۔ (۶۹۵۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ
اللّٰہِ! مَا لَکَ تَنَوَّقُ فِیْ قُرَیْشٍ وَتَدَعُنَا، قَالَ: ((وَھَلْ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، ابْنَۃُ حَمْزَۃَ، قَالَ: ((اِنَّہَا لَا تَحِلُّ لِیْ، ھِیَ ابْنَۃُ اَخِیْ مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۲۰)
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو ایسی لڑکی کا نہ بتائوں، جو قریش میں سے سب سے زیادہ خوبصورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کون ہے؟ میں نے کہا: سیدنا حمزہ کی بیٹی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے نہیں ہو کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے وہی رشتے حرام کیے ہیں، جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔
Takhreej
(۶۹۵۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۴۶(انظر: ۶۲۰)
Explanation
فوائد:… ابو لہب کی لونڈی نے نبی کریمa اور سیدنا حمزہ b کو دودھ پلایا تھا، اس طرح آپ a اور سیدنا حمزہ b رضاعی بھائی بن گئے اور ہر ایک کی اولاد دوسرے کے لیے محرم قرار پائی۔ اگر صرف نسب کو دیکھا جاتا ہے کہ آپ a سیدنا حمزہ کی بچی سے شادی کر سکتے تھے، لیکن رضاعت آڑے آ گئی۔
6959
Sahih