TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6333 - وارث کے لیے وصیت کے نہ ہونے کا بیان - وصیتوں کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
وارث کے لیے وصیت کے نہ ہونے کا بیان
۔ (۶۳۳۳)۔ عَنْ اَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِیْ خُطْبَتِہِ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَعْطٰی کُلَّ ذِیْ حَقٍّ حَقَّہُ، فَـلَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۵۰)
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع والے سال خطبہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ہرحقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، پس وارث کے لئے وصیت جائز نہیں ہے۔ … الحدیث
6333
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۳۳۳) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۷۰، ۳۵۶۵، وابن ماجہ: ۲۰۰۷، ۲۲۹۵، ۲۳۹۸، ۲۴۰۵، ۲۷۱۳(انظر: ۲۲۲۹۴)

Related Chapters

950
1
Chapter: What has been Related About 'There Is No Will For The Heir'
باب: وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں
Jam e Tirmazi
2
CHAPTER: What Has Been Related About Willing To An Heir.
باب: وارث کے لیے وصیت کرنا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
3
وارث کے لیے وصیت ناجائز ہے
Sunnan Ibn e Maja
4
باب: وارث کے لیے وصیت باطل ہے۔
Sunnan Nisai
5
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
Musnad Ahmad
7
(6) CHAPTER. A legal heir has no right to inherit through a will.
وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے
Sahih Bukhari
8
CHAPTER: What Has Been Related Regarding What Is Allowed For A Testor To Give From His Wealth.
باب: وصیت کرنے والے کے لیے جو چیز ناجائز ہے اس کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
9
CHAPTER: What Has Been Related About Abrogating The Will For The Parents And Near Relatives.
باب: ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
10
CHAPTER: What Has Been Related About The Will Of A Combatant Disbeliever Who Dies, And His Executor Accepts Islam, Does He Have To Carry Out The Will?
باب: کیا کافر کی وصیت کا نفاذ مسلم ولی ( وارث ) پر لازم ہو گا ؟
Sunnan Abu Dawood
11
باب: اپنے قریبی خاندان والوں کے لیے وصیت کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
(16)Chapter: What Has Been Related That When The Prophet Wanted To Relieve Himself, He Would Go Far Away
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
13
(27)Chapter: What Has Been Related About One Taking New Water For (Wiping) His Head
باب: سر کے مسح کے لیے نیا پانی لینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
14
(31)Chapter: What Has Been Related About: Protect The Heels From The Fire.
باب: وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
15
(44)Chapter: [What Has Been Related] About Performing Wudu For Every Salat
باب: ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
(94)Chapter: What Has Been Related About The Mustahadah Performing Wudu For Every Prayer
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The Imam To Specify Himself With Supplications
باب: امام کا دعا کو اپنے لیے خاص کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About the Length Of The Sitting After The First Two Rak'ah
باب: پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ (تشہد کے لیے بیٹھنے) کی مقدار کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Going Early To The Friday Prayer
باب: جمعہ کے لیے مسجد سویرے آنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About the Prophet Going To The Eid By One Route, And Returning By Another
باب: عید کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک راستے سے جاتے اور دوسرے سے واپس آتے
Jam e Tirmazi
21
Chapter: (What Has Been Reported About) For Whom The Zakat Is Lawful
باب: زکاۃ کس کے لیے جائز ہے؟
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About: For Whom Charity Is Not Lawful
باب: زکاۃ لینا کس کس کے لیے جائز نہیں؟
Jam e Tirmazi
23
Chapter: (What Has Been Related About) The Indebted And Others For Whom Charity Is Lawful
باب: قرض داروں اور دیگر لوگوں میں سے کس کس کے لیے زکاۃ حلال ہے؟
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The Prophet, His Household, and His Mawali To Accept Charity
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، اہل بیت اور آپ کے موالی سب کے لیے زکاۃ لینے کی حرمت
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives Charity (Then) Inheriting His Charity
باب: صدقہ دینے والا اپنے صدقہ کا وارث ہو جائے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Counting The (Appearances OF) The Crescent Of Sha'ban For Ramadan
باب: رمضان کے لیے شعبان کے چاند کی گنتی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About: For The People OF Every Land There Is A Sighting
باب: ہر شہر والوں کے لیے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The One At War To Break The Fast
باب: مجاہد اور غازی کے لیے روزہ توڑ دینے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Permission For That
باب: روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Excessive Amounts Of Water Into the Nose (Al-Istinshaq) When Fasting
باب: روزہ دار کے لیے ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About: Can The One Performing I'tikaf Leave For His Needs Or Not?
باب: معتکف اپنی ضرورت کے لیے نکل سکتا ہے یا نہیں؟
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Mawaqit For Ihram For Each Region's People
باب: آفاقی لوگوں کے لیے احرام باندھنے کی میقاتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About What Is Not Allowed For The Muhrim To Wear
باب: محرم کے لیے جن چیزوں کا پہننا جائز نہیں ان کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Permission For That
باب: محرم کے لیے شادی کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About: The Meat Of Game Is Disliked For You
باب: محرم کے لیے شکار کے گوشت کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Game Of The Sea For The Muhrim
باب: محرم کے لیے سمندر کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Performing Ghusl When Entering Makkah
باب: مکہ میں داخلہ کے لیے غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About: The Jimar Are Stoned With Pebbles Similar To Al-Khadhf
باب: جمرات کی رمی کے لیے کنکریاں ایسی ہوں کہ انگوٹھے اور شہادت والی انگلی سے پکڑ کر پھینکی جا سکیں
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related That Encourages The Will
باب: وصیت کرنے پر ابھارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About A Will For Third And A Fourth
باب: تہائی یا چوتھائی مال کی وصیت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Preparing Food For The Family OF The Deceased
باب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: How To Perform Salat For The Deceased, And Interceding For Him
باب: نماز جنازہ اور میت کے لیے شفاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Standing For The Funeral (Procession)
باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: Regarding Permission To Not Stand For It
باب: جنازے کے لیے کھڑا نہ ہونے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What has been related about the saying of the Prophet (saws): The Lahd is for us and the Hole is for other than us
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد ”بغلی ہمارے لیے ہے اور صندوقی اوروں کے لیے“ کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What has been related about it being disliked for women to visit the graves
باب: عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About What Is Said When One Has Intercourse With His Wife
باب: آدمی بیوی کے پاس (صحبت کے لیے) آئے تو کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What has been related about: The woman with three divorces gets no housing nor maintenance (from the husband)
باب: تین طلاق پائی عورت کو نہ رہنے کے لیے گھر ملے گا اور نہ کھانے پینے کا خرچہ
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What has been related about: Divorce for a slave woman is twice
باب: لونڈی کے لیے دو ہی طلاق ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition For The Muslim To Give Wine To The Dhimmi When Bartering With Him
باب: مسلمان ذمی کو شراب بیچنے کے لیے دے یہ منع ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

69
Musnad Ahmad
1552
۔ (۱۵۵۲) عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلَاۃِ مِنَ اللَّیْلِ) کَبَّرَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۳۲)
سیّدنا ابوامامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور نماز میںداخل ہوتے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ لاا لہ الا اللّٰہ او رتین مرتبہ سبحان اللّٰہ وبحمدہ پھر یہ پڑھتے: أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم من ہمزہ ونفخہ ونفثہ۔
Musnad Ahmad
6332
۔ (۶۳۳۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَۃَ الْخُشَنِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَہُمْ عَلٰی رَاحِلَتِہِ وَاِنَّ رَاحِلَتَہُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِہَا وَأَنَّ لُعَابَہَا یَسِیْلُ بَیْنَ کَتِفَیَّ فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِکُلِّ إِنْسَانٍ نَصِیْبَہُ مِنَ الْمِیْرَاثِ فَـلَا تَجُوْزُ وَصِیَّۃٌ لِوَارِثٍ۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۵۴)
۔ سیدنا عمرو بن خارجہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری جگالی کر رہی تھی اوراس کا لعاب میرے کندھوں پر بہہ رہا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے میراث سے ہر انسان کا حصہ مقرر کر دیا ہے، اس لیے کسی وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
35
۔ (۳۵) (وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ)۔ قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَکَّۃَ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَسْتَأْذِنُوْنَہُ،فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ قَالَ: قَالَ أَبُوبَکْرٍ(ؓ): إِنَّ الَّذِی یَسْتَأْذِنُکَ بَعْدَ ہَذِہِ لَسَفِیْہٌ فِی نَفْسِی، ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمِدَ اللّٰہَ وَ قَالَ خَیْرًا، ثُمَّ قَالَ: ((أَشْہَدُ عِنْدَ اللّٰہِ۔)) وَکَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! مَا مِنْ عَبْدٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ ثُمَّ یُسَدِّدُ إِلَّا سَلَکَ فِی الْجَنَّۃِ۔))،فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۳۱۷)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس آ رہے تھے کہ لوگوں نے اجازتیں لینا شروع کر دیں، … پھر اوپر والی حدیث بیان کی…۔ سیدنا ابو بکرؓ نے کہا: جو آدمی اس کے بعد آپ سے اجازت طلب کرے گا، وہ میرے نزدیک تو بیوقوف ہی ہو گا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور خیر والی بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ شہادت دیتا ہوں کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے تو وہ جنت کی طرف چلے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب قسم اٹھاتے تھے تو یوں فرماتے تھے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔
Musnad Ahmad
36
۔ (۳۶)(وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ:)قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْکََدِیْدِ أَوْ قَالَ بِعَرَفَۃَ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۳۱۸)
۔ (تیسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم کدید یا عرفہ مقام پر تھے، پھر وہی حدیث ذکر کی۔
Musnad Ahmad
49
۔ (۴۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلٰی عَنْ یُوْنُسَ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ ہِصَّانَ بْنِ الْکَاہِلِ قَالَ وَکَانَ أَبُوْہُ کَاہِنًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فِی إِمَارَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَإِذَا شَیْخٌ أَبْیَضُ الرَّأْسِ وَ اللِّحْیَۃِ یُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۴۹)
ہصان بن کاہل، ان کے باپ دورِ جاہلیت میں کہانت کرتے تھے، کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفانؓکی خلافت کے زمانے میں مسجد میں داخل ہوا، وہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، وہ سیدنا معاذؓ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے حدیث بیان کرنے لگے، …۔ پھر اوپر والی حدیث بیان کی۔
Musnad Ahmad
637
۔ (۶۳۷)۔عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ (یَصِفُ وُضُوئَ عَلِیٍّ ؓ) قَالَ: أَخَذَ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی الْاِنَائَ فَأَفْرَغَ عَلٰی یَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ غَسَلَ کَفَّیْہِ ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی الْاِنَائَ فَأَفْرَغَ عَلٰی یَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ غَسَلَ کَفَّیْہِ، فَعَلَہُ ثَـلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ عَبْدُخَیْرٍ: کُلُّ ذَالِکَ لَا یُدْخِلُ یَدَہُ فِی الْاِنَائِ حَتّٰی یَغْسِلَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ((الحدیث۔)) (وَفِی آخِرِہِ: قَالَ یَعْنِیْ عَلِیًّا) ھٰذَا طُہُورُ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۱۳۳)
عبد ِ خیر، سیدنا علی ؓکا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: انھوں نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اس طرح اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور ہتھیلیوں کو دھویا، ایسے تین بار کیا۔ عبد ِ خیر کہتے ہیں: ہر مرتبہ آپ اپنا ہاتھ تین بار دھو لینے سے پہلے برتن میں داخل نہیں کرتے تھے، …۔ آخر میں ہے: سیدنا علی ؓ نے کہا: یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو ہے۔
Musnad Ahmad
648
۔ (۶۴۸)۔عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍؓقَالَتْ: کُنْتُ أُخْرِجُ لَہُ (تَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) الْمَائَ فِی ھٰذَا فَیَصُبُّ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا (وَفِی رِوَایَۃٍ: یَغْسِلُ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہُمَا) وَیَغْسِلُ وَجْہَہُ ثَلَاثًا وَیُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَیَسْتَنْشِقُ ثَـلَاثًا وَیَغْسِلُ یَدَہُ الْیُمْنٰی ثَـلَاثًا وَالْیُسْرٰی ثَـلَاثًا، الحدیث۔ (مسند أحمد: ۲۷۵۵۵)
سیدہ ربیع بن معوذؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے اس برتن میں پانی نکالتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ہاتھوں پر تین بار بہاتے تھے، ایک روایت میں ہے: ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین دفعہ دھوتے تھے، پھر تین دفعہ چہرہ دھوتے اور تین دفعہ کلی کرتے اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھاتے، تین بار دایاں بازوں دھوتے اور تین بار بائیں بازوں کو دھوتے، ……۔
Musnad Ahmad
649
۔ (۶۴۹)۔عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ قَالَ: دَعَا عُثْمَانُؓ بِمَائٍ وَہُوَ عَلَی الْمَقَاعِدِ فَسَکَبَ عَلٰی یَمِیْنِہِ فَغَسَلَہَا (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَأَفْرَغَ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا فَغَسَلَہَا) ثُمَّ أَدْخَلَ یَمِیْنَہُ فِی الْاِنَائِ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَـلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ وَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ، الحدیث۔ (مسند أحمد: ۴۱۸)
حمران بن ابان کہتے ہیں: سیدنا عثمانؓ نے پانی منگوایا، جبکہ وہ مقاعد میں تھے، پس اپنے دائیں ہاتھ پر پانی بہا کر اس کو دھویا، ایک روایت میں ہے: اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا اور ان کو دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین دفعہ اپنی ہتھیلیوں کو دھویا، پھر تین بار اپنے چہرے کو دھویا اور کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اس کو جھاڑا، پھر کہنیوں سمیت بازوؤں کو تین تین بار دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، ……۔
Musnad Ahmad
724
۔ (۷۲۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أَوَیْتَ اِلٰی فِرَاشِکَ فَتَوَضَّأْ وَنَمْ عَلٰی شِقِّکَ الْأَیْمَنِ وَقُلْ: اللَّہُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ اِلَیْکَ،…۔)) الحدیث۔ (مسند أحمد: ۱۸۷۸۸)
سیدنا براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر آؤتو وضو کرو، اپنے دائیں پہلو پر سوؤ اور یہ دعا پڑھو: اللَّہُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ اِلَیْکَ…۔