۔ (۱۱)۔عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِأَرْبَعٍ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَنَامُ وَلا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَنَامَ،یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ یَرْفَعُہُ،یُرْفَعُ إِلَیْہِ عَمَلُ اللَّیْلِ بِالنَّہَارِ وَ عَمَلُ النَّہَارِ بِاللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۵۹)
سیدنا ابو موسی اشعریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار چیزیں بتلانے کے لیے ہمارے اندر کھڑے ہوئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور سونا اسے زیب بھی نہیں دیتا، وہ ترازو کوپست بھی کرتا ہے اور بلند بھی کرتا ہے، رات کے عمل دن کو اور دن کے عمل رات کو اس کی طرف بلند کر دیئے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۹(انظر: ۱۹۵۳۰)
Explanation
فوائد: …عمل اور رزق کا ترازو اس کے پاس ہے، چاہے تو نیکیوں والا پلڑا بھاری کر دے اور چاہے تو برائیوں والا پلڑا نیچے جھکا دے، چاہے تو بن مانگے بے حد و حساب رزق سے نواز دے اور چاہے تو کثرت سے سوال کرنے کے باوجود دَر دَر کا محتاج کر دے، وہ مختارِ مطلق بھی ہے اور حکیم بھی، اپنی دانائی اور حکمت کی روشنی میں جو چاہے، فیصلہ کر سکتا ہے اور اس کو نافذ کرنے پر بھی قدرتِ تامّہ رکھتا ہے۔
11
Sahih