۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہمارا کھانا دو سیاہ چیزیں کھجور اور پانی ہوتی تھیں، اللہ کی قسم! ہم نے نہ تو تمہاری اس گندم کو دیکھا تھا اور نہ جانتے تھے کہ یہ کیا ہوتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہمارا لباس بدوؤں والی چھوٹیچھوٹی چادریں ہوا کرتی تھیں۔
۔ سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ایک آدمی ان کے پاس گیا اور ان کو روتا ہوا پایا، اس نے کہا: اے ابو عبیدہ! تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ان چیزوں کا ذکر کیا، جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتوحات اور غنیمتوں کی صورت میں عطا کرے گا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شام کا ذکر بھی کیا اور مزید فرمایا: ابو عبیدہ! اگر تیری زندگی لمبی ہو جائے تو تین خادم تجھے کفایت کرنے چاہئیں، ایک خادم تیری خدمت کے لیے، ایک تیرے ساتھ سفر کرے کے لیے اور ایک خادم تیرے اہل خانہ کی خدمت کرنے کے لیے، جو ان کے پاس آتا جاتا رہے، اور تجھے تین سواریاں کافی ہو جانی چاہئیں، ایک تیری سواری کے لیے، ایک تیرے سامان کے لیے اور ایک سواری تیرے غلام کے لیے۔ اب توجہ کر، میں اپنے گھر کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ غلاموں سے بھرا ہوا ہے اور اصطبل جانوروں اور گھوڑوں سے بھرا ہوا، ان چیزوں کے ہوتے ہوئے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس منہ سے ملوں گا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب وہ ہے، جو مجھے اسی حالت میں ملے، جس پر میں اس کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔
Takhreej
(۹۲۸۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، مسلم بن اکیس مجھول، وروایتہ عن ابی عبیدۃ مرسلۃ (انظر: ۱۶۹۶)
۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ماموں سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی تیماری داری کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ماموں جان! کیوں رو رہے ہو، کوئی تکلیف پریشان کر رہی ہے یا دنیوی حرص رونے کا سبب بن رہی ہے؟ انھوں نے کہا: ان میںسے کوئی وجہ بھی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یہ وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: اے ابو ہاشم! ممکن ہے کہ تم ایسے اموال پا لو، جو لوگوںکے مابین تقسیم ہونا ہوں گے، بس صرف تیرے لیے مال میں سے ایک خادم اور اللہ تعالیٰ کے راستے کے لیے ایک سواری کافی ہو گی۔ لیکن اب میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں نے مال جمع کیا ہے۔
Takhreej
(۹۲۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، شقیق بن سلمۃ لم یسمع ھذا الحدیث من ابی ھاشم، بینھما سمرۃ، وھو مجھول، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۲۱۹ (انظر: ۱۵۶۶۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا آخری جملہ وَاِنَّمَا یَکْفِیْکَ فِی جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْکَبٌ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَاِنِّی اُرَانِی قَدْ جَمَعْتُ۔ (صرف تیرے لیے مال میں سے ایک خادم اور اللہ تعالیٰ کے راستے کے لیے ایک سواری کافی ہو گی۔) شواہد کی بنا پر حسن ہے۔
۔ حارثہ بن مضرب کہتے ہیں: میں سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ ان کو جسم کے سات مقامات پر داغا گیا تھا، انھوں نے کہا: میرے علم کے مطابق جو تکلیف مجھے ہے، وہ کسی اور کو نہیں ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے میں موت کی تمنا کرتا۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، تو میرے پاس ایک درہم بھی نہیں تھا اور اب تو میرے گھر کے ایک کونے چالیس ہزار درہم پڑے ہوئے ہیں، پھر ان کا کفن لایا گیا اور انھوں نے اس کو دیکھ کر رونا شروع کر دیا اور کہا: لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے لیے کفن نہیں تھا، ما سوائے سفید و سیاہ رنگ کی ایک چادر کے، جب وہ ان کے سر پر رکھی جاتی تو پاؤں سے سکڑ جاتی اور جب پاؤں پر رکھی جاتی تو سر سے ہٹ جاتی، پھر اس کو ان کے سر پر ڈالا گیا اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دی گئی۔
۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی، ہم میں بعض ایسے افراد تھے کہ وہ دنیا میں اپنے اجر کی کوئی چیز کھائے بغیر فوت ہو گئے، ان میں سے ایک سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے کہ جنھوں نے صرف اپنے ترکہ میں ایک دھاری دارچادر چھوڑی تھی، جب لوگ اس سے ان کے سر کو ڈھانپتے تو ان کی ٹانگیں ننگی ہو جاتیں اور جب ٹانگوں پر ڈالتے تو سر ننگا ہو جاتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس کے سر کو ڈھانپ دو۔ اور ہم نے ان پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دی تھی، لیکن بعض ایسے لوگ بھی تھے کہ ان کا پھل پکا اور وہ اسے چن رہا ہے۔
۔ خالد بن عمیر کہتے ہیں: سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر کہا: اَمَّا بَعْدُ! پس دنیا نے اپنے ختم ہونے کی خبر دے دی ہے اور یہ جلدی پھرنے والی ہے، اب یہ اتنی ہی باقی رہ گئی، جتنا کہ برتن میںتھوڑا سا پانی باقی رہ جاتا ہے، جس کو اس کا مالک پی لیتا ہے، اور تم لوگ ختم نہ ہونے والے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو، پس اپنے پاس موجود بھلائی کے ساتھ منتقل ہو جاؤ، ہمیں یہ بات بتلائی گئی کہ ایک پتھر کو جہنم کے کنارے سے اس میں پھینکا جاتا ہے اور وہ ستر سال گرتے رہنے کے باوجود اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتا، اللہ کی قسم! اتنی وسیع جہنم کو بھر دیا جائے گا، کیا تم لوگوں کو تعجب ہو رہا ہے؟ اللہ کی قسم! ہمیں بتلایا گیا کہ جنت کے ایک دروازے کے دو پٹوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، لیکن اس پر بھی ایک ایسا دن آئے گا کہ یہ ہجوم سے بھرا ہوا ہو گا، میں نے خود دیکھا کہ ہم سات افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا کھانا صرف درخت کے پتے تھے،جس کہ وجہ سے گوشۂ دہن پر زخم ظاہر ہونے لگتے تھے اور میں نے ایک چادر اٹھائی اور اس کو اپنے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے مابین دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا، نصف سے انھوں نے ازار باندھ لیا، لیکن اب ہم میں سے ہر کوئی ایک ایک شہر کا امیر بن بیٹھا ہے، میں اس چیز سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اپنے نفس میں تو عظیم سمجھوں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں کم قدرا ہوں، نبوت جب بھی ختم ہوتی تھی تو اس کا انجام بادشاہت کی صورت میں نکلتا تھا، اور ہمارے بعد عنقریب تم بھی بادشاہوں کا تجربہ کرو گے۔
Takhreej
(۹۲۹۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۶۷ (انظر: ۱۷۵۷۵)
Explanation
فوائد:… نبوت جب بھی ختم ہوتی تھی تو اس کا انجام بادشاہت کی صورت میں نکلتا تھا ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب نبی فوت ہو جاتا تو اس کے امتیوں میں بادشاہت شروع ہو جاتی، امت ِ مسلمہ کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم سات افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارا کھانا صرف اور صرف لوبیے جیسی ترکاری کے پتے تھے، اس سے ہمارے گوشۂ دہن زخمی ہونے لگتے تھے۔
Takhreej
(۹۲۹۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… جن صحابہ نے اسلام کے ابتدائی کٹھن حالات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کو ترجیح دی، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے فقرو فاقہ کو پسند کیا۔
۔ موسیٰ کے باپ علی بن رباح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اسکندریہ میں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، لوگوں نے اپنی خوشحالی کا ذکر کیا، اس موقع پر ایک صحابی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں فوت ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل و عیال نے جَو اور سَلْت کی مکس روٹی نہیں کھائی۔
Takhreej
(۹۲۹۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… سَلْت: یہ جَو کی ہی ایک قسم ہے، گندم کے مشابہ ہوتی ہے اور اس پر چھلکا نہیں ہوتا۔ الْخُبْز الغَلِیْث: وہ روٹی جس میں دو قسم کے آٹے ڈالے جائیں، جیسے گندم اور جو، راوی نے جو تفسیر بیان کی ہے، اس میں جَو کی دو قسموں کا بیان ہے۔
۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ اصحاب ِ رسول میں سے ہیں، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا، جبکہ میری کسی سے معرفت نہیں تھی، میں صفہ میں ایک آدمی کے ساتھ ٹھہرا، مجھے اور اس کو روزانہ ایک مُدّ کھجوروں کا ملتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اصحاب ِ صفہ میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کھجور نے ہمارے پیٹ جلا دیئے ہیں اور گھٹیا روئی کے سخت کپڑے ہمارے جسم کو کھا گئے ہیں،یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میرے پاس روٹییا گوشت ہوتا تو میں تم کو ضرور کھلاتا، خبردار! قریب ہے کہ تم ان نعمتوں کو پا لو، تم میں سے جس نے اس چیز کو پا لیا کہ تم پر بڑی بڑی دیگیں لائی جائیں، (تو پھر تو اس کو کفایت کرے گا) اور تم کعبہ کے پردوں کی طرح کپڑے پہنو گے۔ پھر اٹھارہ دنوں تک میرے اور میرے ساتھی کا کھانا پیلو کے درخت کا کالا پھل رہا، پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس گئے، پس انھوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا، بہرحال ہم کو وہاں سے بھی کھجور ہی ملی، البتہ وہ بہترین قسم کی تھی۔
۔ سیدنا عتبہ بن عمر اور سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقے کا حکم دیتے تھے، پس ہم میں سے ایک آدمی جاتا اور بوجھ اٹھانے کا کام کر کے ایک مد لے کر آتا، جبکہ آج بعض کے پاس ایک ایک لاکھ درہم موجود ہے۔ شقیق کہتے ہیں: میرا خیال ہے وہ ایک لاکھ والے سے اپنے آپ کو مراد لیتے تھے۔
۔ حسن بصری کہتے ہیں: جب سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی وفات کاوقت قریب ہوا تو وہ رونے لگ گئے اور انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک نصیحت کی تھی، لیکن ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت کو چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحتیہ تھی کہ سوار کے زادِ راہ کی طرح ہماری روزی بقدر ضرورت ہونی چاہیے۔ پھر سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ جو ترکہ چھوڑ کر فوت ہوئے، جب ہم نے اس کو دیکھا تو وہ پچیس چھبیسیا پینتیس چھتیس درہموں کی قیمت کا تھا۔
Takhreej
(۹۲۹۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۰۴ (انظر: ۲۳۷۱۱)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کو دنیا سے ایک خادم اور ایک سواری کافی ہونی چاہیے۔
Takhreej
(۹۲۹۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۰۴ (انظر: ۲۳۷۱۱)
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک میں روزِ قیامت سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قیامت کے دن وہ شخص سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا، جو دنیا سے اسی حالت پر جائے گا، جس حالت میں میں اس کو چھوڑ رہا ہوں۔ اور اللہ کی قسم ہے کہ تم میں سے ہر آدمی کسی نہ کسی طرح دنیا میں ملوث ہوا ہے، ما سوائے میرے۔
Takhreej
(۹۲۹۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۰۴ (انظر: ۲۳۷۱۱)
Explanation
فوائد:… اس امت کا سب سے بہترین گروہ صحابۂ کرام کی جماعت ہے، لیکن انھوں نے دنیوی وسائل کے اعتبار سے کیسی زندگی گزاری، چند ایک مثالیں اس باب میں بھی مذکور ہیں۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں بھوک کی وجہ سے اپنے جگر کو زمین پر ٹیک دیتا تھا، اور میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا، ایک دن ایسے ہوا کہ میں اس راستے پر بیٹھ گیا، جہاں سے لوگ گزرتے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پا س سے گزرے، میں نے ان سے قرآن مجید کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا، میرا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں (اور کھانا کھلائیں گے)، لیکن انھوں نے ایسے نہ کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے، میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا، ان سے بھی سوال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے، لیکن انھوں نے بھی ایسے نہ کیا، اتنے میں ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے چہرے اور میرے نفس کی بات پہچان لی اور فرمایا: ابو ہریرہ! میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ چلو۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کے اندر چلے گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اندر جانے کی اجازت طلب اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، پس میں نے وہاں دودھ کا ایک پیالہ پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ گھر والوں نے کہا: جی فلاں یا آل فلاں نے ہمارے لیے تحفہ بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ! میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اہل صفہ کو بلا کر لاؤ۔ صفہ والے لوگ اسلام کے مہمان تھے، ان کا نہ کوئی اہل خانہ تھا اور نہ مال و دولت، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی تحفہ آتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں کچھ حصہ ان کو بھی بھیجتے تھے، لیکن اب کی بار تو مجھے اس چیز نے غمگین کر دیا، کیونکہ مجھے امید تھی کہ میں یہ دودھ پیوں گا اور دن رات کا باقی حصہ قوت حاصل کروں گا، لیکن اب مسئلہ یہ بنا ہے کہ قاصد بھی میں ہوں، جب اہل صفہ آ جائیں گے تو میں نے ہی ان کو پلانا ہو گا اور میرے لیے دودھ باقی نہیں رہے گا، لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کی رسول کی اطاعت کے بغیر بھی کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ سو میں گیا اور اُن کو بلا کر لے آیا، پس وہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی، وہ گھر میں آکر اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ہر! دودھ پکڑو اور اِن کو پلاؤ۔ پس میں نے پیالہ پکڑا اور اُن کو دینا شروع کیا، ایک آدمی پیالہ پکڑتا اور پیتا،یہاں تک کہ سیراب ہو جاتا، پھر وہ پیالہواپس کر دیتا اور میں دوسرے کو دیتا، پس وہ پیتا ،یہاں تک سیراب ہو جاتا اور پھر پیالہ واپس کر دیتا،یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ میں آخری بندے تک پہنچ گیا، اور پھر میں نے وہ پیالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکڑا اور اور اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا، ابھی تک اس میں دودھ کی کچھ مقدار باقی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، پس اس کی دیکھا اور مسکرانے لگے اور فرمایا: ابو ہر! میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اور تو، ہم دو باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سو بیٹھو اور پیو۔ پس میں بیٹھ گیا اور پیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اور پیو۔ میں نے اور پیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ اور پیو۔ اور میں پیتا رہا، یہاں تک کہ میں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر پیالہ مجھے پکڑا دو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیالہ دے دیا، پھر باقی ماندہ دودھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پی لیا۔
Takhreej
(۹۲۹۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۰۴ (انظر: ۲۳۷۱۱)
Explanation
فوائد:… پیٹ پر پتھر باندھنے کی وجوہات دو ہیں: (۱) پتھر کی ٹھنڈک سے بھوک کی تیری کو کم کرنے کے لیے،یا (۲) پتھر کی مدد سے آدمی اعتدال میں رہتا ہے اور سیدھا کھڑا ہو سکتا ہے، وگرنہ خالی معدے کی صورت میں اس طرح رہنا مشکل ہوتا ہے۔