TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6744 - Chapter: The Debate Between Adam And Musa (Peace And Blessings Of Allah Be Upon Them) - The book of destiny - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 8 in this chapter
Chapter: The Debate Between Adam And Musa (Peace And Blessings Of Allah Be Upon Them)
حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مباحثہ
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ هُرْمُزَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ قَالَا سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام عِنْدَ رَبِّهِمَا فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى قَالَ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَأَسْكَنَكَ فِي جَنَّتِهِ ثُمَّ أَهْبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِكَ إِلَى الْأَرْضِ فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا فَبِكَمْ وَجَدْتَ اللَّهَ كَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ مُوسَى بِأَرْبَعِينَ عَامًا قَالَ آدَمُ فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَتَلُومُنِي عَلَى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There was an argument between Adam and Moses (peace be upon both of them) in the presence of their Lord. Adam came the better of Moses. Moses said: Are you that Adam whom Allah created with His Hand and breathed into himHis sprit, and commanded angels to fall in prostration before him and He made you live in Paradise with comfort and ease. Then you caused the people to get down to the earth because of your lapse. Adam said: Are you that Moses whom Allah selected for His Messengership and for His conversation with him and conferred upon you the tablets, in which everything was clearly explained and granted you the audience in order to have confidential talk with you. What is your opinion, how long Torah would haye been written before I was created? Moses said: Forty years before. Adam said: Did you not see these words: Adam committed an error and he was enticed to (do so). He (Moses) said: Yes. Whereupon, he (Adam) said: Do you then blame me for an act which Allah had ordained for me forty years before He created me? Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: This is how Adam came the better of Moses.
حارث بن ابی ذباب نے یزید بن ہرمز اور عبدالرحمٰن اعرج سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے اپنے رب کے سامنے ایک دوسرے کو دلیلیں دیں اور حضرت آدم علیہ السلام دلیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ، حضرت موسیٰ نے کہا : آپ وہ آدم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ، اور آپ میں اپنی روح کو پھونکا اور آپ کو فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں رکھا ، پھر آپ نے اپنی غلطی سے لوگوں کو جنت سے نکلوا کر زمین میں اتروا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : تم وہ موسیٰ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنی ہم کلامی کے ذریعے سے فضیلت بخشی اور تمہیں ( تورات کی ) وہ تختیاں عطا کیں جن میں ہر چیز کی وضاحت ہے اور تمہیں سرگوشی کے لیے جانے والا بنا کر اپنا قرب عطا فرمایا ۔ ( تم یہ بتاؤ ) تمہارے علم کے مطابق اللہ نے میری پیدائش سے کتنی مدت پہلے تورات کو ( اس صورت میں ) لکھا ( جس طرح وہ تم پر نازل ہوئی؟ ) موسیٰ علیہ السلام نے کہا : چالیس سال سے ( قبل ۔ ) حضرت آدم علیہ السلام نے کہا : کیا تم نے اس میں یہ ( لکھا ہوا ) پایا : " آدم نے اپنے پروردگار ( کے حکم ) سے سرتابی کی اور راہ سے ہٹ گیا " ؟ ( حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : ہاں ، تو انہوں نے کہا : کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو کہ میں نے وہ کام کیا جو اللہ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے مجھ پر لکھ دیا تھا کہ میں وہ کام کروں گا؟ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس طرح آدم علیہ السلام نے دلیل سے موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا ۔ "
6744
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

1,789
1
(11) CHAPTER. (Prophet) Adam and Musa (Moses) argued with each other in front of Allah.
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آدم و موسیٰ علیہما السلام نے جو مباحثہ کیا اس کا بیان
Sahih Bukhari
2
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “... In order that you [O Musa (Moses)] may be brought up under My Eye.” (V.20:39)
سورۃ طہٰ میں اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ علیہالسلام سے فرمانا کہ
Sahih Bukhari
3
Chapter: The Beginning Of Creation And The Creation Of Adam, (Peace Be Upon Him)
مخلوقات(کی تخلیق) کی ابتدا اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق
Sahih Muslim
4
(16) CHAPTER. What has been said about the journey of Prophet Musa (Moses) علیہ السلام (when he went) in the sea to meet Al-Khidr.
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حضرت خضر علیہ السلام کے پاس دریا میں جانے کے ذکر میں
Sahih Bukhari
5
(24) CHAPTER: The Statement of Allah: Has there come to you the story of Musa (Moses)? (V.79:15) And Allah's Statement: ...And to Moses Allah spoke directly. (V.4:164)
( سورۃ طہٰ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمان اور کیا تجھ کو موسیٰ کا واقعہ معلوم ہوا ہے اور ( سورۃ نساء میں ) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا ۔
Sahih Bukhari
6
(27) CHAPTER. The story of Al-Khidr with Musa (Moses).
حضرت خضراور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات ۔
Sahih Bukhari
7
(31) CHAPTER. The death of Musa (Moses) and his remembrance after his death.
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات اور ان کے بعد کے حالات کا بیان ۔
Sahih Bukhari
8
Chapter: Allah will say to Adam: Bring out the Portion of the Fire; Nine Hundred and Ninety-Nine Out of Every Thousand.
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا قول کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا دوزخ میں بھیجنے کے لیے ہر ہزار(1000) میں سے نو سو ننانوے (999) الگ کر دو
Sahih Muslim
9
Chapter: The Virtues Of Eisa, Peace Be Upon Him
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فضائل
Sahih Muslim
10
Chapter: The Virtues Of Musa, Peace Be Upon Him
حضرت یوسف علیہ السلام کے چند فضائل
Sahih Muslim
11
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
Musnad Ahmad
12
(5) CHAPTER. The reference to Idris. He was Nuh's (Noah) great-grandfather, and it is said that he was Nuh's grandfather. The Statement of Allah: We raised him (i.e., Idris) to a high station . (V.19:57)
حضرت ادریس علیہ السلام کا بیان ۔
Sahih Bukhari
13
(12) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Qur'an) Ismail (Ishmael) : Verily! He was true to what he promised...” (V.19:54)
( حضرت اسماعیل علیہ السلام کا بیان ) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اور یاد کرو اسماعیل کو کتاب میں بیشک وہ وعدے کے سچے تھے ۔ “
Sahih Bukhari
14
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “And to Thamud (people, We sent) their brother Salih...” (V.7:73).
( قوم ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کا بیان ) ۔
Sahih Bukhari
15
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, in Yasuf (Joseph) and his brethren there were Ayat (proofs, evidences, verses, lessons, signs, revelation, etc.) for those who ask. (V.12:7)
( حضرت یوسف علیہ السلام کا بیان ) اللہ پاک نے فرمایا کہ بیشک یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات میں پوچھنے والوں کیلئے قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں ۔
Sahih Bukhari
16
(35) CHAPTER: The Statement of Allah: “And verily, Yunus 9Jonah) was one of the Messengers... (up to)... And he had done an act worthy of blame. (V.37:139-148)
حضرت یونس علیہ السلام کا بیان ۔
Sahih Bukhari
17
(38) CHAPTER. The most beloved Salat (prayer) to Allah was the SaIat (prayer) of (the Prophet) Dawud (David).
حضرت داؤد علیہ السلام کا بیان ۔
Sahih Bukhari
18
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “(This is) a mention of the mercy of your Lord to His slave Zakariya (Zachariah)... (up to) We have given that name to none before (him)”. (V.19:2-7)
حضرت زکریا علیہ السلام کا بیان ۔
Sahih Bukhari
19
(44) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Quran, O Muhammad (p.b.u.h), the story of) Maryam (Mary), when she withdrew in seclusion from her family to a place facing east. (V.19:16).
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کا بیان ۔
Sahih Bukhari
20
(61) CHAPTER. The sending of Abu Musa and Mu'adh to Yemen before the Hajjat-al-Wada.
حجۃالوداع سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰاشعری اور حضرت معاذبنجبل رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
Sahih Bukhari
21
(20) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) about Al-Hasan bin Ali, This son of mine is a chief, and Allah may make peace between two groups of Muslims through him.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن رضیاللہعنہ کے متعلق فرمانا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور یقیناً اللہ پاک اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔
Sahih Bukhari
22
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
Sahih Muslim
23
Chapter: The Virtues Of Ibrahim, Peace Be Upon Him
حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرما ن : کسی بندے کے لیے لائق نہیں کہ وہ کہے : میں یو نس بن متیٰ سے بہتر ہوں
Sahih Muslim
24
Chapter: Yunus, Peace Be Upon Him, And The Words Of The Prophet (SAW): No One Should Say: I Am Better Than Yunus Bin Matta.
حضرت زکریا علیہ السلام کے بعض فضائل
Sahih Muslim
25
Chapter: The Virtues Of Yusuf, Peace Be Upon Him
حضرت خضر علیہ السلام کے بعض فضائل
Sahih Muslim
26
باب: تقدیر کے مسئلہ میں آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مناظرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Descent of 'Eisa Bin Mariam(Peace Be Upon Him)
باب: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کا بیان
Jam e Tirmazi
28
خضر علیہ السلام کا موسی علیہ السلام کے ساتھ قصہ
Musnad Ahmad
29
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
Musnad Ahmad
30
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
31
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
Musnad Ahmad
32
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
Musnad Ahmad
33
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
Musnad Ahmad
34
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
Musnad Ahmad
35
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
Musnad Ahmad
36
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
Musnad Ahmad
37
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
Musnad Ahmad
38
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
39
(37) CHAPTER. The asking of (angel) Jibril (Gabriel) from the Prophet about Belief, Islam, Ihsan (perfection) and the knowledge of the Hour (Doomsday) .
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان ، اسلام ، احسان اور قیامت کے علم کے بارے میں پوچھنا
Sahih Bukhari
40
(42) CHAPTER. The statement of the Prophet : Religion is An-Nasihah (to be sincere and true) to Allah, to His Messenger (Muhammad ), to the Muslim rulers, and to all the Muslims.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ دین سچے دل سے اللہ کی فرمانبرداری اور اس کے رسول اور مسلمان حاکموں اور تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کا نام ہے
Sahih Bukhari
41
(2) CHAPTER. Invocation of the Prophet : O Allah! Send (drought-famine) years on them (pagans of Makkah) like the (drought-famine) years of (Prophet) Yusuf (Joseph).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے کافروں پر بددعا کرناکہ الٰہی ان کے سال ایسے کر دے جیسے یوسف علیہ السلام کے سال ( قحط ) کے گزرے ہیں
Sahih Bukhari
42
(59) CHAPTER. The Saum (fasting) of Dawud (David) عليه السلام.
حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ
Sahih Bukhari
43
(4) CHAPTER. The pledge of protection given to Abu Bakr (by someone) during the lifetime by Allah's Messenger .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ( ایک مشرک کو ) امان دینا اور اس کے ساتھ آپ کا عہد کرنا
Sahih Bukhari
44
(3) CHAPTER. The advice to take care of non-Muslims who have a covenant of Allah's Messenger (p.b.u.h).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کافروں کو امان دی ( اپنے ذمہ میں لیا ) ان کے امان کو قائم رکھنے کی وصیت کرنا
Sahih Bukhari
45
(11) CHAPTER. Allah's Statement: “And tell them about the guests (the angels) of Ibrahim (Abraham).” (V.15:51).
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجر میں فرمایا ‘ اے پیغمبر ! ان لوگوں کو ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا قصہ سنائیے ۔
Sahih Bukhari
46
(14) CHAPTER.
حضرت یعقوب علیہ السلام کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ ” کیا تم لوگ اس وقت موجو دتھے جب یعقوب علیہ السلام کی موت حاضر ہوئی ۔ آخر آیت ونحن لہ مسلمون تک ۔
Sahih Bukhari
47
(15) CHAPTER. “And (remember) Lout (Lot)! When he said to his people, Do you commit Al-Fahishah (evil, great sins, every kind of unlawful sexual intercourse, sodomy) (up to) so, evil was the rain of those who were warned. (V.27:54-58)
( حضرت لوط علیہ السلام کا بیان ) اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ النمل میں فرمانا کہ ۔
Sahih Bukhari
48
(18) CHAPTER. Or were you witnesses when death approached Yaqub (Jacob)?... (V.2:133)
حضرت یعقوب علیہ السلام کا بیان ‘ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں فرمایا کہ کیا تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب علیہ السلام کی موت حاضر ہوئی ۔
Sahih Bukhari
49
(37) CHAPTER. The Statement of Allah: “And to David We gave the Zabur (Psalms)... (V.4:163) .
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اور دی ہم نے داود علیہ السلام کو زبور “ ۔
Sahih Bukhari
50
(49) CHAPTER. The advent (descent) of Isa (Jesus), son of Maryam (Mary).
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا آسمان سے اترنا ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

327
Mishkat
81
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام عِنْدَ رَبِّهِمَا فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى قَالَ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَأَسْكَنَكَ فِي جَنَّتِهِ ثُمَّ أَهَبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِكَ إِلَى الأَرْض فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا فَبِكَمْ وَجَدَتِ اللَّهِ كَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ مُوسَى بِأَرْبَعِينَ عَامًا قَالَ آدَمُ فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا (وَعَصَى آدَمُ ربه فغوى) قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَتَلُومُنِي عَلَى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر چیز حتیٰ کہ عجزو دانائی ، تقدیر کے مطابق ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Jam e Tirmazi
8
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا . فقَالَ أَبُو أَيُّوبَ:‏‏‏‏ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ مُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ،‏‏‏‏ وَمَعْقِلِ بْنِ أَبِي الْهَيْثَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ:‏‏‏‏ مَعْقِلُ بْنُ أَبِي مَعْقِلٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي أُمَامَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو أَيُّوبَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالزُّهْرِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْيَتُهُ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ إِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بِبَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا إِنَّمَا هَذَا فِي الْفَيَافِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا فِي الْكُنُفِ الْمَبْنِيَّةِ لَهُ رُخْصَةٌ فِي أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الرُّخْصَةُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اسْتِدْبَارِ الْقِبْلَةِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ فَلَا يَسْتَقْبِلُهَا كَأَنَّهُ لَمْ يَرَ فِي الصَّحْرَاءِ وَلَا فِي الْكُنُفِ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ.
Abu Ayyub Al-Ansari narrated that : Allah's Messenger said: When one of you arrives to defecate, then let none of you face the Qiblah while defecating, nor while urinating. And do not have your back towards it, but have it east of you or west of you.
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، بلکہ منہ کو پورب یا پچھم کی طرف کرو“ ۱؎۔ ابوایوب انصاری کہتے ہیں: ہم شام آئے تو ہم نے دیکھا کہ پاخانے قبلہ رخ بنائے گئے ہیں تو قبلہ کی سمت سے ترچھے مڑ جاتے اور ہم اللہ سے مغفرت طلب کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی، معقل بن ابی ہیشم ( معقل بن ابی معقل ) ابوامامہ، ابوہریرہ اور سہل بن حنیف رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوایوب کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور سب سے صحیح ہے، ۳- ابوالولید مکی کہتے ہیں: ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، اس سے مراد صرف صحراء ( میدان ) میں نہ کرنا ہے، رہے بنے بنائے پاخانہ گھر تو ان میں قبلہ کی طرف منہ کرنا جائز ہے، اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے، احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف صرف پیٹھ کرنے کی رخصت ہے، رہا قبلہ کی طرف منہ کرنا تو یہ کسی بھی طرح جائز نہیں، گویا کہ ( امام احمد ) قبلہ کی طرف منہ کرنے کو نہ صحراء میں جائز قرار دیتے ہیں اور نہ ہی بنے بنائے پاخانہ گھر میں ( البتہ پیٹھ کرنے کو بیت الخلاء میں جائز سمجھتے ہیں ) ۔
Jam e Tirmazi
38
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ وَهَنَّادٌ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ . قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَالْمُسَتَوْرِدِ وَهُوَ:‏‏‏‏ ابْنُ شَدَّادٍ الْفِهْرِيُّ،‏‏‏‏ وَأبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يُخَلِّلُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ فِي الْوُضُوءِ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ يُخَلِّلُ أَصَابِعَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فِي الْوُضُوءِ،‏‏‏‏ وَأَبُو هَاشِمٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ إِسْمَاعِيل بْنُ كَثِيرٍ الْمَكِّيُّ.
Asim bin Laqit bin Sabirah narrated from his father that : the Prophet Muhammad said: When performing Wudu go between the fingers.
لقیط بن صبرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو انگلیوں کا خلال کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عباس، مستورد بن شداد فہری اور ابوایوب انصاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ وضو میں اپنے پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے اسی کے قائل احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ وضو میں اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے۔
Jam e Tirmazi
58
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ ،‏‏‏‏ قال:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَنَسٍ:‏‏‏‏ فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ أَنْتُمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَتَوَضَّأُ وُضُوءًا وَاحِدًا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَشْهُورُ عَنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَى الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ اسْتِحْبَابًا لَا عَلَى الْوُجُوبِ.
Anas narrated that : The Prophet would perform wudu for every Salat, whether he was in state of purity or not in a state of purity.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے باوضو ہوتے یا بے وضو۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ لوگ کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی وضو کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حمید کی حدیث بواسطہ انس اس سند سے غریب ہے، اور محدثین کے نزدیک مشہور عمرو بن عامر والی حدیث ہے جو بواسطہ انس مروی ہے، اور بعض اہل علم ۲؎ کی رائے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو مستحب ہے نہ کہ واجب۔
Jam e Tirmazi
149
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ وَهُوَ ابْنُ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى الظُّهْرَ فِي الْأُولَى مِنْهُمَا حِينَ كَانَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ كُلُّ شَيْءٍ مِثْلَ ظِلِّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ وَأَفْطَرَ الصَّائِمُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَرُمَ الطَّعَامُ عَلَى الصَّائِمِ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَّى الْمَرَّةَ الثَّانِيَةَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ لِوَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ لِوَقْتِهِ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَتِ الْأَرْضُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ جِبْرِيلُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ وَالْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَبُرَيْدَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي مُوسَى،‏‏‏‏ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ،‏‏‏‏ وَالْبَرَاءِ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ.
Ibn Abbas narrated that : the Prophet said: Jibril (peace be upon him) led me (in Salat) twice at the House. So he prayed Zuhr the first time when the shadow was similar to (the length of) the strap a sandal. Then he prayed Asr when everything was similar (to the length of) its shadow. Then he prayed Maghrib when the sun had set and the fasting person breaks fast. Then he prayed Isha when the twilight had vanished. Then he prayed Fajr when Fajr (dawn) began, and when eating is prohibited for the fasting person. The second time he prayed Zuhr when the shadow of everything was similar to (the length of) it, at the time of Asr the day before. Then he prayed Asr when the shadow of everything was about twice as long as it. Then he prayed Maghrib at the same time as he did the first time. Then he prayed Isha, the later one, when a third of the night had gone. Then he prayed Subh when the land glowed. Then Jibril turned towards me and said: O Muhammad! These are the times of the Prophets before you, and the (best) time is what is between these two times.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے پاس میری دو بار امامت کی، پہلی بار انہوں نے ظہر اس وقت پڑھی ( جب سورج ڈھل گیا اور ) سایہ جوتے کے تسمہ کے برابر ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا ۱؎، پھر مغرب اس وقت پڑھی جب سورج ڈوب گیا اور روزے دار نے افطار کر لیا، پھر عشاء اس وقت پڑھی جب شفق ۲؎ غائب ہو گئی، پھر نماز فجر اس وقت پڑھی جب فجر روشن ہو گئی اور روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو گیا، دوسری بار ظہر کل کی عصر کے وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، پھر مغرب اس کے اول وقت ہی میں پڑھی ( جیسے پہلی بار میں پڑھی تھی ) پھر عشاء اس وقت پڑھی جب ایک تہائی رات گزر گئی، پھر فجر اس وقت پڑھی جب اجالا ہو گیا، پھر جبرائیل نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محمد! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقات نماز تھے، آپ کی نمازوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، بریدہ، ابوموسیٰ، ابومسعود انصاری، ابوسعید، جابر، عمرو بن حرم، براء اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
177
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْمَهُمْ عَنِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي مَرْيَمَ،‏‏‏‏ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي جُحَيْفَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ،‏‏‏‏ وَذِي مِخْبَرٍ وَيُقَالُ:‏‏‏‏ ذِي مِخْمَرٍ وَهُوَ ابْنُ أَخِي النَّجَاشِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الرَّجُلِ يَنَامُ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ يَنْسَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْتَيْقِظُ أَوْ يَذْكُرُ وَهُوَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَ غُرُوبِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ بَعْضُهُمْ يُصَلِّيهَا إِذَا اسْتَيْقَظَ أَوْ ذَكَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَ غُرُوبِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَمَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَا يُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبَ.
Abu Qatadah narrated: They asked the Prophet about when they sIept past the Salat. He said: 'There is no negligence in sleep, negligence is only while one is awake. So when one of you forgets a Salat, or sleeps through it, then let him pray it when he remembers it.'
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے نماز سے اپنے سو جانے کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”سو جانے میں قصور اور کمی نہیں۔ قصور اور کمی تو جاگنے میں ہے، ( کہ جاگتا رہے اور نہ پڑھے ) لہٰذا تم میں سے کوئی جب نماز بھول جائے، یا نماز سے سو جائے، تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابومریم، عمران بن حصین، جبیر بن مطعم، ابوجحیفہ، ابوسعید، عمرو بن امیہ ضمری اور ذومخمر ( جنہیں ذومخبر بھی کہا جاتا ہے، اور یہ نجاشی کے بھتیجے ہیں ) رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کے درمیان اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جو نماز سے سو جائے یا اسے بھول جائے اور ایسے وقت میں جاگے یا اسے یاد آئے جو نماز کا وقت نہیں مثلاً سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے پڑھ لے جب جاگے یا یاد آئے گو سورج نکلنے کا یا ڈوبنے کا وقت ہو، یہی احمد، اسحاق بن راہویہ، شافعی اور مالک کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جب تک سورج نکل نہ جائے یا ڈوب نہ جائے نہ پڑھے۔ پہلا قول ہی راجح ہے، کیونکہ یہ نماز سبب والی ( قضاء ) ہے اور سبب والی میں وقت کی پابندی نہیں ہے۔
Jam e Tirmazi
265
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ فِيهَا الرَّجُلُ يَعْنِي صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَرِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ مَنْ لَمْ يُقِمْ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَصَلَاتُهُ فَاسِدَةٌ:‏‏‏‏ لِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَأَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ الْبَدْرِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍوَ.
Abu Mas'ud Al-Ansari [Al-Badri] narrated that : Allah's Messenger said: The Salat is not acceptable if a man is not at rest - meaning his back - while bowing and prostrating.
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابومسعود انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی بن شیبان، انس، ابوہریرہ اور رفاعہ زرقی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی رکھے، ۴- شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جس نے رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں رکھی تو اس کی نماز فاسد ہے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: ”اس شخص کی نماز کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے۔
Jam e Tirmazi
310
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Al-Bara bin Azib narrated: The Prophet would recite: By the fig and the olive for Isha.
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
339
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ مُشْتَمِلًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ أَبِي أَسِيدٍ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَكَيْسَانَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ هَانِئٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ،‏‏‏‏ وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِهِمْ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبَيْنِ.
Umar bin Abi Salamah narrated that he saw : Allah's Messenger performing Salat in the house of Umm Salamah wrapped in one garment.
عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا، کہ آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر بن ابی سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، جابر، سلمہ بن الاکوع، انس، عمرو بن ابی اسید، عبادہ بن صامت، ابو سعید خدری، کیسان، ابن عباس، عائشہ، ام ہانی، عمار بن یاسر، طلق بن علی، اور عبادہ بن صامت انصاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین وغیرہم سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ آدمی دو کپڑوں میں نماز پڑھے۔