TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1463 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 10 in this chapter
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
۔ (۱۴۶۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ عَلٰی نَاقَتِہِ تَطَوُّعاً فِی السَّفَرِ لِغَیْرِ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۰۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اونٹنی پر قبلے کے علاوہ دوسری طرف رخ کر کے نفلی نماز پڑھ لیاکرتے تھے۔
1463
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۴۶۳) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۱۱۰۰، ومسلم: ۷۰۲ (انظر: ۱۲۲۷۷، ۱۳۱۱۳)۔

Related Chapters

774
1
بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے جواز کا بیان اور نبی کریم aکے علاوہ کے لیے نماز کے اجر کا آدھا ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
2
قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
Musnad Ahmad
3
Chapter: It is permissible to offer voluntary prayers atop one’s mount when travelling, no matter what direction it is facing
سفر میں نفل نماز سواری پر پڑھنے کا جواز‘سواری کا رخ چاہے جدھر بھی ہو
Sahih Muslim
4
Chapter: What Has Been Related About Salat On A Beast Whichever Direction It Is Facing
باب: سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا بیان جس طرف بھی وہ متوجہ ہو جائے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Salat Toward One's Mount
باب: سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Salat While Sitting Is Half Of The Salat While Standing
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: [What Has Been Related] About Voluntary Prayers While Sitting
باب: بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Tread On Graves, Sit On Them, (And Pray Towards Them)
باب: قبروں پر چلنے، ان پر بیٹھنے اور ان کی طرف نماز پڑھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
9
باب: آدمی اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حق رکھتا ہے
Jam e Tirmazi
10
نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
11
کعبہ کے اندر نفلی نماز پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
12
جو شخص فرض یا نفل نماز میں مشقت کے ساتھ کھڑے ہونے پر قادر ہواور بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا اجر ملے گا
Musnad Ahmad
13
اسی باب کی فصل: نبی کریم aکا بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صفت
Musnad Ahmad
14
مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
15
(5) CHAPTER. To offer the Witr prayer while riding on an animal.
نماز وتر سواری پر پڑھنے کا بیان
Sahih Bukhari
16
(17) CHAPTER. To offer Salat (prayers) while sitting.
نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان
Sahih Bukhari
17
(19) CHAPTER. Whoever cannot offer Salat (prayers) while sitting, can offer Salat while lying on his side.
جب بیٹھ کر بھی نماز پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو کروٹ کے بل لیٹ کر پڑھے
Sahih Bukhari
18
Chapter: The permissibility of offering salat while wearing shoes
جوتےپہن کر نماز پڑھنے کا جواز
Sahih Muslim
19
Chapter: The virtue of sitting in one’s prayer place after Subh, and the virtue of the masajid
صبح ( کی نماز) کے بعد اپنی نماز کی جگہ بیٹھے رہنے اور مساجد کی فضیلت
Sahih Muslim
20
Chapter: It is recommended to offer voluntary prayers in one’s house although it is permissible to offer them in the masjid, whether that is a regular voluntary prayer or any other, except for the public ritual prayers, namely, `Id prayer, the eclipse prayer, prayers for rain and Tarawih, and prayers that can only be offered in the masjid, such as greeting the masjid, and prayers that are recommended to be offered in the masjid, namely the two rak`ah following tawaf
نفل نماز گھر میں پڑھنے کا استحباب اور مسجدمیں پڑھنے کا جواز
Sahih Muslim
21
Chapter: Prohibition against sitting and praying on graves
قبر پر بیٹھنے اور اس پر نماز پڑھنے کی ممانعت
Sahih Muslim
22
CHAPTER: Praying In Camel Resting Areas.
باب: اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ( باڑے ) میں نماز پڑھنے کی ممانعت ۔
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: Praying Towards A Mount.
باب: سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: The Prayer Of The One Sitting Down.
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER: A Person Praying Voluntary Prayers In The Same Place That He Prayed The Obligatory Prayer.
باب: جس جگہ پر فرض نماز پڑھی ہو وہاں نفلی نماز پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
26
CHAPTER: Praying Obligatory Prayers On A Mount If There Is An Excuse.
باب: عذر کی وجہ سے فرض نماز سواری پر پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
27
CHAPTER: The Virtue Of Offering Voluntary Prayers At Home.
باب: نفلی نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
28
CHAPTER: The Owner Of The Animal Is More Entitled To Ride In The Front.
باب: جانور کا مالک اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
29
نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
30
بیٹھ کر نماز پڑھنے میں آدھا ثواب ہے
Sunnan Ibn e Maja
31
مکہ مکرمہ میں ہر وقت نماز پڑھنے کے جواز کا بیان۔
Sunnan Nisai
32
مسجد میں بیٹھنے سے پہلے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
جمعہ کے بعد امام کے نفلی نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
نماز عیدین سے پہلے اور اس کے بعد نفلی نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی نماز کی بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز پر فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز کی لیٹ کر پڑھنے والے کی نماز پر فضیلت۔
Sunnan Nisai
38
بیٹھ کر نماز پڑھنے کی کیفیت کا بیان۔
Sunnan Nisai
39
باب: نماز جنازہ سے فارغ ہونے کے بعد سواری پر بیٹھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Asr Prayer
باب: نماز عصر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Last Isha Prayer
باب: نماز عشاء دیر سے پڑھنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
43
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: : What Has Been Related About Prayer After Asr And After Fajr Is Disliked
باب: عصر اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: : What Has Been Related About Salat After Asr
باب: عصر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Salat Before Maghrib
باب: مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Salat Behind The Line Alone
باب: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Salat On A Khumrah
باب: چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Salat On The Hasir (Mat)
باب: چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Salat On Busut
باب: بچھونے پر نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

25
Musnad Ahmad
506
۔ (۵۰۶)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّبَیْدِیِّؓ قَالَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمیَقُوْلُ: ((لَا یَبُوْلُ أَحَدُکُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔)) وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۵۲)
سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں پہلا آدمی ہوں، جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی آدمی قبلہ رخ ہو کر پیشاب نہ کرے۔ اور میں پہلا آدمی ہوں، جس نے لوگوں کو یہ حدیث بیان کی۔
Musnad Ahmad
512
۔ (۵۱۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَہَانَا عَنْ أَنْ نَسْتَدْبِرَالْقِبْلَۃَ أَوْ أَنْ نَسْتَقْبِلَہَا بِفُرُوْجِنَا اِذَا أَہْرَقْنَا الْمَائَ، قَالَ: ثُمَّ رَأَیْتُہُ قَبْلَ مَوْتِہِ بِعَامٍ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۴۹۳۳)
سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ یا منہ کرنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی وفات سے ایک سال قبل قبلہ کی طرف رخ کر کے (قضائے حاجت کرتے ہوئے) دیکھا۔
Musnad Ahmad
513
۔ (۵۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: رَقِیْتُ یَوْمًا فَوْقَ بَیْتِ حَفْصَۃَ فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی حَاجَتِہِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَالْقِبْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۴۶۰۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن سیدہ حفصہ ؓ کے گھر کی چھت پر چڑھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ شام کی طرف منہ کر کے اور قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔
Musnad Ahmad
515
۔ (۵۱۵)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَلّٰی عَلَی لَبِنَتَیْنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۵۷۴۷)
سیدنا ابن عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ دو اینٹوں پر بیٹھ کر اور قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کر رہے تھے۔
Musnad Ahmad
1233
۔ (۱۲۳۳)۔عَنْ یَزِیْدَ بْنِ صُلَیْحٍ عَنْ ذِیْ مِخْمَرٍ وَکَانَ رَجُلًا مِنَ الْحَبْشَۃِ یَخْدُمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کُنَّا مَعَہُ فِیْ سَفَرٍ فَأَسْرَعَ السَّیْرَ حِیْنَ اِنْصَرَفَ وَکَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ لِقِلَّۃِ الزَّادِ، فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ اِنْقَطَعَ النَّاسُ وَرَائَ کَ، فَحَبَسَ وَحَبَسَ النَّاسُ مَعَہُ حَتّٰی تَکَافَلُوْا اِلَیْہِ،فَقَالَ لَہُمْ: ((ھَلْ لَکُمْ أَنْ نَہْجَعَ ہَجْعَۃً؟)) أَوْ قَالَ لَہُ قَائِلٌ، فَنَزَلَ وَنَزَلُوْا، فَقَالَ: ((مَنْ یَکْلَؤُنَا اللَّیْلَۃَ؟)) فَقُلْتُ: أَنَا جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، فَأَعْطَانِیْ خِطَامَ نَاقَتِہِ فَقَالَ: ((ہَاکَ لَا تَکُوْنَنَّ لُکَعَ۔)) قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِخِطَامِ نَاقَتِیْ، فَتَنَحَّیْتُ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَخَلَّیْتُ سَبِیْلَہَا یَرْعَیَانِ، فَاِنِّیْ کَذَاکَ أَنْظُرُ اِلَیْہِمَا حَتّٰی أَخَذَنِی النَّوْمُ فَلَمْ أَشْعُرْ بِشَیْئٍ حَتّٰی وَجَدْتُّ حَرّ َالشَّمْسِ عَلٰی وَجْہِیْ، فَاسْتَیْقَظْتُ فَنَظَرْتُ یَمِیْنًا وَشِمَالًا فَاِذَا أَنَا بِالرَّاحِلَتَیْنِ مِنِّیْ غَیْرُ بَعِیْدٍ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِخِطَامِ نَاقَتِیْ، فَأَتَیْتُ أَدْنَی الْقَوْمِ فَأَیْقَظْتُہُ، فَقُلْتُ لَہُ: أَصَلَّیْتُمْ؟ قَالَ: لَا، فَأَیْقَظَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا حَتّٰی اسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا بِلَالُ! ھَلْ لِیْ فِیْ الْمِیْضَأَۃِ؟)) یَعْنِی الْاِدَاوَۃَ، قَالَ: نَعَمْ، جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، فَأَتَاہُ بِوَضُوْئٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوْئً ا لَمْ یَلُتَّ مِنْہُ التُّرَابَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ وَھُوَ غَیْرُ عَجِلٍ ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلّٰی وَھُوَ غَیْرُ عَجِلٍ، فقَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَفْرَطْنَا، قَالَ: ((لَا، قَبَضَ اللّٰہُ أَرْوَاحَنَا وَقَدْ رَدَّہَا اِلَیْنَا وَقَدْ صَلَّیْنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۴۹)
سیدنا ذو مخمرؓ، جو حبشی آدمی تھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی خدمت کرتے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ واپس ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جلدی چلے اور آپ زادِ راہ کے کم ہونے کی وجہ سے ایسا کیا کرتے تھے، کسی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ آپ سے پیچھے رہ گئے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رک گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ رک گئے، یہاں تک سارے لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس مکمل ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: کیا تم کو یہ ضرورت ہے کہ ہم تھوڑا سا سو لیں؟ یا کسی آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایسا کرنے کی رائے دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اتر پڑے اور لوگ بھی اتر پڑے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: آج رات کون ہماری حفاظت کرے گا۔ میں (ذو مخمر) نے کہا: میں کروں گا، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے اپنی اونٹنی کی لگام تھما دی اور فرمایا: یہ پکڑ اور چھوٹو نہ بن جانا۔ پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور تھوڑا سا دور ہو کر بیٹھ گیا اور ان کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، میں ان کو دیکھ رہا تھا کہ مجھ پر نیند غالب آ گئی اور مجھے کوئی شعور نہ رہا، یہاں تک کہ میں نے اپنے چہرے پر سورج کی گرمی محسوس کی، پس میں بیدار ہوا اور دائیں بائیں دیکھا، سواریاں تو میرے قریب ہی تھیں، پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور قریبی آدمی کے پاس گیا اور اس کو جگا کر پوچھا: کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، پھر لوگ ایک دوسرے کو جگانے لگ گئے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بھی بیدار ہو گئے اور فرمایا: بلال! کیا میرے لیے برتن میںپانی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، پس وہ وضو کا پانی لے کر آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایسا وضو کیا کہ نیچے والی مٹی بھی مکمل طور پر گیلی نہ ہو سکی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے اور فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جلدی نہیں کر رہے تھے، پھر ان کو حکم دیا اور انھوں نے اقامت کہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جلدبازی سے کام نہیں لے رہے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم نے زیادتی کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو روکے رکھا اور جب اس نے لوٹایا تو ہم نے نماز پڑھ لی۔
Musnad Ahmad
1459
۔ (۱۴۵۹) عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَائٍ: أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسِ یَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُوْمَرُوْا بِالدُّخُوْلِ۔ قَالَ: لَمْ یَکُنْیَنْھٰی عَنْ دُخُولِہِ، وَلٰـکِنَّیْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: أَخْبَرَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّادَخَلَ الْبَیْتَ دَعَا فِیْ نَوَاحَیْہِ کُلِّہَا وَلَمْ یُصَلِّ فِیْہِ حَتّٰی خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی قُبُلِ الْقِبْلَۃِ۔ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَقاَلَ: ((ھٰذِہِ الْقِبْلَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۵۲)
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھاکہ کیاآپ نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاکہ تمہیں صرف بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ اس میں داخل ہونے کا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ اس میںداخل ہونے سے منع تو نہیں کرتے تھے، البتہ میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا: سیّدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کے سارے کونوںمیں دعا کی اور نماز نہیں پڑھی،یہاں تک کہ باہر تشریف لے آئے،باہر نکل کرقبلہ کے سامنے دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: یہ قبلہ ہے۔
Musnad Ahmad
1497
۔ (۱۴۹۷) عَنْ عَلَیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَبِّحُ مِنَ اللَّیْلِ وَعَائِشَۃُ مُعْتَرِضَۃٌ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند احمد: ۷۷۲)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو نفل پڑھتے تھے اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوئی ہوتی تھیں۔
Musnad Ahmad
1951
۔ (۱۹۵۱) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِی الْبَیْتِ وَالْبَابُ عَلَیْہِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَمَشٰی حَتّٰی فَتَحَ لِیْ ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی مَقَامِہِ، وَوَصَفَتْ أَنَّ الْبَابَ فِی الْقِبْلَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور دروازہ بند ہوتا تھا، پھر جب میں آتی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (آگے) چلتے اور میرے لیے دروازہ کھول کر اپنے مقام پر واپس آ جاتے تھے۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ وہ دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔
Musnad Ahmad
1971
۔ (۱۹۷۱) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَخْبَرَتْہُ قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ وَأَنَا مُعْتَرِ ضَۃٌ عَلَی السَّرِیْرِ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ۔ قُلْتُ: أَبَیْنَہُمَا جَدْرُ الْمَسْجِد؟ قَالَ: لَا، فِی الْبَیْتِ إِلٰی جَدْرِہِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس حال میں نماز پڑھتے کہ وہ آپ کے اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوئی ہوتی تھی۔ عطا کہتے ہیں: میں نے عروہ سے پوچھا: کیا ان دونوں کے درمیان مسجد کی دیوار ہوتی؟ انہوں نے کہا: نہیں، گھر میں اس کی دیوار کی طرف۔