TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا

Chapter 6 of سلام کے ساتھ نماز سے خارج ہونے اور اس کے متعلقات کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 7 · 4 Hadith
۔ (۱۸۴۸) عَنْ أَمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَائُ حِیْنَیَقْضِیْ تَسْلِیْمَہٗ وَیَمْکُثُ فِیْ مَکَانِہِ یَسِیْرًا قَبْلَ أَنْ یَقُوْمَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۷۶)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سلام پھیرتے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں اٹھ کر چلی جاتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھنے سے پہلے اپنی جگہ میں تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے۔
Takhreej
(۱۸۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۳۷، ۸۴۹، ۸۷۰ (انظر: ۲۶۵۴۱)
1848
Sahih
۔ (۱۸۴۹) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ النِّسَائَ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَثَبَتَ مَنْ صَلّٰی ِمنَ الرِّجَالِ مَاشَائَ اللَّہُ، فَإِذَا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ الرِّجَالُ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۲۳)
۔ (دوسری سند) عہدِ نبوی میں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرضی نماز سے سلام پھیرتے تو عورتیں کھڑی ہو کر چلی جاتیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد بیٹھے رہتے،جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا، پھر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوتے تو مرد بھی اٹھ جاتے تھے۔
Takhreej
(۱۸۴۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۶۶، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۶۶۸۸)
1849
Sahih
۔ (۱۸۵۰) عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ الْجُمْعَۃَ فِی الْمَقْصُوْرَۃِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِیْ مَقَامِیْ فَصَلَّیْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَیَّ فَقَالَ: لاَ تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّیْتَ الْجُمْعَۃَ فَلاَ تَصِلْہَا بِصَلاَۃٍ حَتّٰی تَتَکَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِذٰلِکَ، لَا تُوْصِلْ صَلاَۃً بِصَلاَۃٍ حَتّٰی تَخْرُجَ أَوْتَتَکَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۹۱)
سائب بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نماز جمعہ مقصورہ میںادا کی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ میں ہی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ (اپنی منزل میں)داخل ہوئے تو مجھے بلا بھیجا، جب میں ان کے پاس گیا تو انھوں نے کہا: تو نے جو کچھ آج کیا، آئندہ اس طرح نہ کرنا، جب تو جمعہ کی نماز ادا کر لے تو اس کے ساتھ یعنی اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھ، جب تک تو کلام کر لے یا وہاں سے نکل جائے، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی حکم دیا ہے کہ تو کسی (فرضی) نماز کے ساتھ کوئی نماز نہ ملا، حتی کہ تو وہاں سے نکل جائے یا کلام کر لے۔
Takhreej
(۱۸۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۸۳ (انظر: ۱۶۸۶۶)
1850
Sahih
۔ (۱۸۵۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ إِذَا صَلّٰی أَنْ یَّتَقَدَّمَ أَوْیَتَاخَّرَ أَوْ عَنْ یَمِیْنِہِ أَوْ عَنْ شِمَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۹۲)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتم اس سے عاجز آگئے ہو کہ (فرضی) نماز پڑھنے کے بعد آگے یا پیچھےیا دائیںیا بائیں ہو جاؤ (اور پھر اگلی نماز پڑھو)۔
Takhreej
(۱۸۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، ابراہیم بن اسماعیل و حجاج بن عبید مجھولان، ولیث بن ابی سلیم ضعیف، واسانید الحدیث فیھا اضطراب لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ روایت شواہد کی بنا پر صحیح ہے، جیسا کہ امام البانی کا نظریہ ہے۔ أخرجہ ابوداود: ۱۰۰۶ (انظر: ۹۴۹۶)
Explanation
ایک صحابی رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی الْعَصْرَ، فَقَامَ رَجُلٌ یُصَلِّیْ فَرَآہُ عُمَرُ، فَقَالَ لَہُ: اِجْلِسْ، فَإِنَّمَا ھَلَکَ أَھْلُ الْکِتَابِ أَنَّہُ لَمْ یَکُن لِصَلاَتِھِمْ فَصْلٌ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( أَحْسَنَ ابْنُ الْخَطَّابِ۔)) یعنی: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی، (سلام کے بعد) ایک آدمی نے فورًا نماز پڑھنا شروع کر دی، عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے دیکھا اور کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب اس لئے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوںمیں وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن خطاب نے اچھا کیا۔ (مسند أحمد: ۵/۳۶۸، الصحیحۃ: ۲۵۴۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی الْعَصْرَ، فَقَامَ رَجُلٌ یُصَلِّیْ بَعْدَھَا فَرَآہُ عُمَرُ فَأَخَذَ بِرِدَائِہٖأَوْبِثَوْبِہٖفَقَالَ لَہُ: اِجْلِسْ، فَإِنَّمَا ھَلَکَ أَھْلُ الْکِتَابِ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ لِصَلاَتِھِمْ فَصْلٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( أَحْسَنَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: صَدَقَ) ابْنُ الْخَطَّابِ۔)) یعنی:عبداللہ بن رباح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی، ایک آدمی مزید نماز پڑھنے کے لئے اُس نماز کے بعد فوراًکھڑا ہو ا، عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے دیکھا اور اس کی چادر یا کپڑے کوپکڑ کر کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب اس لئے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں میںوقفہ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن خطاب نے اچھا کیا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: (ابن خطاب نے) سچ کہا ہے۔ (مسند أحمد: ۵/۳۶۸، وابو یعلی فی مسندہ : ۱۳/ ۱۰۷/ ۳۱۶۶، الصحیحۃ: ۳۱۷۳) امام البانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: یہ حدیث اس امر پر واضح نص ہے کہ فرضی نماز کے متصل بعد نفلی نماز ادا کرنا حرام ہے، الایہ کہ وہ نمازی خارجی کلام کر لے یا آگے پیچھے ہو جائے۔ اکثر عجمیوں اور بالخصوص ترکوں کییہ عادت ہے کہ وہ فرض نماز کے فوراً بعد اسی مقام پر سنتوں کی ادائیگی شروع کر دیتے ہیں۔ حرمین شریفین میں بھی ان کا یہی انداز ہوتا ہے کہ جونہی امام سلام پھیرتا ہے، یہ لوگ اسی مقام پر سنت رکعات کی ادائیگی کے لیے فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں۔ (صحیحہ: ۲۵۴۹) معلو م ہوا کہ فرض نماز اور اس کے بعد ادا کی جانے والی نفلی نماز کے درمیان کچھ وقفہ ہونا چاہئے، اگرچہ وہ آگے پیچھے ہو جانے یا خارجی کلام کر لینے کی صورت میں ہو۔ لیکن اس وقت یہ سنت چھوڑی جاچکی ہے، شاذ و نادر لوگ ہیں جو اس کا خیال رکھتے ہیں۔ اصل مصیبتیہ ہے کہ عوام و خواص کے ہاں کسی سنت کے زیادہ اہم یا کم اہم ہونے یا اس پر عمل کرنے یا نہ کرنے کے سلسلے میں معیار ان کا اپنا ذہن یا اپنا مسلک ہے، جس سنت کو ہمارے بڑوں نے اہمیت دیئے رکھی، وہ ہمارے نزدیک بھی اہم ہو گی اور جس سنت پر ہم سے پہلے عمل نہیں کیا گیا، اس کے بارے میں ہم بھی خیال نہیں ہوتے۔ یہاںیہ مثال ذکر کر دینا بھی مناسب ہے کہ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ جب لوگوں سے ان کی نماز کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو بے نمازییوں جواب دیتے ہیں: جھوٹ کیوں بولیں جی، نماز کے بارے میں ہم سے غفلت ہو جاتی ہے۔ قارئین کرام! آپ خود سوچیں کہ ایک آدمی نماز کے بارے میں قطعاً سنجیدہ نہیں ہے اور وہ نماز چھوڑ کر کفر اور بغاوت کا اظہار کرتا ہے، لیکن جھوٹ بولتے ہوئے اسے ڈر لگنے لگتا ہے، جو تقوی جھوٹ بولنے کے سامنے روڑے اٹکاتا ہے، وہ نماز ترک کرنے کے سامنے حائل کیوں نہیں ہوتا؟ دراصل بات یہ ہے کہ ہم اسلام کے ایک دو امور کا اہتمام کر لینے کے بعد اپنے آپ کو کامل مسلمان سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح اپنے حق میں بڑے دھوکے باز ثابت ہوتے ہیں۔
1851
Zaeef