TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان - نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان - نمازوں کے اوقات کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of نمازوں کے اوقات کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 23 · 9 Hadith
۔ (۱۱۳۳)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ صَلَّی الْعَصْرَ فَجَلَسَ یُمْلِیْ خَیْرًا حَتّٰی یُمْسِیَ کَانَ أَفْضَلَ مِنْ عِتْقِ ثَمَانِیَۃٍ مِنْ وُلْدِ اِسْمَاعِیْلَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۷۹۶)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے نمازِ عصر ادا کی اور اس کے بعد شام تک خیر والی باتیں کرتا رہا، اس کا یہ عمل اسماعیلؑ کی اولاد سے آٹھ غلاموں کو آزاد سے زیادہ فضیلت والا ہوگا برابر ہو گا۔
Takhreej
(۱۱۳۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، المعلی بن زیاد لم یَلْقَ انس بن مالک، وبینھما فی ھذا الحدیث یزید الرقاشی، وھو ضعیف۔ أخرجہ ابویعلی: ۴۰۸۷، والطیالسی: ۲۱۰۴، والبیھقی فی الشعب : ۵۶۳ (انظر: ۱۳۷۶۰)
Explanation
فوائد:… ابوداود (۳۶۶۷) کی سند حسن ہے، اس سے زیر مطالعہ حدیث کا مفہوم ثابت ہوتا ہے۔
1133
Zaeef
۔ (۱۱۳۴)۔ عَنْ أَبِیْ بَصْرَۃَ الْغَفَّارِیِّؓ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعَصْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّ ہٰذِہِ الصَّلَاۃَ عُرِضَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَتَوَانَوْا فِیْھَا وَتَرَکُوْہَا، فَمَنْ صَلَّاہَا مِنْکُمْ ضُعِّفَ لَہُ أَجْرُہَا ضِعْفَیْنِ، وَلَا صَلَاۃَ بَعْدَہَا حَتّٰی یُرَی الشَّاہِدُ، وَالشَّاہِدُ النَّجْمُ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۷۶۷)
سیدنا ابوبصرہ غفاریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک یہ نماز تم سے پہلے والے لوگوں پر بھی پیش کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اس معاملے میں سستی برتی اور اس کو ترک کر دیا، پس تم میں سے جو شخص اس کو ادا کرے گا، اس کو دو گنا اجر عطا کیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیںہے، جہاں تک شاہد طلوع ہو جائے اور شاہد سے مراد ستارہ ہے۔
Takhreej
(۱۱۳۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۳۰ (انظر: ۲۷۲۲۵)
1134
Sahih
۔ (۱۱۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: تَجْتَمِعُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ وَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَیَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ، قَالَ: فَتَصْعَدُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَتَثْبُتُ مَلَائِکَۃُ النَّہَارِ، قَالَ: وَیَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَیَصْعَدُ مَلَائِکَۃُ النَّہَارِ وَتَثْبُتُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ، قَالَ: فَیَسْأَلُہُمْ رَبُّہُمْ، کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: أَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ وَتَرَکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ۔)) قَالَ سُلَیْمَانُ (یَعْنِیْ الْأَعْمَشَ أَحَدُ الرُّوَاۃِ): وَلَا أَعْلَمُہُ اِلَّا قَدْ قَالَ فِیْہِ: فَاغْفِرْ لَہُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۹۱۴۰)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہوتے ہیں، جب وہ نمازِ فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، اسی طرح جب وہ نمازِ عصر میں جمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پس ان کا ربّ ان سے پوچھتا ہے: تم میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اب جب ہم ان کو چھوڑ کر آئے ہیں تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ سلیمان اعمش کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ راوی نے (فرشتوں کی دعا کے) یہ کلمات بھی کہے تھے: پس تو ان لوگوں کو قیامت کے دن بخش دینا۔
Takhreej
(۱۱۳۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۳۲۲، وابن حبان: ۲۰۶۱ (انظر: ۹۱۵۱)
1135
Sahih
۔ (۱۱۳۶)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْأَحْزَابِ: ((شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی صَلَاۃِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللّٰہُ قُبُوْرَہُمْ وَبُیُوْتَہُمْ نَارًا۔)) قَالَ: ثُمَّ صَلَّاہَا بَیْنَ الْعِشَائَیْنِ بَیْنَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائِ، وَقَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ) مَرَّۃً: یَعْنِیْ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ۔ (مسند أحمد: ۹۱۱)
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غزوۂ احزاب والے دن فرمایا تھا: ان مشرکوں نے ہمیں صلاۃِ وُسْطٰی یعنی نماز ِ عصر سے مشغول کر دیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس نماز کو مغرب اور عشا کے درمیان پڑھا۔
Takhreej
(۱۱۳۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۲۷ (انظر: ۹۱۱)
1136
Sahih
۔ (۱۱۳۷)۔ وَعَنْہُ أَیْضًاؓ قَالَ: کُنَّا نَرَاہَا الْفَجْرَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ہِیَ صَلَاۃُ الْعَصْرِ۔)) یَعْنِیْ صَلَاۃَ الْوُسْطٰی۔ (مسند أحمد: ۹۹۰)
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارا خیال تھا کہ صلاۃِ وُسْطٰی سے مراد نمازِ فجر ہے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو نمازِ عصر ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی مراد صلاۃِ وُسْطٰی تھی۔
Takhreej
(۱۱۳۷) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابویعلی: ۳۹۰، وعبد الرزاق: ۲۱۹۲ (انظر: ۹۹۰)
1137
Sahih
۔ (۱۱۳۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَاتَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَدُوًّا فَلَمْ یَفْرُغْ مِنْہُمْ حَتّٰی أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِہَا، فَلَمَّا رَاٰی ذٰلِکَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی فَامْلَأْ بُیُوْتَہُمْ نَارًا وَامْلَأْ قُبُوْرَہُمْ نَارًا۔)) اَوْنَحْوَ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۴۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم نے دشمن سے قتال کیا اور اس سے فارغ نہ ہوئے، یہاں تک کہ عصر کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیا اور جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: اے اللہ! جنھوں نے ہم کو صلاۃِ وُسْطٰی سے روکے رکھا، تو ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ یا اسی قسم کی بات ارشاد فرمائی۔
Takhreej
(۱۱۳۸) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ بنحوہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۱۹۰۵، وفی الاوسط : ۲۰۱۶ (انظر: ۲۷۴۵)
1138
Sahih
۔ (۱۱۳۹)۔عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ الْوُسْطٰی صَلَاۃُ الْعَصْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۱۷)
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صلاۃِ وُسْطٰی، نمازِ عصر ہی ہے۔
Takhreej
(۱۱۳۹) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۸۲، ۲۹۸۳ (انظر: ۲۰۱۵۵)
1139
Sahih
۔ (۱۱۴۰)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍؓ وَقَدْ سَأَلَہُ مَرْوَانُ عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی فَقَالَ: ہِیَ الظُّہْرُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۱۳۵)
سیدنا زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ مروان نے ان سے صلاۃِ وسطی کے بارے میں سوال کیا اور انھوں نے جواباً کہا: یہ ظہر ہے۔
Takhreej
(۱۱۴۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الزبرقان لم یدرک القصۃ التی رواھا۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۷۹۵، والطیالسی: ۶۲۸، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۵۰۴(انظر: ۲۱۷۹۲)
1140
Zaeef
۔ (۱۱۴۱)۔ عَنْ أَبِیْ یُوْنُسَ مَوْلٰی عَائِشَۃَؓ قَالَ: أَمَرَتْنِیْ عَائِشَۃُ أَنْ أَکْتُبَ لَہَا مُصْحَفًا، قَالَتْ: اِذَا بَلَغْتَ اِلَی ہٰذِہِ الْآیَۃِ {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} فَآذِنِّیْ، فَلَمَّا بَلَغْتُہَا آذَنْتُہَا فَأَمْلَتْ عَلَی {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ۔} قَالَتْ: سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۵۲)
مولائے عائشہ ابو یونس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے مصحف لکھوں اور انھوں نے کہا: جب تو اس آیت {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} پر پہنچے تو مجھے بتلانا، پس جب میں اس آیت تک پہنچا تو ان کو بتلایا اور انھوں نے یہ آیت یوں املا کروائی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ آیت اسی طرح سنی تھی۔
Takhreej
(۱۱۴۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۲۹(انظر: ۲۴۴۴۸)
1141
Sahih

Chapters

23
01
جامع اوقات کا بیان
13 Hadith
02
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
03
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
04
عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان
10 Hadith
05
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
9 Hadith
06
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
5 Hadith
07
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
15 Hadith
08
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
15 Hadith
09
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
8 Hadith
10
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
11
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
2 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
4 Hadith
13
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
5 Hadith
14
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
5 Hadith
15
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
7 Hadith
16
طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
2 Hadith
17
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
6 Hadith
18
مکہ مکرمہ میں اس کی رخصت کا بیان
1 Hadith
19
اس چیز کا بیان کہ نماز کو بھول جانے کا وقت وہ ہے،جب اس کو یاد آئے
3 Hadith
20
سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
9 Hadith
21
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
3 Hadith
22
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
4 Hadith
23
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
1 Hadith
No chapter matched that.