۔ (۷۰۱۱)۔ عَنْ جَمِیْلِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: صَحِبْتُ شَیْخًا مِنَ الْأَنْصَارِ ذَکَرَ أَنَّہ کَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌیُقَالُ لَہُ: کَعْبُ بْنُ زَیْدٍ أَوْ زَیْدُ بْنُ کَعْبٍ فَحَدَّثَنِیْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ a تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہَا وَضَعَ ثَوْبَہ، وَقَعَدَ عَلَی الْفِرَاشِ أَبْصَرَ بِکَشْحِہَا بَیَاضًا فَانْحَازَ عَنِ الْفِرَاشِ ثُمَّ قَالَ: ((خُذِیْ عَلَیْکِ ثِیَابَکِ۔)) وَلَمْ یَأْخُذْ مِمَّا آتَاھَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۸)
۔ سیدنا کعب بن زیدیا زید بن کعب رضی اللہ عنہ ، جن کو صحبت کا شرف بھی حاصل تھا، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی غفار کی ایک عورت سے نکاح کیا، جب اس کے پاس گئے،لباس اتارا اور بستر پر بیٹھے، تو اس کے پہلو میں سفیدی دیکھی، پس آپ بستر سے الگ ہو گئے اور اس سے فرمایا: تو اپنا لباس پہن لے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جو کچھ دیا تھا، وہ اس سے واپس نہیں لیا۔
Takhreej
(۷۰۱۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جمیل بن زید الطائی، ثم ان فی اسناد حدیثہ ھذا اضطرابا، أخرجہ البخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۷/ ۲۲۳، والطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۶۴۶، والبیھقی: ۷/ ۲۵۶ (انظر: ۱۶۰۳۲)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن کسی عیب کی وجہ سے خاوند کو طلاق دینے کا اختیار ہے۔
7011
Zaeef