TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قرآن پاک کو سیکھنے سکھانے، اس کو حفظ کرنے پر رغبت دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان

Chapter 2 of قرآن کریم کے فضائل، تفسیر اور اسبابِ نزول کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 3 · 14 Hadith
۔ (۸۳۲۶)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖآخَرِیْنَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۳۲)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے افضل اور بہتر وہ شخص ہے، جو قرآن پاک سیکھتا ہے اور سکھاتاہے۔
Takhreej
(۸۳۲۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۲۸(انظر: ۵۰۰)
Explanation
فوائد: … قرآنِ مجید وہ کلام ہے جسے جہانوں کے پالنہار نے ترتیب دیا، سیدالملائکہ جبریل علیہ السلام کے واسطے سے سید البشر محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچایا۔ جیسے اللہ تعالی کی ہستی، ذات و صفات میںیکتا و یگانہ ہے، ایسے ہی اس کا کلام لاثانی، عدیم النظیر اور بے مثال ہے، یہ ربّ کریم کا وہ عظیم معجزہ ہے کہ گزشتہ سوا چودہ صدیوں میں کوئی بھی اس کی مثال پیش نہیں کی جا سکی، جن بد باطن لوگوں نے ناکام کوشش کی، انہوں نے اپنے منہ پر تھوکا اور ان کے اِس بدنامِ زمانہ کردار سے قرآن پاک کے مقام و مرتبہ میں اضاہ ہو گیا۔ اس اعتبار سے یہ منفرد کلام ہے کہ جس کی تلاوت کرنے سے دلوں کو راحت و سکون نصیب ہو تا ہے، یہ اللہ تعالی کا بہت فضیلت والا ذکر ہے، انسانیت کی رشد وہدایت کیلیے اللہ تعالی کی طرف سے بشریت کے نام آخری اور لازوال پیغام ہے، اس کی موافقت کرنے والادنیا و آخرت میںکامیاب وکامران ہوتا ہے اور اس کی مخالفت کرنے والا دونوں جہانوں میں رسوا و خوار ہوتا ہے۔ جہاں اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کی ضمانت دی، وہاں اس کو سرچشمۂ ہدایت و رشد بھی قرار دیا۔ اللہ تعالی نے ان دو عظیم بلکہ عظیم تر امور کو سرانجام دینے کے لیے قرآن مجید کے معلمین اور متعلمین کا انتخاب کیا۔ آج سے چودہ سو بیس (۱۴۲۰) برس پہلے قرآن مجید کے نزول کی تکمیل ہو چکی تھی، لیکن کیا مجال کہ قرآن کریم کی درس و تدریس کرنے والوں نے اس کتابِ عظیم کے زیر زبر میں فرق آنے دیا ہو۔ لیکن اس وقت کے لوگوں کی ترجیحات اور میلانات مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں اور عملی طور پر قرآن مجید کی تلاوت کرنے، بچوں کو پڑھانے اور اس کا ترجمہ و تفسیر سیکھنے کی رغبت ختم ہو چکی ہے، الا ما شاء اللہ۔
8328
Sahih
۔ (۸۳۲۹)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسنداحمد: ۴۱۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن پاک پڑھا، سیکھا اور اسے حفظ کیا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے اور اس کے گھر والوں میں سے ان دس افراد کے بارے میں اس کی سفارش قبول کریں گے، جن کے حق میں دوزخ واجب ہو چکی ہو گی۔
Takhreej
(۸۳۲۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۴۱۲)
Explanation
فوائد: … بہرحال امت ِ مسلمہ کے نیک لوگ قیامت کے دن اللہ تعالی کے حکم سے گنہگاروں کے حق میں سفارش کریں گے۔
8329
Sahih
۔ (۸۳۳۰)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَنْ قَرَاَ الْقُرْآنَ) فَاسْتَظْہَرَہٗوَحَفِظَہٗ،اَدْخَلَہُاللّٰہُالْجَنَّۃَ، وَشَفَّعَہٗفِیْ عَشْرَۃٍ مِنْ اَھْلِ بَیْتِہٖ کُلِّہَمْ قَدْ وَجَبَتْ لَھُمُ النَّارُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پیٹ میں قرآن مجید کا کوئی حصہ نہ ہو، وہ ویران گھر کی مانند ہے۔
Takhreej
(۸۳۳۰) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، لضعف حفص بن سلیمان القاریئ، وجھالۃ کثیر بن زاذان ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۶، والترمذی: ۲۹۰۵ (انظر: ۱۲۷۸)
Explanation
فوائد:… دلوں کی آبادی ایمان اور تلاوت ِ قرآن سے ہے، جیسا گھروں کی آبادی سازو سامان اور حسن و جمال کے ساتھ ہے، سو جس دل میں قرآن نہیں ہے، وہ اس گھر کی طرح ہے، جو سامان سے خالی اور بے آباد پڑا ہو۔
8330
Zaeef
۔ (۸۳۳۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الرَّجُلَ الَّذِیْ لَیْسَ فِیْ جَوْفِہٖشَیْئٌ مِنَ الْقُرْآنِ کَالْبَیْتِ الْخَرِبِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۷)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی کا بھلائی کے ساتھ ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے دیکھا نہیں کہ وہ قرآن سیکھتا ہے، (سو بہتر کیوں نہ ہو)۔
Takhreej
(۸۳۳۱) تخریج: ضعیف، لضعف قابوس۔ أخرجہ الترمذی: ۲۹۱۳ (انظر: ۱۹۴۷)
8331
Zaeef
۔ (۸۳۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: ذُکِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِخَیْرٍ، فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَوَلَمْ تَرَوْہُ یَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صاحب ِ قرآن سے کہا جائے گا:پڑھتا جا اور چڑھتا جا، جہاں تو آخری آیت پڑھے گا، وہاں تیری منزل ہو گی۔امام اعمش کو راویٔ حدیث کے نام میں شک ہوا۔
Takhreej
(۸۳۳۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ (انظر: )۲۴۳۷۴
8332
Zaeef
۔ (۸۳۳۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَوْ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ، شَکَّ الْاَعْمَشُ قَالَ: یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اِقْرَہْ وَارْقَہْ! فَاِنَّ مَنْزِلَتَکَ عِنْدَ آخِرِ آیَۃِ تَقْرَؤُھَا۔ (مسند احمد: ۱۰۰۸۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صاحب ِ قرآن سے کہا جائے گا کہ تو پڑھتا جا اور چڑھتا جا، اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا، پس بیشک تیری منزل وہ ہو گی، جہاں تو آخری آیت پڑھے گا۔
Takhreej
(۸۳۳۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۹۱۵ (انظر: ۱۰۰۸۷)
Explanation
فوائد: …معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی آیات کی تعداد جنت کے درجات کے برابر ہے، جس کو جتنی آیاتیاد ہوں گی، اس کو اتنے ہی درجے ملیں گے۔
8333
Sahih
۔ (۸۳۳۴)۔ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْقَ وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَا فَإِنَّ مَنْزِلَتَکَ عِنْدَ آخِرِ آیَۃٍ تَقْرَؤُہَا)) (مسند احمد: ۶۷۹۹)
۔ امام مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں کہ امام خطابی نے کہا: بعض آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ جنت کے درجات کی تعداد قرآن مجید کی آیتوں کے برابر ہے۔ قاری سے کہا جائے گاکہ جتنا قرآن آپ پڑھتے تھے، اتنے درجات چڑھ جاؤ۔ جو مکمل قرآن مجید کا قاری ہو گا وہ جنت کے منتہی درجے تک پہنچ جائے گا۔ (تحفۃ الاحوذی) اللہ تعالی ہمیں قرآن مجید کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Takhreej
(۸۳۳۴) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۶۴، والترمذی: ۲۹۱۴ (انظر: ۶۷۹۹)
8334
Sahih
۔ (۸۳۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِذَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ: اِقْرَاْ وَاصْعَدْ، فَیَقْرَاُ وَیَصْعَدُ بِکُلِّ آیَۃٍ دَرَجَۃً حَتّٰییَقْرَاُ آخِرَشَیْئٍ مَعَہٗ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۸۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا روز قیامت صاحب قرآن سے کہاجائے گا جب وہ جنت میں داخل ہوگا پڑھتاجا اور اوپر چڑھتا جا۔ وہ پڑھتا جائے گا اور ہر آیت پر درجہ بدرجہ چڑھتا جائے گا۔ یہاں تک کہ آخر تک پہنچ جائے گا۔
Takhreej
(۸۳۳۵) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۷۸۰(انظر: ۱۱۳۶۰)
8335
Sahih
۔ (۸۳۳۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ اَخَذَ السَّبْعَ الْاُوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَھُوْ حِبْرٌ)) (مسند احمد: ۲۴۹۴۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا جو قرآن پاک سے پہلی سات سورتیںیاد کرے وہ ایک بڑا عالم ہے۔
Takhreej
(۸۳۳۶) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۵۶۴، والبزار: ۲۳۲۷ (انظر: ۲۴۴۴۳)
Explanation
فوائد: … ایک روایت الأُوَل کے بجائے الطِّوَال کے الفاظ ہیں، ان سے مراد درج ذیل سات سورتیں ہیں: (۱)سورۂ بقرہ، (۲)سورۂ آل عمران، (۳)سورۂ نسائ، (۴)سورۂ مائدہ، (۵)سورۂ انعام، (۶)سورۂ اعراف، (۷)سورۂ انفال، سورۂ توبہ (بعض اہل علم سورۂ انفال اور سورۂ توبہ کو ایک سورت تسلیم کرتے ہیں)۔ قرآن مجید کے بیشتر، مفصل، فقہی اور اہم مسائل کا بیان پہلی سات سورتوں میں ہے۔
8336
Sahih
۔ (۸۳۳۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ لِلّٰہِ اَھْلَیْنِ مِنَ النَّاسِ۔)) فَقِیْلَ: مَنْ اَھْلُ اللّٰہِ مِنْہُمْ؟ قَالَ: ((اَھْلُ الْقُرْآنِ ھُمْ اَھْلٌ لِلّٰہِ وَخَاصَّتُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۲۳۰۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے اہل اللہ بھی موجود ہیں۔ کسی نے کہا:اہل اللہ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن والے اللہ کااہل اور اس کے بندگان خاص ہیں۔
Takhreej
(۸۳۳۷) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۵(انظر: ۱۲۲۷۹)
Explanation
فوائد: …اہلِ قرآن سے مراد وہ لوگ ہیں، جو قرآن مجید کو یاد کرتے ہیں، رات کی گھڑیوں میں اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کی تعلیم و تعلّم کا بند و بست کرتے ہیں۔ اہل اللہ سے مراد اللہ تعالی کے اولیاء اور اس کے خاص لوگ ہیں۔
8337
Sahih
۔ (۸۳۳۸)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَعَلَّمُوا کِتَابَ اللّٰہِ وَتَعَاھَدُوْا وَتَغَنَّوْا بِہٖ،فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَھُوَ اَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ فِی الْعُقُلِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۵۰)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کتاب اللہ کو سیکھو اور پھر اس کی نگہداشت کرو اور گا کر یعنی خوبصورت آواز میں اس کو پڑھو، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت (سینوں سے) جلدی نکل جانے والا ہے۔
Takhreej
(۸۳۳۸) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۵۰۰، والدارمی: ۳۳۴۸، والنسائی فی الکبری : ۸۰۳۴ (انظر: ۱۷۳۱۷)
Explanation
فوائد: …کتاب اللہ کی تعلیم حاصل کرنے کے تین انداز ہیں: (۱)ناظرہ (۲) حفظ (۳)ترجمہ و تفسیر۔ جو آدمی جس انداز میں اس کتاب کی تعلیم حاصل کر چکا ہے، اس کو برقرار رکھنا ضروری ہے، جس کا صرف ایک طریقہ ہے کہ بار بار اس کو پڑھا جائے اور اس کے معانی و مفاہیم کا مطالعہ کیا جائے، عام لوگوں کا نظریہیہ ہے کہ اس قسم کی احادیث کا تعلق صرف حافظ ِ قرآن سے ہے، لیکنیہ نظریہ درست نہیں ہے۔
8338
Sahih
۔ (۸۳۳۹)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا وَ نَحْنُ فِی الصُّفَّۃِ، فَقَالَ: ((اَیُّکُمْیُحِبُّ أَ نْ یَغْدُوَ إِلَی بُطْحَانَ أَوْ الْعَقِیقِ فَیَأْتِیَ کُلَّ یَوْمٍ بِنَاقَتَیْنِ کَوْمَاوَیْنِزَہْرَاوَیْنِ، فَیَأْخُذَہُمَا فِی غَیْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟)) قَالَ: قُلْنَا: کُلُّنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! یُحِبُّ ذٰلِکَ، قَالَ: ((فَلَأَ نْ یَغْدُوَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَیَتَعَلَّمَ آیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ نَاقَتَیْنِ، وَثَلَاثٌ خَیْرٌ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَ رْبَعٌ خَیْرٌ مِنْ أَ رْبَعٍ، وَمِنْ أَ عْدَادِہِنَّ مِنْ الْإِبِلِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۴۳)
۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم ایک دن صفہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم میں سے کون ہے، جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ روزانہ صبح صبح وادیٔ بطحان یا وادیٔ عقیق میں جایا کرے اور کسی گناہ اور قطع رحمی کے بغیر وہاں سے خوبصورت اور بڑی کوہان والی دو اونٹنیاں لے آیا کرے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں ہر ایکیہ چاہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی مسجد میں صبح جائے، کتاب اللہ سے دو آیتیں سیکھ لے، یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین آیتیں، تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں، چار چاور سے بہتر ہیں، غرضیکہ جتنی آیات، اتنی اونٹنیاں۔
Takhreej
(۸۳۳۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۰۳(انظر: ۱۷۴۰۸)
Explanation
فوائد: …انسان ظاہری اور خاص طور پر مال و دولت کی نعمت کو زیادہ اور جلدی محسوس کرتا ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ مثال دے کر صحابۂ کرام کاذہن روحانی خزانے کی طرف منتقل کر دیا۔
8339
Sahih
۔ (۸۳۴۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۰۰۱۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں اور نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس سے ملتی جلتی حدیث بیان کرتے ہیں۔
Takhreej
(۸۳۴۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۰۲ (انظر: ۱۰۰۱۶)
Explanation
فوائد: …اس حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ یہ ہیں: ((أَ یُحِبُّ أَحَدُکُمْ إِذَا رَجَعَ إِلٰی أَ ہْلِہِ یَجِدُ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ فَثَلَاثُ آیَاتٍیَقْرَأُ بِہِنَّ أَ حَدُکُمْ فِی صَلَاتِہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ۔)) … کیا تم میں سے کوئییہ پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹے تو اس کو وہاں تین موٹی تازی اور بڑی کوہان والی حاملہ اونٹنیاں مل جائیں، بس تین آیات ہیں، اگر کوئی آدمی اپنینماز میں تین آیات کی تلاوت کر لیتا ہے تو یہ عمل اس کے لیے تین موٹی تازی اور بڑی کوہان والی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہے۔
8340
Sahih
۔ (۸۳۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ مُعَاذًا وَاَبَا مُوْسٰی اِلَی الْیَمَنِ، وَاَمَرَھُمَا اَنْ یُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۷۳)
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیں۔
Takhreej
(۸۳۴۱) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۵۶۷ (انظر: ۱۹۵۴۴)
Explanation
فوائد: …نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ سے یمن کی طرف ان دو صحابہ کو بھیجا تھا اور ان کو روانہ کرنے کا ایک مقصد قرآن مجید کی تعلیم بھی تھا۔
8341
Sahih