TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب کی قسمِ اوّل … توحید اور دین کے اصولوں کا حصہ - کتاب کی قسمِ اوّل … توحید اور دین کے اصولوں کا حصہ - Book 1 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 1 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 50 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

50 Hadith · 4 Chapters
All books
Previous Book Next Book
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
۔ (۱)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ یَعْنِی ابْنَ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ کُلْثُوْمٍ ابْنِ جَبْرٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَخَذَ اللّٰہُ الْمِیْثَاقَ مِنْ ظَہْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ یَعْنِی عَرَفَۃَ، فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہِ کُلَّ ذُرِّیِّۃٍ ذَرَأَہَا، فَنَثَرَہُمْ بَیْنَ یَدَیْہِ کَالذَّرِّ، ثُمَّ کَلَّمَہُمْ قُبُلاً،قَالَ: {أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَآ أَنْ تَقُولُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غَافِلِیْنَ۔ أَوْ تَقُوْلُوْآ اِنَّمَا أَشْرَکَ آبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِہِمْ أَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ}۔)) (مسند أحمد: ۲۴۵۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نعمان یعنی عرفہ کے مقام پر حضرت آدمؑ کی پشت (یعنی ان کی اولاد)سے مضبوط عہد لیا، اس کا طریق کار یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی پیٹھ سے وہ ساری اولاد نکالی، جو اس نے پید اکرنی تھی اور ان کو آپؑ کے سامنے چیونٹیوںکی طرح بکھیر دیا اور پھر ان سے آمنے سامنے کلام کرتے ہوئے کہا: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ یا یوں کہو کہ پہلے پہل یہ شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔
Takhreej
(۱) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین غیر کلثوم بن جبر، فمن رجال مسلم، ورجح الحافظ ابن کثیر فی التفسیر وقفہ علی ابن عباس۔ أخرجہ النسائی فی الکبری : ۱۱۱۹۱، والحاکم: ۲/ ۵۴۴(انظر: ۲۴۵۵)
1
Sahih
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
۔ (۲)۔ عَنْ رُفَیْعٍ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ؓ فِی قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَ اِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُہُورِہِمْ ذُرِّیَّاتِہِمْ وَ أَشْہَدَہُمْ عَلَی أَنْفُسِہِمْ …}الآیَۃَ، قَالَ: جَمَعَہُمْ فَجَعَلَہُمْ أَرْوَاحًا، ثُمَّ صَوَّرَہُمْ فَاسْتَنْطَقَہُمْ فَتَکَلَّمُوْا، ثُمَّ أَخَذَ عَلَیْہِمُ الْعَہْدَ وَالْمِیْثَاقَ وَ أَشْہَدَہُمْ عَلَی أَنْفُسِہِمْ،أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟ قَالَ: فَاِنِّی أُشْہِدُ عَلَیْکُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرْضِیْنَ السَّبْعَ،وَ أُشْہِدُ عَلَیْکُمْ أَبَاکُمْ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَمْ نَعْلَمْ بِذَلِکَ، اعْلَمُوْا أَنَّہُ لَا اِلٰہَ غَیْرِی وَلَا رَبَّ غَیْرِیْ فَلَا تُشْرِکُوْا بِیْ شَیْئًا،اِنِّی سَأُرْسِلُ اِلَیْکُمْ رُسُلِیْ یُذَکِّرُوْنَکُمْ عَہْدِیْ وَ مِیْثَاقِیْ وَ أُنْزِلُ عَلَیْکُمْ کُتُبِیْ، قَالُوْا: شَہِدْنَا بِأَنَّکَ رَبُّنَا وَاِلٰہُنَا لَا رَبَّ غَیْرُکَ، فَأَقَرُّوْا بِذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۱۵۵۲)
سیدنا ابی بن کعبؓ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَ اِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُہُورِہِمْ ذُرِّیَّاتِہِمْ وَ أَشْہَدَہُمْ عَلَی أَنْفُسِہِمْ …}کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ان کو روحوں کی شکل میں جمع کیا، پھر ان کی تصویریں بنا کر ان کو بلوایا، پس یہ بولے، پھر ان سے ایک مضبوط عہد لیا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بنایا اور کہا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں، میں سات آسمانوں اور سات زمینوں کو تم پر گواہ بناتا ہوں اور میں تمہارے باپ آدمؑ کو بھی تم پر گواہ بناتا ہوں، تاکہ تم قیامت والے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہمیں تو اس چیز کا علم ہی نہیں تھا۔ جان لو کہ میرے علاوہ نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی ربّ، پس تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، عنقریب میں تمہاری طرف اپنے پیغمبروں کو بھیجوں گا، وہ تمہیں میرے وعدے اور میثاق کو یاد کرائیں گے اور میں تم پر کتابیں بھی نازل کروں گا۔ ان سب نے جواباً کہا: ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب اور معبود ہے، تیرے علاوہ ہمارا کوئی ربّ نہیں ہے، پس انھوں نے اس چیز کا اقرار کیا۔
Takhreej
(۲) تخریج: اثر ضعیف، محمد بن یعقوب الربالی مستور۔أخرجہ الحاکم: ۲/ ۳۲۳، والبھیقی فی الاسماء والصفات : ص ۳۶۸ (انظر: ۲۱۲۳۲)
2
Zaeef
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
۔ (۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ : ((یُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ أَ کُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہِ ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، قَالَ: فَیَقُوْلُ: قَدْ أَرَدْتُّ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ذَالِکَ، قَدْ أَخَذْتُ عَلَیْکَ فِی ظَہْرِ آدَمَ أَنْ لَّا تُشْرِکَ بِیْ شَیْئًا فَأَبَیْتَ اِلَّا أَنْ تُشْرِکَ بِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۱۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قیامت کے دن جہنمی آدمی سے کہا جائے گا: اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ زمین پر جو چیزیں بھی ہیں، کیا تو (اس عذاب سے بچنے کے لیے) وہ فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو تجھ سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا، میں نے تجھ سے یہ عہد لیا تھا، جبکہ تو آدم ؑ کی پیٹھ میں تھا، کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، لیکن تو نے انکار کر دیا تھا اور (اسی چیز پر ڈٹ گیا کہ) تو نے میرے ساتھ شرک ہی کرنا ہے۔
Takhreej
(۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۳۴، ومسلم: ۲۸۰۵(انظر: ۱۲۲۸۹)
Explanation
فوائد:… درج بالا اور اس موضوع کی دیگر احادیث میں عَھْدِ اَلَسْت کا ذکر ہے، یہ ترکیب آیت کے ان الفاظ {اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ}سے بنی ہوئی ہے، یہ عہد حضرت آدم ؑکی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا، پوری آیات یوں ہیں: { وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَآ أَنْ تَقُولُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غَافِلِیْنَ۔ أَوْ تَقُوْلُوْآ اِنَّمَا أَشْرَکَ آبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِہِمْ أَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ}… اور جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بنایا کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ یا یوں کہو کہ پہلے پہل یہ شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔ (سورۂ اعراف: ۱۷۲، ۱۷۳) یہ عہد ہم اس لیے تسلیم کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کی اطلاع دے دی ہے، بہرحال اس کا اثر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی یہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں ودیعت رکھ دی گئی ہے اور اگر یہ فطرت مختلف آلائشوں کی وجہ سے اپنی حیثیت کھو نہ بیٹھی ہو تو ایسا انسان فوراً حق کی آواز کو قبول کرتا ہے، لیکن اگر شرک و بدعت یا گندے معاشرے کی وجہ سے وہ فطرت متأثر ہو چکی ہو تو اس کو حق تسلیم کرنے میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے اور اس کے لیے یہ مرحلہ مشکل ہو جاتا ہے، جلد اور بدیر اسلام قبول کرنے والے صحابۂ کرام کی وجہ یہی تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسی مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جس طرح جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، اس کا ناک، کان کٹا نہیں ہوتا۔
3
Sahih
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
۔ (۴)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ وَہُوَ الَّذِی بَعَثَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؓ اِلَی الشَّامِ یُفَقِّہُ النَّاسَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ؓ حَدَّثَہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ رَکِبَ یَوْمًا عَلَی حِمَارٍلَہُ یُقَالُ لَہُ یَعْفُورٌ، رَسَنُہُ مِنْ لِیْفٍ، ثُمَّ قَالَ: ((ارْکَبْ یَا مُعَاذُ!))، فَقُلْتُ: سِرْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِرْکَبْ))، فَرَدِفْتُہُ فَصُرِ عَ الْحِمَارُ بِنَا فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضْحَکُ وَ قُمْتُ أَذْکُرُ مِنْ نَفْسِیْ أَسَفًا، ثُمَّ فَعَلَ ذَالِکَ الثَّانِیَۃَ ثُمَّ الثَّالِثَۃَ وَسَارَ بِنَا فَأَخْلَفَ یَدَہُ فَضَرَبَ ظَہْرِی بِسَوْطٍ مَعَہُ أَوْ عَصًا، ثُمَّ قَالَ: ((یَا مُعَاذُ! ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) فَقُلْتُ: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَ عْلَمُ، قَالَ: ((فَاِنَّ حَقَّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ أَنْ یَعْبُدُوْہُ وَلَا یُشْرِکُوْ بِہِ شَیْئًا۔))، قَالَ: ثُمَّ سَارَ مَا شَائَ اللّٰہُ، ثُمَّ أَخْلَفَ یَدَہُ فَضَرَبَ ظَہْرِی فَقَالَ: ((یَا مُعَاذُ! یَا ابْنَ أُمِّ مُعَاذٍ! ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اِذَا ہُمْ فَعَلُوْا ذَالِکَ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَاِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اِذَا فَعَلُوْا ذَالِکَ أَنْ یُدْخِلَہُمُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۲۳)
عبد الرحمن بن غنم، جن کو سیدنا عمرؓ نے لوگوں کو فقہ کی تعلیم دینے کے لیے شام بھیجا تھا، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے ان کو بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک روز اپنے یعفور نامی گدھے پر سوار ہوئے، اس کی رسی کھجور کے پتوں کی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: معاذ! تم بھی سوار ہو جاؤ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ چلیں (میں پیدل ہی ٹھیک ہوں)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: تم سوار ہو جاؤ۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار ہو گیا، ہوا یوں کہ گدھا گر پڑا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہو کر مسکرانے لگے اور میں دل ہی دل میں افسوس کرنے لگا، پھر دوسری اور تیسری بار بھی ایسے ہی ہوا، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنا ہاتھ مبارک پیچھے کیا اور کوڑے یا چھڑی کے ساتھ میری کمر پر مارا اور فرمایا: معاذ! کیا تو جانتا ہے کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس بیشک اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آگے کو چلے، اور پھر اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور میری کمر پر مارا اور فرمایا: اے معاذ! اے معاذ کی ماں کے بیٹے! کیا تم یہ جانتے ہو کہ اگر بندے ایسے ہی کریں تو اللہ تعالیٰ پر ان کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس بیشک جب بندے ایسے ہی کریں تو ان کا اللہ تعالیٰ پر حق یہ ہے کہ وہ ان کو جنت میں داخل کر دے۔
Takhreej
(۴) تخریج: حدیث صحیح دون القصۃ فی اولہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف شھر بن حوشب ۔ وأخرج آخرہ البخاری: ۲۸۵۶، ومسلم: ۳۰ وھو الحدیث الآتی (انظر: ۲۲۰۷۳)
4
Sahih
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
۔ (۵،۶)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: أَتَیْنَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: نَعَمْ، کُنْتُ رِدْفَہُ عَلٰی حِمَارٍ،قَالَ: فَقَالَ: ((یَا مُعَاذَ بْنُ جَبَلٍ!)) قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: (( ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَ عْلَمُ،فَذَکَرَ مِثْلَہُ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ: ((أَنْ لَّا یُعَذِّبَہُمْ)) بَدْلَ قَوْلِہِ ((أَنْ یُدْخِلَہُمُ الْجَنَّۃَ))زَادَ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ: قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!! أَلاَ أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((دَعْہُمْ یَعْمَلُوا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۴۳، ۲۲۳۷۸)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا معاذ بن جبل ؓ کے پاس آئے اور کہا: ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی کوئی عجیب سی حدیث بیان کرو، انھوں نے کہا: جی ہاں، وہ بات یہ ہے کہ میں گدھے پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے معاذبن جبل! میں نے کہا: میں حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، … پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث ذکر کی…، البتہ اس میں جنت میں داخل کرنے کے بجائے یہ الفاظ ہیں کہ وہ ان کو عذاب نہیں دے گا اور ایک روایت میں یہ زیادتی بھی ہے: آخر میں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو یہ حدیث بیان کر کے خوشخبری نہ سنا دوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رہنے دو، تاکہ وہ مزید عمل کرتے رہیں۔
Takhreej
(۵،۶) تخریج: أخرجہ البخاری ومسلم، وانظر الحدیث المتقدم (انظر: ۲۱۹۹۳)
5
Sahih
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
۔ (۵،۶)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: أَتَیْنَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: نَعَمْ، کُنْتُ رِدْفَہُ عَلٰی حِمَارٍ،قَالَ: فَقَالَ: ((یَا مُعَاذَ بْنُ جَبَلٍ!)) قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: (( ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَ عْلَمُ،فَذَکَرَ مِثْلَہُ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ: ((أَنْ لَّا یُعَذِّبَہُمْ)) بَدْلَ قَوْلِہِ ((أَنْ یُدْخِلَہُمُ الْجَنَّۃَ))زَادَ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ: قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!! أَلاَ أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((دَعْہُمْ یَعْمَلُوا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۴۳، ۲۲۳۷۸)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا معاذ بن جبل ؓ کے پاس آئے اور کہا: ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی کوئی عجیب سی حدیث بیان کرو، انھوں نے کہا: جی ہاں، وہ بات یہ ہے کہ میں گدھے پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے معاذبن جبل! میں نے کہا: میں حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، … پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث ذکر کی…، البتہ اس میں جنت میں داخل کرنے کے بجائے یہ الفاظ ہیں کہ وہ ان کو عذاب نہیں دے گا اور ایک روایت میں یہ زیادتی بھی ہے: آخر میں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو یہ حدیث بیان کر کے خوشخبری نہ سنا دوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رہنے دو، تاکہ وہ مزید عمل کرتے رہیں۔
Takhreej
(۵،۶) تخریج: أخرجہ البخاری ومسلم، وانظر الحدیث المتقدم (انظر: ۲۱۹۹۳)
6
Sahih
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
۔ (۵،۶)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: أَتَیْنَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: نَعَمْ، کُنْتُ رِدْفَہُ عَلٰی حِمَارٍ،قَالَ: فَقَالَ: ((یَا مُعَاذَ بْنُ جَبَلٍ!)) قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: (( ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَ عْلَمُ،فَذَکَرَ مِثْلَہُ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ: ((أَنْ لَّا یُعَذِّبَہُمْ)) بَدْلَ قَوْلِہِ ((أَنْ یُدْخِلَہُمُ الْجَنَّۃَ))زَادَ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ: قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!! أَلاَ أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((دَعْہُمْ یَعْمَلُوا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۴۳، ۲۲۳۷۸)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! کیا تم جانتے ہوں کہ لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر اور اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ پر ان کا حق یہ ہو گا کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔
Takhreej
(۷) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۵۱۷، والبزار: ۳۰۸۹ (انظر: ۸۰۸۵)
Explanation
فوائد:… اِن احادیث ِ مبارکہ سے توحید کو اختیار کرنے اور شرک سے بچنے کی فضیلت اور شرک کو اختیار کرنے اور توحید سے اعراض کرنے کی مذمت کا اندازہ ہو جانا چاہیے، اس موضوع سے متعلقہ تمام آیات و احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ شرک جیسے گناہ کی بخشش ناممکن ہے، مشرک کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیا جائے گا، رہا مسئلہ توحید پرست کا تو اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہوں کو معاف نہ کیا تو ان کے مطابق اس کو سزا دی جائے گی اور پھراس کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ بہرحال جن احادیث میں توحید کی فضیلت بیان کی گئی ہے، مؤحِّد کو اللہ تعالیٰ پر حسن ظن رکھتے ہوئے اپنے آپ کو ان کا مصداق سمجھنا چاہیے، لیکن اس حسن ظن کا یہ مفہوم نہیں کہ بندہ نیکیاں کرنا چھوڑ دے یا برائیوں سے باز رہنے کو ترک کر دے، دیکھیں حدیث نمبر (۵،۶)کے مطابق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سرے سے فضیلت والی ایسی احادیث بیان کرنے سے منع کر دیا، جن کی وجہ سے عام لوگوں میں عمل ترک کرنے کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔
7
Sahih
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
۔ (۸)۔عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ طُفَیْلِ بْنِ سَخْبَرَۃَ أَخِی عَائِشَۃَ لِأُمِّہَا أَنَّہُ رَاٰی فِیْمَا یَرَی النَّائِمُ، کَأَنَّہُ مَرَّ بِرَہْطِ مِنَ الْیَہُودِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْیَہُوْدُ، قَالَ: اِنَّکُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ لَولَا أَنَّکُمْ تَزْعُمُوْنَ أَنَّ عُزَیْرًا ابْنُ اللّٰہِ، فَقَالَ الْیَہُوْدُ: وَ أَنْتُمُ الْقَوُمُ لَولَا أَنَّکُمْ تَقُوْلُونَ مَا شَائَ اللّٰہُ وَ شَائَ مُحَمَّدٌ، ثُمَّ مَرَّ بِرَہْطِ مِنَ النَّصَارٰی فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَقَالُوا: نَحْنُ النَّصَارٰی، فَقَالَ: اِنَّکُمْ أَنْتُمُ الْقَوْمُ لَولَا أَنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ، قَالُوْا: وَ اِنَّکُمْ أَنْتُمُ الْقَوْمُ لَولَا أَنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ مَا شَائَ اللّٰہُ وَ مَا شَائَ مُحَمَّدٌ،فَلَمَّا أَصْبَحَ أَخْبَرَ بِہَا مَنْ أَخْبَرَ، ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ، فَقَالَ:((ہَلْ أَخْبَرْتَ بِہَا أَحَدًا؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا صَلَّوْا خَطَبَہُمْ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَ أَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ طُفَیْلاً رَاٰی رُؤْیًا فَأَخْبَرَ بِہَا مَنْ أَخْبَرَ مِنْکُمْ وَ اِنَّکُمْ کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ کَلِمَۃً کَانَ یَمْنَعُنِی الْحَیَائُ مِنْکُمْ أَنْ أَنْہَاکُمْ عَنْہَا۔)) قَالَ: ((لَا تَقُولُوا مَا شَائَ اللّٰہُ وَمَا شَائَ مُحَمَّدٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۹۷۰)
سیدنا طفیل بن سخبرہؓ، جو کہ سیدہ عائشہؓکا اخیافی بھائی ہے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے یہ خواب دیکھا کہ میں یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا اور ان سے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انھوں نے کہا: ہم یہودی ہیں۔ میں نے کہا: اگر تم عزیر کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہ کہتے تو تم بہترین قوم تھے، انھوں نے کہا: تم مسلمان بھی بہترین قوم ہوتے، اگر صرف یہ نہ کہتے کہ (وہی کچھ ہوتا ہے جو) اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) چاہتا ہے۔ پھر میں عیسائیوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا اور ان سے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انھوں نے کہا: ہم عیسائی ہیں، میں نے کہا: اگر تم حضرت مسیح ؑکو اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہ کہتے تو تم بہترین لوگ ہوتے، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: اگر تم بھی یہ نہ کہتے کہ (وہی کچھ ہوتا ہے) جوا للہ تعالیٰ چاہتا ہے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) چاہتا ہے تو تم بھی بہترین قوم ہوتے۔ جب صبح ہوئی تو بعض لوگوں کو یہ خواب بیان کرنے کے بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گیا اور آپ کو ساری بات بتلا دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے کسی کو یہ خواب بتلایا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر جب لوگوں نے نماز ادا کر لی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے خطاب کیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: طفیل نے ایک خواب دیکھا ہے اور تم میں سے بعض لوگوں کو بتلا بھی دیا ہے، بات یہ ہے کہ تم لوگ ایک کلمہ کہتے تھے، (میں اسے ناپسند تو کرتا تھا) لیکن تم کو منع کرنے سے شرم و حیا مانع تھی، (اب بات کھل گئی ہے لہٰذا) تم یہ نہ کہا کرو کہ (وہی کچھ ہوتا ہے) جو اللہ چاہتا ہے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) چاہتا ہے۔
Takhreej
(۸) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الحاکم: ۳/ ۴۶۳، والبیھقی فی دلائل النبوۃ : ۷/ ۲۲ (انظر:۲۰۶۹۴)
8
Sahih
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
۔ (۹)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ؓ قَالَ: أَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنِّی رَأَیْتُ فِی الْمَنَامِ أَنِّی لَقِیْتُ بَعْضَ أَہْلِ الْکِتَابِ، فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْ لَا أَنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ مَا شَائَ اللّٰہُ وَ شَائَ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْ کُنْتُ أَکْرَ ہُہَا مِنْکُمْ، فَقُوْلُوْا مَا شَائَ اللّٰہُ ثُمَّ شَائَ مُحَمَّدٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۷۲۸)
سیدنا حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں بعض اہل کِتَابُ کو ملا ہوں اور انھوں نے مجھے کہا: تم (مسلمان) بڑے اچھے لوگ ہو، کاش تم یہ نہ کہتے کہ (وہی کچھ ہوتا ہے) جو اللہ چاہتا ہے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) چاہتا ہے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں بھی تمہاری اس بات کو ناپسند کرتا تھا، آئندہ اس طرح کہا کرو کہ جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور پھر محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) چاہتا ہے۔
Takhreej
(۹) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۱۸(انظر: ۲۳۳۳۹)
9
Sahih
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
۔ (۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: مَا شَائَ اللّٰہُ وَ شِئْتَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ جَعَلْتَنِیْ وَ اللّّٰہَ عِدْلاً، بَل مَا شَائَ اللّٰہُ وَحْدَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۳۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا: جو کچھ اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے فرمایا: کیا تو نے مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کر دیا ہے، صرف (وہ ہوتا ہے) جو یکتا و یگانہ اللہ چاہتا ہے۔
Takhreej
(۱۰) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۱۷(انظر: ۱۸۳۹)
Explanation
فوائد:… بعد میں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کئی احادیث میں اس بات کی مزید وضاحت کر دی تھی کہ کائنات میں صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت کار فرما ہے، تمام مخلوقات کی مشیت اور اختیار اسی ایک کی مشیت کے تابع ہے اور اس سے منع کر دیا تھا کہ کوئی کسی کی مشیت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے برابر سمجھے، قرآن مجید میں کئی مقامات پر اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔ کائنات وسیع و عریض انتظام و انصرام پر مشتمل ہے، اس کی وسعت انسانی عقلوں سے ما ورا ہے۔ اس کائنات کے پورے نظم و نسق میں اللہ تعالیٰ کی منشا و مرضی کارفرما ہے۔ خوشحالی کا معاملہ ہو یا بدحالی کا، عنایت ِ رزق کا معاملہ ہو یا تنگی ٔ رزق کا، فتح کا معاملہ ہو یا شکست کا، کامیابی کا معاملہ ہو یا ناکامی کا، حیات کا معاملہ ہو یا موت کا، بچپنے میں فوت ہو جانے کا معاملہ ہو یا ادھیڑ عمر تک زندہ رہنے کا، خوبصورتی کا معاملہ ہو یا بدصورتی کا، طلوعِ آفتاب کا معاملہ ہو یا کسوفِ شمس کا، جنت کا معاملہ ہو یا جہنم کا، غرضیکہ کائنات کے تمام معاملات کو سر انجام دینے میں اسی ایک اللہ کا حکم چلتا ہے، اسی کی سنی جاتی ہے۔ اگر سید الاولین والا ٓخرین محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی منشا اللہ تعالیٰ کی چاہت کے تابع ہے تو اور کون ہے کسی مائی کا لال ، جو اُس کی چاہت کے سامنے اپنی مرضی کا لوہا منوا سکے۔ ہمارے ہاں بھی بعض لوگوں کو دیکھا گیا کہ وہ جب اپنے محسنوں کا ذکر کرتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ اور اُن کا لفظ اور کے ساتھ ذکر کرتے ہیں، مثلا: ہم پر اللہ تعالیٰ اور آپ کا بڑا احسان ہے، اگر اللہ تعالیٰ اور آپ نہ ہوتے تو معلوم نہیں کہ ہم کون سے حالات سے گزر رہے ہوتے، جیسے اللہ تعالیٰ اور آپ کی مرضی ہو گی۔ ہمیں اپنے جملوں کی تصحیح کرنی چاہیے اور کسی کے احسانات کا تذکرہ کرتے وقت محسِنِ عظیم اللہ تعالیٰ کی عظیم ذات سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔
10
Sahih
اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
۔ (۱۱)۔عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَرْبَعٍ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَنَامُ وَلا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَنَامَ،یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ یَرْفَعُہُ،یُرْفَعُ إِلَیْہِ عَمَلُ اللَّیْلِ بِالنَّہَارِ وَ عَمَلُ النَّہَارِ بِاللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۵۹)
سیدنا ابو موسی اشعریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ چار چیزیں بتلانے کے لیے ہمارے اندر کھڑے ہوئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور سونا اسے زیب بھی نہیں دیتا، وہ ترازو کوپست بھی کرتا ہے اور بلند بھی کرتا ہے، رات کے عمل دن کو اور دن کے عمل رات کو اس کی طرف بلند کر دیئے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۹(انظر: ۱۹۵۳۰)
Explanation
فوائد: …عمل اور رزق کا ترازو اس کے پاس ہے، چاہے تو نیکیوں والا پلڑا بھاری کر دے اور چاہے تو برائیوں والا پلڑا نیچے جھکا دے، چاہے تو بن مانگے بے حد و حساب رزق سے نواز دے اور چاہے تو کثرت سے سوال کرنے کے باوجود دَر دَر کا محتاج کر دے، وہ مختارِ مطلق بھی ہے اور حکیم بھی، اپنی دانائی اور حکمت کی روشنی میں جو چاہے، فیصلہ کر سکتا ہے اور اس کو نافذ کرنے پر بھی قدرتِ تامّہ رکھتا ہے۔
11
Sahih
اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
۔ (۱۲) (وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((إِنَّ اللّٰہَ لَا یَنَامُ وَلَا یَنْبَغِیْ لَہُ أَنْ یَنَامَ، یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ یَرْفَعُہُ، حِجَابُہُ النَّارُ، لَوْ کَشَفَہَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْہِہِ کُلَّ شَیْئٍ أَدْرَکَہُ بَصَرُہُ۔)) ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَیْدَۃَ: {فَلَمَّا جَائَ ہَا نُوْدِیَ أَنْ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا وَ سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ}۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۱۶)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور اس کے شایان شان بھی نہیں ہے کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو پست بھی کرتا ہے اور بلند بھی کرتا ہے، اس کا پردہ آگ ہے، اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی انوار و تجلیات ان تمام چیزوں کو جلا دیں، جن کو اس کی نظر پاتی ہے، اللہ کی نظر تمام مخلوق پر ہے۔ اس لیے مفہوم یہ ہے کہ پردہ دور ہونے سے تمام مخلوق جل کر راکھ ہو جائے۔ پھر ابو عبیدہ نے یہ آیت تلاوت کی: جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (سورۂ نمل: ۸)
Takhreej
(۱۲) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۶ وانظر الحدیث بالطریق الاول(انظر: ۱۹۵۸۷)
12
Sahih
اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
۔ (۱۳)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَمِیْنُ اللّٰہِ مَلْأٰی،لَا یَغِیْضُہَا نَفَقَۃٌ سَحَّائُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ۔)) وَقَالَ: ((أَرَأَیْتَکُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَائَ وَالْأَرْضَ، فَإِنَّہُ لَمْ یَغِضْ مَا فِی یَمِیْنِہِ۔)) قَالَ: ((وَعَرْشُہُ عَلَی الْمَائِ، بِیَدِہِ الْأُخْرَی الْمِیْزَانُ یَخْفِضُ وَ یَرْفَعُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۰۷)
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، دن رات کا متواتر خرچ اس میں کمی نہیں کر سکتا، کیا تم نے غور کیا ہے کہ اس نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت سے لے کر (آج تک) کیا کچھ خرچ کیا ہے، لیکن یہ خرچ بھی اس چیز میں کوئی کمی نہ کر سکا، جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے، اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے، کسی کے حق میں اس کو پست کر دیتا ہے اور کسی کے حق میں بلند کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۶۸۴، ۷۴۱۱(انظر: ۱۰۵۰۰)
13
Sahih
اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
۔ (۱۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقْبِضُ اللّٰہُ الْأَرْضَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ یَطْوِی السَّمَائَ بِیَمِیْنِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ: أَنَا الْمَلِکُ،أَیْنَ مُلُوْکُ الْأَرْضِ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۵۰)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت والے دن زمین و آسمان دائیں ہاتھ میں پکڑ کر اور لپیٹ کر کہے گا: میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین والے بادشاہ؟
Takhreej
(۱۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۱۹، ومسلم: ۲۷۸۷(انظر: ۸۸۶۳)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! اللہ تعالیٰ ایک انگلی پر آسمانوں کو، ایک انگلی پر زمینوں کو، ایک انگلی پر پہاڑوں کو، ایک انگلی پر باقی مخلوقات کو اور ایک انگلی پر درختوں کو اٹھا لے گا اور کہے گا: میں بادشاہ ہوں، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسکرائے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی داڑھیں نظر آنے لگیں اور یہ آیت پڑھی: {وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ…} … لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اس طرح قدر نہیں کی، جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ (مسند احمد: ۴۰۸۷)
14
Sahih
اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
۔ (۱۵)۔عَنْ أَبِی ذَرٍّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((إِنِّیْ أَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ وَ أَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُوْنَ،أَطَّتِ السَّمَائُ وَ حَقَّ لَہَا أَنْ تَئِطَّ، مَا فِیْہَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا عَلَیْہِ مَلَکٌ سَاجِدٌ،لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلاً وَ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَائِ عَلَی الْفُرُشَاتِ وَلَخَرَجْتُمْ عَلَی أَعْلَی الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُوْنَ إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ: وَاللّٰہِ لَوَدِدْتُّ أَنِّیْ شَجَرَۃٌ تُعْضَدُ۔ (مسند أحمد: ۲۱۸۴۸)
سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں وہ چیزیں دیکھتا ہوں، جو تم نہیں دیکھ سکتے اور میں وہ چیزیں سنتا ہوں جو تم نہیں سن سکتے، آسمان چرچراتا ہے اور اسے یہی زیب دیتا ہے کہ وہ آواز نکالے، کیونکہ اس میں ہر چار انگشت کے بقدر جگہ پر فرشتہ سجدہ کیے ہوئے ہے، اگر تم کو ان امور کا علم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ اور تم بستروں پر اپنی بیویوں سے لذتیں حاصل کرنا ترک کر دو، بلکہ تم (ویران) راستوں (اور صحراؤں) کی طرف نکل جاؤ، تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف گڑگڑا سکو۔ سیدنا ابو ذرؓ نے یہ حدیث سنا کر کہا (ظاہر ہے کہ ابو ذر کے شاگرد ان کے بارے یہ بیان کر رہے ہیں): للہ کی قسم! میں تو چاہتا ہوں کہ میں درخت ہوتا، جسے کاٹ دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۵) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۹۰(انظر: ۲۱۵۱۶)
Explanation
فوائد:… اگر کوئی کائنات کے حقائق کا مشاہدہ کر لے تو اسے اللہ تعالیٰ کی کبریائی و بڑائی اور عظمت و جلال کا اندازہ ہو جائے گا کہ وہ کس قدر عظیم ذات ہے، اس کے بعد وہ اس کی عبادت کرنے کے لیے زندگیاں فنا کر دے گا، لیکن یہی سمجھتا رہے گا کہ حق ادا نہیں ہو سکا۔ اس حدیث سے یہ استدلال درست نہ ہوگا کہ ترکِ دنیا کر کے آدمی ویرانوں اور جنگلوں کی طرف نکل سکتا ہے کیونکہ اسلام میں رہبانیت جائز نہیں۔ اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرح کوئی امتی کائنات کے مشاہدات کر سکتا ہے۔
15
Sahih
اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
۔ (۱۶)۔عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَیْتُ فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ أَغْفِرْلَکُمْ، وَمَنْ عَلِمَ أَنِّی أَقْدِرُ عَلَی الْمَغْفِرَۃِ فَاسْتَغْفَرَنِیْ بِقُدْرَتِیْ غَفَرْتُ لَہُ وَلَا أُبَالِیْ، وَکُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ ہَدَیْتُ، فَاسْتَہْدُوْنِی أَہْدِکُمْ،وَکُلُّکُمْ فَقِیْرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَیْتُ، فَاسْأَلُوْنِیْ أُغْنِکُمْ،وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ۔ وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ وَ صَغِیْرَکُمْ وَ کَبِیْرَکُمْ وَ ذَکَرَکُمْ وَ أُنْثَاکُمْ) وَ حَیَّکُمْ وَ مَیِّتَکُمْ وَ رَطْبَکُمْ وَ یَابِسَکُمْ اِجْتَمَعُوْا عَلٰی أَشْقٰی قَلْبٍ مِنْ قُلُوْبِ عِبَادِیْ مَا نَقَصَ فِی مُلْکِیْ مِنْ جَنَاحِ بَعُوْضَۃٍ، وَ لَوِ اجْتَمَعُوْا عَلَی أَتْقٰی قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِیْ مَا زَادَ فِی مُلْکِیْ مِنْ جَنَاحِ بَعُوْضَۃٍ،وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ وَ صَغِیْرَکُمْ وَ کَبِیْرَکُمْ وَ ذَکَرَکُمْ وَ أُنْثَاکُمْ) وَ حَیَّکُمْ وَ مَیِّتَکُمْ وَ رَطْبَکُمْ وَ یَابِسَکُمْ اِجْتَمَعُوْا فَسَأَلَنِیْ کُلُّ سَائِلٍ مِنْہُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِیَّتُہُ فَأَعْطَیْتُ کُلَّ سَائِلٍ مِنْہُمْ مَا سَأَلَ مَا نَقَصَنِیْ، کَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ مَرَّ بِشَفَۃِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ فِیْہَا إِبْرَۃً ثُمَّ انْتَزَعَہَا کَذَالِکَ لَا یَنْقُصُ مِنْ مُلْکِیْ، ذَالِکَ بِأَنِّیْ جَوَّادٌ مَاجِدٌ صَمَدٌ،عَطَائِی کَلَامٌ وَ عَذَابِی کَلَامٌ (وَ فِی رِوَایَۃٍ: عَطَائِی کَلَامِیْ وَ عَذَابِی کَلَامِیْ)، إِذَا أَرَدْتُّ شَیْئًا فَإِنَّمَا أَقُوْلُ لَہُ: کُنْ! فَیَکُوْنُ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۹۴)
سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے میرے بندو! تم سارے گنہگار ہو، مگر جس کو میں عافیت دے دو، لہٰذا مجھ سے بخشش طلب کیا کرو، میں تمہیں معاف کر دیا کروں گا، اور جس نے یہ جان لیا کہ میں (اللہ) بخشنے کی قدرت رکھتا ہوں، پھر اس نے مجھ سے میری قدرت کی وجہ سے بخشش طلب کی تو میں اسے بخش دوں گا اور اس سلسلے میں کوئی پروا نہیں کروں گا۔ تم سارے گمراہ ہو، مگر جس کو میں ہدایت دے دوں، پس مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم سارے کے سارے فقیر ہو، مگر جس کو میں غنی کر دوں، پس مجھ سے سوال کیا کرو، میں تم کو غنی کر دوں گا، یا درکھو کہ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، انسان اور جن، چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مؤنث، زندہ اور مردہ اور تر اور خشک میرے بندوں میں سے بدبخت ترین بندے کے دل کی مانند ہو جائیں، تو میری بادشاہت میں سے تو مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں آ ئے گی، اور اگر یہی مخلوق میرے بندوں میں سب سے بڑے متقی کے دل کی مانند نیک ہو جائیں تو میری بادشاہت میں مچھر کے پر کے برابر اضافہ بھی نہیں ہو گا، اور اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، انسان اور جن، چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مؤنث، زندہ اور مردہ اور تر اور خشک جمع ہو جائیں اور ہر سائل مجھ سے سوال کرے، جہاں تک اس کی خواہش کا تقاضا ہو اور میں سائل کو اس کے مطالبے کے مطابق دے دوں تو اس سے مجھ میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، (اس مثال سے سمجھ لیں کہ) ایک آدمی سمندر کے کنارے سے گزرے اور اس میں سوئی ڈبو کر واپس لائے اور (دیکھے کہ اس میں کتنا پانی لگا ہوا ہے اور اس سے سمندر میں کیا کمی ہے)، اسی طرح میری بادشاہت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، اس کی وجہ یہ ہے میں انتہائی سخی ہوں، بزرگی والا ہوں، بے نیاز ہوں، میرا دینا کلام ہے، میرا عذاب کلام ہے، ایک روایت میں ہے میری عطا میرا کلام ہے، میری سزا میرا کلام ہے، جب میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو اسے صرف اتنا کہتا ہوں کہ ہو جا ، پس ہو جاتی ہے۔
Takhreej
(۱۵) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۹۰(انظر: ۲۱۵۱۶)
Explanation
فوائد:… کسی انسان کے پاس صحت و عافیت، رشد و ہدایت، مال و دولت، اعزاز و وقار، حسن و جمال، عہدہ و منصب، اختیار و اقتدار اور غلبہ و فتح وغیرہ کی صورت میں جتنی نعمتیں ہیں، وہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں اور خود انسان، وہ تو اس قدر بے بس ہے کہ ہر لمحہ کے اندر سانس لینے میں بھی اس کا محتاج ہے، سو وڈیروں کو چاہیے کہ وہ عرش والے قادر مطلق کی قدرت ِ کاملہ اور بے آواز لاٹھی کو کبھی نہ بھلائیں۔
16
Sahih
اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
۔ (۱۷) (وَعَنْہُ فِی أُخْرٰی)۔ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا یَرْوِیْہِ عَنْ رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ: ((إِنِّی حَرَّمْتُ عَلٰی نَفْسِیَ الظُّلْمَ وَ عَلٰی عِبَادِیْ، أَ لَا فَـلَا تَظَالَمُوْا، کُلُّ بَنِیْ آ دَمَ یُخْطِیئُ بِاللَّیْلِ وَ النَّہَارِ ثُمَّ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَأَغْفِرُ لَہُ فَـلَا أُبَالِیْ، وَقَالَ: یَا بَنِیْ آدَمَ! کُلُّکُمْ کَانَ ضَالًّا إِلَّا مَنْ ہَدَیْتُ، وَکُلُّکُمْ کَانَ عَارِیًا إِلَّا مَنْ کَسَوْتُ،وَکُلُّکُمْ کَانَ جَائِعًا إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ، وَکُلُّکُمْ کَانَ ظَمْآنًا إِلَّا مَنْ سَقَیْتُ، فَاسْتَہْدُوْنِیْ أَہْدِکُمْ، وَاسْتَکْسُوْنِیْ أَکْسُکُمْ، وَاسْتَطْعِمُوْنِیْ أُطْعِمْکُمْ، وَاسْتَسْقُوْنِیْ أَسْقِکُمْ،یَا عِبَادِی! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ( فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَ فِیْہِ۔ لَمْ یَنْقُصُوْا مِن مُلْکِی شَیْئًا إِلَّا کَمَا یَنْقُصُ رَأْسُ الْمِخْیَطِ مِنَ الْبَحْرِ)۔)) (مسند أحمد: ۲۱۷۵۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے ظلم کو اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر حرام قرار دیا ہے، خبردار! پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا، ساری اولادِ آدم دن رات غلطیاں کر تی ہے، پھر جب مجھ سے بخشش طلب کرتی ہے تو میں بخش دیتا ہوں اور کوئی پروا نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: اے بنو آدم! تم سارے گمراہ تھے، مگر جس کو میں نے ہدایت دی، تم سارے ننگے تھے، مگر جس کو میں نے لباس دیا، تم سارے بھوکے تھے، مگر جس کو میں نے کھانا کھلایا، تم سارے پیاسے تھے، مگر جس کو میں نے پانی پلایا، پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم مجھ سے لباس طلب کرو، میں تم کو لباس دوں گا، تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھلاؤں گا اور مجھ سے پانی طلب کرو، میں تم کو پلاؤں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اورپچھلے… سابقہ حدیث کی طرح ذکر کیا اور اس میں ہے تو وہ میری بادشاہت میں کوئی کمی نہ کر سکیں گے، مگر اتنی جیسے سوئی کا نکہ سمندر میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
Takhreej
(۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۷۷(انظر: ۲۱۴۲۰)
Explanation
فوائد: …مراد یہ ہے کہ جیسے سوئی کے نکے میں پھنسنے والے پانی سے سمندر کے پانی میں کوئی کمی نہیں آتی، اس طرح ساری مخلوقات کے مطالبات پورے کرنے سے اللہ تعالیٰ کے لامتناہی خزانوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
17
Sahih
اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
۔ (۱۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ یَقُوْلُ: ((أَللّٰہُمََّ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ، وَ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ،أَنْتَ الْحَقُّ، وَ قَوْلُکَ الْحَقُّ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ، وَ لِقَاؤُکَ حَقٌّ، وَ الْجَنَّۃُ حَقٌّ، وَ النَّارُ حَقٌّ، وَ السَّاعَۃُ حَقٌّ، أَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَ بِکَ آمَنْتُ، وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَ إِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَ بِکَ خَاصَمْتُ، وَ إِلَیْکَ حَاکَمْتُ، فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَ أَخَّرْتُ وَ أَسْرَرْتُ وَ أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلٰہِیْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: أَللّٰہُمََّ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ، وَ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ،أَنْتَ الْحَقُّ، وَ قَوْلُکَ الْحَقُّ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ، وَ لِقَاؤُکَ حَقٌّ، وَ الْجَنَّۃُ حَقٌّ، وَ النَّارُ حَقٌّ، وَ السَّاعَۃُ حَقٌّ، أَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَ بِکَ آمَنْتُ، وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَ إِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَ بِکَ خَاصَمْتُ، وَ إِلَیْکَ حَاکَمْتُ، فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَ أَخَّرْتُ وَ أَسْرَرْتُ وَ أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلٰہِیْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔ (اے اللہ! تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والوں کا نور ہے، اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان میں موجود کو قائم رکھنے والا ہے اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والوں کا ربّ ہے اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو حق ہے، تیری بات حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، اے اللہ! میں تیرے لیے مسلمان ہوا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ساتھ جھگڑا کیا اور تیری طرف فیصلہ لے کر آیا، پس تو میرے لیے میرے وہ وہ گناہ بخش دے، جو پہلے کیے،، جو بعد میں کیے، جو مخفی طور پر کیے اور جو اعلانیہ طور پر کیے، تو میرا معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔)
Takhreej
(۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۲۰، ۶۳۱۷، ومسلم: ۷۶۹(انظر: ۲۷۱۰)
Explanation
فوائد: …وہ کمال اور کمال کے تقاضوں سے متصف ہے، وہ سبحان ہے اور تمام معائب و نقائص سے پاک ہے، وہ الوہیت و ربوبیت جیسی عظیم صفات کا مالک ہے، وہ اس لائق ہے کہ جبینِ نیاز کو اس کے سامنے رکھا جائے اور زندگی کے کسی پہلو میں اس کو فراموش نہ کیا جائے، کون ہے جو ا س کی شان کے مطابق اس کی اطاعت کر سکے اور اس کا شکر ادا کرنے کے تقاضے پورے کر سکے۔
18
Sahih
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
۔ (۱۹)۔عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍؓ أَنَّ الْمُشْرِکِیْنَ قَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: یَا مُحَمَّدُ! اُنْسُبْ لَنَا رَبَّکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی: {قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔} (مسند أحمد: ۲۱۵۳۸)
سیدنا ابی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ جب مشرک لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا کہ اے محمد! ہمارے لیے اپنے ربّ کا نسب بیان کرو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی: آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔ (سورۂ اخلاص) اَلصَّمَد کا پورا معنی یہ ہے: اَلْمَصْمُوْدُ اِلَیْہِ فِیْ الْحَوَائِجِ، اَلْغَنِیُّ عَنْ کُلِّ اَحَدٍ۔ (وہ ہے کہ حاجتوں میں جس کا قصد کیا جائے، جبکہ وہ ہر ایک سے غنی اور لاپروا ہو)۔
Takhreej
(۱۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی سعد محمد بن میسر و أبی جعفر الرازی۔ أخرجہ الترمذی: ۳۳۶۴، ۳۳۶۵ (انظر: ۲۱۲۱۹)
19
Zaeef
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
۔ (۱۹)۔عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍؓ أَنَّ الْمُشْرِکِیْنَ قَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: یَا مُحَمَّدُ! اُنْسُبْ لَنَا رَبَّکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی: {قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔} (مسند أحمد: ۲۱۵۳۸)
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بعض بندے مجھے جھٹلا دیتے ہیں، حالانکہ یہ ان کو زیب نہیں دیتا، اسی طرح بعض مجھے گالیاں دیتے ہیں اور یہ بھی ان کے شایانِ شان بات نہیں ہے۔ مجھ (اللہ) کو جھٹلانے کی صورت یہ ہے کہ بندہ کہتا ہے: جس طرح اللہ نے ہمیں پہلی دفعہ پیدا کیا، وہ اس طرح ہمیں دوبارہ پیدا نہیں کرے گا اور مجھے گالی دینے کی صورت یہ ہے کہ بندے کہتا ہے: اللہ تعالیٰ کی بھی اولاد ہے، حالانکہ میں تو ایسا بے نیاز ہوں کہ میں نے نہ کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا اور کوئی بھی میری برابری کرنے والا نہیں ہے۔
Takhreej
(۲۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۷۵(انظر: ۸۲۲۰)
Explanation
فوائد: …انسان کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اور اپنی ذات کا اتنا غلط اندازہ نہیں کر لینا چاہیے کہ وہ ایسی باتیں کرنا شروع کر دے کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی صفات کا تقاضا متأثر ہونے لگے۔
20
Sahih