TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 8564 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
{لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلَاۃِ} کی تفسیر
۔ (۸۵۶۴)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْتُ: {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاۃِ اِنْ خِفْتُمْ أَ نْ یَفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا} وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ لِی عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْہُ، فَسَأَ لْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((صَدَقَۃٌ تَصَدَّقَ اللّٰہُ بِھَا عَلَیْکُمْ فَاقْبَلُوْا صَدَقَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴)
۔ یعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ اللہ تعالی نے تو یہ کہا کہ اگر کفار کے فتنے سے تم ڈرو تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ، جبکہ اب تو لوگ امن میں ہیں؟ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا: جس چیز سے تجھے تعجب ہوا ہے، مجھے بھی اس پر تعجب ہوا تھا، لیکن جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خیرات (اور رخصت) ہے، جواللہ نے تم پر صدقہ کی ہے، سو تم اس کییہ رخصت قبول کرو۔
8564
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۵۶۴) تخریـج: أخرجہ مسلم: ۶۸۶ (انظر: ۱۷۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… معلوم ہوا کہ آیت میں قصر نماز کے لیے خوف کی شرط اتفاقی طور پر لگائی گئی ہے، اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اگر خوف نہ ہو تو پوری نماز پڑھی جائے گی، قصر نماز کی اصل قید اور شرط سفر ہے۔ اس موضوع سے متعلقہ تفصیلی احکام کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۲۳۴۵) کا باب۔

Related Chapters

765
1
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
2
باب: سورۃ الصف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
3
{اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
4
{یَااَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
5
{اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَائِکُمْ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
6
{حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی}کی تفسیر
Musnad Ahmad
7
{وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاقَمْتَ لَہُمُ الصَّلَاۃُ} کی تفسیر
Musnad Ahmad
8
{وَمِنْہُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ…} کی تفسیر
Musnad Ahmad
9
{وَاَقِمِ الصَّلاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ…} کی تفسیر
Musnad Ahmad
10
{وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا …} کی تفسیر
Musnad Ahmad
11
(20) CHAPTER. “And from wheresoever you start forth (for prayers), turn your face in the direction of Al-Masjid-Al-Haram (at Makkah), and wheresoever you are, turn your face towards it [when you pray)]...” (V.2:150)
آیات ( ( ان الصفاوالمروۃ من شعائر اللہ ) ) الخ کی تفسیر
Sahih Bukhari
12
(24) CHAPTER. “O you who believe! Observing As-Saum (the fasting) is prescribed for you as it was prescribed for those before you that you, may become Al-Muttaqun.” (V.2:183)
آیت ( ( یاا یھاالذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
13
(27) CHAPTER. “It is made lawful for you to have sexual relation with your wives on the night of As-Saum (the fasts)... (till)... and seek that which Allah has ordained for you (offspring)...” (V.2:187)
آیت ( ( احل لکم لیلۃ الصیام ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
14
(42) CHAPTER. Guard strictly the (five obligatory) As-Salawat (the prayers), especially the middle Salat (i.e., the best prayer - Asr)... (V.2:238)
آیت ( ( حافظوا علی الصلٰوات والصلٰوۃ الوسطیٰ ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
15
(50) CHAPTER. “Allah will destory Riba (usury).” (V.2:276)
آیت ( ( یمحق اللہ الربا ويربي الصدقات ) ) الخ کی تفسیر
Sahih Bukhari
16
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “And perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) at the two ends of the day, and in some hours of the night; [i.e., five compulsory Salat (prayers)]. Verily, the good deeds remove the evil deeds (small sins)...” (V.11:114)
آیت ( ( واقم الصلٰوۃ طرفی النھار.... الایۃ ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
17
(4) CHAPTER. The Statement of Allah: “And the Trumpet will be blown, and all who are in the heavens and all who are on earth will swoon away, except him whom Allah wills...” (V.39:68)
آیت ( ( ونفخ فی الصور فصعق من فی السموات ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
18
(1) CHAPTER. “The Day when the Trumpet will be blown, and you shall come forth in crowds (groups after groups).” (V.78:18)
آیت ( ( یوم ینفخ فی الصور الایۃ ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
19
(2) CHAPTER The Statement of Allah: Allah-us-Samad (The Self-Sufficient Master, Whom all creatures need, He neither eats nor drinks). (V.112:2)
آیت ( ( اللہ الصمد ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
20
Chapter: What Has Been Related About: And For Those Upon Whom It Is Difficult.
باب: آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» کی تفسیر
Jam e Tirmazi
21
باب: آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان​
Jam e Tirmazi
22
باب: اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
باب: سورۃ فاتحہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
24
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
25
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
26
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
27
باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
28
باب: سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
29
باب: سورۃ الاعراف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
30
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​
Jam e Tirmazi
31
باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
32
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
33
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
34
باب: سورۃ یوسف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
35
باب: سورۃ الرعد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
36
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
37
باب: سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
38
باب: سورۃ النحل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
39
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
40
باب: سورۃ الکہف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
41
باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
42
باب: سورۃ طہٰ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
43
باب: سورۃ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
44
باب: سورۃ الحج سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
45
باب: سورۃ المومنون سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
46
باب: سورۃ النور سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
47
باب: سورۃ الفرقان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
48
باب: سورۃ الشعراء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
49
باب: سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
50
باب: سورۃ قص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

990
Musnad Ahmad
2350
۔ (۲۳۵۰) عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قُلْتُ: {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاۃِ اِنْ خِفْتُمْ أَنْ یَفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا} وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ لِی عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْہُ، فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((صَدَقَۃٌ تَصَدَّقَ اللّٰہُ بِھَا عَلَیْکُمْ فَاقْبَلُوْا صَدَقَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴)
یعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہا ہے کہ اگر تمہیں ڈر ہو کہ کفار تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ، جبکہ اب تو لوگ امن میں ہیں؟ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا: جس چیز سے تجھے تعجب ہوا ہے، مجھے بھی اس پر تعجب ہوا تھا، لیکن جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خیرات (اور رخصت) ہے، جواللہ نے تم پر صدقہ کی ہے، سو تم اس کی یہ رخصت قبول کرو۔
Jam e Tirmazi
3034
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ:‏‏‏‏ إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Ya'la bin Umayyah: I said to 'Umar [bin Al-Khattab]: 'Allah said: That you shorten the Salat if you fear and the people are safe (4:101).' So 'Umar said: 'I wondered about that just as you have wondered. So I mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ), and he said: It is charity which Allah has given to you, so accept His charity.
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی الله عنہ سے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم» ”تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں پریشان کریں گے“ ( النساء: ۱۰۱ ) ، اور اب تو لوگ امن و امان میں ہیں ( پھر قصر کیوں کر جائز ہو گی؟ ) عمر رضی الله عنہ نے کہا: جو بات تمہیں کھٹکی وہ مجھے بھی کھٹک چکی ہے، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”یہ اللہ کی جانب سے تمہارے لیے ایک صدقہ ہے جو اللہ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، پس تم اس کے صدقے کو قبول کر لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Musnad Ahmad
1092
۔ (۱۰۹۲)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلَی عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍؓ قَالَ: أُحِیْلَتِ الصَّلَاۃُ ثَلَاثَۃَ أَحْوَالٍ، وَاُحِیْلَ الصِّیَامُ ثَلَاثَۃَ اَحْوَالٍ، فَأَمَّا أَحْوَالُ الصَّلَاۃِ فَاِنَّ النَّبِیَّ َّقَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ وَھُوَ یُصَلِّیْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا اِلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ اِنَّ اللّٰہَ أنَزَلَ عَلَیْہِ {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا، فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہُ} قَالَ: فَوَجَّہَہُ اللّٰہُ اِلٰی مَکَّۃَ، قَالَ: فَھٰذَا حَوْلٌ، (قَالَ) وَکَانُوْا یَجْتَمِعُوْنَ لِلصَّلٰوۃِ وَیُؤْذِنُ بِہَا بَعْضُہُمْ بَعْضًا حَتّٰی نَقَسُوْا أَوْ کَادُوْا یَنْقُسُوْنَ، قَالَ: ثُمَّ اِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ زَیْدٍ أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ رَأَیْتُ فِیْمَا یَرَی النَّائِمُ وَلَوْ قُلْتُ اِنِّیْ لَمْ أَکُنْ نَائِمًا لَصَدَقْتُ، اِنِّیْ بَیْنَمَا أَنَا بَیْنَ النَّائِمِ وَالْیَقْظَانِ اِذْ رَأَیْتُ شَخْصًا عَلَیْہِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَقَالَ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مَثْنٰی، حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْأَذَانِ ثُمَّ أَمْھَلَ سَاعَۃً، قَالَ: ثُمَّ قَالَ مِثْلَ الَّذِیْ قَالَ غَیْرَ أَنَّہُ یَزِیْدُ فِیْ ذٰلِکَ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((عَلِّمْہَا بِلَالًا فَلْیُؤَذِّنْ بِہَا۔)) فکَانَ بِلَالٌ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِہَا، قَالَ: وَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہُ قَدْ طَافَ بِیْ مِثْلُ الَّذِیْ أَطَافَ بِہِ غَیْرَ أَنَّہُ سَبَقَنِیْ، فَہٰذَانِ حَوْلَانِ، (قَالَ) وَکَانُوْا یَأْتُوْنَ الصَّلَاۃَ وَقَدْ سَبَقَہُمْ بِبِعْضِہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَکَانَ الرَّجُلُ یُشِیْرُ اِلَی الرَّجُلِ اِذَا جَائَ کَمْ صَلّٰی؟ فَیَقُوْلُ وَاحِدَۃً أَوِ اثْنَتَیْنِ فَیُصَلِّیْہَا ثُمَّ یَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِیْ صَلَاتِہِمْ، قَالَ: فجَائَ مُعَاذٌ فَقَالَ: لَا أَجِدُہُ عَلٰی حَالٍ أَ بَدًا اِلَّا کُنْتُ عَلَیْہَا ثُمَّ قَضَیْتُ مَا سَبَقَنِیْ، قَالَ: فَجَائَ وَقَدْ سَبَقَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَعْضِہَا، قَالَ: فَثَبَتَ مَعَہُ فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاتَہُ قَامَ فَقَضٰی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّہُ قَدْ سَنَّ لَکُمْ مُعَاذٌ فَہٰکَذَا فَاصْنَعُوْا۔)) فَہٰذِہِ ثَلَاثَۃُ أَحْوَالٍ، وَأَمَّا أَحْوَالُ الصِّیَامِ (فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ)۔ (مسند أحمد: ۲۲۴۷۵)
سیدنا معاذ بن جبلؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز کو تین مراحل سے گزارا گیا اور روزوں کی فرضیت بھی تین مراحل میں ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبیِ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سترہ ماہ تک بیت اللہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے، جس سے آپ خوش ہو جائیں گے، آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاںکہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ کر دیا، یہ ایک مرحلہ تھا، (دوسرے مرحلے کی تفصیل یہ ہے کہ) لوگ نماز کے لیے خود جمع ہوجاتے تھے اور وہ ایک دوسرے کو اِس کا بتلا ابتلا دیتے تھے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ ناقوس بجانے لگ جائیں، عبد اللہ بن زید ؓنامی ایک انصاری آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، جیسا کہ سونے والا آدمی دیکھتا ہے، اور اگر میں یہ کہہ دوں کہ میں سویا ہوا نہیں تھا، تو پھر بھی میں سچا ہوں گا، بس یوں سمجھیں کہ میں سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت میں تھا کہ میں نے ایک آدمی دیکھا، اس پر دو سبز کپڑے تھے، پس وہ قبلہ رخ ہوا اور کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دو دفعہ، یہاں تک کہ وہ اذان سے فارغ ہوا اور تھوڑی دیر ٹھہر کر پھر اسی طرح کے کلمات دوہرائے، البتہ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ کا اضافہ کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم بلال کو یہ کلمات سکھا دو، وہ ان کے ذریعے اذان دے۔ پس سیدنا بلال ؓوہ شخصیت ہیں، جنھوں نے سب سے پہلے اذان دی، ان کی اذان سن کر سیدنا عمر بن خطاب ؓتشریف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! (اذان سکھانے والے) اسی قسم کے ایک فرد نے میرا چکر بھی لگایا ہے، جیسا کہ اس انصاری کا چکر لگایا ہے، بس فرق یہ ہے کہ اس نے مجھ سے پہلے آپ کو اطلاع دے دی ہے، یہ دو تبدیلیاں ہوں گئیں۔ (تیسری تبدیلی اس طرح ہوئی کہ) جب لوگ نماز پڑھنے کے لیے آتے تھے، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سے پہلے بعض رکعتیں پڑھا چکے ہوتے تھے تو وہ دوسرے آدمی کی طرف اشارہ کرتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کتنی رکعتیں پڑھ چکے، جب وہ جواب دیتا کہ ایک دو رکعتیں پڑھی جا چکی ہیں تو لیٹ آنے والا آدمی پہلے ان دو رکعتوں کو پورا کرتا اور پھر لوگوں کے ساتھ جماعت میں مل جاتا۔ ایک دن سیدنا معاذ ؓآئے اور کہا: میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو جس حالت پر پاؤں گا، اسی کو اختیار کر لوں گا، پھر جتنی رکعتیں مجھ سے پہلے پڑھی جا چکی ہوں گی، ان کو میں بعد میں پورا کر لوں گا۔ پس جب وہ آئے تو نبیِ کریم واقعی کچھ رکعتیں پڑھا چکے تھے، پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ہی مل گئے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی نماز پوری کی تو سیدنا معاذ ؓکھڑے ہو کر فوت ہو جانے والی رکعتوں کی قضائی دینے لگے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اُن کو دیکھ کر فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ معاذ نے تمہارے لیے ایک طریقہ ایجاد کیا ہے، پس اسی طرح کیا کرو۔ یہ کل تین مراحل ہو گئے۔ رہی تفصیل روزوں کے مراحل کی ……۔ (اس کی تفصیل کتاب الصیام کے شروع میں آئے گی۔)
Musnad Ahmad
1209
۔ (۱۲۰۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ وَابْنُ بَکْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْأَعْمٰی یُخْبِرُ عَنْ رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ السَّائِبُ مَوْلَی الْفَارِسِیِّیْنَ وَقَالَ ابْنُ بَکْرٍ: مَوْلًی لِفَارِسَ، وَقَالَ حَجَّاجٌ: مَوْلَی الْفَارِسِیِّیْنَ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّؓ أَنَّہُ رَآہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَھُوَ خَلِیْفَۃٌ رَکَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَکْعَتَیْنِ فَمَشٰی اِلَیْہِ فَضَرَبَہُ بِالدِّرَّۃِ وَھُوَ یُصَلِّیْ کَمَا ہُوَ، فَلَمَّا اِنْصَرَفَ قَالَ زَیْدٌ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! فَوَاللّٰہِ! لَا أَدَعُہُمَا أَبَدًا بَعْدَ أَنْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْہِمَا، قَالَ: فَجَلَسَ اِلَیْہِ عُمَرُ وَقَالَ: یَا زَیْدُ بْنَ خَالِدٍ! لَوْلَا أَنْ أَخْشٰی أَنْ یَتَّخِذَہَا النَّاسُ سُلَّمًا اِلَی الصَّلَاۃِ حَتَّی اللَّیْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۶۲)
سیدنا زید بن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ خلیفۂ رسول سیدنا عمر ؓ نے اس کو عصر کی بعد دو رکعتیں ادا کرتے ہوئے دیکھا، پس وہ اس کی طرف گئے اور اس کو نماز کی حالت میں دُرّہ لگا دیا، لیکن جب سیدنا زید ؓفارغ ہوئے تو انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! چونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھنے کے بعد تو میں یہ عمل ترک نہیں کروں گا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓان کے پاس بیٹھے اور کہا: اے زید بن خالد! اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ اس نماز کو رات تک نماز پڑھتے رہنے کا ذریعہ بنا لیں گے تو میں ان کی وجہ سے نہ مارتا۔
Musnad Ahmad
1266
۔ (۱۲۶۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ زَیْدِ (بِنْ عَبْدِ رَبَّہِ) قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاقُوْسِ لِیُضْرَبَ بِہٖلِلنَّاسِفِی الْجَمْعِ للِصَّلَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ وَھُو کَارِہٌ لِمَوافَقَتِہِ النَّصَارٰی) طَافَ بِیْ وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ یَحْمِلُ نَاقُوْسًا فِیْیَدِہِ ِفَقُلْتُ لَہُ: یَاعَبْدَ اللّٰہِ! أَتَبِیْعُ النَّاقُوَسَ؟ قَالَ: مَاتَصْنَعُ بِہِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَدْعُوْا بِہِ إِلَی الصَّلَاۃَ، قَالَ: أَفَـلَا أَدُلُّکَ عَلٰی مَا ھُوَ خَیْرٌ مِنْ ذَالِکَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: بَلٰی، قَالَ: تَقُوْلُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَیْرَ بَعِیْدٍ، ثُمَّ قَالَ: تَقُولُ إِذاَ أُقیمَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فأَخْبَرْ تُہُ بِمَا رَأَیْتُ فَقَالَ: ((إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٌ إِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالِ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَارَأَیْتَ فَلْیُؤَذِّنْ بِہِ فَإِنَّہُ أَنْدٰی صَوْتاً مِنْکَ۔)) قَالَ: فَقُمْتُ مَعَ بِلَالِ فَجَعَلْتُ أُلْقِیہِ عَلَیْہِ وَیُؤََذِّنُ بِہِ، قَالَ فَسَمِعَ بِذٰلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَھُوَفِی بَیْتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ رِدَائَ ہُ یَقُولُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحقِّ! لَقَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ الَّذِی أُرِیَ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۹۲)
سیّدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کے وقت لوگوں کو جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم دے دیا اور عیسائیوں کی موافقت کی وجہ سے یہ چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ناپسند بھی تھی، تو میں سویا ہوا تھا، ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے میرے پاس سے گذرا، میں نے اسے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس فروخت کرنا چاہتا ہے؟ تو اس نے جواباً پوچھا: تو اس سے کیا کرے گا؟ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اسے بتایا کہ ہم اس کے ذریعے نماز کی طرف بلائیں گے۔ اس نے کہا: کیا میں اس سے بہتر چیز کی طرف تیری راہنمائی نہ کر دوں؟ عبد اللہ بن زیدنے کہا: میں نے اسے کہا کہ کیوں نہیں! تو وہ کہنے لگا کہ تم یہ الفاظ کہا کرو: اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور کہنے لگا کہ جس وقت نماز کھڑی ہونے لگے تو یہ کلمات کہا کرو: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اپنا خواب بیان کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: إن شاء اللہ بلاشک و شبہ یہ سچا خواب ہے، عبد اللہ! بلال کے ساتھ کھڑا ہوجا اور خواب والے کلمات اس کو کہلوا تاکہ وہ ان کے ساتھ اذان کہتا جائے کیونکہ وہ تجھ سے اچھی اور بلند آواز والا ہے۔ عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اس پر کلمات ڈالتا گیا اور وہ ان کے ساتھ اذان کہتے گئے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ کلمات سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے گھر میں سنے تو اپنی چادر کھینچتے ہوئے جلدی سے باہر آئے اور کہنے لگے: (اے اللہ کے رسول!) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اسی طرح کا خواب میں نے بھی دیکھا ہے۔ سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ (اللہ کا شکر ہے)۔
Musnad Ahmad
3857
۔ (۳۸۵۷) عَنْ اَبِی عُبیْدٍ قَالَ: شَہِدْتُّ الْعِیْدَ مَعَ عُمَرَ (بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) فَبَدَأَ بِالصَّلَاۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ صِیَامِ ہٰذَیْنِ الْیَوْمَیْنِ، اَمَّا یَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُکُمْ مِنْ صَوْمِکُمْ، وَاَمَّا یَوْمُ اْلاَضْحٰی فَکُلُوا مِنْ نُسُکِکُمْ۔ (مسند احمد: ۱۶۳)
۔ ابوعبید کہتے ہیں: عید کے موقع پر میں سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں موجود تھا، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید کے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، (اس کی وجہ یہ ہے کہ) عید الفطر(ایک ماہ کے) روزوں سے تمہاری افطاری کا دن ہوتا ہے اور عید الاضحیٰ ویسے قربانی کا دن ہے، اس لیے اس میں قربانی کا گوشت کھایا کرو۔
Musnad Ahmad
11322
۔ (۱۱۳۲۲)۔ حَدَّثَنَا یَحْیٰ، عَنْ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا أَبُوْ رَجَائٍ، حَدَّثَنِی عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنَّا أَسْرَیْنَا، حَتّٰی إِذَا کُنَّا فِی آخِرِ اللَّیْلِ وَقَعْنَا تِلْکَ الْوَقْعَۃَ، فَلَا وَقْعَۃَ أَحْلٰی عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْہَا، قَالَ: فَمَا أَیْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، وَکَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَیْقَظَ فُلَانٌ ثُمَّ فُلَانٌ،کَانَ یُسَمِّیْہِمْ أَبُوْ رَجَائٍ وَنَسِیَہُمْ عَوْفٌ، ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الرَّابِعُ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا نَامَ لَمْ نُوْقِظْہُ حَتّٰییَکُوْنَ ھُوَ یَسْتَیْقِظُ، ِلأَناَّ لاَ نَدْرِیْ ماَ یُحْدِثُ أَوْ یَحْدُثُ لَہُ فِی نَوْمِہِ، فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ عُمَرُ وَرَأٰی مَا أَصَابَ النَّاسَ ،وَکَانَ رَجُلاً أَجْوَفَ جَلِیْدًا، قَالَ: فَکَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَہُ بِالتَّکْبِیْرِ حَتَّیاسْتَیْقَظَ لِصَوْتِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَکَوْا الَّذِی أَصَابَہُمْ، فَقَالَ: ((لَا ضَیْرَ أَوْلایَضِیْرُ، اِرْتَحِلُوْا۔)) فَارْتَحَلَ، فَسَارَ غَیْرَ بَعِیْدٍ ثُمَّ نَزَلَ، فَدَعَا بِالْوَضُوْئِ فَتَوَضَّأَ، وَ نُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ، فَصَلّٰی بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِہِ إِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ یُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: ((مَا مَنَعَکَ یَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ الْقَوْمِ؟)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ وَلَا مَائَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکَ بِالصَّعِیْدِ فَإِنَّہُ یَکْفِیْکَ۔)) ثُمَّ سَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاشْتَکٰی إِلَیْہِ النَّاسُ الْعَطَشَ، فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا کَانَ یُسَمِّیْہِ أَبُوْ رَجَائٍ وَنَسِیَہُ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: ((اذْ ھَبَا فَابْغِیَا لَنَا الْمَائَ۔))قَالَ: فَانْطَلَقَا،فَیَلْقَیَانِ امْرَأَۃً بَیْنَ مَزَادَ تَیْنِ أَوْ سَطِیْحَتَیْنِ مِنْ مَائٍ عَلٰی بَعِیْرٍ لَھَا، فَقَالَا لَھَا: أَیْنَ الْمَائُ؟ فَقَالَتْ: عَہْدِی بِالْمَائِ أَمْسِ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ، وَنَفَرُنَا خُلُوْفٌ، قَالَ: فَقَالَا لَھَا: انْطَلِقِی إِذًا، قَالَتْ: إِلٰی أَیْنَ؟ قَالَا: إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: ھٰذَا الَّذِییُقَالُ لَہُ الصَّابِیُٔ؟ قَالَا: ھُوَ الَّذِیْ تَعْنِیْنَ, فَانْطَلِقِی إِذًا، فَجَائَ ابِہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثَاہُ الْحَدِیْثَ، فَاسْتَنْزَلُوْھَا عَنْ بَعِیْرِھَا، وَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِإِنَائٍ، فَأَفْرَغَ فِیْہِ مِنْ أَفْوَاہِ الْمَزَادَتَیْنِ أَوِ السَّطِیْحَتَیْنِ وَأَوْکَأَ أَفْوَاھَہُمَا، فَأَطْلَقَ الْعَزَالِیَ وَنُوْدِیَ فِی النَّاسِ أَنِ اسْقُوْا وَاسْتَقُوْا، فَسَقٰی مَنْ شَائَ وَاسْتَقٰی مَنْ شَائَ، وَکَانَ آخِرُ ذٰلِکَ أَنْ أَعْطَی الَّذِی أَصَابَتْہُ الْجَنَابَۃُ إِنَائً مِنْ مَائٍ، فَقَالَ: ((اذْھَبْ فَأَفْرِغْہُ عَلَیْکَ۔)) قَالَ: وَھِیَ قَائِمَۃٌ تَنْظُرُ مَا یُفْعَلُ بِمَائِہَا، قَالَ: وَأَیْمُ اللّٰہِ! لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْہَا، وَإِنَّہُ لَیُخَیَّلُ إِلَیْنَا أَنَّہَا أَشَدُّ مِلْأَۃً مِنْہَا حِیْنَ ابْتَدَأَ فِیْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اجْمَعُوْا لَھَا۔)) فَجَمَعَ لَھَا مِنْ بَیْنِ عَجْوَۃٍ وَ دَقِیْقَۃٍ وَ سُوَیْقَۃٍ حَتّٰی جَمَعُوْا لَھَا طَعَامًا کَثِیْرًا، وَجَعَلُوْہُ فِی ثَوْبٍ، وَحَمَلُوْھَا عَلٰی بَعِیْرِھَا وَوَضَعُوْا الثَّوْبَ بَیْنَیَدَیْہَا، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَعْلَمِیْنَ وَاللّٰہِ مَا رَزَأْنَاکَ مِنْ مَائِکَ شَیْئًا، وَلٰکِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ ھُوَ سَقَانَا۔)) قَالَ: فَأَتَتْ أَھْلَہَا، وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْہُمْ، فَقَالُوا: مَا حَبَسَکِ یَا فُلَانَۃُ؟ فَقَالَتِ: الْعَجَبُ! لَقِیَنِی رَجُلَانِ، فَذَھَبَا بِی إِلٰی ھٰذَا الَّذِییُقَالُ لَہُ الصَّابِیُٔ، فَفَعَلَ بِمَائِی کَذَا وَکَذَا، لِلَّذِی قَدْ کَانَ، فَوَاللّٰہِ! إِنَّہُ لَأَسْحَرُ مِنْ بَیْنِ ھٰذِہِ وَ ھٰذِہِ، قَالَتْ بِأُصْبُعَیْہَا الْوُسْطٰی وَالسَّبَّابَۃِ فَرَفَعَتْہُمَا إِلَی السَّمَائِ یَعْنِی السَّمَائَ وَالْأَرْضَ، أَوْ إِنَّہُ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا، قَالَ: وَکَانَ الْمُسْلِمُوْنَ بَعْدُ یُغِیْرُوْنَ عَلٰی مَاحَوْلَھَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَلَا یُصِیْبُوْنَ الصِّرْمَ الَّذِی ھِیَ فِیْہِ، فَقَالَتْ یَوْمًا لِقَوْمِہَا: مَا أَرٰی أَنَّ ھٰؤُلَائِ الْقَوْمَ یَدَعُوْنَکُمْ عَمَدًا، فَہَلْ لَکُمْ فِی الْإِسْلَامِ؟ فَأَطَاعُوْھَا ،فَدَخَلُوْا فِی الْإِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۴۰)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہم راہ تھے، ہم ساری رات چلتے رہے، یہاں تک کہ رات کے آخری حصے میں ہم ایسی کیفیت میں چلے گئے، جس سے زیادہ پسندیدہ کیفیت مسافر کی نظر میں اور کوئی نہیں ہوتییعنی ہم سو گئے۔ ہمیں سورج کی گرمی نے بیدار کیا، سب سے پہلے فلاں اور اس کے بعد فلاں آدمی بیدار ہوا۔ ابو رجاء (راوی) ان کے نام ذکر کیا کرتے تھے لیکن ان کے شاگرد عوف کویہ نام بھول گئے۔ ان کے بعد چوتھے نمبر پر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیدار ہوئے، معمول یہ تھا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سوئے ہوتے تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیدا ر نہ کرتے یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود بیدار نہ ہو جائیں۔ کیونکہ ہمیں یہ معلوم نہ ہو تا تھا کہ نیند کی حالت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیا کیفیت در پیش ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو پیش آمدہ صورت حال ملاحظہ کی، وہ بلند آواز اور بہادر آدمی تھے۔ انہوں نے اللہ اکبر کہتے ہوئے اپنی آواز بلندی کی۔ یہاں تک کہ ان کی آواز سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوگئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے تو صحابہ نے اپنے ساتھ پیش آمدہ صورت حال کا شکوہ کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں، اب چلو۔ وہاں سے روانہ ہو کرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھوڑی دور جا کر رک گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کا پانی طلب فرما کر وضو کیا، نماز کے لیے اذان کہی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو نمازپڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہو کر مڑے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو الگ تھلگ بیٹھا تھا، اس نے لوگوں کے ساتھ مل کر نماز ادا نہ کی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: اے فلاں! تجھے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرنے سے کس چیز نے منع کیا؟ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے جنابت کا عارضہ پیش آگیا ہے اور غسل کے لیے پانی موجود نہیں ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مٹی استعمال کر لو (یعنی مٹی سے تیمم کر لو)۔ تمہارے لیےیہی کافی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے روانہ ہوئے ۔ لوگوں نے پیاس کی شکایت کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سواری سے اتر کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک آدمی کو بلایا۔ راوی حدیث ابو رجاء اس کا نام بیان کیا کرتے تھے، لیکن ان کے شاگرد عوف بھول گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: تم دونوں جا کر ہمارے لیے پانی تلاش کر کے لائو۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: وہ دونوں چلے گئے۔ ان کی ایک عورت سے ملاقات ہوئی, وہ اپنے اونٹ پر پانی کے دو مشکیزے لادے جا رہی تھی۔ انہو ںنے اس سے دریافت کیا: پانی کہاں سے ملے گا؟ وہ بولی: پانییہاں سے بہت دور ہے, میں کل اس وقت سے یہ پانی لے کر چلی ہوں اور ابھی تک سفر میں ہوں, ہمارے مرد موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے اس سے کہا: اچھا تو پھر ہمارے ساتھ چلو۔ وہ بولی: کہاں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف۔ وہ کہنے لگی: آیا اس شخص کی طرف جسے صابی(لا مذہب اور لادین) کہا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں وہ وہی ہے جسے تو اس طرح سمجھ رہی ہے، پس اب تو چل۔ وہ اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے آئے اور سارا واقعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گوش گزار کیا۔ صحابہ نے اس خاتون کو سواری سے اترنے کو کہا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک برتن منگوا کر مشکیزوں کے منہ کھول کر برتن میں پانی انڈیلا اور لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ پانی پیو اور جانوروں کو پلاؤ۔جس نے پینا تھا اس نے پی لیااور جس نے جانوروں کو پلانا تھا پلالیا۔ آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو بھی پانی کا ایک برتن دیا جسے جنابت کا عارضہ لاحق ہوا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جا کر یہ پانی اپنے اوپر بہا لو، یعنی غسل کر لو۔ وہ خاتون کھڑییہ سارے مناظر دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اللہ کی قسم! اس خاتون کو جب جانے کی اجازت دی گئی تو ہمیںیوں لگ رہا تھا کہ اس کے مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے دینے کے لیے کچھ سامان جمع کرو۔ صحابہ نے اس کے لیے عجوہ کھجور، آٹا اور ستو وغیرہ کافی کچھ جمع کر دیا،یہ سارا سامان ایک کپڑے میں ڈالااور عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کر کے یہ کپڑا اس کے آگے رکھ دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ کی قسم!تم جانتی ہو کہ ہم نے تیرے پانی میں ذرہ بھر بھی کمی نہیں کی۔ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے پینے کے لیے پانی مہیا کیاہے۔ وہ عورت اپنے خاندان میںواپس گئی، وہ کافی لیٹ ہو چکی تھی، اس کے گھر والوںنے تاخیر کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ ایک عجیب واقعہ پیش آگیا۔ مجھے دو آدمی ملے۔ وہ مجھے اس آدمی کے پاس گئے جس صابی (لا دین و لا مذہب) کہا جاتا ہے ۔ اس نے تو میرے پانی کے ساتھ یہیہ کیا۔ اس نے وہ سارا واقعہ بیان کیا جو پیش آ چکا تھا۔ اس نے اپنی درمیانی اور شہادت والی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھا کر کہا: اللہ کی قسم! وہ یا تو زمین و آسمان کے درمیان موجود لوگوں میں سب سے بڑا جادو گر ہے یا پھرواقعی اللہ کا رسول ہے۔ عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مسلمان اس علاقہ کے مشرکین پر حملہ آور ہوئے۔ لیکن جس قبیلہ کی وہ خاتون تھی اس پر حملہ نہ کرتے تھے۔ وہ ایک دن اپنی قوم سے کہنے لگی: میرا خیال ہے کہ یہ مسلمان جان بوجھ کر تم سے صرف نظر کرتے ہیں۔ کیا تم اسلام قبول نہیں کرلیتے؟ چنانچہ قبیلے کے لوگوں نے اس کی بات مان لی اور وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے۔
Sahih Muslim
1573
و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنْ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمْ الَّذِينَ كَفَرُوا فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ فَقَالَ عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ
Yahya b. Umayya said: I told 'Umar b. al-Khattab that Allah had said: You may shorten the prayer only if you fear that those who are unbelievers may afflict you (Qur'an, iv. 101), whereas the people are now safe. He replied: I wondered about it in the same way as you wonder about it, so I asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about it and he said: It is an act of charity which Allah has done to you, so accept His charity.
عبداللہ بن ادریس نے ابن جریج سے ، انھوں نے ابن ابی عمار سے ، انھوں نے عبداللہ بن بابیہ سے اور انھوں نے یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی ( کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ) " اگر تمھیں خوف ہو کہ کافر تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ تم نماز قصر کرلو " اب تو لوگ امن میں ہیں ( پھر قصر کیوں کرتے ہیں؟تو انھوں نے جواب دیا مجھے بھی اس بات پر تعجب ہو ا تھا جس پر تمھیں تعجب ہوا ہے ۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوا ل کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( یہ ) صدقہ ( رعایت ) ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے اس لئے تم اس کا صدقہ قبول کرو ۔ "
Sunnan Ibn e Maja
1065
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ فَقَالَ:‏‏‏‏ عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ .
It was narrated that Ya’la bin Umayyah said: “I asked ‘Umar bin Khattab: ‘Allah says: “And when you travel in the land, there is no sin on you if you shorten the prayer if you fear that the disbelievers may put you in trial (attack you), verily, the disbelievers are ever to you open enemies,” [4:101] but now there is security and people are safe.’ He said: ‘I found it strange just as you do, so I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about that, and he said: “It is charity that Allah has bestowed upon you, so accept His charity.”
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا» نماز قصر کرنے میں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں اگر کافروں کی فتنہ انگیزیوں کا ڈر ہو ( سورۃ النساء: ۱۰۱ ) ، اب اس وقت تو لوگ مامون ( امن و امان میں ) ہو گئے ہیں؟ انہوں نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا مجھے بھی اسی پر تعجب ہوا تھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ صدقہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، لہٰذا تم اس کے صدقہ کو قبول کرو ۱؎۔