TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان

Chapter 3 of کتاب کی قسمِ اوّل … توحید اور دین کے اصولوں کا حصہ in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 4 · 5 Hadith
۔ (۱۹)۔عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍؓ أَنَّ الْمُشْرِکِیْنَ قَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: یَا مُحَمَّدُ! اُنْسُبْ لَنَا رَبَّکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی: {قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔} (مسند أحمد: ۲۱۵۳۸)
سیدنا ابی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ جب مشرک لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا کہ اے محمد! ہمارے لیے اپنے ربّ کا نسب بیان کرو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی: آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔ (سورۂ اخلاص) اَلصَّمَد کا پورا معنی یہ ہے: اَلْمَصْمُوْدُ اِلَیْہِ فِیْ الْحَوَائِجِ، اَلْغَنِیُّ عَنْ کُلِّ اَحَدٍ۔ (وہ ہے کہ حاجتوں میں جس کا قصد کیا جائے، جبکہ وہ ہر ایک سے غنی اور لاپروا ہو)۔
Takhreej
(۱۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی سعد محمد بن میسر و أبی جعفر الرازی۔ أخرجہ الترمذی: ۳۳۶۴، ۳۳۶۵ (انظر: ۲۱۲۱۹)
19
Zaeef
۔ (۱۹)۔عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍؓ أَنَّ الْمُشْرِکِیْنَ قَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: یَا مُحَمَّدُ! اُنْسُبْ لَنَا رَبَّکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی: {قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔} (مسند أحمد: ۲۱۵۳۸)
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بعض بندے مجھے جھٹلا دیتے ہیں، حالانکہ یہ ان کو زیب نہیں دیتا، اسی طرح بعض مجھے گالیاں دیتے ہیں اور یہ بھی ان کے شایانِ شان بات نہیں ہے۔ مجھ (اللہ) کو جھٹلانے کی صورت یہ ہے کہ بندہ کہتا ہے: جس طرح اللہ نے ہمیں پہلی دفعہ پیدا کیا، وہ اس طرح ہمیں دوبارہ پیدا نہیں کرے گا اور مجھے گالی دینے کی صورت یہ ہے کہ بندے کہتا ہے: اللہ تعالیٰ کی بھی اولاد ہے، حالانکہ میں تو ایسا بے نیاز ہوں کہ میں نے نہ کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا اور کوئی بھی میری برابری کرنے والا نہیں ہے۔
Takhreej
(۲۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۷۵(انظر: ۸۲۲۰)
Explanation
فوائد: …انسان کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اور اپنی ذات کا اتنا غلط اندازہ نہیں کر لینا چاہیے کہ وہ ایسی باتیں کرنا شروع کر دے کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی صفات کا تقاضا متأثر ہونے لگے۔
20
Sahih
۔ (۲۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یُؤْذِیْنِیْ ابْنُ آدَمَ، یَسُبُّ الدَّہْرَ وَ أَنَا الدَّہْرُ، بِیَدِی الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَ النَّہَارَ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۴۴)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: آدم کا بیٹا مجھے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ وہ زمانے کو برابھلا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں اختیار ہے، میں شب و روز کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔
Takhreej
(۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۸۲۶، ۷۴۹۱، ومسلم: ۲۲۴۶(انظر: ۷۲۴۳)
Explanation
فوائد: …اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ زمانہ میں ہوں ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ امورِ کائنات کا متصرف اور مُدَبِّر وہ ہے، زمانے کے سارے نظم و نسق میں اسی کی مشیت اور کاریگری کارفرما ہے، اس لیے انسان جب آزمائشوں کے دور سے گزر رہا ہو، مثلا: قحط، سیلاب، زلزلہ، آندھی، شکست، بیماری، فقیری، تو وہ زمانے اور وقت کو برا بھلا کہنے کی بجائے صبر کرے اور ایسی صورتوں میں اس کے وجود پر اللہ تعالیٰ کے کیا تقاضے ہیں، ان کو پورا کرے۔
21
Sahih
۔ (۲۲)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الشَّیْطَانَ یَأْتِیْ أَحَدَکُمْ فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَائَ؟ فَیَقُوْلُ: اَللّّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ فَیَقُوْلُ: اَللّٰہُ، فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ اللّٰہَ؟ فَإِذَا أَحَسَّ أَحَدُکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ ہَذَا، فَلْیَقُلْ: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ بِرُسُلِہٖ۔)) (مسند أحمد:۸۳۵۸)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے: کس نے آسمان کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ وہ پھر سوال کرتا ہے: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ اتنے میں وہ یہ سوال کر دیتا ہے: اچھا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ پس جب تم میں سے کوئی اس سوال کو محسوس کرے تو وہ کہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ بِرُسُلِہٖ (میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں)۔
Takhreej
(۲۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۷۶، ومسلم: ۱۳۴(انظر: ۸۳۷۶)
Explanation
فوائد: …اللہ تعالیٰ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، اس عظیم ذات کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا، اُس کے علاوہ کائنات کی ہر چیز اپنے وجود میں اور اس کو برقرار رکھنے میں اسی کی محتاج ہے، اس لیے اہل ایمان کے سینوں میں یہ سوال نہیں اٹھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا، اگر اس سے متعلقہ کوئی وسوسہ پیدا ہو جائے تو مسنون دعاؤں کے ذریعے ایسی سوچ کو دور کر دے۔
22
Sahih
۔ (۲۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: شَکَوْا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا یَجِدُوْنَ مِنَ الْوَسْوَسَۃِ وَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّا لَنَجِدُ شَیْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ کَانَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یَتَکَلَّمَ بِہٖ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَاکَ مَحْضُ الْإِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۲۵۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ لوگ اپنے دل میں جو وسوسہ محسوس کرتے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کا شکوہ کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی ایسی چیزیں محسوس کر جاتے ہیں کہ ان کو زبان سے بیان کرنے کی بہ نسبت ہمیں آسمان سے گرنا آسان لگتا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو خالص ایمان ہے۔
Takhreej
(۲۳) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۸۵۳۷، وابویعلی: ۴۶۴۹(انظر: ۲۴۷۵۲)
Explanation
فوائد: …یہ ایک اصولی بات ہے کہ جو آدمی غلط وسوسے کو محسوس کرنے لگے گا اور اس سے ڈرنے لگے گا کہ وہ اس کے تقاضے کے مطابق گفتگو کرے، تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ اس کے اعتقاد میں پختگی اور ایمان میں خلوص اور مضبوطی پیدا ہو گئی ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کا مقصود ہے، رہا اس آدمی کا مسئلہ جو فرائض کو ترک کرنے اور محرمات کا ارتکاب کرنے پر تلا ہوا ہو تو شیطان ملعون نے اس بیچارے کو وسوسوں میں ڈال کر کیا کرنا ہے؟
23
Sahih