۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیری سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو تیری تعریف کروں گا اور تیرا شکر ادا کروں گا۔
Takhreej
(۹۲۶۵) تخریج:اسنادہ ضعیف جدا، عبیداللہ بن زحر الافریقی ضعیف، وعلی بن یزید بن ابی ھلال الالھانی واھی الحدیث، أخرجہ الترمذی باثر الحدیث: ۲۳۴۷(انظر: ۲۲۱۹۰)
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا اور اس کا بھرونا کھجور کے پتے تھے، اتنے میں صحابہ کا ایک گروہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی داخل ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف مائل ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلوؤں اور رسی کے درمیان کوئی کپڑا نہیں ہے اور وہ رسی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو پر نشان چھوڑ چکی ہے تو وہ رونے لگ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ کسری و قیصر کی بہ نسبت آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ تکریم اور عزت والے ہیں، لیکن وہ تو دنیا میں مال و دولت کو اڑا رہے ہیں اور اے اللہ کے رسول! آپ اس مقام میں ہیں، جو میں دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو جاؤ گے کہ یہ چیزیں ان کے لیے دنیا میں ہوں اور ہمارے لیے آخرت میں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر بات ایسے ہی ہے۔
فوائد:… اگر دنیا کوئی بہترین چیز ہوتی تو اس کے سب سے زیادہ مستحق سید الاولین والآخرین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتے، چونکہ آپ دائمی اور ابدی نعمتوں کے خواہشمند تھے، اس لیے دنیا کی عارضی نعمتوں سے دور رہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو ایک ماہ کے لیے چھوڑ دیا تھا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالاخانے میں ایک ایسی چٹائی پر تشریف رکھے ہوئے تھے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر پر اپنا اثر چھوڑا ہوا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسری کی طرح کے لوگ تو سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ اس طرح ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی نیکیاں ان کو دنیا میں ہی جلدی دے دی گئیں ہیں۔
فوائد:… گویا نعمتوں کی کثرت میں اس قسم کے خطرے کا امکان ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی صورت میں دنیا میں ہی نیکیوں کا عوض دیا جا رہا ہے، درج ذیل مثال پر غور کریں:
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس (افطاری کے لیے) کھانا لایا گیا، جبکہ وہ روزے دار تھے، پس انھوں نے کہا: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی کُفِّنَ فِی بُرْدَۃٍ إِنْ غُطِّیَ رَأْسُہُ بَدَتْ رِجْلَاہُ وَإِنْ غُطِّیَ رِجْلَاہُ بَدَا رَأْسُہُ وَأُرَاہُ قَالَ وَقُتِلَ حَمْزَۃُ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنْ الدُّنْیَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ أُعْطِینَا مِنْ الدُّنْیَا مَا أُعْطِینَا وَقَدْ خَشِینَا أَنْ تَکُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ثُمَّ جَعَلَ یَبْکِی حَتّٰی تَرَکَ الطَّعَامَ۔ …سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، ایک چادر میں انہیں کفن دیا گیا، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاوں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور وہ ہم سے بہتر تھے، پھر ہم پر دنیا وسیع کردی گئی اور ہمیں خوف ہوا کہ ہماری نیکیاں جلد دے دی گئیں پھر رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔ (صحیح بخاری: ۱۱۹۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں اپنا اثر چھوڑ چکی تھی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگر آپ اس سے نرم و گداز بچھونا لے لیتے تو اچھا ہوتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق ہے، میری اور اس دنیا کی مثال تو سوار کی سی ہے، جو گرم دن میں سفر کر رہا ہو اور دن کی ایک گھڑی کے لیے کسی درخت کا سایہ حاصل کرے اور پھر اس کو چھوڑ کر چل دے۔
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تم تو صبح و شام ایسی چیزوں کی رغبت کرنے لگ گئے، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے رغبتی کرتے تھے، تم دنیا میں راغب ہونے لگ گئے ہو، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس سے دور رہنے والے تھے، اللہ کی قسم! ہر آنے والی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لینا ہوتا تھا، بعض صحابہ نے کہا: تحقیق ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قرض لیتے تھے، یحییٰ کے علاوہ دوسرے راویوں نے کہا: اللہ کی قسم! تین دن نہیں گزرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لینا ہوتاتھا۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر میں خطاب کرتے ہوئے کہا: کس چیز نے تمہارے طرزِ حیات کو تمہارے نبی کی سیرت سے دور کر دیا ہے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبتی کرنے والے تھے، لیکن تم اس میں سب سے زیادہ رغبت کرنے والے ہو۔
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: شام کا وقت تھا، میں مدینہ منورہ کے حَرّہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! میں نے کہا: جی اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو میں نہیں چاہوں گا کہ تیسرے دن کی شام کو اس میں سے میرے پاس کوئی دینار باقی ہو، ما سوائے اس دینار کے، جس کو میں قرض کے لیے روک لوں گا، میں تو اس کو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں ایسے ایسے تقسیم کر دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چلو بھر کر دائیں، بائیں اور سامنے ڈالے۔ پھر ہم آگے چلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابا ذر! بیشک زیادہ مال والے ہی قیامت والے دن کم نیکیوں والے ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح مال کو تقسیم کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمثیل پیش کرتے ہوئے دائیں، بائیں اور سامنے چلوؤں سے اشارہ کیا۔پھر ہم مزید آگے چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ذر! تم میرے آنے تک یہیں کھڑے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے، یہاں تک کہ مجھ سے چھپ گئے، لیکن جب میں کچھ شور اور آوازیں سنیں تو میں نے کہا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی مسئلہ پیش آ گیا، میں نے آپ کے پیچھے جانے کا ارادہ تو کیا، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ بات یاد آئی کہ تو نے میرے آنے تک یہیں رہنا ہے ۔ سو میں انتظار ہی کرتا رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے ان آوازوں کا ذکر کیا، جو میں نے سنی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ میرے پاس آئے اور کہا: آپ کی امت کا جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ وہ زناکرتا ہو اور چوری کرتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ زنا کرتا ہو اور چوری کرتا ہو۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! یہ کون سا پہاڑ ہے؟ میں نے کہا: احد پہاڑ ہے، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر (یہ پہاڑ) میرے لیے سونے کے سکّوں میں تبدیل کردیا جائے تو میں اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کر دوں گا اور مجھے یہ چیز خوش نہیں کرے گی کہ اس میں سے ایک قیراط بھی باقی رہنے دوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قنطار؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیراط، قیراط۔ تین دفعہ فرمایا، پھر فرمایا: اے ابو ذر! میں کم والی بات کر رہا ہوں، زیادہ والی نہیں کر رہا۔
Takhreej
(۹۲۷۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول۔
Explanation
فوائد:… قیراط= (255.1) ملی گرام
اس کے دو معانی ہیں: (۱) مالِ کثیر، (۲) ایک مقدارِ وزن جو مختلف ممالک میں مختلف ہوتی ہے، مصر میں قیراط (100) رطل کے برابر ہوتا ہے اور رطل (393.660)گرام کے برابر ہوتا ہے، اس طرح ایک قیراط (39) کلو گرام سے زیادہ وزن بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جذبہ یہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخاوت کے وصف سے بدرجۂ اتم متصف تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا اور عملا اس وصف کو ثابت بھی کیا۔ غور فرمائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے صرف اس لیے زور دے کر بات کر رہے ہیں کہ انھوں نے قیراط کی بجائے قنطار سمجھا، جس کی مقدار زیادہ ہے۔
۔ (تیسری سند) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو مجھے یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ میری وفات والے دن اس میں دیناریا نصف دینار میرے پاس پڑا ہو، البتہ اتنی مقدار جس کو میں قرضے کے لیے روک رکھوں گے۔
۔ ابو اسماء کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ ربذہ مقام میں تھے اور ان کے پاس کالی سیاہ ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھی، اس میں زعفران اور خلوق خوشبوؤں کا کوئی اثر نہیں تھا، انھوں نے کہا: کیا تم اس چیز کی طرف نہیں دیکھتے، جس کا یہ سیاہ فام عورت مجھے حکم دے رہی ہے، یہ مجھے کہتی ہے کہ میں عراق چلا جاؤں، اور جب میں عراق جاؤں گا تو لوگ اپنی دنیا کے ساتھ میرے طرف مائل ہوں گے، جبکہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتلایا تھا کہ جہنم والے پل صراط سے قبل ایک پھسلن والا راستہ ہے اور ہم نے وہاں سے گزرنا ہے، اگر ہمارے بوجھوں سے ہلکے ہوئے تو زیادہ ممکن ہو گا کہ ہم وہاں سے نجات پا جائیں، بہ نسبت اس کے کہ ہم وہاں اس حال میں جائیںکہ ہم بوجھ والے ہوں۔
Takhreej
(۹۲۷۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۲۱۴۱۶)
Explanation
فوائد: … بعض نسخوں میں یہ لفظ اس طرح ہے: مُسْغِبَۃٌ اس کا معنی: بھوکی ہے۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: خوش عیشی سے بچو، پس بیشک اللہ تعالیٰ کے بندے خوش عیش نہیں ہوتے۔
Takhreej
(۹۲۷۵) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی (انظر: ۲۲۱۱۸)
Explanation
فوائد:… بڑی قابل تعجب بات ہے کہ ایک طرف تو منشائے شریعتیہ ہے کہ انسان کے وجود پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے آثار نظر آنے چاہئیں، لیکن دوسری طرف خوش عیشی کی مذمت کی جا رہی ہے، در اصل خوش عیشی فی نفسہ کوئی مذموم چیز نہیں ہے، لیکن جب اس کے اثرات اور نتائج پر نگاہ ڈالی جائے، تو کئی طرح سے اس میں فساد نظر آتا ہے، جس کی سب سے بڑی مثال فکر ِ آخرت کی کمی ہے۔
ہم اس ضمن میں کچھ اقتباسات نقل کرنا چاہتے ہیں:
دنیوی آسائشیں، اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ہیں، وہ مال و دولت کی صورت میں ہوں یا عہدہ و منصب کی صورت میں۔ بہرحال دنیا نے اکثر لوگوں کو اپنے اثرات کا پابند کر دیا اور ان کو اسلامی مزاجوں کا نہیں رہنے دیا۔ وہ آسائشوں اور سہولتوں کے اس قدر غلام بن جاتے ہیں کہ فقر و فاقہ میں مبتلا لوگوں کے مصائب کو پہچاننا ان کے لیے دشوار ہوجاتا ہے۔ ان کے رویے میں ناز نخرے آجاتے ہیں، ان کی مسکراہٹوں اور حسن سلوک کے لیے شخصتیں خاص ہو جاتی ہیں۔ بہرحال کوئی دولتمند ان حقائق سے اتفاق نہیں کرے گا، کیونکہ وہ اپنے دماغ کے فیصلے کے مطابق انسانِ کامل ہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ فیکٹریوں اور صنعتوں کے مالکان، اعلی پیمانے کے تجار، مساجد و مدارس کی انتظامیہ، جن کے گھروں کے ماہوار اخراجات لاکھوں روپوںپر مشتمل ہوتے ہیں، لیکنیہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے ماتحتوں کو تین چار ہزار فی مہینہ پر ہی گزارا کرنا چاہیے اور اس پر مستزاد یہ کہ اتنی معمولی تنخواہ دے کر اپنا رعب جھاڑنا شروع کر دیتے ہیں، جیسے آقا اپنے غلام سے سلوک روا رکھتا ہے۔
رہا مسئلہ قلت ِ مال یا کثرتِ مال کے بہتر ہونے کا، تو یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار کرنا ناممکن ہے کہ
دین کی حفاظت کے لیے، ارکانِ اسلام کی ادائیگی کے لیے اور کئی مفاسد سے بچنے کے لیے قلت ِ مال بہترین ذریعہ ہے، یقین مانیے کہ اگر گزر بسر کے بقدر رزق نصیب ہو جائے تو دنیا کا حقیقی سکون مل جاتا ہے۔ یہ غربت ہی ہے جو بچوں کو دینی تعلیم دینے، قرآن مجید حفظ کرنے اور قرآن و حدیث کی تعلیم کے حصول پر آمادہ کرتی ہے اور یہی لوگ ہیں کہ دین کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے جن کی اکثریت کو استعمال کیا گیا۔مزاج میں سادگی اور ہر آدمی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ان ہی لوگوں کا وطیرہ ہے۔ اس سے بڑا انعام کیا ہو سکتا ہے کہ مسکین لوگ امیر لوگوں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں جو امیر زادوں اور مال و دولت کے طلبگاروں کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔
قارئین کرام! ذہن نشین رہے کہ جب قلت ِ مال کی مدح اور کثرت ِ مال کی مذمت کی جاتی ہے تو اس وقت کسی خاص امیریا غریب فرد کو سامنے نہیں رکھا جاتا، بلکہ مطلق ماحول پہ نگاہ ڈال کر تبصرہ کیا جاتا ہے۔
مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، لیکن بوڑھا آسمان اور پرانی زمین شاہد ہیں کہ اکثر لوگ اس نعمت کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر رہے اور من پسند اور عیش پرست زندگی میں پڑ کر کئی مفاسد میں مبتلا ہو گئے۔ مصیبتیہ ہے کہ ان بیچاروں کو ان حقائق کا اندازہ ہی نہ ہو سکا، جن کی وضاحت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ہے۔
بہرحال اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اظہار کرنے کے لیے اچھا لباس پہننا اور اچھے ماکول و مشروب کا انتظام کرنا پسندیدہ ہے، لیکن اس پر دوام اختیار کرنا اور تکلف کرنا کسی طرح خطرے سے خالی نہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بسا اوقات جان بوجھ کر سادہ لباس پہننے، کنگھی نہ کرنے اور ننگے پاؤں چلنے کا حکم دیا ہے۔
اگر شریعت کی روشنی میں مال و دولت کے تقاضوں کو سمجھ کر ان کو ادا کیا جائے تو اس کو اللہ کی نعمت ِ عظمی سمجھا جائے گا، آخر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی تو مالدار تھے، ان کو اسی وجہ سے غنی کا لقب ملا اور انھوں نے اسی کے بل بوتے پر تائید ِ دین کی ایسی مثالیں قائم کر دیں، جو رہتی دنیا تک مال داروں کے لیے آئیڈیل کی حیثیت سے زندہ رہیں گی۔
اگر خوش عیشی، اللہ تعالیٰ کی کوئی پسندیدہ چیز ہوتی تو یقینا اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے لیے بھی پسند کیا جاتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورتحال تو یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تکیہ چمڑے کا تھا اور اس کی بھرتی کھجور کے درخت کی چھال کی تھی۔
۔ سیدنا ابو عسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات کو نکلے، جب میرے پاس سے گزرے تو مجھے بلا لیا، پس میں نکل پڑا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلایا، پس وہ بھی آگئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلا لیا اور وہ بھی آ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے، یہاں تک کہ کسی انصاری کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے کہا: نیم پخت کھجوریں کھلاؤ۔ پس وہ ایک گچھا لے کر آیا اور اس کو رکھ دیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ٹھنڈا پانی منگوایا اور اس کو پیا اور فرمایا: تم سے اس نعمت کے بارے میں بھی روزِ قیامت ضرور ضرور سوال کیا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ گچھا پکڑا اور اس کو زمین پر مارا، اس سے ادھ کچری کھجوریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گر پڑیں، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ان کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے سوال کیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بالکل، ما سوائے تین چیزوں کے، (۱) وہ دھجّی اور چیتھڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی شرمگاہ کا پردہ کر لے، (۲) وہ (روٹی وغیرہ کا) ٹکڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی بھوک پوری کر لے اور (۳) وہ چھوٹا سا کمرہ، جس میں بندہ گرمی اور سردی سے بچنے کے لیے داخل ہو جائے۔
Takhreej
(۹۲۷۶) تخریج: حشرج بن نباتۃ الاشجعی مختلف فیہ، وثقہ غیر واحد، وقال ابو حاتم: صالح یکتب حدیثہ ولا یحتج بہ، وقال النسائی فی روایۃ: لیس بالقوی، وفی اخری: لیس بہ بأس، وانظر الحدیث الآتی، فانہ یشھد لبعضہ (انظر: ۲۰۷۶۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے، میں نے ان کو تازہ کھجوریں کھلائیں اور پانی پلایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں ان نعمتوں میں سے ہیں، جن کے بارے میں تم سوال کیے جاؤ گے۔
Takhreej
(۹۲۷۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الطیالسی: ۱۷۹۹، وابویعلی: ۱۷۹۰، وابن حبان: ۳۴۱۱(انظر: ۱۴۶۳۷)
Explanation
فوائد:… عصر حاضر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بڑی بڑی نعمتیں عطا کی ہیں، اگرچہ فقرو فاقہ کی زندگی گزارنے والوں کی تعداد بھی معقول ہے، ہر ایک کے لیے شریعت ِ مطہرہ نے قواعد مقرر کر دیئے ہیں تاکہ نعمتوں والوں کو کسی نعمت سے اور فاقہ مستوں کو فقیری کی وجہ سے کوئی نقصان نہ ہو۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق وہ کامیاب ہو گیا، جس نے اسلام قبول کیا اور پھر اس کو بقدر ضرورت رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جو کچھ دیا، اس کو اس پر قناعت کرنے والا بنا دیا۔
فوائد:… اس حدیث کا متن یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((طُوْبٰی لِمَنْ ھُدِیَ اِلَی الْاِسْلاَمِ، وَکَانَ عَیْشُہُ کَفَافًا وَقَنِعَ۔)) … اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس کو اسلام کی طرف ہدایت دی گئی اور اس کی گزران برابر برابر تھی، لیکن اس نے اس پر قناعت کی۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۶۳)
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: گھر، موٹی اور خشک روٹی اور شرمگاہ کو چھپانے والا کپڑا، جو چیز ان کے علاوہ ہے، وہ زائد ہے اور ابن آدم کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔
Takhreej
(۹۲۸۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، ولا یصح عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حریث بن السائب مختلف فیہ، أخرجہ الترمذی: ۲۳۴۱(انظر: ۴۴۰)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لباس طلب کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو موٹے سے کپڑے پہنا دیے، لیکن جب میں نے ان کو زیب ِ تین کیا تو دیکھا کہ اپنے ساتھیوں میں زیادہ لباس والا میں ہی تھا۔
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ بدری صحابی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے میرے پیارے بیٹے عبد اللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں لشکر میں بھیجتے تھے، ہمارا زادِ راہ صرف چمڑے کے تھیلوں میں ہوتا تھا، وہ اس طرح تقسیم کیا جاتا کہ ہر ایک کو ایک ایک لپ آتی تھی، پھر ایک ایک کھجور تک نوبت جا پہنچی۔ بیٹے نے کہا: اے ابا جان! وہ ایک کھجور تم سے کیا کفایت کرتی ہو گی؟ انھوں نے کہا: بچو! یہ بات نہ کرو، جب وہ بھی نہیں ملتی تھی تو ہمیں اس کی بھی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔
Takhreej
(۹۲۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، المسعودی اختلط،ویزید قد سمع منہ بعد الاختلاط، أخرجہ البزار: ۳۶۷۹، وابویعلی: ۷۱۹۹ (انظر: ۱۵۶۹۲)
۔ عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ایک سال تک سکونت اختیار کی، ایک دن انھوں نے مجھے کہا، جبکہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس تھے: میں نے دیکھا کہ ہمارے پاس پھٹ جانے والی پرانی چادریں ہوتی تھیں اور ایسے دن بھی آ جاتے تھے کہ ہم کھانے کی کوئی ایسی چیز نہیں پاتے تھے، جس کے ذریعے اپنے کمر کو کھڑا کر لیتے،یہاں تک کہ اس چیز کی نوبت آ جاتی کہ لوگ اپنی کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے پتھر اٹھا کر اپنے بھوکے پیٹ پر رکھ کر اس کو کپڑے سے کس دیتے تھے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے مابین کھجوریں تقسیم کیں، ہر انسان کو سات سات کھجوریں ملیں، ان میں خشک اور ردّی کھجوریں بھی تھیں، اور مجھے یہ بات خوش نہیں لگتی تھی کہ اس ردّی کھجور کی بجائے مجھے عمدہ کھجور ملتی، میں نے کہا: وہ کیوں؟ انھوں نے کہا: اس کو سختی سے چبانا پڑتا تھا۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس حالت میں دیکھا تھا کہ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا، لیکن آج میرے مال کی زکوۃ کی مقدار چالیس ہزار ہے۔
Takhreej
(۹۲۸۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، محمد بن کعب لم یسمع من علی، وشریک النخعی سییء الحفظ (انظر: ۱۳۶۷)