TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان

Chapter 4 of سلام کے ساتھ نماز سے خارج ہونے اور اس کے متعلقات کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 7 · 6 Hadith
۔ (۱۸۳۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَاکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجْلِسُ بَعْدَ صَلاَتِہِ إِلاَّ قَدْرَ مَا یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلَالِ وَالإِْکْرَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۵۰۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز کے بعد یہ دعا پڑھنے کے بقدر ٹھہرتے تھے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلَالِ وَالإِْکْرَامِ۔ (اے اللہ! تو السلام ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے، اے جلال و اکرام والے تو بڑا ہی بابرکت ہے۔)
Takhreej
(۱۸۳۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۹۲ (انظر: ۲۴۳۳۸، ۲۵۹۷۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے دو مفہوم ممکن ہیں: (۱) بیٹھنے سے مراد قبلہ رخ ہو کر بیٹھنا ہے، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبلہ رخ ہی رہ کر یہ دعا پڑھتے، پھر دائیں، بائیںیا لوگوں کی طرف پھر جاتے اور دوسرے اذکار کرتے اور (۲) یہ معنی بھی ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بسااوقات نماز کے بعد اتنی دیر ہی بیٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہوں۔ بہرحال فرضی نماز کے بعد مسنون اذکار کا اہتمام انتہائی اہم عمل ہے، اگرچہ ان کے لیے اسی مقام پر بیٹھارہنا شرط نہیں ہے، بلکہ کھڑے ہو کر سنتوں یا کسی دوسرے کام میں مصروف ہو جانا بھی درست ہے۔
1839
Sahih
۔ (۱۸۴۰) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیْدَ النَّخْعِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلاً یَسْأَلُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ عَنِ انْصِرَافِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ صَلاَتِہِ عَنْ یَمِیْنِہِ کَانَ یَنْصَرِفُ أَوْ عَنْ یَسَارِہِ؟ قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْصَرِفُ حَیْثُ أَرَادَ، کَانَ أَکْثَرُ اِنْصِرَافِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ صَلاَتِہِ عَلٰی شِقِّہِ الْأَ یْسَرِ إِلٰی حُجْرَتِہِ( وَفِیْ لَفْظٍ) کَانَ عَامَّۃُ مَایَنْصَرِفُ مِنَ الصَّلاَۃِ عَلٰییَسَارِہِ إِلَی الْحُجُرَاتِ۔ (مسند احمد: ۴۳۸۳)
اسود نخعی کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اپنی نماز سے پھرنے کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا کہ آپ دائیں طرف پھرتے تھے یا بائیں طرف؟ انھوںنے جواباً کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جدھر چاہتے پھرجاتے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اکثر پھرنا اپنی بائیں طرف اپنے حجرے کی طرف ہوتا تھا۔ ایک روایت میں ہے: عام طور پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز سے پھرنا بائیں طرف حجروں کی طرف ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۸۴۰) تخریج: صحیح۔ أخرجہ ابن حبان: ۱۹۹۹ (انظر: ۳۸۷۲) وانظر الحدیث بالطریق الثانی
1840
Sahih
۔ (۱۸۴۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: لاَ یَجْعَلْ أَحَدُکُمْ لِلشَّیْطَانِ مِنْ نَفْسِہِ جُزْئً ا لَایَرٰی إِلاَّ أَنَّ حَقًّا عَلَیْہِ أَنْ لاَّ یَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ یَّمِیْنِہِ، لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنَّ أَکْثَرَ انْصِرَافِہِ لَعَلٰییَسَارِہِ۔ (مسند احمد: ۳۶۳۱)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: کوئی آدمی شیطان کے لئے اپنے نفس میں سے کوئی حصہ نہ بنائے کہ وہ یہ خیال کرنے لگے کہ اس پر حق ہے کہ وہ نماز سے صرف دائیں جانب پھرے گا، جبکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اکثر پھرنا بائیں جانب ہوتا تھا۔
Takhreej
(۱۸۴۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۰۷ (انظر: ۳۶۳۱)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قول سے پتہ چل رہا ہے کہ اگر کسی مسئلے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک سے زیادہ طریقے منقول ہوں تو کسی شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی ایک کو اپنے اوپر لازم کر دے اور دوسرے کو چھوڑ دے۔
1841
Sahih
۔ (۱۸۴۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَحَافِیًا وَمُنْتَعِلًا (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَیَنْفَتِلُ عَنْ یَّمِیْنِہِ وَیَسَارِہِ۔ (مسند احمد: ۷۳۷۸)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کر، بیٹھ کر، ننگے پاؤں اور جوتا پہن کرتمام طریقوں سے نماز پڑھتے تھے، ایک روایت میں ہے:اور نماز کے بعد دائیں بائیںدونوں طرف پھرتے تھے۔
Takhreej
(۱۸۴۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الحمیدی: ۹۹۷، والبیھقی: ۲/ ۲۹۵ (انظر: ۷۳۸۴)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر نماز پڑھنا اس صورت کو نفلی نماز پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیٹھ کر نفلی نماز ادا کرنے پر بھی پورا ثواب ملتا تھا۔ اگر فرضی نماز کو اس حدیث کا مصداق بنائیں تو بیٹھنا عذر کی بنا پر ہو گا، جیسا کہ دوسری احادیث میں ثابت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عذر کی بنا پر فرضی نماز بھی بیٹھ کر پڑھی ہے۔
1842
Sahih
۔ (۱۸۴۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْیَنْفَتِلُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ، وَرَأَیْتُہُیُصَلِّیْ حَافِیًا وَمُنْتَعِلاً، وَرَأَیْتُہُیَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا۔ (مسند احمد: ۶۶۲۷)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دائیں اور بائیں دونوں طرف پھرتے تھے، اور میں نے دیکھا کہ آپ جوتے پہن کر بھی اور ننگے پاؤںبھی نماز پڑھتے تھے، نیز میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پانی پیتے ہوئے دیکھا۔
Takhreej
(۱۸۴۳) تخریج: صحیح لغیرہ۔ ھذا الحدیث ھو ثلاثۃ احادیث: أما الحدیث الاول وھو: رایت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یصلیینفتل عن یمینہ وعن شمالہ۔ فأخرجہ ابن ماجہ: ۹۳۱۔ والحدیث الثانی وھو قولہ: روایتہیصلی حافیا ومنتعلا۔ فأخرجہ ابوداود: ۶۵۳، وابن ماجہ: ۱۰۳۸۔ والحدیث الثالث وھو: رایتہیشرب قائما وقاعدا۔ فأخرجہ الترمذی: ۱۸۸۳ (انظر: ۶۶۲۷، ۷۰۲۱)
1843
Sahih
۔ (۱۸۴۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الصَّلاَۃِ عَنْ یَمِنْیِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۸۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے اپنی دائیں طرف پھرے۔
Takhreej
(۱۸۴۴)تخریج:أخرجہ مسلم: ۷۰۸ (انظر: ۱۳۹۸۵)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سدی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد کس سمت کی طرف پھروں۔ انھوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیادہ تر دائیں جانب پھرتے تھے۔ جبکہ اوپر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث میں گزرا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیادہ تر بائیں جانب پھرتے تھے۔ جمع و تطبیق کییہ صورت ہو گی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی دائیں جانب پھرتے اور کبھی بائیں جانب، ہر ایک راوی نے اپنے مشاہدے کے مطابق جس عمل کو زیادہ پایا، اسے بیان کر دیا، ان میں سرے سے کوئی تضاد نہیں ہے۔
1844
Sahih