مسنداحمد

Musnad Ahmad

نمازوں کے اوقات کے ابواب

نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان

۔ (۱۱۳۳)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ صَلَّی الْعَصْرَ فَجَلَسَ یُمْلِیْ خَیْرًا حَتّٰی یُمْسِیَ کَانَ أَفْضَلَ مِنْ عِتْقِ ثَمَانِیَۃٍ مِنْ وُلْدِ اِسْمَاعِیْلَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۷۹۶)

سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے نمازِ عصر ادا کی اور اس کے بعد شام تک خیر والی باتیں کرتا رہا، اس کا یہ عمل اسماعیلؑ کی اولاد سے آٹھ غلاموں کو آزاد سے زیادہ فضیلت والا ہوگا برابر ہو گا۔

۔ (۱۱۳۴)۔ عَنْ أَبِیْ بَصْرَۃَ الْغَفَّارِیِّؓ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعَصْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّ ہٰذِہِ الصَّلَاۃَ عُرِضَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَتَوَانَوْا فِیْھَا وَتَرَکُوْہَا، فَمَنْ صَلَّاہَا مِنْکُمْ ضُعِّفَ لَہُ أَجْرُہَا ضِعْفَیْنِ، وَلَا صَلَاۃَ بَعْدَہَا حَتّٰی یُرَی الشَّاہِدُ، وَالشَّاہِدُ النَّجْمُ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۷۶۷)

سیدنا ابوبصرہ غفاریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک یہ نماز تم سے پہلے والے لوگوں پر بھی پیش کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اس معاملے میں سستی برتی اور اس کو ترک کر دیا، پس تم میں سے جو شخص اس کو ادا کرے گا، اس کو دو گنا اجر عطا کیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیںہے، جہاں تک شاہد طلوع ہو جائے اور شاہد سے مراد ستارہ ہے۔

۔ (۱۱۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: تَجْتَمِعُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ وَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَیَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ، قَالَ: فَتَصْعَدُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَتَثْبُتُ مَلَائِکَۃُ النَّہَارِ، قَالَ: وَیَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَیَصْعَدُ مَلَائِکَۃُ النَّہَارِ وَتَثْبُتُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ، قَالَ: فَیَسْأَلُہُمْ رَبُّہُمْ، کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: أَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ وَتَرَکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ۔)) قَالَ سُلَیْمَانُ (یَعْنِیْ الْأَعْمَشَ أَحَدُ الرُّوَاۃِ): وَلَا أَعْلَمُہُ اِلَّا قَدْ قَالَ فِیْہِ: فَاغْفِرْ لَہُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۹۱۴۰)

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہوتے ہیں، جب وہ نمازِ فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، اسی طرح جب وہ نمازِ عصر میں جمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پس ان کا ربّ ان سے پوچھتا ہے: تم میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اب جب ہم ان کو چھوڑ کر آئے ہیں تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ سلیمان اعمش کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ راوی نے (فرشتوں کی دعا کے) یہ کلمات بھی کہے تھے: پس تو ان لوگوں کو قیامت کے دن بخش دینا۔

۔ (۱۱۳۶)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْأَحْزَابِ: ((شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی صَلَاۃِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللّٰہُ قُبُوْرَہُمْ وَبُیُوْتَہُمْ نَارًا۔)) قَالَ: ثُمَّ صَلَّاہَا بَیْنَ الْعِشَائَیْنِ بَیْنَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائِ، وَقَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ) مَرَّۃً: یَعْنِیْ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ۔ (مسند أحمد: ۹۱۱)

سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غزوۂ احزاب والے دن فرمایا تھا: ان مشرکوں نے ہمیں صلاۃِ وُسْطٰی یعنی نماز ِ عصر سے مشغول کر دیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس نماز کو مغرب اور عشا کے درمیان پڑھا۔

۔ (۱۱۳۷)۔ وَعَنْہُ أَیْضًاؓ قَالَ: کُنَّا نَرَاہَا الْفَجْرَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ہِیَ صَلَاۃُ الْعَصْرِ۔)) یَعْنِیْ صَلَاۃَ الْوُسْطٰی۔ (مسند أحمد: ۹۹۰)

سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارا خیال تھا کہ صلاۃِ وُسْطٰی سے مراد نمازِ فجر ہے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو نمازِ عصر ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی مراد صلاۃِ وُسْطٰی تھی۔

۔ (۱۱۳۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَاتَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَدُوًّا فَلَمْ یَفْرُغْ مِنْہُمْ حَتّٰی أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِہَا، فَلَمَّا رَاٰی ذٰلِکَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی فَامْلَأْ بُیُوْتَہُمْ نَارًا وَامْلَأْ قُبُوْرَہُمْ نَارًا۔)) اَوْنَحْوَ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۴۵)

سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم نے دشمن سے قتال کیا اور اس سے فارغ نہ ہوئے، یہاں تک کہ عصر کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیا اور جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: اے اللہ! جنھوں نے ہم کو صلاۃِ وُسْطٰی سے روکے رکھا، تو ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ یا اسی قسم کی بات ارشاد فرمائی۔

۔ (۱۱۳۹)۔عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ الْوُسْطٰی صَلَاۃُ الْعَصْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۱۷)

سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صلاۃِ وُسْطٰی، نمازِ عصر ہی ہے۔

۔ (۱۱۴۰)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍؓ وَقَدْ سَأَلَہُ مَرْوَانُ عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی فَقَالَ: ہِیَ الظُّہْرُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۱۳۵)

سیدنا زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ مروان نے ان سے صلاۃِ وسطی کے بارے میں سوال کیا اور انھوں نے جواباً کہا: یہ ظہر ہے۔

۔ (۱۱۴۱)۔ عَنْ أَبِیْ یُوْنُسَ مَوْلٰی عَائِشَۃَؓ قَالَ: أَمَرَتْنِیْ عَائِشَۃُ أَنْ أَکْتُبَ لَہَا مُصْحَفًا، قَالَتْ: اِذَا بَلَغْتَ اِلَی ہٰذِہِ الْآیَۃِ {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} فَآذِنِّیْ، فَلَمَّا بَلَغْتُہَا آذَنْتُہَا فَأَمْلَتْ عَلَی {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ۔} قَالَتْ: سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۵۲)

مولائے عائشہ ابو یونس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے مصحف لکھوں اور انھوں نے کہا: جب تو اس آیت {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} پر پہنچے تو مجھے بتلانا، پس جب میں اس آیت تک پہنچا تو ان کو بتلایا اور انھوں نے یہ آیت یوں املا کروائی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ آیت اسی طرح سنی تھی۔