Chapter: What Has Been Related Concerning The Group That Sits to Remember Allah The Mighty And Sublime, What Virtues They Haveباب: ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان
Chapter 6 of Chapters on supplication in Jam e Tirmazi. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Al-Agharr Abu Muslim narrated that:
He bears witness, from Abu Hurairah and Abu Sa’eed Al-Khudri, that they bear witness, from the Messenger of Allah, that he said: “There is no group that remembers Allah, except that the angels encompass them, mercy covers them, and tranquility descends upon them: and Allah remembers (mentions) them before those who are with Him.”
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے روایت ہے: انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قوم اللہ کو یاد کرتی ہے ( ذکر الٰہی میں رہتی ہے ) اسے فرشتے گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی اسے ڈھانپ لیتی ہے، اس پر سکینت ( طمانیت ) نازل ہوتی ہے اور اللہ اس کا ذکر اپنے ہاں فرشتوں میں کرتا ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎۔
وضاحت: ۱؎ : یہ طریق (۳۳۸۰) کے بعد مطبوع نسخوں میں تھا، اور صحیح جگہ اس کی یہی ہے، جیسا کہ کئی قلمی نسخوں میں آیا ہے، یہ سند محبوبی کی روایت سے ساقط تھی، اسی لیے مزی نے اس سند کو تحفۃ الأشراف میں ذکر نہیں کیا، حافظ ابن حجر نے اس پر استدراک کیا اور کہا کہ ایسے ہی میں نے اس کو دیکھا ہے حافظ ابوعلی حسین بن محمد صدفی (ت : ۵۱۴ھ) کے قلم سے جامع ترمذی میں، اور ایسے ہی ابن زوج الحرۃ کی روایت میں ہے، اور میں نے اسے محبوبی کی روایت میں نہیں دیکھا ہے (النکت الظراف ۳/۳۲۹)۔
Abu Sa’eed Al Khudri narrated the:
Mu’awiyah came out to the Masjid and said: “What has caused you to gather for this sitting.” They said: “We gathered so that we may remember Allah.” He said, “By Allah, nothing caused you to gather for this sitting except for that?” They said, “By Allah, nothing caused us to gather for this sitting except for that.” He said: “Indeed, I did not ask you out of suspicion, and there was no one in the position I was from the Messenger of Allah who narrates less Ahadith from him than me. Indeed the Messenger of Allah came out upon a circle of his Companions and said: ‘what has caused you to gather for this sitting?’ They said: ‘We have gathered for this sitting to remember Allah, and praise Him for His having guided us to Islam, and having bestowed blessings upon us.’ So he said: ‘By Allah, nothing caused you to gather for this sitting except for that?’ He said: ‘Indeed, I did not ask you out of suspicion, verily Jibra’il came to me and informed me that Allah boasts of you to the angels.’”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ مسجد گئے ( وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے ) پوچھا: تم لوگ کس لیے بیٹھے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: کیا! قسم اللہ کی! تم کو اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہم اسی مقصد سے یہاں بیٹھے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے جیسا مقام و منزلت رکھنے والا کوئی شخص مجھ سے کم ( ادب و احتیاط کے سبب ) آپ سے حدیثیں بیان کرنے والا نہیں ہے۔ ( پھر بھی میں تمہیں یہ حدیث سنا رہا ہوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس گئے وہ سب دائرہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، ان سے کہا: کس لیے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اللہ نے ہمیں اسلام کی طرف جو ہدایت دی ہے، اور مسلمان بنا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے ہم اس پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اور اس کی حمد بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا واقعی؟ ! قسم ہے تمہیں اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟“ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہمیں اسی مقصد نے یہاں بٹھایا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قسم اس لیے نہیں دلائی ہے، میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے، بات یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا اور خبر دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء ۱۱ (۲۷۰۱)، سنن النسائی/القضاة ۳۷ (۵۴۲۸) (تحفة الأشراف : ۱۱۴۱۶)، و مسند احمد (۴/۹۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی : بات یہ نہیں ہے کہ میں آپ لوگوں کی ثقاہت کے بارے میں مطمئن نہیں ہوں اس لیے قسم کھلائی ہے، بلکہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح صحابہ سے قسم لے کر یہ حدیث بیان فرمائی تھی، اسی اتباع میں، میں نے بھی آپ لوگوں کو قسم کھلائی ہے، حدیثوں کی روایت کا یہ بھی ایک انداز ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کیفیت کے ساتھ حدیث بیان کی ہوتی ہے، صحابہ سے لے کر اخیر سند تک کے ساری راوی اسی طرح روایت کرتے ہیں، اس سے حدیث کی صحت پر اور زیادہ یقین بڑھ جاتا ہے (اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی شک و شبہ کی بنا پر ان سے قسم نہیں لی تھی، بلکہ بیان کی جانے والی بات کی اہمیت جتانے کے لیے ایک اسلوب اختیار کیا تھا)۔