TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان

Chapter 29 of انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 29 of 30 · 3 Hadith
۔ (۱۰۳۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ کَانَ مَلَکُ الْمَوْتِ یَاْتِیْ النَّاسَ عَیَانًا، قَالَ: فَاَتٰی مُوْسٰی فَلَطَمَہُ فَفَقَأَ عَیْنَہُ، فَاَتٰی رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ، فَقَالَ: یَا رَبِّ! عَبْدُکَ مُوْسٰی فَقَأَ عَیْنِیْ،وَ لَوْلَا کَرَامَتُہُ عَلَیْکَ لَعَنُفْتُ بِہٖ، (وَقَالَیُوْنُسُ: لَشَقَقَتُ عَلَیْہِ) فَقَالَ لَہُ: اذْھَبْ اِلٰی عَبْدِیْ فَقُلْ لَہُ فَلْیَضَعْیَدَہُ عَلٰی جِلْدِ اَوْ مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَہُ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ وَارَتْ یَدُہُ سَنَۃٌ، فَاَتَاہُ فَقَالَ لَہُ: مَا بَعْدَ ھَذَا؟ قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ، قَالَ: فَشَمَّہُ شَمَّۃً فَقَبَضَ رُوْحَہُ قَالَ یُوْنُسُ: فَرَدَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَیْنَہُ وَ کَانَ یَاْتِیْ النَّاسَ خُفْیَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۱۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ملک الموت (موت والا فرشتہ) لوگوں کے پاس آتا تھا اور وہ اس کو دیکھتے تھے، اسی طرح وہ موسی علیہ السلام کے پاس آیا لیکن انھوں نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی، فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ گیا اور کہا: اے میرے ربّ! تیرے بندے موسی نے (طمانچہ مار کر) میری آنکھ پھوڑ دی، اگر تو نے اسے معزز نہ بنایا ہوتا تو میں بھی اس پر سختی کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: تو میرے بندے کے پاس واپس جا اور اس سے کہہ کہ وہ بیل کی کمر پر ہاتھ رکھے، جتنے بال ہاتھ کے نیچے آ جائیں گے، اتنے سال تم زندہ رہو گے۔ موسی علیہ السلام نے (فرشتے کییہ بات سن کر) کہا: اس کے بعد پھر کیا ہو گا؟ جواب ملا: پھر تجھے موت آئے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر ابھی سہی، پھر انھیں ایک بو سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی۔ یونس راوی نے کہا: پس اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کو آنکھ عطا کر دی، اس کے بعد فرشتہ لوگوں کے پاس مخفی انداز میں آنے لگ گیا۔
Takhreej
(۱۰۳۸۷) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی فی الصحیحۃ، قال الالبانی: والطرق عن ابی ھریرۃ ثلاثۃ: الأولي: عن طاوس عن أبي ھریرۃ: فأخرجہ الشیخان وغیرھما، الثانیۃ: عن ھمام عنہ: فأخرجاہ أیضا وغیرھما، والسیاق لمسلم، وھو أتم، الثالثہ: عن عمار بن أبي عمار: فأخرجہ أحمد، وابن جریر الطبری في التاریخ ۱/۲۲۴۔
10387
Sahih
۔ (۱۰۳۸۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: ((اُرْسِلَ مَلَکُ الْمَوْتِ اِلَی مُوْسٰی فَلَمَّا جَائَ ہُ صَکَّہُ فَفَقَأَ عَیْنَہُ، فَرَجَعَ اِلٰی رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ، فَقَالَ: اَرْسَلْتَنِیْ اِلٰی عَبْدٍ لَا یُرِیْدُ الْمَوْتَ، قَالَ: فَرَدَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلَیْہِ عَیْنَہُ وَ قَالَ: ارْجِعْ اِلَیْہِ فَقُلْ لَہُ یَضَعُیَدَہُ عَلٰی مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَہُ بِمَا غَطَّتْ یَدُہُ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ سَنَۃٌ فَقَالَ: اَیْ رَبِّ! ثُمَّ مَہْ؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فاَلْآنَ، فسَاَلَ َاللّٰہَ اَنْ یُدْنَیَہُ مِنَ الْاَرْضِ الْمُقَدَّسَۃِ رَمْیَۃً بِحَجَرٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :(( فَلَوْ کُنْتُ ثَمَّ لَاَرَیْتُکُمْ قَبْرَہُ اِلٰی جَانِبِ الطَّرِیْقِ تَحْتَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ۔)) (مسند احمد: ۷۶۳۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ملک الموت کو موسی علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا، پس جب وہ ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کو تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی، پس وہ اپنے ربّ کی طرف لوٹ گیا اور کہا: تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے، جس کا موت کا ارادہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کی آنکھ واپس لوٹا دی اور اس سے کہا: تو اس کی طرف لوٹ جا اور اس کو کہہ کہ وہ اپنا ہاتھ بیل کی کمر پر رکھے، جتنے بال ہاتھ کے نیچے آ جائیں گے، اتنے سال زندگی مل جائے گی، موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! پھر کیا ہوگا؟ اس نے کہا: پھر موت ہو گی، انھوں نے کہا: تو پھر ابھی سہی، پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ اس کو پاک زمین سے ایک پتھر کی پھینک تک قریب کر دے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں وہاں ہوتا تو تمھیں سرخ ٹیلے کے نیچے راستے کی ایک طرف ان کی قبر دکھاتا۔
Takhreej
(۱۰۳۸۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10388
Sahih
۔ (۱۰۳۸۹)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَرَرْتُ لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ عَلٰی مُوْسٰی فَرَاَیْتُہُ قَائِمًا یُصَلِّیْ فِیْ قَبْرِہِ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: (عِنْدَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ) (مسند احمد: ۱۲۵۳۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے سیر کرائی گئی، اس رات کو میں موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر اپنی قبر میں نماز ادا کر رہے تھے۔ ایک روایت میں یہ زائد بات ہے: یہ قبر سرخ ٹیلے کے پاس تھی۔
Takhreej
(۱۰۳۸۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۷۵ (انظر: ۱۲۵۰۴)
Explanation
فوائد:… سوال یہ ہے کہ موسی علیہ السلام نے موت والے فرشتے کو تھپڑ کیوں مارا؟ اس کے دو جوابات ہیں: (۱)موسی علیہ السلام کو یہ علم نہ ہو سکا کہ وہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کا قا صد تھا، جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے آیا تھا، انھوں نے سمجھا کہ یہ کوئی عام آدمی ہے، جو ان کو قتل کرنا چاہتا ہے، اس لیے انھوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے یہ اقدام کیا۔ (۲)اللہ تعالیٰ نے فرشتے کا امتحان لینے کے لیے موسی علیہ السلام کو اجازت دی تھی کہ وہ اس کو تھپڑ ماریں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کو پرکھنے کے لیے جو چاہتے ہیں کرتے رہتے ہیں۔ (دیکھئے شرح نووی صحیح مسلم: ۲/ ۲۶۷) موسی علیہ السلام نے بیت المقدس کے قرب کا سوال اس بنا پر کیا کہ وہ شرف والی جگہ تھی، انبیائے کرام وغیرہ کا مدفن ہونے کی وجہ سے افضل ہو گی، جبکہ بعض علما کا خیال ہے کہ انھوں نے بیت المقدس کا سوال نہیں کیا، کیونکہ ان کو ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ فتنہ و فساد میں پڑ جائیں۔ اس حدیث سے پتہ چلا کہ دفن ہونے کے لیے فضیلت و عظمت والے مقام کا تعین کرنا چاہیے اور نیکوکار لوگوں کے قبرستان کے قریب دفن ہونا چاہیے۔ (دیکھئے شرح نووی صحیح مسلم: ۲/ ۲۶۷)
10389
Sahih

Chapters

30
01
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
6 Hadith
02
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
2 Hadith
03
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
6 Hadith
04
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
3 Hadith
05
ہود علیہ السلام کا بیان
3 Hadith
06
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
07
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
4 Hadith
08
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
09
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
2 Hadith
10
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
8 Hadith
11
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
3 Hadith
12
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
3 Hadith
13
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
14
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
4 Hadith
15
یوسف علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
16
اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کا ذکر
2 Hadith
17
اللہ کے نبییونس علیہ السلام کا ذکر
4 Hadith
18
مچھلی والے یعنییونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
2 Hadith
19
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
20
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
4 Hadith
21
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
3 Hadith
22
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
2 Hadith
23
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
1 Hadith
24
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
1 Hadith
25
بنو اسرائیل کی بزدلی اور جبارقوم کے ساتھ لڑنے سے ان کے خوف کا بیان
1 Hadith
26
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
2 Hadith
27
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
2 Hadith
28
قارون، فرعون اور ہامان کی مذمت کا بیان
1 Hadith
29
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
3 Hadith
30
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.