مسنداحمد

Musnad Ahmad

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام

مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان

۔ (۶۴۴۰) عَنْ شَقِیْقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَوَّلُ مَا یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِی الدِّمَائِ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۴)

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روز قیامت لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جو فیصلہ کیا جائے گا، وہ خونوںکے بارے میں ہوگا۔

۔ (۶۴۴۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((أَیُّیَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟)) قَالُوْا: یَوْمُنَا ھٰذا۔ قال: ((فَأَیُّ شَھْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟)) قَالْوْا: شَہَرُنَا ھٰذَا، قَالَ: ((فَأَیُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حرمۃ؟)) قَالَ: بَلَدُنَا ھٰذَا، قَالَ: ((فَاِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالُکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَہْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۱۸)

۔ سیدنا جابربن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے پوچھا: وہ کون سا دن ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہی ہمارا دن۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کون سا مہینہ ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا: یہی ہمارا ذوالحجہ کا مہینہ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کونسا شہر ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ انھوں نے کہا: یہی ہمارا شہر۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر اسی طرح حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔

۔ (۶۴۴۳) عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِیْ الْجَعْدِ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ قَتَلَ مُؤْمِنًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی؟ قَالَ: وَیْحَکَ وَأَنّٰی لَہُ الْھُدٰی؟ سَمِعْتُ نَبِیَّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَجِیْئُ الْمَقْتُوْلُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِیَقُوْلُ: یَارَبِّ! سَلْ ھٰذَا فِیْمَ قَتَلَنِیْ)) وَاللّٰہِ! لَقَدْ اَنْزَلَھَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی نَبِیِّکُمْ وَمَا نَسَخَہَا بَعْدَ إِذْ أَنْزَلَھَا، قَالَ: وَیْحَکَ وَأَنّٰی لَہُ الْھُدٰی؟۔ (مسند احمد: ۱۹۴۱)

۔ سالم بن ابی جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ ایک آدمی ایک مؤمن کو قتل کرتا ہے، لیکن پھر توبہ کر لیتا ہے،ایمان لے آتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور ہدایتیافتہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: بڑا افسوس ہے تجھ پر، ایسے قاتل کے لئے ہدایت کہاں سے آئے گی؟ میں نے تمہارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: مقتول اپنے قاتل کے ساتھ چمٹ کر آئے گا اور کہے گا: اے میر ے رب ! اس سے پوچھ کہ اس نے کس وجہ سے مجھے قتل کیا تھا۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالی نے تمہارے نبی پر اس آیت کو نازل کیا اور اس کو نازل کرنے کے بعد منسوخ نہیں کیا۔ بڑا فسوس ہے تجھ پر، ایسے قاتل کو ہدایت کہاں سے ملے گی؟

۔ (۶۴۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ! اَرَاَیْتَ رُجَلًا قَتَلَ مُؤْمِنًا؟ قَالَ: ثَکِلَتْہُ أُمُّہُ، وَأَنّٰی لَہُ التَّوْبَۃُ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْمَقْتُوْلَ یَجِیْئُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُتَعَلِّقًا رَأْسَہُ بِیَمِیْنِہِ، أَوْ قَالَ: بِشَمَالِہِ، آخِذًا صَاحِبَہُ بِیَدِہِ الْأُخْرٰی تَشْخَبُ أَوْدَاجُہُ دَمًا فِیْ قِبَلِ عَرْشِ الرَّحْمٰنِ فَیَقُوْلُ: رَبِّ! سَلْ ھٰذَا فِیْمَ قَتَلَنِیْ؟)) (مسند احمد: ۲۶۸۳)

۔ (دوسری سند) ایک آدمی، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا : اے ابن عباس!اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو مومن کو قتل کر دیتا ہے؟ انھوں نے کہا:اس کی ماں اسے گم پائے، اس کے لیے توبہ کہاں سے آئے گی، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ بیشکمقتول قیامت والے دن اپنے دائیںیا بائیں کے ساتھ اپنے سر کو پکڑ کر اور دوسرے ہاتھ سے اپنے قاتل کو پکڑ کر رحمن کے عرش کی طرف لائے گا،جبکہ اس کی رگیں خون بہا رہی ہوں گی، اور وہ کہے گا: اے میرے ربّ! اس سے پوچھو، اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا۔

۔ (۶۴۴۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سِبَابُ الْمُسْلِمِ أَخَاہُ فُسُوْقٌ وَقِتَالُہُ کُفْرٌ وَحُرْمَۃُ مَالِہِ کَحُرْمَۃِ دَمِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۶۲)

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کا اپنے بھائی کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے اور مسلمان کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی مانند ہے۔

۔ (۶۴۴۶) عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ،۔ (مسند احمد: ۱۵۱۹)

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی ایک حدیث ِنبوی بیان کی ہے۔

۔ (۶۴۴۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ الْمَرْئُ فِیْ فُسْحَۃٍ مِنْ دِیْنِہِ مَالَمْ یُصِبْ دَمًا حَرَامًا۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۱)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک دین کے معاملے میںیعنی نیکیاں کرنے میں وسعت میں رہتا ہے، جب تک حرام خون بہانے کا ارتکاب نہیں کرتا۔

۔ (۶۴۴۸) عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ یَعْنِی الْیَزَنِیَّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْقَاتِلِ وَالْآمِرِ، قَالَ: ((قُسِّمَتِ النَّارُ سَبْعِیْنَ جُزْئً فَلِلْآمِرِ تِسْعٌ وَسِتُّوْنَ وَلِلْقَاتِلِ جُزْئٌ وَحَسْبُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۵۴)

۔ مرثد بن عبد اللہ یزنی ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قاتل اور قتل کا حکم دینے والے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوزخ کو ستر حصوں میں تقسیم کی گیا، قتل کا حکم دینے والے کے لئے انہتر حصے ہوں گے اور قاتل کے لئے ایک حصہ ہو گا اور وہی اس کے لیے کافی ہو گا۔

۔ (۶۴۴۹) عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((یَا جَرِیْرُ! اسْتَنْصِتِ النَّاسَ۔)) ثُمَّ قَالَ فِیْ خُطْبَتِہِ: ((لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۸۱)

۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے جریر! لوگوں کو خاموش کراؤ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔

۔ (۶۴۵۰) عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحَارِثِ وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَشْہَدَنَّ أَحَدُکُمْ قَتِیْلًا لَعَلَّہ، أَنْ یََکُوْنَ قَدْ قُتِلَ ظُلْمًا فَیُصِیْبَہُ السُّخْطُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۶۳)

۔ سیدنا خرشہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ صحابہ میں سے تھے، سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی کسی کے قتل کے وقت حاضر نہ ہو، کیونکہ ہوسکتا ہے اسے ظلماً قتل کیا جا رہا ہو اور اس طرح حاضر ہونے والے کو بھی اللہ تعالی کی ناراضگی پہنچ جائے۔

۔ (۶۴۵۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا اِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دِمِہَا لِأَنَّہُ کَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۳۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نفس کو بھی ظلماً قتل کیا جاتا ہے، اس کے ناحق خون کا حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلا شخص ہے، جس نے سب سے پہلے نا حق قتل کا طریقہ جاری کیا۔

۔ (۶۴۵۲) وَعَنْہُ اَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ قَتَلَہُ نَبِیٌّ أَوْ قَتَلَ نَبَیًّا وَإِمَامُ ضَلَالَۃٍ وَ مُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۶۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روز قیامت لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب اس آدمی کو ہوگا، جسے نبی نے قتل کیایا جس نے نبی کو قتل کیا ہو اور ضلالت و گمراہی کا پیشوا اور تصویریں بنانے والا۔