TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3846 - سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان - روزے دار کا وصال کرنا - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 12 of 12 in this chapter
سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
۔ (۳۸۴۶) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی نَہَرٍ مِنَ السَّمَائِ، وَالنَّاسُ صِیَامٌ فِییَوْمٍ صَائِفٍ مُشَاۃً وَنَبِیُّ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَغْلَۃٍ لَہُ فَقَالَ: ((اِشْرَبُوْا اَیُّہَاالنَّاسُ!)) قَالَ: فَاَبَوْا، قَالَ: ((إِنِّی لَسْتُ مِثْلَکُمْ إِنِّیْ اَیَسْرُکُمْ، إِنِّیْ رَاکِبٌ۔)) فَاَبَوْا، قَالَ: فَثَنٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخِذَہُ فَنَزَلَ فَشَرِبَ وَشَرِبَ النَّاسُ وَمَا کَانَیُرِیْدُ اَنْ یَشْرَبَ۔ (مسند احمد: ۱۱۴۴۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (سفر کے دوران) بارانی پانی کی ایک نہر پر پہنچے، گرمی سخت تھی اور لوگ روزے سے تھے اور پیدل سفر کر رہے تھے، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! پانی پی لو۔ لیکن لوگوں نے پانی نہ پیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تم میں سب سے زیادہ آسانی والا ہوں، میں تو سوار ہوں۔ لیکن لوگ (روزہ نہ توڑنے پر) اڑے رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ران موڑی، نیچے اترے اورپانی پی لیا اور (یہ منظر دیکھ کر) لوگوں نے بھی پانی پی لیا، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ پانی پینے کا نہیں تھا۔
3846
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۸۴۶) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ اخرجہ ابویعلی: ۱۰۸۰، وابن حبان: ۳۵۵۶ (انظر: ۱۱۴۲۳)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اس باب کے دو مسائل تو بالکل واضح ہیں، ایکیہ کہ دوران رمضان سفر کے لیے جانا درست ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے موقع پر رمضان کی گیارہ تاریخ کو مدینہ منورہ سے نکلے تھے اور بیس تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچ گئے تھے، دوسرا یہ کہ رمضان کا دورانِ سفر رکھا ہوا روزہ توڑا جا سکتا ہے، درج بالا احادیث کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس روزے کو توڑا ہے، اس کی ابتداء بھی سفر سے ہوئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ ایک آدمی حضر میں روزے کا آغاز کرتا ہے، پھر وہ دن کے کسی حصے میں سفر پر چلا جاتا ہے، کیا ایسے شخص کو روزہ توڑنے کا یا پورا کرنے کا اختیار حاصل ہے؟ ظاہر بات تو یہی ہے کہ اسے یہ اختیار حاصل ہے، امام احمد اور امام اسحق کییہی رائے ہے، اس مسلک پر دلالت کرنے والی درج ذیل دلیلیں ہیں: (۱) نصوصِ شرعیہ میں سفر اور مرض کو مطلق طور پر روزہ نہ رکھنے کے لیے عذر قرار دیا گیا ہے، اب یہ قید لگانا درست نہیں ہے کہ یہ رخصت اس شخص کے لیے ہے جو سحری سے پہلے سفر شروع کر دے، کیونکہیہ تو بلا دلیل مطلق کو مقید کرنے والی بات ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس رخصت کا سبب مشقت ہے اور وہ اپنی جگہ پر برقرار ہے۔ (۲)جیسے روزے کے دوران بیمار ہو جانے والے کو روزہ چھوڑنے کا اختیار ہوتا ہے، اسی طرح کا معاملہ سفر شروع کرنے والے کا ہے۔ اب اس میں یہ فرق کرنا درست نہیں ہے کہ مرض کا روزے دار کے اختیار کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، جبکہ سفر تو اختیاری چیز ہے، کیونکہ ضروری نہیں کہ سفر اختیاری ہی ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ شریعت نے مرض اور سفر کو عذر قرار دیا ہے اور اختیار و اجبار کا کوئی فرق نہیں کیا۔ (۳)محمد بن کعب کہتے ہیں: اَتَیْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ فِیْ رَمَضَانَ وَھُوَ یُرِیْدُ سَفَرًا ، وَقَدْ رُحِلَتْ لَہٗرَاحِلَتُہٗ،وَلَبِسَثِیَابَ السَّفَرِ، فَدَعَا بِطَعَامٍ فَاَکَلَ۔ فَقُلْتُ لَہٗ: سُنَّۃٌ؟ قَالَ: سُنَّۃٌ، ثُمَّ رَکِبَ۔ میں ماہِ رمضان میں سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کے پاس آیا، جبکہ وہ سفر پر جانا چاہتے تھے، ان کی سواری تیاری کی گئی تھی اور وہ سفر کے کپڑے پہن چکے تھے، پس انھوں نے کھانا منگوا کر کھایا۔ میں نے پوچھا: کیایہ سنت ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سنت ہے، پھر وہ سوار ہو کر سفر کے لیے نکل پڑے۔(ترمذی: ۷۹۹) (۴) جعفر بن جبر کہتے ہیں: میں صحابی رسول سیدنا ابو بصرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کے ساتھ تھا، ماہِ رمضان میں وہ کشتی میں سوار ہو کر فسطاط سے نکلے، ابھی تک انھوں نے اس شہر کے گھروں سے تجاوز نہیں کیا تھا کہ انھوںنے دسترخوان منگوایا اور مجھے کہا: قریب آ جاؤ (اور کھانا کھاؤ)۔ میںنے کہا: کیا آپ کو گھر نظر نہیں آ رہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت سے بے رغبتی کرنا چاہتے ہو۔ پس انھوں نے کھانا کھا لیا۔ (ابوداود: ۲۴۱۲) اگلے باب کی پہلی حدیثیہی ہے۔ جمہور اہل علم کے نزدیک ایسے مسافر کو روزہ توڑنے کا اختیار حاصل نہیں ہے، لیکنیہ قول مرجوح ہے۔

Related Chapters

568
1
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
4
اہل فضل اور مہارت رکھنے والوں کو قرآن مجید سنانا مستحب ہے ‘چاہے پڑھنے والاسننے والے سے افضل ہو
Sahih Muslim
5
Chapter: The choice between fasting and not fasting when travelling
سفر میں روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا اختیار
Sahih Muslim
6
Chapter: It is permissible to observe a voluntary fast with an intention formed during the day before the sun reaches its Zenith, and it is permissible for one who is observing a voluntary fast to break his fast with no excuse, although it is better for him to complete it
زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کرنے اور نفلی روزہ رکھنے والے کے لیے عذر کے بغیر افطار کرنے کا جواز(روزے کو )پورا کرنا افضل ہے
Sahih Muslim
7
CHAPTER: Whoever Preferred To Fast (While On A Journey).
باب: سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے اس کے قائلین کی دلیل
Sunnan Abu Dawood
8
CHAPTER: Fasting A Day, And Not Fasting A Day.
باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن چھوڑ دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
9
سفر میں روزہ رکھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
10
سفر میں روزہ نہ رکھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
11
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنا رکھنے سے بہتر ہے۔
Sunnan Nisai
13
باب: حدیث نبوی ”سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے“ کا ذکر۔
Sunnan Nisai
14
باب: سفر میں روزہ رکھنے کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
15
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day OF Doubt
باب: شک کے دن روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About: Fasting And Breaking Fast Are Based Upon The Sighting (Of The Crescent)
باب: چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور دیکھ کر روزہ بند کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Fasting Based Upon Testimony
باب: چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The One At War To Break The Fast
باب: مجاہد اور غازی کے لیے روزہ توڑ دینے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Atonement For Breaking The Fast During Ramadan
باب: رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر عائد کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: Performing A Voluntary Fast Without Planning It The Night Before
باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Connecting Fasts Of Sha'ban To Ramadan
باب: روزہ رکھ کر شعبان کو رمضان سے ملا دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast During The Second Half Of Sha'ban For The Sake of Ramdan
باب: رمضان کی تعظیم میں شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Friday
باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast On Friday Alone
باب: خاص کر صرف جمعہ کو روزہ رکھنے کی کراہیت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Monday And Thursday
باب: سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Fast The Day Of Ashura
باب: عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Not Fast The Day Of Ashura
باب: یوم عاشوراء کا روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Fasting Consecutive Days
باب: پے در پے روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About It Being Dislike To Fast On The Day Of Fitr And The Day Of Nahr
باب: عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Days Of Tashriq
باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Al-Wisal (Continuous) Fasting Is Disliked
باب: افطار کیے بغیر مسلسل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives A Bribe And The One Who Takes A Bribe For Judgement
باب: فیصلے میں رشوت دینے اور لینے والوں پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Fasting In The Cause Of Allah
باب: دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Breaking Fast At The Time Of Fighting
باب: لڑائی کے وقت روزہ نہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
Musnad Ahmad
40
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
41
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
43
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
44
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
45
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
46
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
47
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
Musnad Ahmad
48
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
نفلی روزہ شروع کر دینے سے اس کے واجب نہ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
50
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

40
Musnad Ahmad
13013
۔ (۱۳۰۱۳)۔ وَعَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِی خَفَقَۃٍ مِنَ الدِّیْنِ وَاِدْبَارٍ مِنَ الْعِلْمِ، فَلَہُ اَرْبَعُوْنَ لَیْلَۃًیَسِیْحُہَا فِی الْاَرْضِ، اَلْیُوْمُ مِنْہَا کَالسَّنَۃِ، وَالْیَوْمُ مِنْہَا کَالشَّہْرِ، وَالْیَوُمْ مِنْہَا کَالْجُمُعَۃِ، ثُمَّ سَائِرُ اَیَّامِہِ کَاَیَّامِکُمْ ہٰذِہِ، وَلَہُ حِمَارٌ یَرْکَبُہُ، عَرْضُ مَا بَیْنَ اُذُنَیْہِ اَرْبَعُوْنَ ذِرَاعًا، فَیَقُوْلُ لِلنَّاسِ: اَنَا رَبُّکُمْ وَھُوَ اَعْوَرُ وَاِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرَ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ ک ف ر مُہَجَّأَۃٌیَقْرَؤُہُ کُلُّ مُوْمِنٍ کَاتِبٌ وَغَیْرُ کَاتِبٍ، یَرِدُ کُلَّ مَائٍ وَمَنْہَلٍ اِلَّا الْمَدِیْنَۃَ وَمَکَّۃَ، حَرَّمَہُمَا اللّٰہُ عَلَیْہِ وَقَامَتِ الْمَلَائِکَۃُ بِاَبْوَابِہَا وَمَعَہُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَالنَّاسُ فِیْ جَہْدٍ اِلَّا مَنْ تَبِعَہُ، وَمَعَہُ نَہْرَانِ اَنَا اَعْلَمُ بِہِمَا مِنْہُ، نَہْرٌ یَقُوْلُ الْجَنَّۃُ وَنَہْرٌ یَقُوْلُ النَّارُ، فَمَنْ اَدْخَلَ الَّذِیْیُسَمِّیْہِ الْجَنَّۃَ فَہُوَ النَّارُ، وَمَنْ اَدْخَلَ الَّذِیْیُسَمِّیْہِ النَّارَ فَہُوُ الْجَنَّۃُ قَالَ: وَیَبَعَثُ اللّٰہُ مَعَہُ شَیَاطِیْنَ تُکَلِّمُ النَّاسَ وَمَعَہُ فِتْنَۃٌ عَظِیْمَۃٌیَاْمُرُالسَّمَائَ فَتُمْطِرُ فِیْمَایَرَی النَّاسُ وَیَقْتُلُ نَفْسًا ثُمَّ یُحْیِیْہَا فِیْمَایَرٰی النَّاسَ لاَ یُسَلَّطُ عَلٰی غَیْرِھَا مِنَ النَّاسِ وَیَقُوْلُ: اَیُّہَاالنَّاسُ ھَلْ یَفْعَلُ مِثْلَ ہٰذَا اِلَّا الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: فَیَفِرُّ الْمُسْلِمُوْنَ اِلٰی جَبَل الدُّخَانِ بِالشَّامِ فَیَاْتِیْہِمْ فَیُحَاصِرُھُمْ فَیَشْتَدُّ حِصَارَھُمْ وَیُجْہِدُھُمْ جَہْدًا شَدِیْدًا ثُمَّ یَنْزِلُ عِیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ علیہ السلام فَیُنَادِیْ مِنَ السَّحَرِ، فَیَقُوْلُ: یَا اَیُّہَا النَّاسُ! مَا یَمْنَعُکُمْ اَنْ تَخْرُجُوْا اِلَی الْکَذَّابِ الْخَبِیْثِ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: ہٰذَا رَجُلٌ جِنِّیٌّ، فَیَنْطَلِقُوْنَ فَاِذَا ھُمْ بِعِیْسٰی بْنِ مَرْیَمَ علیہ السلام فَتُقَامُ الصَّلاَۃُ، فَیُقَالُ لَہُ: تَقَدَّمْ یَا رُوْحَ اللّٰہِ! فَیَقُوْلُ: لِیَتَقَدَّمْ اِمَامُکُمْ فَلْیُصَلِّ بِکُمْ، فَاِذَا صَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ خَرَجُوْا اِلَیْہِ قَالَ: فَحِیْنَیَرٰی الْکَذَّابُ، یَنْمَاثُ کَمَا یَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِی الْمَائِ، فَتَمْشِیْ اِلَیْہِ فَیَقْتُلُہُ، حَتّٰی اِنَّ الشَّجَرَۃَ وَالْحَجَرَ یُنَادِیْ: یَا رُوْحَ اللّٰہِ! ھٰذَا یَہُوْدِیٌّ فَلَایَتْرُکُ مِمَّنْ کَانَ یَتَّبِعُہُ اَحَدًا اِلَّا قَتَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۱۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال کا ظہور اس وقت ہوگا جب دینی حالت کمزور ہو گی اور علم اٹھ چکا ہوگا، وہ زمین میں چالیس دن گھومے گا، ان میں سے ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے، وہ ایک ایسے گدھے پر سوار ہو گاکہ جس کے دو کانوں کے درمیان چالیس ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ وہ لوگوں سے کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کانا ہوگا، جب کہ تمہارا ربّ کانا نہیں، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ یعنی ک ف ر لکھا ہوگا، اس لفظ کو ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن پڑھ لے گا، وہ ہر پانی اور ہر گھاٹ یعنی ہر جگہ پہنچے گا، ماسوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے، اللہ تعالیٰ نے اِن دونوں حرموں کو اس کے لیے حرام کر دیا ہے، ان دونوں کے دروازوں پر فرشتے حفاظت کے لیے مامور ہیں، دجال کے پاس روٹی کے پہاڑ ہوں گے، اس کی پیروی کرنے والے لوگوں کے علاوہ باقی تمام مسلمان سخت فقرو فاقہ کی حالت میں ہوں گے، اس کے پاس دو نہریں ہوں گی، میں اُن دونوں کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ ایک نہر کو جنت اور ایک نہر کو جہنم ظاہر کرے گا، لیکن وہ جسے جنت کہے گا اور اس میں جس کو بھی داخل کرے گا، وہ اس کے لیے جہنم ہوگی اور وہ جسے جہنم کہے گا اوراس میں جس کو بھی داخل کرے گا، وہ اس کے لیے جنت ہوگی، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین (جنات) کو بھی بھیجے گا، وہ لوگوں کے ساتھ ہم کلام ہوں گے، لوگوں کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے اس کے پاس ایک بہت بڑا فتنہ ہوگا، وہ آسمان کو حکم دے گا تو لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ وہ بارش بر سائے گا اور وہ ایک آدمی کو قتل کر کے اسے زندہ بھی کرے گا اور لوگ یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے، البتہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے آدمی کو قتل کر کے زندہ کرنے کی طاقت نہیں دے گا۔ وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے کہے گا: لوگو! کیا اللہ کے سوا کوئی اور بھی ایسے کام کر سکتا ہے؟ مسلمان ان حالات میں شام میں واقع پہاڑ دخان کی طرف دوڑ جائیں گے، لیکن وہ بھی ادھر جا کر ان کا محاصرہ کرے گا اورسخت محاصرہ کرے گا، وہ لوگ شدید فقر و فاقہ سے دو چا ہوجائیں گے، پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور صبح کے وقت یہ آواز دیں گے: لوگو! کیا بات ہے، تم بد ترین کذاب کے مقابلے کے لے کیوں نہیں نکلتے؟ پہلے تو لوگ سمجھیں گے کہ یہ کسی جن کی آواز ہے، لیکن جب جا کر دیکھیں گے تو وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے، اتنے نما زکی جماعت کھڑی ہو جائے گی اور ان سے کہا جائے گا: اے روح اللہ! آپ آگے تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں، لیکن وہ فرمائیں گے: تمہارا امام ہی آگے آئے اور نماز پڑھائے، وہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد دجال کی طرف نکلیں گے،جب جھوٹا دجال ان کو دیکھے گا تو وہ پانی میں گھل جانے والے نمک کی طرح گھلنے لگ جائے گا، پھر عیسیٰ علیہ السلام اس کی طرف جا کر اسے قتل کر ڈالیں گے اور حالات مسلمانوں کے حق میں اس حد تک بہتر ہوجائیں گے کہ درخت اور پتھر پکار پکار کر کہیں گے: اے روح اللہ! یہ یہودی یہاں ہے، عیسیٰ علیہ السلام دجال کے ایک ایک پیروکار کو پکڑ پکڑ کر قتل کر دیں گے۔
Musnad Ahmad
13026
۔ (۱۳۰۲۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یُفْتَحُیَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ، یَخْرُجُوْنَ عَلٰی النَّاسِ کَمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ {مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ} فَیُغَشُّوْنَ الْاَرْضَ وَیَنْحَازُ الْمُسْلِمُوْنَ عَنْہُمْ اِلٰی مَدَائِنِہِمْ وَحُصُوْنِہِمْ وَیَضُمُّوْنَ اِلَیْہِمْ مَوَاشِیَہُمْ وَیَشْرَبُوْنَ مِیَاہَ الْاَرْضِ، حَتّٰی اِنَّ بَعْضَہُمْ لَیَمُرُّ بِالنَّہْرِ فَیَشْرَبُوْا مَا فِیْہِ حَتّٰییَتْرُکُوْہُیَبَسًا، حَتّٰی اِنَّ مَنْ بَعْدَھُمْ لَیَمُرُّ بِذٰلِکَ النَّہْرِ، فَیَقُوْلُ: قَدْ کَانَ ہٰہُنَا مَائٌ مَرَّۃً حَتّٰی اِذَا لَمْ یَبْقَ مِنَ النَّاسِ اِلَّا اَحَدٌ فِیْ حِصْنٍ اَوْ مَدِیْنَۃٍ، قَالَ قَائِلُہُمْ: ھٰؤُلَائِ اَھْلُ الْاَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْھُمْ، بَقِیَ اَھْلُ السَّمَائِ قَالَ: ثُمَّ یَہُزُّ اَحَدُھُمْ حَرْبَتَہُ ثُمَّ یَرْمِیْ بِہَا اِلٰی السَّمَائِ، فَتَرْجِعُ مُخْتَضِبَۃً دَمًا لِلْبَلَائِ وَالْفِتْنَۃِ، فَبَیْنَاھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ اِذْ بَعَثَ اللّٰہُ دُوْدًا فِیْ اَعْنَاقِہِمْ کَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِیْیَخْرُجُ فِیْ اَعْنَاقِہِمْ، فَیُصْبِحُوْنَ مَوْتٰی لَایُسْمَعُ لَھُمْ حِسٌّ، فَیَقُوْلُ الْمُسْلِمُوْنَ: اَلَارَجُلٌ یَشْرِیْ نَفْسَہُ فَیَنْظُرُ مَا فَعَلَ ہٰذَا الْعَدُوُّ، قَالَ: فَیَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْہُمْ لِذٰلِکَ مُحْتَسِبًا لِنَفْسِہِ قَدْ اَظَنَّہَا عَلٰی اَنَّہُ مَقْتُوْلٌ فَیَنْزِلُ فَیَجِدُھُمْ مَوْتٰی، بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ، فَیُنَادِیْ: یَامَعْشَرَ الْمُسْلِمین! اَلَا اَبْشِرُوْا، فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ کَفَاکُمْ عَدُوَّکُمْ فَیَخْرُجُوْنَ مِنْ مَدَائِنِہِمْ وَحُصُوْنِہِمْ وَیَسْرَحُوْنَ مَوَاشِیَہُمْ فَمَا یَکُوْنُ لَھَا رَعًی اِلَّا لُحُوْمُہُمْ فَتَشْکَرُ عَنْہُ کَاَحْسَنِ مَا تَشْکرُ عَنْ شَیْئٍ مِنَ النَّبَاتِ اَصَابَتْہُ قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۵۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بالآخر یاجوج ماجوج کے لیے دیوار کھول دی جائے گی اور وہ لوگوں کی طرف نکل آئیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ} (سورۂ انبیائ: ۹۶) (وہ ہر بلندی سے تیزی سے دوڑتے آئیں گے)، وہ زمین پر چھا جائیں گے، مسلمان ان کے شر اور فتنوں سے بچنے کے لیے اپنے شہروں اور قلعوں میں بند ہوجائیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے، یاجوج ماجوج زمین سے اس قدر پانی پئیں گے کہ جب ان میں سے بعض افراد پانی کی نہرکے پاس سے گزریں گے، تو اس طرح پانی پی جائیں گے کہ نہر خشک ہو جائے گی، ان کے بعد گزرنے والے اس نہر کے بارے میں یہ کہیں گے کہ یہاں کبھی پانی ہوتا تھا،جب ہر آدمی اپنے قلعے یا شہر میں بند ہو جائے گا (اور زمین پر ان کا مکمل قبضہ ہو جائے گا تو) وہ یاجوج ماجوج میں سے ایک فرد کہے گا: ہم اہل زمین سے تو فارغ ہوگئے ہیں، البتہ آسمان والے باقی ہیں، پھر ان میں سے ایک اپنے نیزے کو حرکت دے کر آسمان کی طرف پھینکے گا تو وہ نیزہ ان کے امتحان و آزمائش کے لیے خون آلود ہو کر واپس گرے گا۔ ( یہ دیکھ کر وہ کہیں گے کہ ہم آسمان والوں پر بھی غالب آ گئے ہیں)۔ وہ اسی قسم کی کیفیات میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا کردے گا، جیسے ٹڈی دل کا لاروا ان کی گردنوں میں ہوتا ہے، اس وجہ سے وہ سارے اس طرح مر جائیں گے کہ ان کی حرکت تک بھی سنائی نہیں دے گی، مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا کوئی ایسا فرد ہے جو اپنے آپ کو قربان کرے اور یہ خبر لائے کہ یاجوج ماجوج کا کیا بنا ہے، ایک مسلمان دشمن کے حالات کو دیکھنے کے لیے اس خیال سے جائے گا کہ وہ وہاں قتل ہوجائے گا، لیکن جب وہ ان کے درمیان پہنچے گا تو دیکھے گا کہ وہ تو سب ایک دوسرے کے اوپر گرے مرے پڑے ہیں، وہ مسلمانوں کو آواز دے گا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن کا صفایا کر دیا ہے، پھر مسلمان اپنے شہروں ور قلعوں سے باہر نکل آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دیں گے، ان مویشیوں کی خوراک یاجوج ماجوج کا گوشت ہوگا، وہ اس سے پہلے کبھی گھاس کھا کھا کر اس قدر سیر نہیں ہوئے ہوں گے، جس قدر ان کا گوشت کھا کر سیر ہوں گے۔
Musnad Ahmad
2919
۔ (۲۹۱۹) عَنْ ھِشَامٍ عَنْ فَاطِمَۃَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ یُصَلُّوْنَ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِہَا اِلَی السَّمَائِ، فَقُلْتُ: آیَۃٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَطَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِیَامَ جِدًّا حَتّٰی تَجَلَّانِی الْغَشْیُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَۃً اِلٰی جَنْبِیْ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلٰی رَأْسِی الْمَائَ، فَانْصََرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ، مَا مِنْ شَیْئٍ لَمْ أَکُنْ رَأَیْتُہُ اِلَّا قَدْ رَأَیْتُہُ فِی مَقَامِی ھٰذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ اِنَّہُ قَدْ أُوْ حِیَ اِلَیَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ قَرِیْبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَالِ ’’لَا أَدْرِی أَیَّ ذٰلِکَ، قَالَتْ أَسْمَائُ‘‘ یُؤْتٰی أَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہُ مَا عِلْمُکَ بِہٰذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوْقِنُ لَا أَدْرِی أَیَّ ذَلِکَ، قَالَتْ أَسْمَائُ فَیَقُوْلُ ھُوَ مُحَمَّدٌ،ھُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ فَیُقَالُ لَہُ قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ اَنْ کُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِہِ فَنَمْ صَالِحًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِی أَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَیَقُوْلُ مَا أَدْرِی، سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْئًا فَقُلْتُ)) (مسند احمد: ۲۷۴۶۴)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، پس میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر داخل ہوئی(وہ بھی اسی نماز میں شریک تھیں)، میں نے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ نماز پڑھ رہے ہیں؟ انھوں نے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: یہ کوئی (عذاب کی) نشانی ہے؟ انہوں نے (اشارے سے)کہا:ہاں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بہت لمبا قیام کیا، حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، اس لیے میںنے اپنے پہلو میں پڑا ہوا ایک مشکیزہ پکڑ لیا اور اپنے سر پر پانی بہانے لگی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: حمد و ثناء کے بعد! کوئی چیزنہیں، جو میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی، مگر وہ اس مقام میں دیکھ لی ہے، میں نے جنت اور آگ کو بھی دیکھا ہے۔ بے شک میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ تم کو عنقریب قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی طرح آزمایا جائے گا، تم میںسے ایک کے پاس (قبر میں) آیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا: تو اس آدمی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے بارے میں کیا جانتا ہے ؟ پس ایمان یا یقین رکھنے والا کہے گا: وہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں، ہمارے پاس روشن دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے، پس ہم نے قبول کر لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی کی، تین مرتبہ یہ بات کہے گا۔ پس اس کو کہا جائے گا: تحقیق ہم جانتے تھے کہ بے شک تو ان کے ساتھ ایمان رکھتا ہے، پس تو اچھی حالت میں سو جا۔ رہا مسئلہ نفاق یا شک والے آدمی کا تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں سے کچھ کہتے ہوئے سناتھا، بس میں نے بھی وہ کہہ دیا تھا، (لیکن اب تو میں کچھ نہیں جانتا)۔
Musnad Ahmad
3027
۔ (۳۰۲۷) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْمَیِّتَ تَحْضُرُہُ الْمَلَائِکَۃُ، فَإِذَا کَانَ الَّرُجُلُ الصَّالِحُ، قَالُوْا: اُخْرُجِی أَیَّتُہَا النَّفْسُ الطَّیِّبَۃُ، کَانَتْ فِی الْجَسْدِ الطَّیِّبِ، أُخْرُجِی حَمِیْدَۃً وأَبْشِرِی بِرَوْحٍ وَرَیْحَانٍ، وَرَبٍّ غَیْرِ غَضْبَانَ، قَالَ فَـلَا یَزَالُ یُقَالُ ذَالِکَ حَتّٰی تَخْرُجَ ثُمَّ یُعْرَجُ بِھَا إِلَی السَّمَائِ، فَیُسْتَفْتَحُ لَہَا فَیُقَالُ مَنْ ہٰذَا؟ فَیُقَالُ: فُلَانٌ،فَیَقُوْلُوْنَ مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّیِّبَۃِ کَانَتْ فِی الْجَسَدِ الطَّیِّبِ، اُدْخُلِی حَمِیدَۃً بِرَوْحٍ وَرَیْحَانٍ وَرَبٍّ غَیْرِ غَضْبَانَ، قَالَ فَـلَا یَزَالُ یُقَالُ لَہَا، حَتّٰی یُنْتَہٰی بِہَا إِلَی السَّمَائِ الَّتِی فِیْہَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ وَإِذَا کَانَ الرَّجَلُ السُّوْئُ قَالُوْا: اُخْرُجِیْ أَیَّتُہا النَّفْسُ الْخَبِیْثَۃُ، کَانَتْ فِی الْجَسَدِ الْخَبِیْثِ، اُخْرُجِی ذَمِیْمَۃً وَأَبْشِرِی بِحَمِیْمٍ وَغَسَّاقٍ، وَآخَرُ مِنْ شَکْلِہِ أَزْوَاجٌ، فَـلَا یَزَالُ حَتّٰی تَخْرُجَ ثُمَّ یُعْرَجُ بِہَا إِلَی السَّمَائِ فَیُسْتَفْتَحُ لَہَا، فَیُقَالُ مَنْ ہٰذَا؟ فَیُقَالُ: فُلَانٌ، فَیُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِیْثَۃِ کَانَتْ فِی الْجَسْدِ الْخَبِیْثِ، اِرْجِعِی ذَمِیْمَۃً فَإِنَّہُ لَا یُفْتَحُ لَکِ أَبْوَابُ السَّمَائِ فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَائِ ثُمَّ تَصِیْرُ إِلَی الْقَبْرِ۔ فَیُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، فَیُقَالُ لَہُ مِثْلُ مَا قِیْلَ فِی الْحَدِیْثِ الأَوَّلِ وَیُجْلَسُ الرَّجُلُ السُّوئُ، فَیُقَالُ لَہُ مِثْلُ مَا فِی الْحَدِیْثِ الأَوَّلِ۔(مسند احمد: ۸۷۵۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی کی وفات کا وقت قریب آتا ہے تو فرشتے اس کے پاس آ جاتے ہیں، اگر وہ نیک آدمی ہو تو وہ کہتے ہیں: اے پاکیزہ روح! جو پاکیزہ جسم میں تھی، باہرآ جا، آ جا، تو قابل تعریف ہے، تجھے راحت اور خوشبووں کی بشارت ہو، تیرا ربّ تجھ پر ناراض نہیں ہے۔وہ یہ باتیں بار بار کہتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ روح باہر آ جاتی ہے۔ پھر اسے آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اس کے لیے آسمان کا دروازہ کھلوایا جاتا ہے، آگے سے پوچھا جاتا ہے: یہ کون ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں:یہ فلاں ہے، آسمان کے فرشتے کہتے ہیں: پاکیزہ روح کو مرحبا، جو ایک پاکیزہ جسم میں تھی، (اے روح!) تو قابل تعریف ہے، آ جا اور تجھے راحتوں اور خوشبوئوں اور ایسے ربّ کی بشارت ہو جو ناراض نہیں ہے۔ اسے ہر آسمان پر اسی طرح کہا جاتا ہے، حتی کہ اسے اس آسمان تک لے جاتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ ہے اور اگر مرنے والا آدمی برا (گنہگار) ہو تا ہے تو فرشتے کہتے ہیں: باہر نکل اے خبیث روح! جو ایک خبیث جسم میں تھی، نکل،تو قابل مذمت ہے، تجھے کھولتے ہوئے پانی، پیپ اور اس جیسی دوسری چیزوں کی بشارت ہو، بار بار یہ باتیں کہی جاتی ہیںیہاں تک کہ وہ باہر آ جاتی ہے۔ فرشتے اسے آسمان کی طرف لے کر جاتے ہیں اور اس کے لیے آسمان کا دروازہ کھلوایا جاتا ہے ،پوچھا جاتا ہے: یہ کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں:یہ فلاں ہے۔ آسمان کے فرشتے کہتے ہیں: خبیث روح، جو خبیث جسم میں تھی، اسے کوئی مرحبا نہیں ہے، (اے روح!) تو قابل مذمت ہے، واپس لوٹ جا، تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ اسے آسمان سے نیچے گرا دیا جاتا ہے اور وہ قبر میں جا پہنچتی ہے۔ نیک آدمی کو بٹھا کر اس سے وہ باتیں کی جاتی ہیں جو پہلی حدیث میں بیان ہو چکی ہیں اور گنہگار کو بٹھا کر اس سے بھی وہ باتیں کی جاتی ہیں جو پہلی حدیث میں بیان ہو چکی ہیں۔
Musnad Ahmad
3028
۔ (۳۰۲۸) عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی جَنَازَۃِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَہَیْنَا إِلی الْقَبْرِ، وَلَمَّا یُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَجَلَسْنَا حَوْلَہُ وَکَاَنَّ عَلٰی رُؤُوْسِنَا الطَّیْرَ، وَفِی یَدِہِ عُوْدٌ یَنْکُتُ فِی الْأَرْضِ فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((اِسْتَعْیْذُوا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔)) مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَـلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ، نَزَلَ إِلَیْہِ مَلَائِکَۃٌ مِنَ السَّمَائِ بِیْضُ الْوُجُوْہِ کَأَنَّ وَجُوْہَہُمْ الشَّمْسُ مَعَہُمْ کَفَنٌ مِنْ أَکْفَانِ الْجَنَّۃِ وَحَنُوْطٌ مِنْ حَنُوْطِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی یَجْلِسُوْا مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ یَجِیْئُ مَلَکُ الْمَوْتِ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہٖ، فَیَقُوْلُ: أَیَّتُہَا النَّفْسُ الطَّیِّبَۃُ اُخْرُجِی إِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ، قَالَ: فَتَخَرُجُ تَسِیْلُ کَمَا تَسِیْلُ الْقَطْرَۃُ مِنْ فِی السِّقَائِ، فَیَأْخُذُہَا، فَإِذَا أَخَذَہَا لَمْ یَدَعُوْہَا فِی یَدِہِ طَرْفَۃَ عَیْنٍ حَتَّی یَأْخُذُوْہَا فَیَجْعَلُوْہَا فِی ذَالِکَ الْکَفَنِ وَفِی ذَالِکَ الْحَنُوْطِ، وَیَخْرُجُ مِنْہَا کَأَطْیَبِ نَفْحَۃِ مِسْکٍ، وُجِدَتْ عَلٰی وَجْہِ الأَرْضِ، قَالَ: فَیَصْعَدُوْنَ بِہَا فَـلَا یَمُرُّوْنَ یَعْنِی بِہَا عَلٰی مَلَاٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ إِلَّا قَالُوْا: مَا ہٰذَا الرُّوْحُ الطَّیِّبُ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِہِ الَّتِی کَانُوْا یُسَمُّوْنَہُ بِہَا فِی الدُّنْیَا حَتّٰی یَنْتَہُوا بِہَا إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا فَیَسْتَفِتُحْوَن لَہُ فَیُفْتَحُ لَہُمْ، فَیُشَیِّعُہُ مِنْ کُلِّ سَمَائٍ مُقَرَّبُوْہَا إِلَی السَّمَائِ الَّتِی تَلِیْہَا حَتّٰی یُنْتَہٰی بِہِ إِلَی السَّمَائِ السَّابِعَۃِ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُکْتُبُوْا کِتَابَ عَبْدِی فِی عِلِّیِّیْنَ، وَأَعِیْدُوْہُ إِلَی الأَرْضِ فَإِنِّی مِنْہَا خَلَقْتُہُمْ وَفِیْہَا أُعِیْدُہُمْ وَمِنْھَا أُخْرِجُہُمْ تَارَۃً أُخْرَی، قَالَ: فَتُعَادُ رُوْحُہُ فِی جَسَدِہِ فَیَأْتِیْہِ مَلَکَانِ فَیُجْلِسَانِہِ، فَیَقُوْلُوْنَ لَہُ: مَنْ رَبَّکَ؟ فَیَقُوْلُ: رَبِّیَ اللّٰہُ، فَیَقُوْلُوْنَ لَہُ: مَا دِیْنُکَ؟ فَیَقُوْلُ: دِیْنِیَ الْاِسْلَامُ، فَیَقُوْلُوْنَ لَہُ: مَا ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِی بُعِثَ فِیْکُمْ؟ فَیَقُوْلُ: ہُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَیَقُوْلُوْنَ لَہُ: وَمَا عِلْمُکَ؟ فَیَقُوْلُ: قَرَأْتُ کِتَابَ اللّٰہِ فَآمَنْتُ بِہِ وَصَدَّقْتُ، فَیُنَادِیْ مُنَادٍ فِی السَّمَائِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِیْ فَأَفْرِشُوْہُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَأَلْبِسُوْہُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَافْتَحُوْا لَہُ بَابًا إِلَی الْجَنَّۃِ، قَالَ: فَیأْتِیْہِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْہِ حَسَنُ الثِّیَابِ طَیِّبُ الرِّیْحِ، فَیَقُوْلُ: أَبْشِرْ بِالَّذِی یَسُرُّکَ، ہٰذَا یَوْمُکَ الَّذِی کُنْتَ تُوْعَدُ، فَیَقُوْلُ لَہُ: مَنْ أَنْتَ، فَوَجْہُکَ الْوَجْہُ یَجِیْئُ بِالْخَیْرِ، فَیَقُوْلُ: أَنَا عَمَلُکَ الصَّالِحُ، فَیَقُوْلُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَۃَ حَتّٰی أَرْجِعَ إِلٰی أَہْلِی وَمَالِی، وَقَالَ: وَإِنَّ الْعَبْدَ الْکَافِرَ، إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ نَزَلَ إِلَیْہِ ِمَن السَّمَائِ مَلَائِکَۃٌ سُوْدُ الْوُجُوْہِ مَعَہُمْ الْمُسُوْحُ، فَیَجِْلُسْوَن مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرَ، ثُمَّ یَجِیْئُ ْمَلَکُ الْمَوْتِ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہِ فَیَقُوْلُ: أَیُّتُہَا النَّفْسُ الْخَبِیْثَۃُ! اُخْرُجِی إِلٰی سَخَطٍ مِنَ اللّٰہِ وَغَضَبٍ ، قَالَ: فَتَفَرَّقَ فِی جَسَدِہِ، فَیَنْتَزِعُہَا کَمَا یُنْتَزَعُ السَّفُّوْدُ مِنَ الصُّوْفِ الْمَبْلُوْلِ فَیَأْخُذُہَ، فَإِذَا أَخَذَہَا لَمْ یَدَعُوْہَا فِی یَدِہٖ طَرْفَۃَ عَیْنٍ حَتّٰی یَجْعَلُوْہَا فِی تِلْکَ الْمُسُوْحِ وَیَخْرُجُ مِنْہَا کَأَنْتَنِ رِیْحٍ وُجِدَتْ عَلٰی وَجْہِ ِالأَرْضِ فَیَصْعَدُوْنَ بِہَا، فَـلَا یَمُرُّوْنَ بِہَا عَلٰی مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ إِلَّا قَالُوْا: مَا ہٰذَا الرُّوْحُ الْخَبِیْثُ، فَیَقُوْلُوْنَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَقْبِحِ أَسْمَائِہِ الَّتِی کَانَ یُسَمّٰی بِہَا فِی الدُّنْیَا حَتّٰی یُنْتَھٰی بِہِ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَیُسْتَفْتَحُ لَہُ، فَـلَا یُفْتَحُ لَہُ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَابُ السَّمَائِ ، وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ۔} فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُکْتُبُوْا کِتَابَہُ فِی سِجِّیْنٍ فِی الْأَرْضِ السُّفْلٰی فَتُطْرَحُ رُوْحُہُ طَرْحًا، ثُمَّ قَرَئَ: {وَمَنْ یُشْرِکَ بِاللّٰہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ، فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِی بِہِ الرَّیْحُ فِی مَکَانٍ سَحِیْقٍ۔} فَتُعَادُ رُوْحُہُ فِی جَسَدِہِ وَیَأْتِیْہِ مَلَکَانِ فَیُجْلِسَانِہِ فَیَقُوْلَانِ لَہُ: مَنْ رَبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: ہَاہْ ہَاہْ، لَا أَدْرِی، فَیَقُوْلَانِ: مَا دِیْنُکَ؟ فَیَقُوْلُ: ہَاہْ ہَاہْ لَا أَدْرِی، فَیَقُوْلَانِ لَہُ: مَا ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِی بُعِثَ فِیْکُمْ؟ فَیَقُوْلُ: ہَاہْ ہَاہْ لَا أَدْرِی، فَیُنَادِی مُنَادٍ مِنَ السَّمَائِ أَنْ کَذَبَ فَأَفْرِشُوْا لَہُ مِنَ النَّارِ وَافْتَحُوْا لَہُ بَابًا إِلَی النَّارِ، فَیأْتِیْہِ مِنْ حَرِّہَا وَسُمُوْمِہَا، وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِ قَبْرُہُ حَتّٰی یَخْتَلِفَ فِیْہِ أَضْلَاعُہُ، وَیأْتِیْہِ رَجُلٌ قَبِیْحُ الْوَجْہِ قَبِیْحُ الثِّیَابِ مُنْتِنُ الرِّیْحِ، فَیَقُوْلُ: أَبْشِرْ بِالَّذِی یَسُوْئُ کَ، ہٰذَا یَوْمُکَ الَّذِی کُنْتَ تُوْعَدُ، فَیَقُوْلُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْہُکَ الْوَجْہُ یَجِیْئُ بِالشَرِّ، فَیَقُوْلُ: أَنَا عَمَلُکَ الْخَبِیْثُ، فَیَقُوْلُ: رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۳۳)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ایک انصاری کے جنازہ میں گئے، جب قبر پر پہنچے تو دیکھا کہ ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے، ایسے لگتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی،اس کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زمین کو کریدنے لگ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور دو تین بار فرمایا: عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن آدمی جب اس دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے مراحل میں ہوتاہے توآسمان سے سورج کی طرح کے انتہائی سفید چہروں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، ان کے پاس جنت کا کفن اورخوشبو ہوتی ہے، وہ آ کر اس آدمی کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے پاکیزہ روح! اللہ کی بخشش اور رضامندی کی طرف نکل۔ اس کی روح آرام سے بہتی ہوئی یوں نکل آتی ہے، جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکل آتا ہے۔ جنت کے فرشتے اس روح کو موت کے فرشتے کے ہاتھوں میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ فوراًاسے وصول کر کے جنت والے کفن اور خوشبو میں لپیٹ دیتے ہیں، اس سے روئے زمین پر کستوری کی عمدہ ترین خوشبو جیسی مہک آتی ہے، فرشتے اسے لے کر اوپر جاتے ہیں اور وہ فرشتوں کی جس جماعت اور گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں،وہ پوچھتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ اسے دنیا میں جن بہترین ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ فرشتے ان میں سے سب سے عمدہ نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے، یہاں تک وہ اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور اس کے لیے دروازہ کھلواتے ہیں، ان کے کہنے پر دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ پھر ہر آسمان کے مقرَّب فرشتے اس روح کو اوپر والے آسمان تک چھوڑ کر آتے ہیں، اس طرح اسے ساتویں آسمان تک لے جایاجاتا ہے۔ اللہ تعالٰ فرماتا ہے: میرے بندے کے (نامۂ اعمال والی) کتاب عِلِّیِّیْنَ میں لکھ دو اور اسے زمین کی طرف واپس لے جائو، کیونکہ میں نے اس کو اسی سے پیدا کیا ہے، اس لیے میں اس کو اسی میں لوٹائوں گا اور پھر اس کو دوسری مرتبہ اسی سے نکالوں گا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:پھر اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے:میرا رب اللہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوت کیا گیا تھا ، وہ کون ہے؟وہ جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ کہتے ہیں: یہ باتیں تمہیں کیسے معلوم ہوئیں؟وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور میں نے اس کی تصدیق کی، اس کے بعد آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتے ہوئے کہتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا ہے، اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دواور اس کے لیے جنت کی طرف سے ایک دروازہ کھول دو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اس کی طرف جنت کی ہوائیں اورخوشبوئیں آنے لگتی ہیں اور تاحدِّ نظر اس کے لیے قبر کو فراخ کر دیا جاتا ہے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے پاس ایک انتہائی حسین و جمیل، خوش پوش اور عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور کہتا ہے: تمہیں ہر اس چیز کی بشارت ہو جوتمہیں اچھی لگے، یہی وہ دن ہے جس کا تیرے ساتھ وعدہ تھا۔وہ قبر والا پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ لگتا ہے، جو خیر کے ساتھ آتا ہے۔ وہ جواباً کہتا ہے: میں تیرا نیک عمل ہوں۔ وہ کہتا ہے: اے میرے ربّ! قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل اور مال کی طرف لوٹ سکوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر آدمی جب اس دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتاہے تو آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں، ان کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں، وہ آ کر اس کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے خبیث روح! اللہ کے غصے اور ناراضگی کی طرف نکل آ، وہ اس کے جسم میں بکھر جاتی ہے۔پھر فرشتہ اسے یوں کھینچتا ہے جیسے کانٹے دار سلاخ کو تر اون میں سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔ جب فرشتہ اسے نکال لیتا ہے تو دوسرے فرشتے اس روح کو اس کے ہاتھ میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ اسے فوراً ٹاٹوں میں لپیٹ لیتے ہیں، روئے زمین پر پائے جانے والی سب سے گندی بدبو اس سے آتی ہے، فرشتے اسے لے کر اوپر کو جاتے ہیں۔ وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ اس آدمی کو دنیا میں جن برے ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ ان میں سے سب سے برا اور گندا نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے، یہاں تک کہ فرشتے اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھلوانے کا کہتے ہیں، لیکن اس کے لیے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَابُ السَّمَائِ ، وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ۔} (سورۂ اعراف:۴۰) یعنی: اوپر جانے کی خاطر ان کی روحوں کے لیے آسمان کے درواز ے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں اس وقت تک نہ جا سکیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے سے نہ گزر جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس کے (نامۂ اعمال) کی کتاب زمین کی زیریں تہ سِجِّیْنٍ میں لکھ دو۔ پھر اس کی روح کو زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے۔اس موقعہ پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَمَنْ یُشْرِکَ بِاللّٰہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ، فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِی بِہِ الرَّیْحُ فِی مَکَانٍ سَحِیْقٍ۔}(سورۂ حج:۳۱) یعنی: اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، وہ گویا آسمان سے گر پڑا اور اسے پرندوں نے اچک لیا یا ہوا اسے اڑا کر دور دراز لے گئی۔ اس کے بعد اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے اور دو فرشتے اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں:تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں تونہیں جانتا۔وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں تو نہیں جانتا۔وہ پوچھتے ہیں: یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوث کیا گیا تھا، وہ کون ہے؟وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں نہیں جانتا۔ آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے: یہ جھوٹا ہے، اس کے لیے جہنم کا بستر بچھا دو اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، پس وہاں سے اس کی طرف جہنم کی حرار ت اور بدبو آنے لگتی ہے۔ اس کی قبر اس پر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں۔ایک انتہائی بدشکل، بدصورت، گندے لباس والا بدبودار آدمی اس کے پاس آ کر کہتا ہے: تجھے ہر اس چیز کی بشارت ہو جو تجھے بری لگتی ہے، یہ وہی دن ہے کہ جس کا تجھ سے وعدہ کا جاتا تھا۔وہ پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ ہے جو شرّ کے ساتھ آتا ہے؟ وہ کہتا ہے: میں تیرا برا عمل ہوں۔ وہ قبر والا کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت قائم نہ کرنا۔
Musnad Ahmad
5219
۔ (۵۲۱۹)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِجَارِیَۃٍ سَوْدَائَ أَعْجَمِیَّۃٍ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ عَلَیَّ عِتْقَ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیْنَ اللّٰہُ؟)) فَأَشَارَتْ إِلَی السَّمَائِ بِإِصْبَعِہَا السَّبَّابَۃِ، فَقَالَ لَہَا: ((مَنْ أَنَا؟)) فَأَشَارَتْ بِإِصْبَعِہَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِلَی السَّمَائِ، أَیْ أَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((أَعْتِقْہَا۔)) (مسند أحمد: ۷۸۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ایک سیاہ فام عجمی لونڈی لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک مومن گردن کو آزاد کرنا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے جواباً انگشت ِ شہادت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیتے ہوئے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اشارہ کیا اور پھر آسمان کی طرف، دراصل وہ یہ کہنا چاہتی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو۔
Musnad Ahmad
5239
۔ (۵۲۳۹)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَکَمِ نِ السُّلَمِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنَہٗ فِیْ حَدِیْثٍ لَہٗ قَالَ: وَکَانَتْ لِی جَارِیَۃٌ تَرْعٰی غَنَمًا لِی فِی قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّۃِ، فَاطَّلَعْتُہَا ذَاتَ یَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَہَبَ بِشَاۃٍ مِنْ غَنَمِہَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی آدَمَ آسَفُ کَمَا یَأْسَفُونَ لٰکِنِّی صَکَکْتُہَا صَکَّۃً، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَظَّمَ ذٰلِکَ عَلَیَّ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَفَلَا أُعْتِقُہَا؟ قَالَ: ((ائْتِنِی بِہَا)) فَأَتَیْتُہُ بِہَا فَقَالَ لَہَا: ((أَیْنَ اللّٰہُ؟)) فَقَالَتْ: فِی السَّمَائِ، قَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ، قَالَ: ((أَعْتِقْہَا فَإِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: ((ہِیَ مُؤْمِنَۃٌ فَأَعْتِقْہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۱۶۵)
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: میری ایک لونڈی تھی، وہ احد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن جب میں نے اس پر چھاپہ مارا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری لے گیا تھا، میں انسان ہی ہوں اور انسانوں کی طرح غصے ہوتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو زور سے مارا، جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ واقعہ سنایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مارنے کو میرے حق میں بہت بڑا (جرم) خیال کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لاؤ۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمانوں میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مؤمنہ ہے۔ راوی نے ایک بار یوں روایت بیان کی: یہ مؤمنہ ہے، تو اس کو آزاد کر دے۔
Musnad Ahmad
5569
۔ (۵۵۶۹)۔ حَدَّثَنَا أَبُو التَّیَّاحِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ خَنْبَشٍ کَیْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ کَادَتْہُ الشَّیَاطِینُ؟ قَالَ: جَائَ تِ الشَّیَاطِینُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ الْأَوْدِیَۃِ، وَتَحَدَّرَتْ عَلَیْہِ مِنْ الْجِبَالِ، وَفِیہِمْ شَیْطَانٌ مَعَہُ شُعْلَۃٌ مِنْ نَارٍ، یُرِیدُ أَنْ یُحْرِقَ بِہَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَرُعِبَ، قَالَ جَعْفَرٌ: أَحْسَبُہُ قَالَ جَعَلَ یَتَأَخَّرُ، قَالَ: وَجَائَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! قُلْ، قَالَ: ((مَا أَقُولُ۔)) قَالَ: قُلْ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ الَّتِی لَا یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَائِ، وَمِنْ شَرِّ مَا یَعْرُجُ فِیہَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِی الْأَرْضِ، وَمِنْ شَرِّ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ، یَا رَحْمٰنُ۔)) فَطَفِئَتْ نَارُ الشَّیَاطِیْن وَھَزَمَھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند أحمد: ۱۵۵۴۰)
۔ ابو تیاح کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن خنبش تمیمی سے پوچھا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رات کو کیا کیا تھا جس رات شیاطین آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب آئے تھے؟ انھوں نے کہا: اس رات کو شیاطین مختلف وادیوں اور پہاڑوں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ٹوٹ پڑے، ان میں ایک ایسا شیطان بھی تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا اور وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کو جلانا چاہتا تھا۔ لیکن وہ مرعوب ہو گیا، جعفر راوی نے کہا کہ وہ پیچھے ہٹ گیا، اتنے میں جبریل علیہ السلام آگئے اور کہا: اے محمد! کہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کیا کہوں؟ اس نے کہا: یہ دعا پڑھو: أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ …… وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ طَارِقٍ إِلَّاطَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ، یَا رَحْمٰنُ۔ (میں اللہ کے مکمل کلمات، جن سے کوئی نیک تجاوز کر سکتا ہے نہ بد، کی پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کے شرّ سے جسے اس نے پیدا کیا اور اس چیز کے شرّ سے جو آسمان سے اترتی ہے اور اس چیز کے شرّ سے جو آسمان میں چڑھ جاتی ہے اور رات کو آنے والے کے شرّ سے، الا یہ کہ وہ خیر کے ساتھ آئے، اے رحمن!) (نتیجہ یہ نکلا کہ) شیاطین کی آگ بجھ گئی اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے انھیں شکست دے دی۔
Musnad Ahmad
5721
۔ (۵۷۲۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیُّھَا النَّاسُ! إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لََا یَقْبَلُ اِلَّا طَیِّبًا، وَإِنَّ اللّٰہَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا أَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِیْنَ، فَقَالَ: {یَاأَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْامِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا إِنِّی بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ} وَقَالَ: {یَاأَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَارَزَقْنَاکُمْ} ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَثُمَّ یَمُدُّیَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ، یَارَبِّ! یَارَبِّ! وَمَطْعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بِالْحَرَامِ فَأَنّٰییُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۳۳۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو: اللہ تعالیٰ خود پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کو وہی حکم دیا ہے جو اپنے رسولوں کو دیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے پیغمبرو!پاکیزہ چیزوں سے کھائو اور نیک عمل کرو، جو تم عمل کرتے ہو، بیشک میںاس کو جانتا ہوں۔ (سورۂ مومنون: ۵۱) نیزفرمایا: اے مومنو! تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، جو ہم نے تم کو بطورِ رزق عطا کی ہیں۔ (سورۂ بقرہ: ۱۷۲) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص کا ذکر کیا، جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پراگندہ اور غبار آلودہیں اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعا کرتا ہے: اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! جبکہ اس کا کھانا، پینا، پہننا اور غذا حرام ہے، تو پھر اس کی دعا کیسے قبول کی جائے۔