TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل - اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل - Book 153 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 153 of Musnad Ahmad, with 3 chapters and 48 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

48 Hadith · 3 Chapters
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
۔ (۸۹۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِی الْمَسْجِدِ، فَجَلَسْتُ فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ، ھَلْ صَلَّیْتَ؟)) قُلْتُ: لا، قَالَ: ((قُمْ فَصِلِّ۔)) فَصَلَّیْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! تَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ شَیَاطِیْنِ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلِلْاِنْسِ شَیَاطِیْنُ ؟ قَالَ:((نَعَمْ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الصَّلاۃُ، قَالَ: ((خَیْرٌ مَّوْضُوْعٌ مَنْ شَائَ اَقَلَّ وَمَنْ شَائَ اَکْثَرَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! الصَّوْمُ، قَالَ: ((فَرْضٌ مَّجْزِیٌٔ وَعِنْدَ اللّٰہِ مَزِیْدٌ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالصَّدَقَۃُ، قَالَ: ((اَضْعَافٌ مُّضَاعَفَۃٌ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاَیُّھَا اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((جَہْدٌ مِّنْ مُقِلٍّ اَوْ سِرٍّ اِلٰی فَقِیْرٍ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْاَنْبِیَائِ کَانَ اَوّلاً ؟ قَالَ: ((آدَمُ۔)) قُلْتُ: وَنَبِیًّا کَانَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ نَبِیٌّ مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمِ الْمُرْسَلُوْنَ؟ قَالَ: ((ثَلاثُمِائَۃٍ وَبِضْعَۃَ عَشَرَ۔)) وَقَالَ: ((مَرَّۃً وَخَمْسَۃَ عَشَرَ جَمًّا غَفِیْرًا۔))، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّمَا اُنْزِلَ عَلَیْکَ اَعْظَمُ ؟ قَالَ: ((آیَۃُ الْکُرْسِیِّ: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ}۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَتّٰی خَتَمَ الْآیَۃَ) (مسند احمد: ۲۱۸۷۹)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو۔ پس میں نے نماز پڑھی اور پھر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! انسانوں اور جنوں کے شیطانوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز کے بارے میں کچھ فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین چیز ہے، جس کو بنایا گیا ہے، جو چاہے کم پڑھ لے اور جو چاہے زیادہ پڑھ لے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! روزہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایسا فرض ہے کہ اس کا بدلہ بھی دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مزید بھی بہت کچھ ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! صدقہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کئی گنا بڑھا دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کم مایہ آدمی کی طاقت کے بقدر یا کسی فقیر کو چپکے سے دے دینا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سب سے پہلا نبی کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ۔ میں نے کہا: کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، نبی تھے اور ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرسلین کی تعداد کتنی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین سو اور پندرہ سولہ کے لگ بھگ۔ ایک روایت میں ہے: تین سو پندرہ ہے، جم غفیر ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر کون سی عظیم ترین چیز اتاری گئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آیۃ الکرسی {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ}، ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوری آیت تلاوت کی۔
Takhreej
(۸۹۷۷) تخریج:اسنادہ ضعیف جدا لجھالۃ عبید بن الخشخاش، ولضعف ابی عمر الدمشقی، وقال الدارقطنی: المسعودی عن ابی عمر الدمشقی متروک، أخرجہ النسائی: ۸/ ۲۷۵(انظر: ۲۱۵۴۶)
Explanation
فوائد:… بعض انسان شیطان ہوتے ہیں، جیسا کہ سورۂ ناس میں بھی ہے، جو آدمی دوسرے کو گمراہ کرے، وہ شیطان ہے۔ انبیاء و رسل کی تعداد کے بارے میں دو طرق کے ساتھ مروی درج ذیل حدیث پر غور کریں: سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَبِيٌّکَانَ آدَمَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مُعَلَّمٌ، مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: کَمْ کَانَ بَیْنَ نُوْحٍ وَاِبْرَاھِیْمَ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِیْرًا۔)) … ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ تعلیم دیے گئے تھے اور ان سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے مابین کتنا فاصلہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’دس صدیاں (یا دس زمانے)۔ اس نے کہا: نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ پھر صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول ہو گزرے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ ، جم غفیرہے۔ (حاکم: ۲/۲۶۲، معجم کبیر للطبرانی: ۸/۱۳۹،صحیحہ: ۳۲۸۹) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث کا ایک موقوف شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس نے کہا: نوح اور آدم کے مابین دس صدیاں تھیں، سارے لوگ شریعت ِ حقہ پر تھے، پھر اختلاف پڑ گیا، پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجنا شروع کیا، تاکہ وہ خوشخبریاں دیں اور ڈرائیں، عبد اللہ بن مسعود کی قراء ت یوں تھی: {کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِـدَۃً فَاخْتَلَفُوْا} (تفسیرطبری: ۲/ ۱۹۴، حاکم: ۲/ ۵۴۶) اس میں ایک اہم فائدے کا بیان ہے کہ لوگ شروع میں ایک امت تھے، خالص توحید ان کا مذہب تھا، پھر بعد میں ان پر شرک کے آثار طاری ہوئے۔ اس سے ان فلسفیوں اور ملحدوں کا ردّ ہوتا ہے، جو کہتے ہیں کہ اصل میں شرک تھا، بعد میں توحید کو وجود ملا۔ (صحیحہ: ۳۲۸۹) سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَبِیًّا کَانَ آدَمُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَاَل: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَّخَمَسْۃَ عَشَرَ۔)) … ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنافاصلہ تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۱/ ۲۴/ ۲/ ۳۹۸، معجم کبیر للطبرانی: ۸/ ۱۳۹، حاکم : ۲/ ۲۶۲،صحیحۃ: ۲۶۶۸) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے شواہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طویل حدیث کا ایک اقتباس یہ ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلا نبی کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاںہاں، وہ نبی تھے، جن سے کلام بھی کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر ان سے کہا: آدم! پتلا بن جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے، ان میں رسولوں کی تعداد (۳۱۵) تھی، جم غفیر ہے۔ (احمد: ۵/ ۲۶۵)
8977
Zaeef
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
۔ (۸۹۷۸)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: احْتَبَسَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ غَدَاۃٍ عَنْ صَلاۃِ الصُّبْحِ، حَتّٰی کِدْنَا نَتَرَائٰی قَرْنَ الشَّمْسِ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیْعًا فَثُوِّبَ بِالصَّلاۃِ، وَصَلّٰی وَتَجَوَّزَ فِیْ صَلَاتِہِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((کَمَا اَنْتُمْ عَلٰی مَصَافِّکُمْ۔)) ثُمَّ اَقْبَلَ اِلَیْنَا فَقَالَ: ((اِنِّیْ سَاُحَدِّثُکُمْ مَا حَبَسَنِیْ عَنْکُمُ الْغَدَاۃَ،اَنِّیْ قُمْتُ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّیْتُ مَا قُدِّرَ لِیْ فَنَعِسْتُ فِیْ صَلاتِیْ حَتَّی اسْتَیْقَظْتُ، فَاِذَا اَنَا بِرَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اَتَدْرِیْ فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: لا اَدْرِیْیَارَبِّ! قَالَ: یَامُحَمَّدُ! فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: لا اَدْرِیْیَارَبِّ! فَرَاَیْتُہُ وَضَعَ کَفَّہُ بَیْنَ کَتِفَیَّ حَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ اَنَامِلِہِ بَیْنَ صَدْرِیْ فَتَجَلّٰی لِیْ کُلُّ شَیْئٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: فِیْ الْکَفَّارَاتِ، قَالَ: وَمَا الْکَفَّارَاتُ ؟ قُلْتُ: نَقْلُ الْاَقْدَامِ اِلَی الْجُمُعَاتِ وَجُلُوْسٌ فِی الْمَسْجِدِ بَعْدَ الصَّلاۃِ وَاِسْبَاغُ الْوُضُوئِ عَنْدَ الْکَرِیْھَاتِ، قَالَ: وَمَا الدَّرَجَاتُ ؟ قُلْتُ: اِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَلِیْنُ الْکَلامِ، وَالصَّلاۃُ وَالنَّاسُ نِیَامٌ، قَالَ: سَلْ، قُلْتُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَاَنْ تَغْفِرَلِیْ وَتَرْحَمَنِیْ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِیْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ، وَاَسْاَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمْلٍ یُّقَرِّبُنِیْ اِلٰی حُبِّکَ۔)) وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَّھَا حَقٌّ فَادْرُسُوْھَا وَتُعَلِّمُوْھَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۶۰)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک صبح کو نماز فجر سے اتنی دیر تک رکے رہے کہ قریب تھا کہ سورج کا کنارہ نظر آ جاتا، بہرحال پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جلدی جلدی تشریف لائے، نماز کے لیے اقامت کہی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مختصر سی نماز پڑھائی اور جب سلام پھیرا تو فرمایا: جیسے ہو، اپنی صفوں پر بیٹھے رہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بیشک میں تم کو بیان کرتا ہوں کہ آج صبح کس چیز نے مجھے روکے رکھا، میں رات کو کھڑا ہوا اور جتنی نصیب میں تھی، نماز پڑھی، ابھی میں نماز میں ہی تھا کہ اونگھ آگئی، پھر جب بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے ربّ تعالیٰ کے سامنے ہوں، اللہ تعالیٰ بہت ہی خوبصورت شکل میں تھے، اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! مقرب فرشتے کن امور میں بحث مباحثہ کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے ربّ! میں تو نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے پھر کہا: مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے رب! مجھے تو علم نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی پر میرے کندھوں کے درمیان رکھی، مجھے اپنے سینے میں اس کے پورں کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور ہر چیز میرے لیے واضح ہو گئی اور مجھے معرفت حاصل ہو گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! (اب بتاؤ کہ) مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: کفارات میں، اس نے کہا: کفّارات کیا ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: جماعتوں کی طرف چل کر جانا، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھنا اور ناپسند امور کے باوجود مکمل وضو کرنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: درجات کیا ہیں؟ میں نے کہا: کھانا کھلانا، نرم کلام کرنا اور اس وقت نماز ادا کرنا، جب لوگ سو رہے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: سوال کرو، میں نے کہا: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ فَعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَاَنْ تَغْفِرَلِیْ وَتَرْحَمَنِیْ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِیْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ، وَاَسْاَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمْلٍ یُّقَرِّبُنِیْ اِلٰی حُبِّکَ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے نیکی کے کام نیکیاں کرنے، برائیوں کو ترک کرنے، مسکینوں سے محبت کرنا، مجھے بخشنے اور مجھ پر رحم کرنے کا سوال کرتا ہوں اور جب تو کسی قوم میں فتنہ برپا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس فتنے میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا اور میں تجھ سے تیری محبت کا، تجھ سے محبت کرنے والے کی محبت کااور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے)۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ حق ہے، لہٰذا اس کو سیکھوں اور سکھاؤ۔
Takhreej
(۸۹۷۸) تخریج:صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۳۲۳۵ (انظر: ۲۲۱۰۹)
Explanation
فوائد:… اگلی حدیث کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
8978
Sahih
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
۔ (۸۹۷۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَائِشٍ، عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلَیْھِمْ ذَاتَ غَدْوَۃٍ وَھُوَ طَیِّبُ النَّفْسِ، مُسْفِرُ الْوَجْہِ، اَوْ مُشْرِقُ الْوَجْہِ، فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نَرَاکَ طَیِّبَ النَّفْسِ، مُسْفِرَ الْوَجْہِ، اَوْ مُشْرِقَ الْوَجْہِ، فَقَالَ: ((وَمَایَمْنَعُنِیْ، وَاَتَانِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اللَّیْلَۃَ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ، قَالَ: یَامُحَمَّدُ! قُلْتُ: لَبَّیْکَ رَبِّیْ وَسَعْدَیْکَ، قَالَ: فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: لا اَدْرِیْ اَیْ رَبِّ!، قَالَ: ذٰلِکَ مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلاثًا، قَالَ: فَوَضَعَ کَفَّیْہِ بَیْنَ کَتِفَیَّ فَوَجَدْتُّ بَرْدَھَا بَیْنَ ثَدْیَیَّ حَتّٰی تَجَلّٰی لِیْ مَا فِی الْسَمٰوٰتِ وَمَافِیْ الْاَرْضِ، ثُمَّ تَلا ھٰذِہِ الْآیَۃَ {وَکَذٰلِکَ نُرِی اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَاْلاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ} ثُمَّ قَالَ: یَامُحَمَّدُ ! فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی ؟ قَالَ: قُلْتُ فِی الْکَفَّارَاتِ، قَالَ: وَمَا الْکَفَّارَاتُ ؟ قُلْتُ: الْمَشْیُ عَلَی الْاَقْدَامِ اِلَی الْجُمُعَاتِ، وَالْجُلُوْسُ فِی الْمَسْجِدِ خِلافَ الصَّلَوَاتِ، وَاِبْلاغُ الْوُضُوْئِ فِی الْمَکَارِہِ، قَالَ: مَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ عَاشَ بِخَیْرٍ وَمَاتَ بِخَیْرٍ، وَکَانَ مِنْ خَطِیْئَتِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ اُمُّہُ، وَمِنَ الدَّرَجَاتِ طَیِّبُ الْکَلَامِ، وَبَذْلُ السَّلامِ، وَاِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَالصَّلاۃُ بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ، قَالَ: یَامُحَمَّدُ ! اِذَا صَلَیَّتَ فَقُلْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الطَّیِّبَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ، وَاَنْ تَتُوْبَ عَلَیَّ، وَاِذَا اَرَدْتَو فِتْنَۃً فِی الْنَّاسِ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۹۷)
۔ عبد الرحمن بن عائش ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صبح کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خوشگوار موڈ میں تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر سفیدییا چمک محسوس ہو رہی تھی، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج تو ہم آپ کو بڑے عمدہ موڈ میں دیکھ رہے ہیں اور آپ کے چہرے پر سفیدییا چمک بھی محسوس کی جا رہی ہے، کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھلا مجھے کون سی چیز اس سے محروم کر سکتی ہے، بات یہ ہے کہ آج رات میرا ربّ سب سے خوبصورت شکل میں میرے پاس آیا اور کہا: اے محمد! میں نے کہا: جی میرے ربّ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، اللہ تعالیٰ نے کہا: مقرب فرشتے کس موضوع پر بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے ربّ! میں تو نہیں جانتا، ایسے دو تین دفعہ ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلیاں میرے کندھوں پر کے درمیان رکھیں، مجھے اپنے سینے میں ان کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور آسمان و زمین کی ہر چیز میرے لیے واضح ہو گی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {وَکَذٰلِکَ نُرِی اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَاْلاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ} … اور ہم نے ایسے ہی ابراہیم ( علیہ السلام ) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں سے ہو جائیں۔ (سورۂ انعام: ۷۵) پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: کفّارات میں، اللہ تعالیٰ نے کہا: کفارات سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: جماعتوں کی طرف پیدل چل کر جانا، نمازوں کے بعد مسجد میں بیٹھنا اور ناپسند حالتوں کے باوجود مکمل وضو کرنا۔ پھر فرمایا: جس نے یہ امور سر انجام دیئے، اس نے خیر کے ساتھ زندگی گزاری اور خیر کے ساتھ فوت ہوا، اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا، اور درجات یہ ہیں: اچھا کلام کرنا، سلام پھیلانا، کھانا کھلانا اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! جب تم نماز پڑھو تو یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الطَّیِّبَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ، وَاَنْ تَتُوْبَ عَلَیَّ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃًفِی الْنَّاسِ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ۔ … اے اللہ ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کو کرنے، برائیوں کو ترک کرنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ تو مجھ پر رجوع کر اور جب تو لوگوں کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا۔
Takhreej
(۸۹۷۹) تخریج:انظر الحدیث السابق (انظر: ۲۳۲۱۰)
Explanation
فوائد:… ان دو احادیث ِ مبارکہ کے متن پر غور کریں اور اندازہ لگائیں کہ جن اعمال کی ہمارے معاشرے میں کوئی خاص قدر وقیمت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کتنے اہم ہیں۔ دیکھیں کہ جب اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ملاقات ہوئی تو جہانوں کے پروردگار اور بشریت کے سردار کی باتوں کا موضوع کیا تھا، یہ کتنی پاکیزہ مجلس تھی،یہ کتنا بابرکت کلام تھا، یہ سوالات و جوابات کی کتنی عمدہ نشست تھی، سبحان اللہ۔ قارئین سے گزارش ہے کہ ان دو احادیث میںجن اعمال کا ذکر کیا گیا ہے، ان کو حرزِ جان بنائیں اور ان پر دوام اختیار کریں۔ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا۔
8979
Sahih
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
۔ (۸۹۸۰)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَاُنَبِّئُکَ بِاَبْوَابٍ مِّنَ الْخَیْرِ، الصَّوْمُ جُنَّۃٌ، وَالصَّدَقَۃُ تُطْفِیُٔ الْخَطِیْئَۃَ کَمَا یُطْفِیُٔ الْمَائُ النَّارَ، وَقِیَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّیْلِ۔)) ثُمَّ قَرَاَ {تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} الآیَۃَ۔ [السجدۃ: ۱۶] (مسند احمد: ۲۲۴۸۴)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے خیر و بھلائی کے دروازوں کے بارے میں بتلاتا ہوں، روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹاتا ہے، جیسے پانی آگ کو ختم کر دیتا ہے اور رات کو بندے کا قیام کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ…}۔
Takhreej
(۸۹۸۰) تخریج:صحیح بطرقہ و شواھدہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۲۰۰(انظر: ۲۲۱۳۳)
Explanation
فوائد:… پوری آیتیہ ہے: {تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔}… ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے، وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (سورۂ سجدہ: ۱۶)
8980
Sahih
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
۔ (۸۹۸۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ تَمِیْمَۃَ، عَنْ رَجُلٍ مِّنْ قَوْمِہِ اَنَّہُ اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْ قَالَ:شَہِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَوْ قَالَ: اَنْتَ مُحَمَّدٌ ؟ فَقَالَ:(( نَعَمْ۔)) قَالَ: فَاِلامَ تَدْعُوْا؟ قَالَ: ((اَدْعُوْ اِلَی اللّٰہِ وَحْدَہُ، مَنْ اِذَا کَانَ بِکَ ضُرٌ فَدَعَوْتَہُ کَشَفَہُ عَنْکَ، وَمَنْ اِذَا اَصَابَکَ عَامُ سَنَۃٍ فَدَعَوْتَہُ اَنْبَتَ لَکَ، وَمَنْ اِذَا کُنْتَ فِیْ اَرْضٍ قَفْرٍ فَاَضْلَلْتَ فَدَعَوْتَہُ رَدَّ عَلَیْکَ۔)) قَالَ: فَاَسْلَمَ الرَّجُلُ، ثُمَّ قَالَ: اَوْصِنِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ لَہُ: ((لا تَسُبَّنَّ شَیْئًا اَوْ قَالَ: اَحَدًا ۔)) شَکَّ الْحَکَمُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ شَیْئًا بَعِیْرًا وَلا شَاۃً مُنْذُ اَوْصَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،((وَلا تَزْھَدْ فِی الْمَعْرُوْفِ وَلَوْ بِبَسْطِ وَجْھِکَ اِلٰی اَخِیْکَ وَاَنْتَ تُکَلِّمُہُ، وَاَفْرِغْ مِنْ دَلْوِکَ فِیْ اِنَائِ الْمُسْتَسْقِیْ، وَاتَّزِرْ اِلٰی نِصْفِ السَّاقِ، فَاِنْ اَبَیْتَ فَاِلَی الْکَعْبَیْنِ، وَاِیَّاکَ وَاِسْبَالَ الْاِزَارِ قَالَ: فَاِنِّھَا مِنَ الْمَخِیْلَۃِ، وَاللّٰہُ لا یُحِبُّ الْمَخِیْلَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۳۳)
۔ ابو تمیمہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا،یا اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیںیا آپ محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس یکتا و یگانہ رب کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ اگر تجھ پر کوئی تکلیف آ پڑے گی اور تو اس کو پکارے گا تو وہ تیری تکلیف کو دور کر دے گا، جب تو قحط سالی میں مبتلا ہو جائے گا اور اس کو پکارے گا تو وہ تیرے لیے انگوریاں اگانے کے لیے (بارش نازل کرے گا)اور جب تو بے آب و گیاہ زمین میں اپنی سواری کھو بیٹھے گا اور اس کو پکارے گا تو وہ تیری سواری کو واپس تیرے پاس لے آئے گا۔ پس وہ آدمی مسلمان ہو گیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی کو گالی نہ دینا، (یعنی برا بھلا نہ کہنا)۔ اس آدمی نے کہا: جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ نصیحت کی اس وقت سے میں نے کسی چیز، وہ اونٹ ہو یا بکری، کو گالی نہیں دی۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نیکی سے بے رغبتی اختیار نہ کر، اگرچہ وہ اپنے بھائی سے بات کرتے وقت اس کے سامنے خندہ پیشانی کا اظہار کرنے کی صورت میں ہو، پانی مانگنے کے ڈول میں پانی ڈال اور نصف پنڈلی تک اپنے ازار کو اٹھا کے رکھ، پس اگر تو اس قدر عمل نہ کر سکے تو ٹخنوں تک رکھ لے، خبردار چادر کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچنا ہے، کیونکہیہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔
Takhreej
(۸۹۸۱) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۵۶۲ (انظر: ۱۶۶۱۶)
Explanation
فوائد:… ابوداود کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ((وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَکَ وَعَیَّرَکَ بِمَا یَعْلَمُ فِیکَ فَـلَا تُعَیِّرْہُ بِمَا تَعْلَمُ فِیہِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذٰلِکَ عَلَیْہِ۔))… اور اگر کوئی آدمی تجھے برا بھلا کہے اور تیرے کسی عیب کی وجہ سے تجھے عار دلائے تو تو نے اس کو اس عیب کی وجہ سے عار نہیں دلانی جو تو جانتا ہے، کیونکہ اس چیز کا وبال اس پر ہو گا۔ اس حدیث کے آخری جملے سے معلوم ہوا کہ چادر اور شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ہی تکبر کی علامت ہے، خواہ دل میں تکبر پیدا ہو یا نہ ہو، اس لیے ہر وقت ہر مرد کو کم از کم اپنے ٹخنوں کو ننگا رکھنا چاہیے، اگر نصف پنڈلی تک رکھ لے تو افضل ہو گا۔ چند افراد کے علاوہ تمام مسلمان لباس کے اس ادب کا خیال نہیں رکھتے اور وہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ یہ ادب اس کے لیے ہے، جو تکبر کرے۔ یہ دراصل ان لوگوں کی کج فہمی ہے، کیونکہ مرد کا ٹخنوں کو چھپانا تکبر ہی کی علامت ہے، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حدیث ِ مبارکہ میں واضح کیا ہے، اس نظریہ کے حاملین سے دوسرا سوال یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام اپنے ٹخنوں کو ننگا کیوں رکھتے تھے؟ کیا ان میں تکبر پیدا ہو جانے کا شبہ پایا جاتا تھا؟ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔
8981
Sahih
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
۔ (۸۹۸۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلا جَائَ ہُ فَقَالَ: اَوْصِنِیْ، فَقَالَ: سَاَلْتَ عَمَّا سَاَلْتُ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ قَبْلِکَ، اُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَاِنَّہٗرَاْسُکُلِّشَیْئٍ، وَعَلَیْکَ بِالْجِھَادِ فَاِنَّہُ رَھْبَانِیَّۃُ الْاِسْلَامِ، وَعَلَیْکَ بِذِکْرِ اللّٰہِ وَتَلاوَۃِ الْقُرْآنِ فَاِنَّہُ رَوْحُکَ فِی الْسَّمَائِ وَذِکْرُکَ فِی الْاَرْضِ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۶)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے کوئی وصیت کریں۔ میں نے کہا: تو نے جو سوال مجھ سے کیا ہے، میں نے تجھ سے پہلے یہی سوال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا تھا (اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا): میں تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوںکیونکہیہ ہر چیز کی بنیا دہے، جہاد کو لازم پکڑ کہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا کر، کیونکہ وہ آسمان میں تیرے لیے باعثِ رحمت اور زمین میں تیرے لیے باعث تذکرہ ہیں۔
Takhreej
(۸۹۸۲) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابویعلی: ۱۰۰۰(انظر: ۱۷۷۴)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق کی بنیاد تقوی اور اللہ کے خوف پر ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ مأمورات پر عمل کیا جائے اور منہیات سے اجتناب۔
8982
Sahih
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
۔ (۸۹۸۳)۔ عَنْ سَہْلٍ بْنِ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنَّہُ قَالَ: ((اَفْضَلُ الْفَضَائِلِ اَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَکَ وَتُعْطِیْ مَنْ مَنَعَکَ وَتَصْفَحَ عَمَّنْ شَتَمَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۰۳)
۔ سیدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والا عمل یہ ہے کہ تو اس سے صلہ رحمی کر جو تجھ سے قطع رحمی کرے، اس کو دے جو تجھ کو محروم کرے اور اس سے درگزر کر جو تجھے گالیاں دے۔
Takhreej
(۸۹۸۳) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۴۳۱(انظر: ۱۵۶۱۸)
8983
Zaeef
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
۔ (۸۹۸۴)۔ عَنْ شَیْبَۃَ الْحَضْرَمِیِّ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عُمَرَبْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ فَحَدَّثَنَا عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبِیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلاثٌ اَحْلِفُ عَلَیْھِنَّ، لا یَجْعَلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَنْ لَہٗسَہْمٌفِی الْاِسْلامِ کَمَنْ لا سَہْمَ لَہُ، فَاَسْہُمُ الْاِسْلامِ ثَلاثَۃٌ: الصَّلاۃُ وَالصَّوْمُ وَالزَّکَاۃُ، وَلایَتَوَلَّی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا فَیُوَلِّیَہُ غَیْرَہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلا یُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا اِلاَّ جَعَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَعَھُمْ، وَالرَّابِعَۃُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَیْھَارَجَوْتُ اَنْ لَا آثَمَ، لا یَسْتُرُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا اِلاَّ سَتَرَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔))، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ: اِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَۃَیَرْوِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاحْفَظُوْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۳۴)
۔ شیبہ حضرمی کہتے ہیں: ہم عمر بن عبد العزیز کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، عروہ بن زبیر نے ہم کو بیان کیا کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں، جس آدمی کا اسلام میں حصہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اس آدمی کی طرح نہیں کرے گا، جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، وہ تین چیزیںیہ ہیں: (۱) اسلام کے تین حصے ہیں: نماز، روزوہ اور زکوۃ، (۲) یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک آدمی سے محبت رکھے اور پھر قیامت کے دن اس کو کسی کے سپرد کر دے، (۳) بندہ جن لوگوں سے محبت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ان کے ساتھ ہی کر دے گا، اور اگر میں چوتھی چیز پر بھی قسم اٹھا لوں تو مجھے امید ہے کہ گنہگار نہیں ہوں گا اور وہ یہ ہے کہ جو آدمی دنیا میں کسی شخص پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس پر پردہ ڈالے گا۔ یہ حدیث سن کر عمر بن عبد العزیز نے کہا: جب تم ایسی حدیث سنو جس کو عروہ سیدہ عائشہ سے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کر رہی ہوں تو اس کو یاد کر لیا کرو۔
Takhreej
(۸۹۸۴) تخریج:حسن لغیرہ، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۱۹، وابویعلی: ۴۵۶۶ (انظر: ۲۵۱۲۱)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث ِ مبارکہ میںمختلف نیکیوں اور برائیوں کا ذکر ہوا ہے، قارئین الفاظ سے ہی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود سمجھ سکتے ہیں، اس لیے زیادہ شرح نہیں کی گئی، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے فہم و عقل کی روشنی میں معمولی اور غیر معمولی حسنات و سیئات کا تعین نہ کریں، بلکہ شریعت کے تابع ہو کر زندگی گزاریں۔
8984
Sahih