TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6446 - مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان - قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 13 in this chapter
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۴۶) عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ،۔ (مسند احمد: ۱۵۱۹)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی ایک حدیث ِنبوی بیان کی ہے۔
6446
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۴۴۶) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۲۱، ابن ماجہ: ۳۹۴۱(انظر: ۱۵۱۹)

Related Chapters

318
1
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: What Has Been Related About The Severity Of Death
باب: موت کے وقت کی سختی کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Married A Woman His Father Was Married To (Previously)
باب: باپ کی بیوی سے شادی کرنے والے پر وارد سختی کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Killing A Believer
باب: مومن کے قتل ناحق پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
5
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
7
نمازی اور اُس کے سترہ کے در میان سے گزرنے کے متعلق سختی کا بیان
Musnad Ahmad
8
نوحہ کرنے، نوحہ کرنے والی اور اسے سننے والی کے حق میں ثابت ہونے والی سختی کا بیان
Musnad Ahmad
9
قبر کی ہولناکی، آزمائش، اس میں کیے جانے والا سوال اور اس کی سختی کا بیان
Musnad Ahmad
10
فصل چہارم: قبر کے میت کو سختی کی ساتھ دبوچنے کا بیان
Musnad Ahmad
11
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
Musnad Ahmad
12
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
Musnad Ahmad
13
غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان
Musnad Ahmad
14
جھوٹی قسم کے بارے میں سختی کا اور منبر نبوی پر اس قسم کے بڑا جرم ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
15
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
16
پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
17
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
Musnad Ahmad
18
دین میں رخصت کو قبول کرنے اور سختی نہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان رخصت: لغوي معني: سہولت اور آسانی
Musnad Ahmad
19
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
20
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
21
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
22
محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
Musnad Ahmad
23
(18) CHAPTER. It is disliked to exaggerate extremely in matters of worship.
عبادت میں بہت سختی اٹھانا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
24
(5) CHAPTER. Whoever manumits his portion of a common slave and does not possess enough money to manumit him completely, then that slave should be helped to work without hardship to earn what will enable him to get complete freedom according to the writing (of emancipation)
اگر کسی شخص نے ساجھے کے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا اور وہ نادار ہے تو دوسرے ساجھے والوں کے لیے اس سے محنت مزدوری کرائی جائے گی جیسے مکاتب سے کراتے ہیں ، اس پر سختی نہیں کی جائے گی ۔
Sahih Bukhari
25
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “O people of the Scriptures (Jews and Christians)! Do not exceed the limits in your religion... (up to )... as a Disposer of affairs. (V.4:171)
اللہ پاک کا سورۃ النساء میں فرمانا اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو ( سختی اور تشدد ) نہ کرو ۔
Sahih Bukhari
26
(2) CHAPTER. The severity of disease.
بیماری کی سختی (کوئی چیز نہیں ہے )
Sahih Bukhari
27
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
خلاف شرع کام پر غصہ اور سختی کرنا
Sahih Bukhari
28
(80) CHAPTER. The statement of the Prophet , “Make things easy for the people and do not make things difficult for them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو ، سختی نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر تخفیف اور آسانی کو پسند فرمایا کرتے تھے
Sahih Bukhari
29
(28) CHAPTER. To seek refuge with Allah from the difficult moments of a calamity.
مصیبت کی سختی سے اللہ کی پناہ مانگنا
Sahih Bukhari
30
(42) CHAPTER. The stupors of death.
موت کی سختیوں کا بیان
Sahih Bukhari
31
(5) CHAPTER. What is disliked of going deeply into and arguing about (religious) knowledge, and exaggerating in matter of religion, and of inventing heresies.
کسی امر میں تشدد اور سختی کرنا
Sahih Bukhari
32
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے بارے میں سختی
Sahih Muslim
33
Chapter: Stern warning against missing the `Asr prayer
نماز عصر چھوڑنے کے بارے میں سخت وعید
Sahih Muslim
34
Chapter: Stern warning against missing Jumu`ah
جمعہ چھوڑ نے پر سخت وعید
Sahih Muslim
35
Chapter: Stern warning against wailing
نوحہ کرنے کے بارے میں سختی (سے ممانعت )
Sahih Muslim
36
Chapter: Encouragement to live in Al-Madinah and to be patient on bearing its distress and hardships
مدینہ میں رہنے کی ترغیب اور اس کی تنگ دستی اور سختیوں پر صبر کرنا
Sahih Muslim
37
Chapter: Stern warning against accusing a slave of fornication
اس کے بارے میں سخت وعید جس نے اپنے غلام پرزنا کی تہمت لگائی
Sahih Muslim
38
Chapter: Stern Warning To One Who Torments People Unlawfully
اس شخص کے لیے سخت وعید جو لوگوں کو ناحق سزا دے
Sahih Muslim
39
CHAPTER: A stern warning against lying about the Messenger of Allah (peace be upon him).
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی سخت وعید کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
40
حدیث نبوی کی تعظیم و توقیر اور مخالفین سنت کے لیے سخت گناہ کی وعید
Sunnan Ibn e Maja
41
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بوجھ کر جھوٹ گھڑنے پر سخت گناہ (جہنم) کی وعید
Sunnan Ibn e Maja
42
Chapter: Severe warning Against Missing Prayer In Congregation
جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
43
مومن کو موت کی سختی پر اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
44
مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
45
قتل عمد کے مشابہ یعنی غلطی سے قتل میں دیت سخت ہے
Sunnan Ibn e Maja
46
Chapter: Hard times
زمانہ کی سختی کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
47
باب: اندھی عصبیت کے جھنڈے تلے لڑنے والے کے بارے میں (وارد) سختی کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
باب: ذمی (معاہد) کو قتل کرنے کی شناعت و وعید کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
(31)Chapter: What Has Been Related About: Protect The Heels From The Fire.
باب: وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
50
(53)Chapter: Severe Warning Against Not Shielding Oneself From Urine
باب: پیشاب کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

982
Musnad Ahmad
3191
۔ (۳۱۹۱)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہَا أَرْسَلَتْ ہِیَ وَأَ ْزَوَاجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَہْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنْ مُرُّوا بِہِ عَلَیْنَا فِی الْمَسْجِدِ فَصَلّٰی عَلَیْہِ أَزْوَاجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنْکَرَ ذَالِکَ النَّاسُ، فَذُکِرَ ذَالِکَ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فَقَالَتْ: أَلَا تَعْحَبُوْنَ مِنَ النَّاسِ حِیْنَ یُنْکِرُوْنَ ہٰذَا؟ فَوَاللّٰہِ مَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی سَہْلِ بْنِ بِیَضَائَ إِلَّا فِی الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۷۱)
(دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دوسری بیویوں نے سیّدنا سعد بن ابووقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لواحقین کی طرف طرف پیغام بھیجا کہ وہ اس میت کو ہمارے ہاں مسجد میں لے کر آئیں، پس امہات المومنین نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، لوگوں نے اس صورت پر انکار کیا،جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: کیا تم کو ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اس صورت پر انکار کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا سہل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد میں ہی پڑھی تھی۔
Musnad Ahmad
1
۔ (۱)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ یَعْنِی ابْنَ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ کُلْثُوْمٍ ابْنِ جَبْرٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَخَذَ اللّٰہُ الْمِیْثَاقَ مِنْ ظَہْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ یَعْنِی عَرَفَۃَ، فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہِ کُلَّ ذُرِّیِّۃٍ ذَرَأَہَا، فَنَثَرَہُمْ بَیْنَ یَدَیْہِ کَالذَّرِّ، ثُمَّ کَلَّمَہُمْ قُبُلاً،قَالَ: {أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَآ أَنْ تَقُولُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غَافِلِیْنَ۔ أَوْ تَقُوْلُوْآ اِنَّمَا أَشْرَکَ آبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِہِمْ أَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ}۔)) (مسند أحمد: ۲۴۵۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نعمان یعنی عرفہ کے مقام پر حضرت آدمؑ کی پشت (یعنی ان کی اولاد)سے مضبوط عہد لیا، اس کا طریق کار یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی پیٹھ سے وہ ساری اولاد نکالی، جو اس نے پید اکرنی تھی اور ان کو آپؑ کے سامنے چیونٹیوںکی طرح بکھیر دیا اور پھر ان سے آمنے سامنے کلام کرتے ہوئے کہا: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ یا یوں کہو کہ پہلے پہل یہ شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔
Musnad Ahmad
3
۔ (۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ : ((یُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ أَ کُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہِ ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، قَالَ: فَیَقُوْلُ: قَدْ أَرَدْتُّ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ذَالِکَ، قَدْ أَخَذْتُ عَلَیْکَ فِی ظَہْرِ آدَمَ أَنْ لَّا تُشْرِکَ بِیْ شَیْئًا فَأَبَیْتَ اِلَّا أَنْ تُشْرِکَ بِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۱۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قیامت کے دن جہنمی آدمی سے کہا جائے گا: اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ زمین پر جو چیزیں بھی ہیں، کیا تو (اس عذاب سے بچنے کے لیے) وہ فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو تجھ سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا، میں نے تجھ سے یہ عہد لیا تھا، جبکہ تو آدم ؑ کی پیٹھ میں تھا، کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، لیکن تو نے انکار کر دیا تھا اور (اسی چیز پر ڈٹ گیا کہ) تو نے میرے ساتھ شرک ہی کرنا ہے۔
Musnad Ahmad
4
۔ (۴)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ وَہُوَ الَّذِی بَعَثَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؓ اِلَی الشَّامِ یُفَقِّہُ النَّاسَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ؓ حَدَّثَہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ رَکِبَ یَوْمًا عَلَی حِمَارٍلَہُ یُقَالُ لَہُ یَعْفُورٌ، رَسَنُہُ مِنْ لِیْفٍ، ثُمَّ قَالَ: ((ارْکَبْ یَا مُعَاذُ!))، فَقُلْتُ: سِرْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِرْکَبْ))، فَرَدِفْتُہُ فَصُرِ عَ الْحِمَارُ بِنَا فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضْحَکُ وَ قُمْتُ أَذْکُرُ مِنْ نَفْسِیْ أَسَفًا، ثُمَّ فَعَلَ ذَالِکَ الثَّانِیَۃَ ثُمَّ الثَّالِثَۃَ وَسَارَ بِنَا فَأَخْلَفَ یَدَہُ فَضَرَبَ ظَہْرِی بِسَوْطٍ مَعَہُ أَوْ عَصًا، ثُمَّ قَالَ: ((یَا مُعَاذُ! ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) فَقُلْتُ: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَ عْلَمُ، قَالَ: ((فَاِنَّ حَقَّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ أَنْ یَعْبُدُوْہُ وَلَا یُشْرِکُوْ بِہِ شَیْئًا۔))، قَالَ: ثُمَّ سَارَ مَا شَائَ اللّٰہُ، ثُمَّ أَخْلَفَ یَدَہُ فَضَرَبَ ظَہْرِی فَقَالَ: ((یَا مُعَاذُ! یَا ابْنَ أُمِّ مُعَاذٍ! ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اِذَا ہُمْ فَعَلُوْا ذَالِکَ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَاِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اِذَا فَعَلُوْا ذَالِکَ أَنْ یُدْخِلَہُمُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۲۳)
عبد الرحمن بن غنم، جن کو سیدنا عمرؓ نے لوگوں کو فقہ کی تعلیم دینے کے لیے شام بھیجا تھا، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے ان کو بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک روز اپنے یعفور نامی گدھے پر سوار ہوئے، اس کی رسی کھجور کے پتوں کی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: معاذ! تم بھی سوار ہو جاؤ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ چلیں (میں پیدل ہی ٹھیک ہوں)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: تم سوار ہو جاؤ۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار ہو گیا، ہوا یوں کہ گدھا گر پڑا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہو کر مسکرانے لگے اور میں دل ہی دل میں افسوس کرنے لگا، پھر دوسری اور تیسری بار بھی ایسے ہی ہوا، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنا ہاتھ مبارک پیچھے کیا اور کوڑے یا چھڑی کے ساتھ میری کمر پر مارا اور فرمایا: معاذ! کیا تو جانتا ہے کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس بیشک اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آگے کو چلے، اور پھر اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور میری کمر پر مارا اور فرمایا: اے معاذ! اے معاذ کی ماں کے بیٹے! کیا تم یہ جانتے ہو کہ اگر بندے ایسے ہی کریں تو اللہ تعالیٰ پر ان کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس بیشک جب بندے ایسے ہی کریں تو ان کا اللہ تعالیٰ پر حق یہ ہے کہ وہ ان کو جنت میں داخل کر دے۔
Musnad Ahmad
14
۔ (۱۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقْبِضُ اللّٰہُ الْأَرْضَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ یَطْوِی السَّمَائَ بِیَمِیْنِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ: أَنَا الْمَلِکُ،أَیْنَ مُلُوْکُ الْأَرْضِ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۵۰)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت والے دن زمین و آسمان دائیں ہاتھ میں پکڑ کر اور لپیٹ کر کہے گا: میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین والے بادشاہ؟
Musnad Ahmad
17
۔ (۱۷) (وَعَنْہُ فِی أُخْرٰی)۔ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا یَرْوِیْہِ عَنْ رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ: ((إِنِّی حَرَّمْتُ عَلٰی نَفْسِیَ الظُّلْمَ وَ عَلٰی عِبَادِیْ، أَ لَا فَـلَا تَظَالَمُوْا، کُلُّ بَنِیْ آ دَمَ یُخْطِیئُ بِاللَّیْلِ وَ النَّہَارِ ثُمَّ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَأَغْفِرُ لَہُ فَـلَا أُبَالِیْ، وَقَالَ: یَا بَنِیْ آدَمَ! کُلُّکُمْ کَانَ ضَالًّا إِلَّا مَنْ ہَدَیْتُ، وَکُلُّکُمْ کَانَ عَارِیًا إِلَّا مَنْ کَسَوْتُ،وَکُلُّکُمْ کَانَ جَائِعًا إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ، وَکُلُّکُمْ کَانَ ظَمْآنًا إِلَّا مَنْ سَقَیْتُ، فَاسْتَہْدُوْنِیْ أَہْدِکُمْ، وَاسْتَکْسُوْنِیْ أَکْسُکُمْ، وَاسْتَطْعِمُوْنِیْ أُطْعِمْکُمْ، وَاسْتَسْقُوْنِیْ أَسْقِکُمْ،یَا عِبَادِی! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ( فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَ فِیْہِ۔ لَمْ یَنْقُصُوْا مِن مُلْکِی شَیْئًا إِلَّا کَمَا یَنْقُصُ رَأْسُ الْمِخْیَطِ مِنَ الْبَحْرِ)۔)) (مسند أحمد: ۲۱۷۵۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے ظلم کو اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر حرام قرار دیا ہے، خبردار! پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا، ساری اولادِ آدم دن رات غلطیاں کر تی ہے، پھر جب مجھ سے بخشش طلب کرتی ہے تو میں بخش دیتا ہوں اور کوئی پروا نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: اے بنو آدم! تم سارے گمراہ تھے، مگر جس کو میں نے ہدایت دی، تم سارے ننگے تھے، مگر جس کو میں نے لباس دیا، تم سارے بھوکے تھے، مگر جس کو میں نے کھانا کھلایا، تم سارے پیاسے تھے، مگر جس کو میں نے پانی پلایا، پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم مجھ سے لباس طلب کرو، میں تم کو لباس دوں گا، تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھلاؤں گا اور مجھ سے پانی طلب کرو، میں تم کو پلاؤں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اورپچھلے… سابقہ حدیث کی طرح ذکر کیا اور اس میں ہے تو وہ میری بادشاہت میں کوئی کمی نہ کر سکیں گے، مگر اتنی جیسے سوئی کا نکہ سمندر میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
Musnad Ahmad
28
۔ (۲۸)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۵۹)
سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Musnad Ahmad
31
۔ (۳۱)۔عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ مَعِیَ نَفَرٌ مِنْ قَوْمِیْ، فَقَالَ:((أَبْشِرُوْا وَ بَشِّرُوْا مَنْ وَرَائَ کُمْ أَنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ صَادِقًا بِہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُبَشِّرُ النَّاسَ،فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ(ؓ) فَرَجَعَ بِنَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِذًا یَتَّکِلُ النَّاسُ، فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۲۶)
سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، جبکہ میرے ساتھ میری قوم کے کچھ لوگ بھی موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خود بھی خوش ہو جاؤ اور اپنے پچھلوں کو بھی یہ خوشخبری سنا دو کہ جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ یہ سن کر ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس سے نکل پڑے، تاکہ لوگوں کو خوشخبری سنائیں، لیکن جب ہمیں آگے سے سیدنا عمرؓ ملے توانھوں نے ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کویہ مشورہ دیا کہ (اس طرح کی باتیں عام لوگوںکو نہ بتائی جائیں وگرنہ) وہ توکل کر کے (عمل چھوڑ دیں گے)، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ خاموش ہو گئے۔
Musnad Ahmad
37
۔ (۳۷)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَاتَ یَعْلَمُ أَن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد:۴۶۴)
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ یہ جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے تووہ جنت میں داخل ہو گا۔