مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کی وجہ سے وضو کا بیان

آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان

۔ (۸۰۹)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: رَأَیْتُ عُثْمَانَ ؓ قَاعِدًا فِی الْمَقَاعِدِ فَدَعَا بِطَعَامٍ مِمَّا مَسَّتْہُ النَّارُ فَأَکَلَہُ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَصَلّٰی ثُمَّ قَالَ عُثْمَانُ: قَعَدتُّ مَقْعَدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَکَلْتُ طَعَامَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَلَّیْتُ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۵۰۵)

سعید بن مسیب کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمانؓ کو مقاعد میں دیکھا، انھوں نے آگ پر پکا ہوا کھانا منگوا کر کھایا اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔پھر سیدنا عثمان ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی جگہ پر بیٹھا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا کھانا کھایا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہی کی نماز پڑھائی ہے۔

۔ (۸۱۰)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ: أَکَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِمَّا غَیَّرَتِ النَّارُ ثُمَّ صَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۱۹۹۴)

سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھائی اور پھر نماز پڑھی، جبکہ نیا وضو نہیں کیا۔

۔ (۸۱۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ اِمَّا ذِرَاعًا مَشْوِیًّا وَاِمَّا کَتِفًا ثُمَّ صَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ وَلَمْ یَمَسَّ مَائً۔ (مسند أحمد: ۲۲۸۶)

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جانور کا بھونا ہوا بازو یا کندھے کا گوشت کھایا اور پھر نماز پڑھی، جبکہ نہ نیا وضو کیا اور نہ پانی کو چھوا۔

۔ (۸۱۴)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَقَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بَنِ عَطَائِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ عَلْقَمَۃَ أَخُو بَنِیْ عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ بَیْتَ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِغَدِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ قَالَ: وَکَانَتْ مَیْمُونَۃُ قَدْ أَوْصَتْ لَہُ بِہِ فَکَانَ اِذَا صَلَّی الْجُمُعُۃَ بُسِطَ لَہُ فِیْہِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَیْہِ فَجَلَسَ فِیْہِ لِلنَّاسِ، قَالَ: فَسَأَلَہُ رَجُلٌ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الْوُضُوئِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ، قَالَ: فَرَفَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَدَہُ اِلَی عَیْنَیْہِ وَقَدْ کُفَّ بَصَرُہُ فَقَالَ: بَصُرَ عَیْنَایَ ہَاتَانِ، رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ لِصَلَاۃِ الظُّہْرِ فِی بَعْضِ حُجَرِہِ ثُمَّ دَعَاہُ بِلَالٌ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَنَہَضَ خَارِجًا فَلَمَّا وَقَفَ عَلٰی بَابِ الْحُجْرَۃِ لَقِیَتْہُ ہَدِیَّۃٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ بَعَثَ بِہَا اِلَیْہِ بَعْضُ أَصْحَابِہِ، قَالَ: فَرَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَنْ مَعَہُ وَوُضِعَتْ لَہُمْ فِی الْحُجْرَۃِ، قَالَ: فَأَکَلَ وَأَکَلُوْا مَعَہُ، قَالَ: ثُمَّ نَہَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَنْ مَعَہُ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَمَا مَسَّ وَلَا أَحَدٌ مِمَنْ کَانَ مَعَہُ مَائً، قَالَ: ثُمَّ صَلّٰی بِہِمْ، وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ اِنَّمَا عَقَلَ مِنْ أَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخِرَہُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۷۷)

محمد بن عمر کہتے ہیں: میں جمعہ کے اگلے دن سیدنا ابن عباسؓ کے پاس گیا، جو سیدہ میمونہؓ کے گھر میں تھے، سیدہ نے ان کے لیے اس گھر کی وصیت کی تھی، جب وہ نمازِ جمعہ ادا کر لیتے تو ان کے لیے اس گھر میں چٹائی وغیرہ بچھا دی جاتی، پس وہ اس گھر کی طرف چلے جاتے اور لوگوں کے لیے بیٹھ جاتے۔ ایک دن ایک بندے نے ان سے آگ پر پکے ہوئے کھانے سے وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا، جبکہ میں سن رہا تھا۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا، جبکہ اِس وقت وہ نابینا ہو چکے تھے، اور کہا: میری ان آنکھوں نے دیکھا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کسی حجرے میں وضو کیا، پھر سیدنا بلالؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز کے لیے بلایا اور آپ نکل پڑے، لیکن جب حجرے کے دروازے پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو روٹی اور گوشت کا ہدیہ وصول ہوا، جو کسی صحابی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف بھیجا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ساتھ والے صحابہ کے ساتھ واپس لوٹ گئے، حجرے میں یہ کھانا لگایاگیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ نے کھایا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کسی صحابی نے پانی کو چھوا تک نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سیدنا ابْنِ عَبَّاسٍؓ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے آخری عمل کو پایا ہے۔

۔ (۸۱۵)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ ؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْکُلُ یَحْتَزُّ مِنْ کَتِفِ شَاۃٍ ثُمَّ دُعِیَ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ (وَفِی لَفْظٍ) فَدُعِیَ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَطَرَحَ السِّکِّیْنَ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۱۷۳۸۲)

سیدنا عمرو بن امیہ ضمریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بکری کے کندھے سے (چھری کے ساتھ) گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ ایک روایت میں ہے: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز کے لیے بلایا گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے چھری پھینک دی اور وضو نہیں کیا۔

۔ (۸۱۶)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ لَحْمًا ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَمَسَّ مَائً۔ (مسند أحمد: ۳۷۹۳)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے گوشت کھایا اور پھر نماز کی طرف کھڑے ہوئے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔

۔ (۸۱۷)۔عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ أَنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ؓ وَرَاٰی أَبَا ہُرَیْرَۃَ ؓ یَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: أَتَدْرِی مِمَّا أَتَوَضَّأُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِن أَثْوَارِ أَقِطٍ أَکَلْتُہُمَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أُبَالِیْ مِمَّا تَوَضَّأْتُ، أَشْہَدُ لَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ کَتِفَ لَحْمٍ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَمَا تَوَضَّأَ، قَالَ: وَسُلَیْمَانُ حَاضِرٌ ذَالِکَ مِنْہُمَا جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۳۴۶۴)

سیدنا ابن عباسؓ نے سیدنا ابو ہریرہؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انھوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ میں کس چیز سے وضو کر رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے تھے، ان کی وجہ سے وضو کر رہا ہوں۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: مجھے اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں نے کس چیز سے وضو کرنا ہے، جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کندھے کا گوشت کھایا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز کے لیے اٹھے اور وضو نہیں کیا۔ سلیمان ان دونوں شخصیتوں کے پاس موجود تھے۔

۔ (۸۱۸)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ قَالَ: أَکَلْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَصَلَّوْا وَلَمْ تَوَضَّئُوْا۔ (مسند أحمد: ۱۴۳۱۲)

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمرؓ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا، پھر ان سب نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔

۔ (۸۱۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًاؓ قَالَ: قُرِّبَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُبْزٌ وَلَحْمٌ ثُمَّ دَعَا بَوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلّٰی الظُّہْرَ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِہِ فَأَکَلَ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ فَوُضِعَتْ لَہُ ہَاہُنَا (قَالَ ابْنُ بَکْرٍ: اَمَامَنَا) جَفْنَۃٌ، فِیْہَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ وَہَاہُنَا جَفْنَۃٌ فِیْہَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَکَلَ عُمَرُ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۱۴۵۰۷)

سیدنا جابر بن عبد اللہؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: روٹی اور گوشت پر مشتمل کھانا رسو ل اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے پیش کیا گیا، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تناول فرمایا)، پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا او رنمازِ ظہر ادا کی، پھر واپس آ کر بچا ہوا کھانا منگوایا اور اس کو تناول فرمانے کے بعد پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا، پھر میں سیدنا عمر ؓ کے ساتھ داخل ہوا، ان کے لیے یہاں ہمارے سامنے ایک بڑا پیالَہُ رکھا گیا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، وہ پیالَہُ یہاں رکھا گیا تھا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، پس سیدنا عمر ؓ نے یہ کھانا کھایا اور پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا۔

۔ (۸۲۰)۔عَنْ سُوَیْدِ بْنِ نُعْمَانَؓ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ خَیْبَرَ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِالصَّہْبَائِ وَصَلّٰی الْعَصْرَ دَعَا بِالْأَطْعِمَۃِ، فَمَا أُتِیَ اِلَّا بِسَوِیْقٍ فَأَکَلُوْا وَشَرِبُوْا مِنْہُ ثُمَّ قَامَ اِلَی الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا مَعَہُ وَمَا مَسَّ مَائً۔ (مسند أحمد: ۱۵۸۹۳)

سیدنا سوید بن نعمان ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر والے سال رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلے، جب ہم صہباء مقَامَ پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عصر ادا کی اور کھانا طلب کیا، صرف ستو لایا گیا، لوگوں نے کھایا اور پیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کلی کر کے نمازِ مغرب کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم نے بھی کلی کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے (وضو کے لیے) پانی کو چھوا تک نہیں۔

۔ (۸۲۱)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کُنْتُ أَنَا وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ وَأَبُو طَلْحَۃَ جُلُوْسًا فَأَکَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوْئٍ فَقَالَا: لِمَ تَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: لِھٰذَا الطَّعَامِ الَّذِی أَکَلْنَا، فَقَالَا: أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّیِّبَاتِ؟ لَمْ یَتَوَضَّأْ مِنْہُ مَنْ ہُوَ خَیرٌ مِنْکَ۔ (مسند أحمد: ۲۱۴۹۹)

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں: میں، سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے گوشت اور روٹی پر مشتمل کھانا کھایا، پھر میں (انس) نے وضو کیلئے پانی منگوایا، ان دونوں نے مجھے کہا: تم کیوں وضو کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے، انھوں نے کہا: کیا تم پاکیزہ چیزیں کھانے کی وجہ سے وضو کرتے ہو؟ اس ہستی نے تو اس قسم کے کھانے کے بعد وضو نہیں کیا تھا، جو تم سے بہتر ہے۔

۔ (۸۲۲)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْئٍ الزُّبَیْدِیِّؓ قَالَ: أَکَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شِوَائً فِی الْمَسْجِدِ فَأُقِیْمَتِ الصَّلٰوۃُ فَأَدْخَلْنَا أَیْدِیَنَا فِی الْحَصٰی ثُمَّ قُمْنَا نُصَلِّیْ وَلَمْ نَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۵۴)

سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ مسجد میں بھونا ہوا گوشت کھایا، پھر نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، پس ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں کے ساتھ ملے اور پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور وضو نہیں کیا۔

۔ (۸۲۳)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ طَعَامًا ثُمَّ أُقِیمَتِ الصَّلٰوۃُ فَقَامَ وَقَدْ کَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَالِکَ فَأَتَیْتُہُ بِمَائٍ یَتَوَضَّأُ مِنْہُ فَانْتَہَرَنِیْ وَ قَالَ: ((وَرَائَ کَ۔)) فَسَائَ نِیْ وَاللّٰہِ ذَالِکَ، ثُمَّ صَلّٰی فَشَکَوْتُ ذَالِکَ اِلَی عُمَرَ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنَّ الْمُغِیْرَۃَ قَدْ شَقَّ عَلَیْہِ انْتِہَارُکَ اِیَّاہُ وَخَشِیَ أَنْ یَکُوْنَ فِی نَفْسِکَ عَلَیْہِ شَیْئٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَیْسَ عَلَیْہِ فِی نَفْسِیْ شَیْئٌ اِلَّا خَیْرٌ، وَلَکِنْ أَتَانِیْ بِمَائٍ لِأَتَوَضَّأَ وَاِنَّمَا أَکَلْتُ طَعَامًا، وَلَوْ فَعَلْتُہُ فَعَلَ ذَالِکَ النَّاسُ بَعْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴۰۶)

سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھانا کھایا، پھر نماز کیلئے اقامت کہہ دی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اٹھ کھڑے ہوئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کھانے سے پہلے وضو کر چکے تھے، میں پھر پانی لے آیا، (میرے خیال میں یہ تھا کہ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پھر وضو کریں گے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے جھڑک دیا اور فرمایا: پیچھے ہٹ جا۔ اللہ کی قسم! یہ بات مجھ پر تو بڑی گراں گزری، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی، میں نے سیدنا عمرؓ کے سامنے اپنی شکایت رکھی (کہ آج میرے ساتھ یہ کچھ ہوا ہے)۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کا مغیرہ کو جھڑکنا، یہ چیز ان پر بڑی گراں گزری ہے اور وہ ڈر رہے ہیں کہ ان کے بارے میں آپ کے دل میں کوئی بات ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرے دل میں ان کے بارے میں خیر کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ میرے وضو کیلئے پانی لے آئے تھے، جبکہ میں نے تو صرف کھانا ہی کھایا تھا، اب اگر میں وضو کر دیتا تو میرے بعد لوگوں نے بھی کرنا تھا۔

۔ (۸۲۴)۔عَنْ أَبِیْ رَافِعٍؓ قَالَ: ذَبَحْنَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَاۃً فَأَمَرَنَا فَعَالَجْنَا لَہُ شَیْئًا مِنْ بَطْنِہَا فَأَکَلَ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأ۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۵۶)

سیدنا ابو رافعؓ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے ایک بکری ذبح کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حکم کے مطابق ہم نے اس کے پیٹ کا کوئی حصہ پکایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تناول فرمایا اور پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔

۔ (۸۲۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأتِی الْقِدْرَ فَیَأخُذُ الذِّرَاعَ مِنْہَا فَیَأکُلُہَا ثُمَّ یُصَلِّیْ وَلَا یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۲۶۸۲۸)

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہنڈیا کے پاس تشریف لاتے، اس سے دستی نکال کر تناول فرماتے اور پھر نیا وضو کیے بغیر نماز پڑھتے۔

۔ (۸۲۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ مَرْوَانَ قَالَ: تَوَضَّئُوْا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ اِلٰی أُمِّ سَلَمَۃَؓ فَسَأَلَہَا فَقَالَتْ: نَہَسَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدِیْ کَتِفًا ثُمَّ خَرَجَ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَلَمْ یَمَسَّ مَائً۔ (مسند أحمد: ۲۷۱۴۷)

عبد اللہ بن شداد کہتے ہیں: جب سیدنا ابوہریرہؓ نے مروان کو یہ حدیث بیان کی کہ جس چیز کو آگ پر پکایا جائے، اس کو کھانے سے وضو کرو۔ مروان نے یہ سن کر سیدہ ام سلمہؓ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: میرے پاس تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کندھے کا گوشت نوچا اور نماز کی طرف چلے گئے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔

۔ (۸۲۷)۔عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ سَمِعَ مَیْمُونَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَقُوْلُ: أَکَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ کَتِفِ شَاۃٍ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (مسند أحمد: ۲۴۰۶)

مولائے ابن عباس کریب بیان کرتے ہیں کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بکری کے کندھے سے گوشت تناول فرمایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اٹھ کھڑے ہوئے اور نیا وضو کیے بغیر نماز ادا کی۔

۔ (۸۲۸)۔ عَنْ فَاطِمَۃَ (الزَّہْرَائَ) بِنْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ عَنْہَا وَأَرْضَاہَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَکَلَ عَرْقًا فَجَائَ بِلَالٌ بِالْاَذَانِ فَقَامَ لِیُصَلِّیَ فَأَخَذْت بِثَوْبِہِ فَقُلْتُ: یَا أَبَتِ! أَلَا تَتَوَضَّأْ؟ فَقَالَ: ُ ((مِمَّ أَتَوَضَّأُ یَا بُنَیَّۃُ؟)) فَقُلْتُ: مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، فَقَالَ لِیْ: ((أَوَلَیْسَ أَطْیَبُ طَعَامِکُمْ مَا مَسَّتْہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۹۵۰)

سیدہ فاطمہ زہراءؓ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ میرے پاس تشریف لائے اور ہڈی پر لگاہوا گوشت کھایا، اتنے میں سیدنا بلالؓ نماز کیلئے بلانے کیلئے آ گئے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، لیکن میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کپڑے کو پکڑ کر کہا: اے ابو جان! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیٹی! کس چیز سے میں وضو کروں؟ میں نے کہا: آگ پر پکے ہوئے کھانے کو کھانے سے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: کیا تمہارا سب سے پسندیدہ کھانا وہی نہیں ہے، جس کو آگ پر پکایا جاتا ہے۔