TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 36 - توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان - کتاب کی قسمِ اوّل … توحید اور دین کے اصولوں کا حصہ - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 13 of 27 in this chapter
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
۔ (۳۶)(وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ:)قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْکََدِیْدِ أَوْ قَالَ بِعَرَفَۃَ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۳۱۸)
۔ (تیسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم کدید یا عرفہ مقام پر تھے، پھر وہی حدیث ذکر کی۔
36
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول(انظر: ۱۶۲۱۷)

Related Chapters

317
1
(31)Chapter: What Has Been Related About: Protect The Heels From The Fire.
باب: وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives A Bribe And The One Who Takes A Bribe For Judgement
باب: فیصلے میں رشوت دینے اور لینے والوں پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About One Who Kills A Mu'ahid
باب: ذمی اور معاہدہ والوں کے قاتل کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
4
اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک کی اطاعت کرنے والے غلام کے ثواب اور اس کی مخالفت کرنے والے غلام کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
5
بغیر فساد اور اسراف کے خاوند کے گھر سے خرچ کرنے والی بیوی کے ثواب اور اسراف کرنے والی کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
6
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
7
اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے ثواب اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں تیار کیے گئے اجر ِ عظیم اور ہمیشہ کی نعمت کا بیان
Musnad Ahmad
8
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
Sahih Bukhari
9
(12) CHAPTER. Manumission of a Mushrik (pagan, polytheist, idolater)
مشرک غلام کو آزادکرنے کا ثواب ملے گا یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
10
(12) CHAPTER. The mention of Jinn, their reward and retribution.
جنوں کا بیان اور ان کو ثواب اور عذاب کا ہونا ۔
Sahih Bukhari
11
(89) CHAPTER. The punishment for picture-makers on the Day of Resurrection.
مورتیں بنانے والوں پر قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ہوگا
Sahih Bukhari
12
(20) CHAPTER. Greeting (how to greet) a mix-up gathering in which there are Muslims and Al-Mushrikun.
ایسی مجلس والوں کو سلام کرنا جس میں مسلمان اور مشرک سب شامل ہوں
Sahih Bukhari
13
(20) CHAPTER. Refraining from doing things Allah has made illegal.
اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا
Sahih Bukhari
14
(4) CHAPTER. For expiation (of one's oath) one should feed ten poor persons no matter whether they are relatives or not.
کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا دیا جائے خواہ وہ قریب کے رشتہدار ہوں یادور کے بلکہ قریب والوں کو کھلانے میں ثواب اور بھی زیادہ ہے
Sahih Bukhari
15
Chapter: The deceased is tormented because of his family's crying for him
میت کے گھر والوں کے رونے پراسے عذاب دیا جاتا ہے
Sahih Muslim
16
Chapter: The Most Affluent Of People In This World Will Be Dipped In The Fire, And The Most Destitute Will Be Dipped In Paradise
دنیاوالوں میں سب سے زیادہ نعمتوں والے کو جہنم میں ایک ڈبکی لگانا اور ان میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانے والے کو جنت(کی نہروں) میں ایک غوطہ لگانا
Sahih Muslim
17
CHAPTER: Adherence To The Sunnah.
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
18
باب: نماز جنازہ پڑھنے والوں کے ثواب کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
باب: زکاۃ نہ دینے والوں پر وارد وعید کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
باب: قیامت کے دن سب سے سخت عذاب دیئے جانے والوں کا ذکر۔
Sunnan Nisai
21
باب: نشہ لانے والی چیزیں پینے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے تیار کردہ عذاب، ذلت و رسوائی کا ذکر۔
Sunnan Nisai
22
Chapter: What Has Been Related About The Salat While Sitting Is Half Of The Salat While Standing
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About One Who Prays Twelve Rak'ah Of Sunnah In A and Night, And What Virtues He Will Have For That
باب: دن و رات میں بارہ رکعتیں سنت پڑھنے کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About: For The People OF Every Land There Is A Sighting
باب: ہر شہر والوں کے لیے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Deeds During The Ten Days (Of Dhul-Hijjah)
باب: ذی الحجہ کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دن) کے عمل کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Rewards For Hajj And Umrah
باب: حج و عمرہ کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Reward For The Sick
باب: بیمار کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Preparing Food For The Family OF The Deceased
باب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: The Virtue In The Calamity When One Patiently Seeks A Reward For It
باب: مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Rewards For One Whose Child Died Before Him
باب: اس شخص کے ثواب کا بیان جس نے کوئی لڑکا ذخیرہ آخرت کے طور پر پہلے بھیج دیا ہو
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Meet The Owners Of The Goods
باب: مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About How Much Is Deducted From The Reward Of One Who Keeps A Dog
باب: کتا پالنے سے ثواب میں کمی کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Reward For Freeing A Slave
باب: غلام آزاد کرنے کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Martyr's Reward
باب: شہداء کے اجر و ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: Regarding The Rewards For The Martyr
باب: شہید کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Two Who Shun Each Other
باب: دو باہم قطع تعلق کرنے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: Health And Free Time Are Two Favors Squandered By Many Of The People
باب: تندرستی اور فرصت کی نعمتوں میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں
Jam e Tirmazi
38
باب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Exhortation Regarding One Who Seeks Knowledge
باب: علم (دین) حاصل کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: Whoever Calls To Guidance And Is Followed Or To Misguidance
باب: ہدایت اور گمراہی کی طرف بلانے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
41
باب: جس نے قرآن کا ایک حرف پڑھا اس کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related Concerning The Group That Sits to Remember Allah The Mighty And Sublime, What Virtues They Have
باب: ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
44
باب: بیعت رضوان والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
46
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
Mishkat
47
بَاب ثَوَابُ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ
تسبیح ، تحمید ، تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان
Mishkat
48
بَاب قتل أهل الرِّدَّة والسعاة بِالْفَسَادِ
مرتدوں اور فساد پھیلانے والوں کو قتل کرنے کا بیان
Mishkat
49
بَاب الْقِتَال فِي الْجِهَاد
جہاد میں قتال (کے اجر و ثواب) کا بیان
Mishkat
50
بَاب صفةالنار وَأَهْلهَا
جہنم اور جہنم والوں کا بیان
Mishkat
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Musnad Ahmad
34
۔ (۳۴)۔عَنْ رِفَاعَۃَ الْجُہَنِیِّ ؓ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِالْکَدِیْدِ أَوْ قَالَ: بِقُدَیْدٍ فَجَعَلَ رِجَالٌ یَسْتَأْذِنُوْنَ إِلَی أَہْلِیْہِمْ فَیَأْذَنُ لَہُمْ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ وَ أَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا بَالُ رِجَالٍ یَکُوْنُ شِقُّ الشَّجَرَۃِ الَّتِی تَلِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبْغَضَ إِلَیْہِمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ۔))،فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذٰلِکَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاکِیًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الَّذِی یَسْتَأْذِنُکَ بَعْدَ ہٰذَا لَسَفِیْہٌ،فَحَمِدَ اللّٰہَ وَقَالَ حِیْنَئِذٍ: ((أَشْہَدُ عِنْدَ اللّٰہِ لَا یَمُوْتُ عَبْدٌ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِہِ ثُمَّ یُسَدِّدُ إِلَّا سَلَکَ فِی الْجَنَّۃِ۔))، قَالَ: ((وَقَدْ وَعَدَنِیْ رَبِّی أَنْ یُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعِیْنَ أَلْفًا، لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ، وَ إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ لَا یَدْخُلُوْہَا حَتَّی تَبَوَّؤُا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِکُمْ وَ أَزْوَاجِکُمْ وَ ذُرِّیَّاتِکُمْ مَسَاکِنَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۳۱۶)
سیدنا رفاعہ جہنیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف) سفرمیں تھے، جب ہم کَدِیْد یا قُدَید مقام پر پہنچے تو لوگوں نے اپنے گھروں کی طرف جانے کے لیے اجازت لینا شروع کر دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کو اجازت دیتے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہو گا کہ درخت کی جو طرف رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے ملی ہوئی ہے، وہ ان کو دوسری طرف کی بہ نسبت زیادہ ناپسند ہے۔ ہم نے دیکھا کہ یہ الفاظ سن کر سارے لوگ رونے لگ گئے، ایک آدمی (یعنی سیدنا ابو بکرؓ) نے کہا: اس کے بعد جو آدمی آپ سے اجازت طلب کرے گا، وہ بیوقوف ہو گا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی اور فرمایا: جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے گا تو میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے بارے میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ وہ جنت کی طرف چلا جائے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی ایسے جنت میں داخل کرے گا کہ ان کا کو ئی حساب اور عذاب نہیں ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ تم اور تمہارے نیک آباء، بیویاں اور اولاد جنت میں اپنے گھر بنا چکے ہوں گے۔
Musnad Ahmad
2965
۔ (۲۹۶۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ کُنَّا إِذَا أَتَیْنَا عَلٰی شَجَرَۃٍ ظَلِیْلَۃٍ تَرَکْنَاہَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ رََجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکُوْنَ، وَسَیْفُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُعَلَّقٌ بَشَجَرَۃٍ فَأَخَذَ سَیْفَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاخْتَرَطَہُ، ثُمَّ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَتَخَافُنِی؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: فَمَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَمْنَعُنِی مِنْکَ)) فَتَہَدَّدَہُ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَغْمَدَ السَّیْفَ وَعَلَّقَہُ، فَنُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ، فَصَلّٰی بِطَائِفَۃٍ رَکْعَتَیْنِ وَتَأَخَّرُوْا وَصَلّٰی بِالطَّائِفَۃِ الْأُخْرٰی رَکْعَتَیْنِ فَکَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعُ رَکَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۹۰)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ ذات الرقاع مقام تک پہنچ گئے، جب ہم کسی سایہ دار درخت کے پاس آتے تو اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے چھوڑ دیتے۔ تو ایک مشرک آیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تلوار درخت کے ساتھ لٹک رہی تھی،اس نے یہ تلوار پکڑی اور اسے سونت کر کہا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ وہ بولا: تو پھر اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ صحابۂ کرام اس کو جھڑکنے لگے، پس اس نے تلوار میان میں ڈالی اور اسے لٹکا دیا، اتنے میں نماز کے لیے اذان دے دی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ لوگ چلے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔
Musnad Ahmad
10807
۔ (۱۰۸۰۷)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ: أَنَّ شُرَحْبِیلَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَہُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ حَتّٰی نَزَلْنَا السُّقْیَا، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: مَنْ یَسْقِینَا فِی أَسْقِیَتِنَا؟ قَالَ جَابِرٌ: فَخَرَجْتُ فِی فِئَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتّٰی أَتَیْنَا الْمَائَ الَّذِی بِالْأُثَایَۃِ وَبَیْنَہُمَا قَرِیبٌ مِنْ ثَلَاثَۃٍ وَعِشْرِینَ مِیلًا، فَسَقَیْنَا فِی أَسْقِیَتِنَا حَتّٰی إِذَا کَانَ بَعْدَ عَتَمَۃٍ إِذَا رَجُلٌ یُنَازِعُہُ بَعِیرُہُ إِلَی الْحَوْضِ، فَقَالَ: أَوْرِدْ فَإِذَا ہُوَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَوْرَدَ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِہِ فَأَنَخْتُہَا، فَقَامَ فَصَلَّی الْعَتَمَۃَ، وَجَابِرٌ فِیمَا ذَکَرَ إِلٰی جَنْبِہِ، ثُمَّ صَلّٰی بَعْدَہَا ثَلَاثَ عَشْرَۃَ سَجْدَۃً۔ (مسند احمد: ۱۵۱۳۰)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ حدیبیہ سے واپس ہوئے تو ہم نے سقیا کے مقام پر نزول کیا۔(وہاں پانی کی قلت تھی) سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کون ہے جو ہمیں پانی پلائے گا؟ پس میں چند انصاری نوجوانوں کو لے کر روانہ ہوا، یہاں تک کہ ہم مقامِ اثایہ کے پانی پر پہنچے، جو وہاں سے تقریباً تئیس( ۲۳) میل دور تھا اور ہم اپنے مشکیزے بھر لائے، رات کا اندھیرا چھا چکا تھا، ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی کو اس کا اونٹ پانی کے حوض کی طرف کھینچ رہا تھا، اس نے بھی کہاکہ پی لے۔ ہم نے دیکھا تو وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے، چنانچہ اس اونٹ نے پانی پیا، پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑ کر اسے بٹھا دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر عشاء کی نماز ادا کی، سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیان کے مطابق انہوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں نماز ادا کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیرہ رکعت (رات کا قیام ) کیا تھا۔
Musnad Ahmad
10940
۔ (۱۰۹۴۰)۔ حَدَّثَنَا وُہَیْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیٰی عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ تَبُوکَ حَتّٰی جِئْنَا وَادِیَ الْقُرٰی، فَإِذَا امْرَأَۃٌ فِی حَدِیقَۃٍ لَہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہِ: ((اخْرُصُوا۔)) فَخَرَصَ الْقَوْمُ وَخَرَصَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشَرَۃَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْمَرْأَۃِ: ((أَحْصِی مَا یَخْرُجُ مِنْہَا حَتّٰی أَرْجِعَ إِلَیْکِ إِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) قَالَ: فَخَرَجَ حَتّٰی قَدِمَ تَبُوکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّہَا سَتَبِیتُ عَلَیْکُمْ اللَّیْلَۃَ رِیحٌ شَدِیدَۃٌ، فَلَا یَقُومُ مِنْکُمْ فِیہَا رَجُلٌ، فَمَنْ کَانَ لَہُ بَعِیرٌ فَلْیُوثِقْ عِقَالَہُ۔)) قَالَ: قَالَ أَبُو حُمَیْدٍ: فَعَقَلْنَاہَا فَلَمَّا کَانَ مِنَ اللَّیْلِ ہَبَّتْ عَلَیْنَا رِیحٌ شَدِیدَۃٌ، فَقَامَ فِیہَا رَجُلٌ فَأَلْقَتْہُ فِی جَبَلِ طَیِّئٍ، ثُمَّ جَائَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَلِکُ أَیْلَۃَ، فَأَہْدٰی لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَغْلَۃً بَیْضَائَ، فَکَسَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بُرْدًا، وَکَتَبَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَحْرِہِ، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَہُ حَتّٰی جِئْنَا وَادِیَ الْقُرٰی فَقَالَ لِلْمَرْأَۃِ: ((کَمْ حَدِیقَتُکِ؟)) قَالَتْ: عَشَرَۃُ أَوْسُقٍ، خَرْصُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنِّی مُتَعَجِّلٌ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یَتَعَجَّلَ فَلْیَفْعَلْ۔)) قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَخَرَجْنَا مَعَہُ حَتّٰی إِذَا أَوْفٰی عَلَی الْمَدِینَۃِ، قَالَ: ((ہِیَ ہٰذِہِ طَابَۃُ۔)) فَلَمَّا رَأٰی أُحُدًا قَالَ: ((ہٰذَا أُحُدٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ، أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟)) قَالَ: قُلْنَا: بَلٰی،یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خَیْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِی عَبْدِ الْأَشْہَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِی سَاعِدَۃَ، ثُمَّ فِی کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۰۲)
سیدنا ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے، جب ہم وادی ٔ قریٰ میں پہنچے تو وہاں ایک خاتون اپنے باغ میں موجود تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ سے فرمایا: تم اس باغ کے پھل کا تخمینہ لگاؤ۔ لوگوں نے اندازے لگائے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس وسق کا تخمینہ لگایا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: اس باغ سے جو فصل حاصل ہو،اس کو یاد رکھنا، تاآنکہ میں تمہارے پاس ان شاء اللہ واپس آؤں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے روانہ ہو کر تبوک پہنچے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج رات انتہائی تیز ہوا اور آندھی چلے گی، تم میں سے کوئی آدمی آندھی میں کھڑا نہ ہو، جس کے پاس اونٹ ہے وہ اس کے پاؤں کی رسی کو مضبوط باندھ دے۔ سیدنا ابو حمید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے اونٹوں کو مضبوط باندھ دیا، جب رات ہوئی تو تیز آندھی چلی، ایک آدمی اس میں کھڑا ہو گیا تو آندھی نے اسے قبیلہ طے کے پہاڑوں میں جا گرا یا، بعدازاں ایلہ کا حاکم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا، اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک سفید خچر بطور ہدیہ پیش کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ایک چادر عنایت فرمائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بستی اور علاقہ اس کو لکھ دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ہم واپسی پر وادیٔ قری میں پہنچے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عورت سے دریافت فرمایا: تمہارے باغ سے کتنا پھل حاصل ہوا؟ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تخمینہ کے مطابق بتایا کہ دس وسق حاصل ہوا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جلدی میں ہوں، میرے ساتھ جو کوئی جلدی جانا چاہتا ہے، تیار ہو جائے۔ آتے آتے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: وہ مدینہ منورہ طابہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نظر احدپہاڑ پر پڑی تو فرمایا: یہ احد پہاڑ ہے، یہ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، کیا میں تمہیں انصار کے بہترین قبائل سے آگاہ نہ کروں؟ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ضرور آگاہ فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصار کے قبائل میں سب سے بہتر بنو نجار، ان کے بعد بنو عبدالاشھل اور ان کے بعد بنو ساعدہ ہے، پھر انصار کے تمام ہی قبائل میں خیر ہے۔
Musnad Ahmad
10973
۔ (۱۰۹۷۳)۔ عَنْ جَرِیرٍ قَالَ: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْیَمَنِ، فَلَقِیتُ بِہَا رَجُلَیْنِ ذَا کَلَاعٍ وَذَا عَمْرٍو، قَالَ: وَأَخْبَرْتُہُمَا شَیْئًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلْنَا فَإِذَا قَدْ رُفِعَ لَنَا رَکْبٌ مِنْ قِبَلِ الْمَدِینَۃِ، قَالَ: فَسَأَلْنَاہُمْ مَا الْخَبَرُ؟ قَالَ: فَقَالُوا: قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَالنَّاسُ صَالِحُونَ، قَالَ: فَقَالَ لِی، أَخْبِرْ صَاحِبَکَ، قَالَ: فَرَجَعَا ثُمَّ لَقِیتُ ذَا عَمْرٍو فَقَالَ لِی،یَا جَرِیرُ إِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَیْرٍ مَا إِذَا ہَلَکَ أَمِیرٌ ثُمَّ تَأَمَّرْتُمْ فِی آخَرَ، فَإِذَا کَانَتْ بِالسَّیْفِ غَضِبْتُمْ غَضَبَ الْمُلُوکِ وَرَضِیتُمْ رِضَا الْمُلُوکِ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۳۷)
سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یمن کی طرف روانہ فرمایا، وہاں میری ذوکلاع اور ذوعمرو نامی دو آدمیوں سے ملاقات ہوئی، میں نے انہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے متعلق کچھ باتوں سے آگاہ کیا، پھر ہم آئے تو ہمیں مدینہ کی طرف سے کچھ سوار آتے دکھائی دئیے،ہم نے ان سے دریافت کیا: کیا بات ہے؟ تو انہوں نے بتلایا: اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ منتخب ہو ئے ہیں اور لوگ مطمئن ہیں،یعنی حالات پرسکون اور تسلی بخش ہیں۔ ذوکلاع اور ذوعمرو نے مجھ سے کہا: آپ اپنے خلیفہ کو اطلاع دے دیں۔ ( کہ ہم آئے تھے) اس کے بعد وہ دوبارہ میرے پاس آئے، میری ذوعمرو سے ملاقات ہوئی تو اس نے مجھ سے کہا: جریر! تم ایک وقت تک بھلائی پر رہو گے، تاآنکہ پہلا امیر فوت ہو جائے اور تم دوسرے شخص کو امیر منتخب کرو گے، جب تلوار نکل آئی تو تم عام بادشاہوں کی طرح ہو جاؤ گے، جیسےوہ بات بات پر ناراض ہو جاتے ہیں، تم بھی ان کی طرح کرنے لگو گے اور جیسے وہ معمولی باتوں پر خوش ہو جاتے ہیں، تم بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے لگو گے۔
Musnad Ahmad
11287
۔ (۱۱۲۸۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ سَفَرٍ، حَتّٰی إِذَا دَفَعْنَا إِلٰی حَائِطٍ مِنْ حِیْطَانِ بَنِی النَّجََّارِ إِذَا فِیْہِ جَمَلٌ لَا یَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلاَّ شَدَّ عَلَیْہِ، قَالَ: فَذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَجَائَ حَتّٰی أَتَی الْحَائِطَ، فَدَعَا الْبَعِیْرَ، فَجَائَ وَاضِعًا مِشْفَرَہٗإِلَی الْأرْضِ حَتّٰیبَرَکَ بَیْنَیَدَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَاتُوْاخِطَاماً۔)) فَخَطَمَہٗوَدَفَعَہٗإِلٰی صَاحِبِہِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی النَّاسِ، قَالَ: ((إِنَّہُ لَیْسَ شَیْئٌ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ إِلَّا یَعْلَمُ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ، إِلَّاعَاصِیَ الْجِنِّ وَالْأِنْسِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۸۵)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں ایک سفر سے واپس آئے، جب ہم بنو نجار کے ایک باغ کے پاس پہنچے تو وہاں ایک سرکش اونٹ تھا، جو کوئی بھی باغ میں جاتا اونٹ اس پر حملہ کر دیتا، انصار نے اس بات کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باغ میں گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ کو بلایا، اس نے آکر اپنے ہونٹ زمین پر رکھ دیئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ــ اس کی مہار لائو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی رسی اس سے باندھ کر اس کے سر پر رکھ دی اور اونٹ کو اس کے مالک کے سپرد کردیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: سرکش اور نا فرمان جن و انس کے سوا زمین و آسمان کے درمیان موجود ہر چیز میرے متعلق جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔
Musnad Ahmad
11436
۔ (۱۱۴۳۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِتُرْبَانَ بَلَدٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْمَدِینَۃِ بَرِیدٌ وَأَمْیَالٌ، وَہُوَ بَلَدٌ لَا مَائَ بِہِ وَذٰلِکَ مِنَ السَّحَرِ انْسَلَّتْ قِلَادَۃٌ لِی مِنْ عُنُقِی فَوَقَعَتْ، فَحُبِسَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِالْتِمَاسِہَا حَتّٰی طَلَعَ الْفَجْرُ وَلَیْسَ مَعَ الْقَوْمِ مَائٌ، قَالَتْ: فَلَقِیتُ مِنْ أَبِی مَا اللّٰہُ بِہِ عَلِیمٌ مِنْ التَّعْنِیفِ وَالتَّأْفِیفِ، وَقَالَ فِی کُلِّ سَفَرٍ: لِلْمُسْلِمِینَ مِنْکِ عَنَائٌ وَبَلَائٌ، قَالَتْ: فَأَنْزَلَ اللّٰہُ الرُّخْصَۃَ بِالتَّیَمُّمِ، قَالَتْ: فَتَیَمَّمَ الْقَوْمُ وَصَلَّوْا، قَالَتْ: یَقُولُ أَبِی حِینَ جَائَ مِنَ اللّٰہِ مَا جَائَ مِنَ الرُّخْصَۃِ لِلْمُسْلِمِینَ: وَاللّٰہِ! مَا عَلِمْتُ یَا بُنَیَّۃُ إِنَّکِ لَمُبَارَکَۃٌ مَاذَا جَعَلَ اللّٰہُ لِلْمُسْلِمِینَ فِی حَبْسِکِ إِیَّاہُمْ مِنَ الْبَرَکَۃِ وَالْیُسْرِ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۷۲)
زوجۂ نبی ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ واپس آرہے تھے۔ جب ہم مدینہ منورہ سے چند میل کے فاصلے پر سحری کے وقت ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں پانی کا نام و نشان تک نہ تھا، میری گردن سے ہار اتر کر گر گیا۔ اس کی تلاش میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رکنا پڑا یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی، کسی کے پاس پانی نہ تھا، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس موقعہ پر مجھے اپنے والد کی طرف سے کس قدر ڈانٹ پڑی۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ہر سفر میں تمہاری وجہ سے مسلمانوں کو مشکل اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ام المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ اس موقع پر اللہ نے تیمم کی رخصت کا حکم نازل فرما دیا۔ اور لوگوں نے تیمم کرکے نماز ادا کی، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے رخصت کا یہ حکم آیا تو میرے ابا جان نے کہا: بیٹی! اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا تھا کہ تم اس قدر با برکت ہو۔ تمہارے ہار کی تلاش میں مسلمانوں کو یہاں روکے جانے کے نتیجہ میں ان کے لیے اللہ نے کیا برکت اور آسانی رکھ دی ہے۔
Musnad Ahmad
11462
۔ (۱۱۴۶۲)۔ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلٰی، حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ خَیْبَرَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَۃَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَفِیَّۃُ رَدِیفَتُہُ، قَالَ: فَعَثَرَتْ نَاقَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصُرِعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصُرِعَتْ صَفِیَّۃُ، قَالَ: فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، (قَالَ: أَشُکُّ قَالَ ذَاکَ أَمْ لَا) أَضُرِرْتَ؟ قَالَ ((لَا، عَلَیْکَ الْمَرْأَۃَ)) قَالَ: فَأَلْقٰی أَبُو طَلْحَۃَ عَلٰی وَجْہِہِ الثَّوْبَ فَانْطَلَقَ إِلَیْہَا فَمَدَّ ثَوْبَہُ عَلَیْہَا، ثُمَّ أَصْلَحَ لَہَا رَحْلَہَا فَرَکِبْنَا، ثُمَّ اکْتَنَفْنَاہُ أَحَدُنَا عَنْ یَمِینِہِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِہِ، فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَی الْمَدِینَۃِ أَوْ کُنَّا بِظَہْرِ الْحَرَّۃِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((آیِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ۔)) فَلَمْ یَزَلْیَقُولُہُنَّ حَتّٰی دَخَلْنَا الْمَدِینَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۹۷۷)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر سے واپس ہوئے تو سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بیٹھی تھیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی پھسلی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا گر گئے۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تیزی سے لپک کر آگے بڑھے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، اس جملہ کے بارے میں سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اس جملے کے متعلق شک ہے کہ ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ کہا تھا یا نہیں کہا تھا، پھر انھوں نے کہا: آپ کو چوٹ تو نہیں آئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اس عورت یعنی سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خبر لو۔ پس سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ لیا اور ان کی طرف جا کر اپنا کپڑا ان کے اوپر پھیلا دیا، پھر ان کے پالان کو درست کیا، پھر ہم سوار ہو کر چل دیئے۔ اس کے بعد ہم دونوں آپ کے دائیں بائیںہوگئے۔ جب ہم مدینہ منورہ کے قریبیا حرہ کے قریب پہنچے، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا پڑھنا شروع کر دی: آیِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ۔ (ہم واپس آنے والے، اللہ کی عبادت کرنے والے، توبہ کرنے والے اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔) آپ ان الفاط کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔
Musnad Ahmad
12512
۔ (۱۲۵۱۲)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی مَرَرْنَا عَلٰی مَسْجِدِ بَنِی مُعَاوِیَۃَ، فَدَخَلَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، وَنَاجٰی رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ طَوِیلًا، قَالَ: ((سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا، سَأَلْتُہُ أَنْ لَا یُہْلِکَ أُمَّتِی بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یُہْلِکَ أُمَّتِی بِالسَّنَۃِ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یَجْعَلَ بَأْسَہُمْ بَیْنَہُمْفَمَنَعَنِیہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۶)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس ہوئے، ہمارا مسجد بنی معاویہ کے پاس سے گزر ہوا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد کے اندر تشریف لے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی، ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کافی دیر تک اللہ سے مناجات کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں، میں نے ایک دعا یہ کی کہ اللہ میری امت کو غرق کے ذریعے ہلاک نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ وہ میری امت کو قحط کے ذریعے ہلاک نہ کرے،اللہ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی، میں نے تیسری دعا یہ کی کہ ان کا آپس میں اختلاف نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیںکی۔