TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قبلہ کے آداب - قبلہ کے آداب - Book 26 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 26 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 24 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

24 Hadith · 4 Chapters
بیت المقدس کے قبلہ رہنے کی مدت اورپھر کعبہ کی طرف تحویلِ قبلہ کا بیان
۔ (۱۴۴۹) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَوَّلَ مَاقَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ نَزَلَ عَلَی أَجْدَادِہِ أَوْ أَخْوَالِہِ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَ نَّہُ صَلَّی قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّـۃَ عَشَرَ أَوْسَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا، وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ تَکُوْنَ قِبْلَتُہُ قِبَلَ الْبَیْتِ وَأَ نَّہُ صَلّٰی أَوَّلَ صَلَاۃٍ صَلَّاھَا صَلَاۃَ الْعَصْرِ وَصَلّٰی مَعَہُ قَوْمٌ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلّٰی مَعَہُ فَمَرَّ عَلٰی أَھْلِ مَسْجِدٍ وَھُمْ رَاکِعُوْنَ فَقَالَ: أَشْہَدُ بِاللّٰہِ لَقَدْ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِبَلَ مَکَّۃَ۔ قَالَ: فَدَارُوْا کَمَا ھُمْ قِبَلَ الْبَیْتِ وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ یُحَوَّلَ قِبَلَ الْبِیْتِ، وَکَانَ الْیَہُوْدُ قَدْ أَعْجَبَھُمْ اِذْ کَانَ یُصَلِّیْ قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَأَھْلُ الْکِتَابِ فَلَمَّا وَلّٰی وَجْہَہُ قِبَلَ الْبَیْتِ أَنْکَرُوْا ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۹۰)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ منورہ پہنچے تو سب سے پہلے اپنے اجداد یا ماموؤں کے پاس ٹھہرے، جن کا تعلق انصار سے تھا،آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سولہ یا سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے رہے، جبکہ آپ کو پسند یہ تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو۔ (بالآخر ایسے ہی ہوا اور) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلی نماز جو اس کی طرف پڑھی ، وہ عصر تھی،کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ان میں سے ایک آدمی ایک مسجد والوں کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس نے ان سے کہا: میں اللہ کو گواہ بناکر کہتاہوں کہ (قبلہ تبدیل ہو چکا ہے اور) میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نماز پڑھی ہے ۔ وہ (یہ اعلان سن کر رکوع کی)حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ کو بیت اللہ کی طرف پھیر دیا جائے، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تو یہودیوں اور اہل کتاب کویہ اچھا لگتا تھا (کیونکہ اس کو وہ اپنی اقتدا سمجھتے تھے)، اس لیے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا رخ بیت اللہ کی طرف پھیر لیا تو انہوں نے اسے برا جانا۔
Takhreej
(۱۴۴۹) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۴۰، ۴۴۸۶، ومسلم: ۵۲۵ (انظر: ۱۸۴۹۶)۔
1449
Sahih
بیت المقدس کے قبلہ رہنے کی مدت اورپھر کعبہ کی طرف تحویلِ قبلہ کا بیان
۔ (۱۴۵۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: بَیْنَمَا النَّاسُ بِقُبَائٍ فِیْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ إِذْ أَتَاھُمْ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُنْزِلَ عَلَیْہِ قُرْآنٌ اللَّیْلَۃَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ یَسْتَقْبِلَ الْکَعْبَۃَ فَاسْتَقْبِلُوْھَا وَکَانَتْ وُجُوھُہُمْ إِلَی الشَّامِ فَاسْتَدَارُوْا إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۹۳۴)
سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ قباء میںکچھ لوگ نمازِ فجر ادا کررہے تھے، ان کے پاس ایک آنے والے نے آکر کہا: رات رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے ، جس کے مطابق آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تم بھی اس کی طرف منہ کرلو۔ ان لوگوں کے چہرے شام (یعنی بیت المقدس) کی طرف تھے، وہ (یہ اعلان سن کر) کعبہ کی طرف پھر گئے۔
Takhreej
(۱۴۵۰) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۵۰۳، ۴۴۹۱، ومسلم: ۵۲۶ (انظر: ۵۹۳۴)۔
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کوئی آدمی ناسمجھی اور لاعلمی کی بنا پر غیر قبلہ کی طرف شروع کر دیتا ہے تو اس کی نماز درست ہو گی اور دورانِ نماز علم ہو جانے کی صورت میں وہ نماز کو جاری رکھتے ہوئے قبلہ کی طرف گھوم جائے گا۔ شرعی احکام میں خبر واحد قطعی حجت ہے، صحابہ کرام کی جماعت نے ایک آدمی کی خبر کی بنا پر اپنا قبلہ تبدیل کر لیا تھا۔ حدیث ِ مبارکہ بھی قرآن مجید کی طرح حجت ہے، کیونکہ بیت المقدس کا قبلہ ہونا، قرآن مجید میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہیں، جبکہ صحابہ کرام سولہ سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے، یہ عمل احادیث کی روشنی میں تھا۔
1450
Sahih
بیت المقدس کے قبلہ رہنے کی مدت اورپھر کعبہ کی طرف تحویلِ قبلہ کا بیان
۔ (۱۴۵۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَھْراً ثُمَّ صُرِفَتِ الْقِبْلَۃُ۔ (مسند احمد: ۳۲۷۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے صحابہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے سولہ مہینے تک نماز پڑھتے رہے، پھر قبلہ تبدیل ہوگیا تھا۔
Takhreej
(۱۴۵۱) تخریـج:… حدیث صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۳۴، والبزار: ۴۱۸، والطبرانی: ۱۱۰۶۶ (انظر: ۲۲۵۲، ۳۲۷۰، ۲۹۹۱)۔
1451
Sahih
بیت المقدس کے قبلہ رہنے کی مدت اورپھر کعبہ کی طرف تحویلِ قبلہ کا بیان
۔ (۱۴۵۲) عَنْ عُبَیْدِ بْنِ آدَمَ وَأَبِیْ مَرْیَمَ وَأَبِیْ شُعَیْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ بِالْجَابِیَۃِ فَذَکَرَ فَتْحَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْسَلَمَۃَ فَحَدَّثَنِی أَبُوْ سِنَانٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ آدَمَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُوْلُ: لِکَعْبٍ أَیْنَ تَرٰی أَنْ أُصَلِّیَ؟ فَقَالَ: إِنْ أَخَذْتَ عَنِّی صَلَّیْتَ خَلْفَ الصَّخْرَۃِ، فَکَانَتِ الْقُدْسُ کُلُّھَا بَیْنَیَدَیْکَ۔ فَقَالَ عُمَرُ: ضَاھَیْتُ الْیَہُودِیَّۃَ، لَا، وَلٰکِنْ أُصَلِّیْ حَیْثُ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَقَدَّمَ، إِلَی الْقِبْلَۃِ فَصَلّٰی ثُمَّ جَائَ فَبَسَطَ رِدَائَ ہُ فَکَنَسَ الْکُنَاسَۃَ فِی رِدَائِہِ وَکَنَسَ النَّاسُ۔ (مسند احمد: ۲۶۱)
عبید بن آدم، ابو مریم ، اور ابو شعیب سے مروی ہے کہ سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جابیہ میں تھے ۔ پھر راوی نے بیت المقدس کی فتح کا ذکر کیا۔ ابو سلمہ کہتے ہیں: مجھے ابوسفیان نے عبید بن آدم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا کہ وہ سیّدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھ رہے تھے: میںنماز کہاں پڑھوں، آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میری رائے لینا چاہتے ہو تو صخرہ کے پیچھے نماز پڑھ لو، سارے کا سارا قدس آپ کے سامنے آجائے گا، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: اس طرح تو یہودیت کی مشابہت اختیار کرلوں گا، نہیں ، لیکن میں وہاں نماز پڑھوں گا، جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازپڑھی تھی۔ پھر وہ آگے بڑھے اور قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے اور نماز ادا کی، پھر آکر صفائی کی اور کوڑا اپنی چادر میں اکٹھا کر لیا اور پھر لوگوں نے بھی صفائی کی ۔
Takhreej
(۱۴۵۲) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لضعف ابی سنان عیسی بن سنان الحنفی، أخرجہ ابو عبید فی الاموال : ۴۳۰ (انظر: ۲۶۱)۔
Explanation
فوائد:… یہ امیر المؤمنین سیّدنا فاروق اعظم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، جنھوںنے ممکنہ حدتک اہل کتاب کی مشابہت اختیار کرنے سے گریز کیا اور وہ اسی قسم کے اسلام کو اپنی عزت و غیرت کا نشان سمجھتے تھے۔ کاش! آج کل کے مسلم حکمرانوں کو بھییہ نقطہ سمجھ آ جاتا۔ یہ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع ہے کہ اپنی جگہ کی خود صفائی کر رہے ہیں، جبکہ وہ لاثانی خلیفۃ المسلمین ہیں۔ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ)
1452
Zaeef
بیت المقدس کے قبلہ رہنے کی مدت اورپھر کعبہ کی طرف تحویلِ قبلہ کا بیان
۔ (۱۴۵۳) عَنْ إِبْرَاھِیْمَ بْنِ أَبِیْ عَبْلَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ أُمِّ حَرَامٍ الْأَنْصَارِیَّ وَقَدْ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِبْلَتَیْنِ وَعَلَیْہِ ثَوْبُ خَزٍّ أَغْبَرُ وَأَشَارَ إِبْرَاہِیْمُ بِیَدِہِ إِلٰی مَنْکِبَیْہِ فَظَنَّ کَثِیْرٌ أَنَّہُ رِدَائُہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۱۳)
ابراہیم بن ابی عبلہ کہتے ہیں: میں نے سیّدناعبد اللہ بن ام حرام انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا،انہوںنے اپنے اوپر گندمی رنگ کا اونی ریشمی کپڑا لیے ہوئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ ابراہیم نے اپنے ہاتھ سے کندھوں کی طرف اشارہ کیا، جس سے کثیر بن مروان نے سمجھا کہ وہ چادر مراد لے رہے ہیں۔
Takhreej
(۱۴۵۳) تخریـج:… حدیث حسن، وھذا اسناد ضعیف جدا من اجل کثیر بن مروان، أخرجہ ابن الأثیر فی اسد الغابۃ : ۳/ ۳۵۲۔ وانظر الحدیث الآتی بالطریق الثانی۔ (انظر: ۱۸۰۴۹)
1453
Sahih
بیت المقدس کے قبلہ رہنے کی مدت اورپھر کعبہ کی طرف تحویلِ قبلہ کا بیان
۔ (۱۴۵۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ رَأَیْتُ أَبَاأُبِیٍّ الْأَنْصَارِیَّ وَھُوَ اِبْنُ أَبِیْ حَرَامٍ الْأَنْصَارِیِّ اَخْبَرَنِیْ أَ نَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِبْلَتَیْنِ جَمِیْعًا وَعَلَیْہِ کِسَائُ خَزٍّ أَغْبَرُ (مسند احمد: ۱۸۲۱۳)
(دوسری سند)میں نے ابو اُبَیّ انصاری کو دیکھا، انھوں نے مجھے بیان کیا کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی، جبکہ اس نے اپنے اوپر گندمی رنگ کی اونی ریشمی چادر لی ہوئی تھی۔
Takhreej
(۱۴۵۴) تخریـج:… اسنادہ حسن، أخرجہ البخاری فی التاریخ : ۳/ ۳۳۵، والطبرانی فی مسند الشامیین : ۱۳ (انظر: ۱۸۰۴۸)
1454
Sahih
فرض نماز میں قبلہ رخ ہونے کا وجوب
۔ (۱۴۵۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰییَشْہَدُوْا أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مَحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ فَإِذَا شَہِدُوْا وَاسْتَقْبَلُوْا قِبْلَتَنَا وَأَکَلُوْا ذَبِیْحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَاؤُھُمْ وَأَمْوَ الُھُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا، لَھُمْ مَالِلْمُسْلِمِیْنَ وَعَلَیْہِمْ مَاعَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۸۷)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں، جب تک وہ یہ گواہی نہ دے دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جب وہ گواہی دے دیں گے ، ہمارے قبلہ کی طرف رخ کریں گے، ہمارا ذبیحہ کھائیں گے او رہماری نماز پڑھیں گے تو ان کے خون و مال ہم پر حرام ہو جائیں گے،مگر حق کے ساتھ اوران کے لیے وہی ہو گا جو دوسرے عام مسلمانوں کے لیے ہے او ران پر بھی وہی ہو گا جو دوسرے مسلمانوں پر ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۴۵۵) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۳۹۲ (انظر: ۱۳۰۵۶)۔
Explanation
فوائد:… کتاب الایمان کے باب نمبر (۹) میں اس حدیث کی شرح گزر چکی ہے۔ خون اور مال کی حفاظت کے لیے ادائیگی ٔ نماز کے وقت کعبہ کی طرف رخ کرنے کو شرط قرار دینے سے اس فریضہ کی اہمیت کا پتہ چل رہا ہے، مذاہب عالم میں کعبہ کو قبلہ قرار دینا صرف اسلام کی خاصیت ہے۔
1455
Sahih
فرض نماز میں قبلہ رخ ہونے کا وجوب
۔ (۱۴۵۶) عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَاِفعٍ الزُّرَقِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِلْمُسِیْئِ فِیْ صَلَاتِہِ: ((إِذَا أَرَدْتَّ أَنْ تُصَلِّیَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوْئَ کَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ ثُمَّ کَبِّرْ۔)) الحدیث۔ (مسند احمد: ۱۹۲۰۶)
سیّدنا رفاعہ بن رافع زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسیء الصلاۃ کو فرمایاتھا: جب تو نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو وضو کر اوروضو اچھا کر ، پھر قبلہ رخ ہوجا، پھر اللہ اکبر کہہ۔ الحدیث۔
Takhreej
(۱۴۵۶) تخریـج:… حدیث صحیح وھذا اسناد حسن، أخرجہ البخاری فی القراء ۃ خلف الامام : ۱۱۲، وابن حبان: ۱۷۸۷، وأخرجہ اصحاب السنن و(انظر للتفصیل: ۱۸۹۹۵)۔
Explanation
فوائد:… یہ ایک طویل حدیث ہے، جو کئی احکام و مسائل پر مشتمل ہے، اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز میں قبلہ رخ ہونے کا حکم دیا ہے۔ متعلقہ آدمی نے اچھے انداز میںنماز ادا نہیں کی تھی، اس لیے اس کو مُسِیْئُ الصَّلَاۃ کہتے ہیں، جن کا لفظی معنییہ ہے: نماز کو خراب کرنے والا۔
1456
Sahih
فرض نماز میں قبلہ رخ ہونے کا وجوب
۔ (۱۴۵۷) عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَبِّحُ وَھُوَ عَلَی الرَّاحِلَۃِ وَیُوْمِیئُ بِرَأْسِہِ قِبَلَ أَیِّ وَجْہٍ تَوَجَّہَ، وَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ ذٰلِکَ فِی الصَّلَاۃِ الْمَکْتُوبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۸۳)
سیّدنا عامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سواری پر نفلی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا،آپ اپنے سر سے اشارہ کرتے تھے (اور اس چیز کی کوئی پروا نہ کرتے کہ) جس طرف بھی آپ کا رخ ہو جاتا، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرض نماز میں ایسا نہ کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۴۵۷) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۰۹۷، ومسلم: ۷۰۱ (انظر: ۱۵۶۷۲، ۱۵۶۹۵)۔
Explanation
فوائد:… نفلی اور فرضی نمازوں میں قبلہ رخ نہ ہونے کی کن صورتوں میں گنجائش ہے؟ اس موضوع پر باب نمبر (۴) اور (۵) میں بحث کی جائے گی۔
1457
Sahih
کعبہ کے اندر نفلی نماز پڑھنے کا بیان
۔ (۱۴۵۸) عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَیْتَ فَجَلَسَ فَحَمِدَ اللّٰہِ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَکَبَّرَ وَھَلَّلَ، ثُمَّ قَامَ إِلَی مَابَیْنَیَدَیْہِ مِنَ الْبَیْتِ فَوَضَعَ صَدْرَہُ عَلَیْہِ وَخَدَّہُ وَیَدَیْہُ۔ قَالَ: ثُمَّ کَبَّرَ وَھَلَّلَ وَ دَعَا ثُمَّ فَعَلَ ذٰلِکَ بِالْأَرْکَانِ کُلِّہَا، ثُمَّ خَرَجَ فَأَقْبَلَ عَلَی الْقِبْلَۃِ وَھُوَ عَلَی الْبَابِ، فَقَالَ: ((ھَذِہِ الْقِبْلَۃُ، ھٰذِہِ الْقِبْلَۃُ۔)) مَرَّتَیْنِ أَوْثَـلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۲۱۶۶)
سیّدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اورتکبیر و تہلیل بیان کی،پھر اپنے سامنے والے بیت اللہ کے حصے کی طرف کھڑے ہوئے اور اپنا سینہ ، رخسار اور ہاتھ اس پر رکھ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تہلیل بیان کی اور دعا بھی کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمام کونوں میں یہی عمل کیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہو کر قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دو یا تین مرتبہ فرمایا: یہی قبلہ ہے،یہی قبلہ ہے۔
Takhreej
(۱۴۵۸) تخریـج:… حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۵/ ۲۲۰، وابن خزیمۃ: ۳۰۰۵، وأخرجہ البخاری: ۳۹۸، ومسلم: ۱۳۳۰ بلفظ: ان النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لما دخل البیت دعا فی نواحیہ کلھا ولم یصل فیہ حتی خرج، فلما خرج رکع رکعتین فی قبُل الکعبۃ، وقال: ((ھذہ القبلۃ۔))۔ (انظر: ۲۱۷۵۴، ۲۱۸۲۳)۔
1458
Sahih
کعبہ کے اندر نفلی نماز پڑھنے کا بیان
۔ (۱۴۵۹) عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَائٍ: أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسِ یَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُوْمَرُوْا بِالدُّخُوْلِ۔ قَالَ: لَمْ یَکُنْیَنْھٰی عَنْ دُخُولِہِ، وَلٰـکِنَّیْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: أَخْبَرَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّادَخَلَ الْبَیْتَ دَعَا فِیْ نَوَاحَیْہِ کُلِّہَا وَلَمْ یُصَلِّ فِیْہِ حَتّٰی خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی قُبُلِ الْقِبْلَۃِ۔ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَقاَلَ: ((ھٰذِہِ الْقِبْلَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۵۲)
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھاکہ کیاآپ نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاکہ تمہیں صرف بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ اس میں داخل ہونے کا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ اس میںداخل ہونے سے منع تو نہیں کرتے تھے، البتہ میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا: سیّدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کے سارے کونوںمیں دعا کی اور نماز نہیں پڑھی،یہاں تک کہ باہر تشریف لے آئے،باہر نکل کرقبلہ کے سامنے دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: یہ قبلہ ہے۔
Takhreej
(۱۴۵۹) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین و أخرج المرفوع منہ البخاری: ۳۹۸، ومسلم: ۱۳۳۰(انظر: ۲۱۷۵۴، ۲۱۸۰۹)۔
1459
Sahih
کعبہ کے اندر نفلی نماز پڑھنے کا بیان
۔ (۱۴۶۰) عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَ عَنْ بِلَالٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی الْبَیْتِ۔ قَالَ: وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسِ یَقُوْلُ: لَمْ یُصَلِّ فِیْہِ وَلٰکِنَّہُ کَبَّرَ فِی نَوَاحِیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۱۶)
عمرو بن دینار سے مروی ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی تھی۔ انھوں نے کہا: سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو یہ بیان کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں نماز نہیں پڑھی تھی،البتہ اس کے مختلف کونوں میں تکبیر کہی (اللہ کی بڑھائی بیان کی) تھی۔
Takhreej
(۱۴۶۰) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن خزیمۃ: ۳۰۰۸، والطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/ ۳۹۰، والطبرانی: ۱۰۳۳(انظر: ۲۳۹۱۹)
1460
Sahih
کعبہ کے اندر نفلی نماز پڑھنے کا بیان
۔ (۱۴۶۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ سَأَلَ بِلَالًا ھَلْ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکَعْبَۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَکَعَ رَکْعَتَیْںِ بَیْنَ السَّارِیَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۸۲)
سیّدناابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے: کہ انہوںنے بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی تھی؟ توانہوںنے جواب دیا: ہاں، دو ستونوںکے درمیان دو درکعتیں پڑھی تھیں۔
Takhreej
(۱۴۶۱) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۳۹۷، ۱۱۶۷ وفیہ: نعم رکع رکعتین بین ھاتین الساریتین …۔ قال: ثم خرج فصلی فی وجہ الکعبۃ رکعتین۔ وأخرجہ مسلم: ۱۳۲۹ (انظر: ۲۳۸۸۵، ۲۳۹۰۷، ۲۳۹۲۲)۔
1461
Sahih
کعبہ کے اندر نفلی نماز پڑھنے کا بیان
۔ (۱۴۶۲) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ الْبَیْتَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وِجَاھَکَ حِیْنَ تَدْخُلُ بَیْنَ السَّارِ یَتَیِْنَ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۶۲)
سیّدناعثمان بن طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور ان دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی، جو تیرے داخل ہوتے وقت تیرے سامنے پڑتے ہیں۔
Takhreej
(۱۴۶۲) تخریـج:… صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، أخرجہ الطیالسی: ۱۳۶۵، والطبرانی فی الکبیر : ۸۳۹۸، والبیھقی فی السنن : ۲/ ۳۲۸ (انظر: ۱۵۳۸۷)
Explanation
فوائد:… عام قارئین کے لیے درج بالا احادیث میں تناقض پایا جا رہا ہے، کیونکہ سیّدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیان کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی، لیکن سیّدنا بلال اور سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایت کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے۔ اس میں حقیقت میں تضاد کی کوئی صورت نہیں پائی جا رہی، محدثین کااس امر پر اتفاق ہے کہ اس باب میں سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کو ہی لیا جائے گا، کیونکہ ان کے پاس زیادہ علم ہے اور ان کی حدیث مثبت ہے، جس کو نفی والی حدیث پر مقدّم کیا جاتا ہے۔ پورے واقعہ کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام نے بیت اللہ میںداخل ہو کر دراوزہ بند کر دیا تھا اور ہر کوئی دعا میں مصروف ہو گیا تھا، اس لیے ممکن ہے کہ سیّدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے نہ دیکھا ہو اور سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھ لیا ہو۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ دو علیحدہ علیحدہ واقعات ہیں، جیسا امام ابن حبان نے کہا: میرے نزدیک راجح بات یہ ہے کہ ان دو احادیث کا تعلق دو مختلف واقعات سے ہے، فتح مکہ کے موقع پر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو نماز پڑھی، لیکن حجۃ الوداع کے موقع پر داخل تو ہوئے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔ (تلخیص از صحیح ابن حبان: ۷/ ۴۸۳) تطبیق کے بعد معلوم ہوا کہ کعبہ کی عمارت کے اندر فرضی اور نفلی دونوں نمازیں پڑھنا جائز ہیں، امام احمد اور امام ابوحنیفہ سمیت جمہوراہل علم کا یہی خیال ہے، کیونکہ ایسی غیر اضطراری صورت میں نفل اور فرض دونوں نمازوں کے لیے قبلہ کا ایک حکم ہے۔
1462
Sahih
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
۔ (۱۴۶۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ عَلٰی نَاقَتِہِ تَطَوُّعاً فِی السَّفَرِ لِغَیْرِ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۰۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اونٹنی پر قبلے کے علاوہ دوسری طرف رخ کر کے نفلی نماز پڑھ لیاکرتے تھے۔
Takhreej
(۱۴۶۳) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۱۰۰، ومسلم: ۷۰۲ (انظر: ۱۲۲۷۷، ۱۳۱۱۳)۔
1463
Sahih
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
۔ (۱۴۶۴) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کاَنَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یُصَلِّیَ عَلٰی رَاحِلَتِہِ تَطَوُّعًا اِسْتَقْبَلَ الْقَبِلَۃَ فَکَبَّرَ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ خَلّٰی عَنْ رَاحِلَتِہِ فَصَلّٰی حَیْثُمَا تَوَ جَّہَتْ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۴۰)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے تو ایک دفعہ قبلہ رخ ہو کر نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے، پھر اپنی سواری کوچھوڑ دیتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز جاری رکھتے، سواری جس طرف مرضی رخ کر لیتی۔
Takhreej
(۱۴۶۴) تخریـج:… حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۱۲۲۵، وانظر الحدیث السابق: ۴۳۴، ھو نفس ھذا الحدیث (انظر: ۱۳۱۰۹)۔
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کو تکبیر تحریمہ کہتے وقت ایک دفعہ قبلہ رخ ہو جانا چاہیے، اس کے بعد سفر کی نوعیت کے مطابق قبلہ سے رخ پھیر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
1464
Sahih
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
۔ (۱۴۶۵) عَنْ أَبِیْ سَعَیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ عَلٰی رَاحِلَتِہِ فِی التَّطَوُّعِ حَیْثُمَا تَوَجَّہَتْ بِہِ، یُوْمِیئُ إِیْمَائً، وَیَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنْ الرُّ کُوعِ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۲۴)
سیّدناابوسعید خدری او ر سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھ لیتے تھے۔ وہ جس طرف مرضی رخ کر لیتی تھی ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع و سجود کے لیے اشارہ کرتے تھے او ر رکوع کی بہ نسبت سجدہ کے لیے زیادہ جھک جاتے تھے۔
Takhreej
(۱۴۶۵) تخریـج:… حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۹۳، والبزار: ۶۹۱(انظر: ۱۱۷۰۱)۔
1465
Sahih
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
۔ (۱۴۶۶) وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ (مسند احمد: ۱۴۶۰۹)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۴۶۶) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ مطولا و مختصرا ابوداود: ۱۲۲۷، والترمذی: ۳۵۱(انظر: ۱۴۵۵۵)۔
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے، جبکہ سواری کا منہ مشرق کی طرف تھا، آپ اشارے کے ساتھ سجدہ اور رکوع کرتے اور رکوع کی بہ نسبت سجدے کے لیے زیادہ جھکتے تھے، میں نے آ کر سلام کہا تھا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: فلاں فلاں کام کا کیا بنا؟ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اگر مدینہ منورہ میں مشرق کی طرف منہ کیا جائے تو نمازی کی دائیں جانب کعبہ کی طرف ہو جاتی ہے۔
1466
Sahih
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
۔ (۱۴۶۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عَلٰی رَاحِلَتِہِ مُقْبِلًا مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ حَیْثُ تَوَجَّہَتْ بِہِ، وَفِیْہِ نَزَلَتْ: {فَأَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ}۔ (مسند احمد: ۴۷۱۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ سے مدینہ کی طرف آتے ہوئے اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، سواری جدھر مرضی رخ کر لیتی تھی،یہ آیت اسی مسئلے کے بارے نازل ہوئی: {أَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} (تم جس طرف بھی منہ کرواللہ کا چہرہ وہاں ہی ہے)۔
Takhreej
(۱۴۶۷) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۰۰۰، ومسلم: ۷۰۰ (انظر: ۴۴۷۰، ۴۷۱۴)۔
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں بیان کردہ صورت میں غالب اوقات یا پوری نماز میں کعبہ کی طرف نمازی کی پشت رہے گی۔
1467
Sahih
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
۔ (۱۴۶۸) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عَلٰی حِمَارٍ وَھُوَ مُوَجِّہٌ (وَفِیْ رِوَایَۃِ وَھُوَ مُتَوَجِّہٌ) إِلَی خَیْبَرَ (مسند احمد: ۴۵۲۰)
سیّدنا عبداللہ بن عمر سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رخ خیبر کی طرف تھا۔
Takhreej
(۱۴۶۸) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ مسلم: ۷۰۰، وقد تقدم: انظر: ۴۳۸۔
Explanation
فوائد:… خیبر مشرق کی سمت میں پڑتا تھا، جیسا کہ اس حدیث کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے: سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رخ خیبریعنی مشرق کی طرف تھا۔ (مسند احمد: ۵۲۰۶)
1468
Sahih