کہ ایک بادیہ نشیں ان کے قریب سے گزرا ، انہوں نے اس سے کہا؛ تم فلاں بن فلاں کے بیٹے نہیں ہو! اس نے کہا : کیوں نہیں ( اسی کا بیٹا ہوں ) تو انہوں نے گدھا اس کو دے دیا اور کہا : اس پر سوار ہو جاؤ اور عمامہ ( بھی ) اسے دے کر کہا : اسے سر پر باندھ لو ۔ تو ان کے کسی ساتھی نے ان سے کہا : اللہ آپ کی مغفرت کرے! آپ نے اس بدو کو وہ گدھا بھی دے دیا جس پر آپ سہولت ( تکان اتارنے ) کے لیے سواری کرتے تھے اور عمامہ بھی دے دیا جو اپنے سر پر باندھتے تھے ۔ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " والدین کے ساتھ بہترین سلوک میں سے یہ ( بھی ) ہے کہ جب اس کا والد رخصت ہو جائے تو اس کے ساتھ محبت کا رشتہ رکھنے والے آدمی کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔ " اور اس کا والد ( میرے والد ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا ۔
6515
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

703
1
Chapter: The virtue of helping the warrior who is fighting in the cause of Allah with mounts etc., and looking after his family in his absence
سواری وغیرہ کے ساتھ مجاہد کی مدد کرنے اور اس کے گھر والوں کا خیال رکھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
2
Chapter: The Virtue of Fasting for in the cause of Allah, for those who are able to without suffering any harm or neglecting other duties
اس شخص کےلیے اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت جو نقصان اور حق کو ضائع کیے بغیر ‘اس کی طاقت رکھتا ہو
Sahih Muslim
3
Chapter: The Virtue Of Treating Widows, The Poor And Orphans Kindly
بیوہ مسکین اور یتیم کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت
Sahih Muslim
4
Chapter: Uphold ties with those whom your father used to uphold ties
جس سے تمہارا باپ اچھا سلوک کرتا ہو تم بھی اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو
Sunnan Ibn e Maja
5
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Fasting In The Cause Of Allah
باب: دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related Concerning The Group That Sits to Remember Allah The Mighty And Sublime, What Virtues They Have
باب: ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
8
غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
Musnad Ahmad
9
(7) CHAPTER. To be good to a father who is a Mushrik.
والد کافر یا مشرک ہو تب بھی اس کے ساتھ نیک سلوک کرنا
Sahih Bukhari
10
Chapter: The virtue of the Subh and the `Asr prayers, and of maintaining them
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان کی حفاظت
Sahih Muslim
11
Chapter: The virtue of offering the funeral prayer and following the bier
جنازے پر نماز پڑھنے اور جنازے کے ساتھ جانے کی فضیلت
Sahih Muslim
12
Chapter: Prohibition of Fasting for a lifetime for the one who will be harmed by that or who will neglect other duties, or does not break his fast on the two 'Ids or during the days of At-Tashriq; It is better to fast alternate days
اس شخص کے لیے سال بھر کے روزے رکھنے کی ممانعت جسے اس سےنقصان پہنچنے یا وہ اس کی وجہ سے کسی حق کو ضائع کرے ‘یا عید ین اور ایام تشریق کاٰ روزہ بھی نہ چھوڑے ‘اور ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
13
Chapter: The virtue of manumitting one's father
والد کو آزاد کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
14
Chapter: The virtue of a just ruler and the punishment of a tyrant; Encouragement to treat those under one's authority with kindness and the prohibition against causing them hardship
عادل حاکم کی فضیلت ‘ظالم حاکم کی سزا ‘رعایہ طے ساتھ نرمی کی تلقین‘اور ان پر مشقت ڈالنے کی ممانعت
Sahih Muslim
15
CHAPTER: The Virtue Of Performing The Funeral Prayer And Accompanying The Janazah.
باب: جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت ۔
Sunnan Abu Dawood
16
Chapter: The Virtue Of Those Who Praise Allah
اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔
Sunnan Ibn e Maja
17
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
18
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of The First Row
باب: پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tamin
باب: آمین کہنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Performing Many Bowings and Prostrations [And Its Virtues]
باب: رکوع اور سجدہ کثرت سے کرنے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sending Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Day Of Jumu'ah
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن غسل کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Sahar
باب: سحری کھانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Virtue OF Fasting On The Day of Arafah
باب: عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Fasting
باب: روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Virtue For The Fasting Person When Others Are Eating In His Presence
باب: روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے
Jam e Tirmazi
43
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Talbiyah And the Nahr (Sacrifice)
باب: تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Tawaf
باب: طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Black Stone, Its Corner, And The Maqam
باب: حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related Mentioning The Virtues Of 'Umrah
باب: عمرہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: The Virtue In The Calamity When One Patiently Seeks A Reward For It
باب: مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat For A Funeral
باب: نماز جنازہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: Something Else About The Virtue Of Consoling
باب: تعزیت کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

87
Jam e Tirmazi
268
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ . زَادَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ:‏‏‏‏ وَلَمْ يَرْوَ شَرِيكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ مِثْلَ هَذَا عَنْ شَرِيكٍ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ يَرَوْنَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ. وَرَوَى هَمَّامٌ عَنْ عَاصِمٍ هَذَا مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ.
Wa'il bin Hujr narrated: I saw Allah's Messenger when he prostrated placing his knees (on the ground) before his hands, and when he got up, he raised his hands before his knees.
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا: جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھ سے پہلے رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے شریک سے اس طرح روایت کیا ہو، ۲- اکثر ہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، ان کی رائے ہے کہ آدمی اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے رکھے اور جب اٹھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھائے، ۳- ہمام نے عاصم ۲؎ سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اس میں انہوں نے وائل بن حجر کا ذکر نہیں کیا۔
Sahih Muslim
133
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ صَالِحٍ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْآيَتَيْنِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: وَيَعُودَانِ فِي تِلْكَ الْمَقَالَةِ، وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ مَكَانَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ فَلَمْ يَزَالَا بِهِ
The same hadith is mentioned through a different chain except it ends where it mentions that Allah revealed the verses and it does not mention the verses. There is also a slight variation in words.
معمر اور صالح ، دونوں نے زہری سے ان کی سابقہ سند کےساتھ یہی روایت بیان کی ، فرق یہ ہے کہ صالح کی روایت : فأنزل الله فيه ’’اس کےبارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری ‘ ‘ پر ختم ہو گئی ، انہوں نے دو آیتیں بیان نہیں کیں ۔ انہوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا کہ وہ دونوں ( ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ ) یہی بات دہراتے رہے ۔ معمر کی روایت میں المقالة ( بات ) کے بجائے الكلمة ( کلمہ ) ہے ، وہ دونوں ان کے ساتھ لگے رہے ۔
Sahih Muslim
184
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed: There came to you the people from Yemen; they are tender of hearts and mild of feelings, the understanding is Yemenite, the sagacity is Yemenite.
صالح نے اعرج سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسو ل ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے پاس یمنی لوگ آئے ہیں ، وہ زیادہ کمزور دل اور سینوں میں زیادہ رقت رکھنے والے ہیں ۔ فقہ یمنی ہے اور حکمت ( بھی ) یمنی ہے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
205
وَحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
Imam Muslim has reported this hadith by Hasan b. 'Ali al-Halwani and other traditions.
صفوان بن سلیم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عطاء بن یسار سے اور حمید بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہون نے نبی ﷺ سے یہ روایت بیان کی ۔
Sahih Muslim
324
وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ عَبْدٌ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، مِنْ صَدَقَةٍ، أَوْ عَتَاقَةٍ، أَوْ صِلَةِ رَحِمٍ، أَفِيهَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ»
Hakim b. Hizam reported to 'Urwa b. Zubair that he said to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Messenger of Allah, do you think if there is any reward (of the Lord with me on the Day of Resurrection) for the deeds of religious purification that I performed in the state of ignorance, such as charity, freeing a slave, cementing of blood-relations? Upon this he (the Messenger of Allah) said to him: You have accepted Islam with all the previous virtues that you had practised.
( یونس کے بجائے ) صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : اللہ کے رسول ! آپ ان اعمال کے بارے کیا فرماتے ہیں جو میں جاہلیت کے دور میں اللہ کی عبادت کے طور کیا کرتا تھا یعنی صدقہ و خیرات ، غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی ، کیا ان کا اجر ہو گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو بھلائی کےکام تم پہلے کر چکے ہو تم ان سمیت اسلام میں داخل ہوئے ہو ۔ ‘ ‘ ( تمہارے اسلام کے ساتھ وہ بھی شرف قبولیت حاصل کر چکے ہیں کیونکہ وہ بھی شہادتین کی تصدیق کرتے ہیں ۔ )
Sahih Muslim
380
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، وَزَادَ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟
Sa'd reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) bestowed upon a group of persons (booty) and I was sitting with them. The remaining part of the hadith is the same as mentioned (above) with the additionI stood up and went to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and whispered to him: Why did you omit such and such a man?
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد ( حضرت ) سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو ( عطیہ ) دیا اورمیں ان میں بیٹھا تھا ..... آگے ابن شہاب کے بھتیجے کی اپنے چچا سے روایت کی طرح ہے اور اتنا اضافہ ہے : ’’میں اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ سے عرض کی : فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا
Sahih Muslim
390
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح، وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، ح، وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: «إِمَامًا مُقْسِطًا، وَحَكَمًا عَدْلًا» وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ: «حَكَمًا عَادِلًا»، وَلَمْ يَذْكُرْ «إِمَامًا مُقْسِطًا»، وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ: «حَكَمًا مُقْسِطًا»، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ: وَفِي حَدِيثِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ: «وَحَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ
The same hadith is transmitted from Zuhri with the same chain of transmission. But in the tradition narrated by Ibn 'Uyaina the words are: impartial leader and just judge and in the tradition narrated by Yunus: the judge judging with justice and impartial leader are not mentioned. And in the hadith narrated by Salih like the one transmitted by Laith the words are: impartial judge . And in the hadith transmitted by Ziyad the words are: Till one sajda is better than the worldand what it contains. Then Abu Huraira used to say, recite if you like: Not one of the People of the Book will fail to believe in him before his death.
سفیان بن عیینہ ، یونس اور صالح نے ( ابن شہاب ) زہری سے ( ان کی ) اسی سند سے روایت نقل کی ۔ ابن عیینہ کی روایت میں ہے : ’’ انصاف کرنے والے پیشوا ، عادل حاکم ‘ ‘ اور یونس کی روایت میں : ’’عادل حاکم ‘ ‘ ہے ، انہوں نے ’’انصاف کرنے والے پیشوا ‘ ‘ کا تذکرہ نہیں کیا ۔ اور صالح کی روایت میں لیث کی طرح ہے : ’’انصاف کرنےوالے حاکم ‘ ‘ اور یہ اضافہ بھی ہے : ’’حتی کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہو گا ۔ ‘ ‘ ( کیونکہ باقی انبیاء کےساتھ محمدرسول اللہ ﷺ پرمکمل ایمان ہو گا ، او راولو العزم نبی جو صاحب کتاب و شریعت تھا ۔ آپ کی امت میں شامل ہو گا اور اسی کے مطابق فیصلے فرما رہا ہو گا ۔ ) پھر ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( آخر میں ) کہتے ہیں : چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : ’’ اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہو گا مگر عیسیٰ کی وفات سے پہلے ان پر ضرور ایمان لائے گا ( اور انہی کے ساتھ امت محمدیہ میں شامل ہو گا ۔ ) ‘ ‘
Sahih Muslim
808
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِ رِوَايَةِ يُونُسَ
This hadith is narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters as transmitted by Yunus.
۔ ابن شہاب کے ایک اور شاگرد صالح نے بھی اسی سند سے یونس کی حدیث کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ۔ 809 ۔ سفیان نے عمرو
Sahih Muslim
876
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ، الَّذِي مَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرِهِمْ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ
Mahmud b. al-Rabi', on whose face the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) squirted water from the well, reported on the authority of 'Ubada b. as- Samit that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who does not recite Umm al-Qur'an is not credited with having observed prayer.
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت محمود بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ، جن کے چہرے پر رسول اللہﷺ نے ان کے کنویں سے کلی کر کے پانی کا چھینٹا دیا تھا ، انہیں بتایا کہ حضرت عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ’’جس نے ام القریٰ کی قراءت نہ کی ، اس کی کوئی نماز نہیں ۔ ‘ ‘