TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بے آباد زمین آباد کرنے والے کی فضیلت کا بیان

Chapter 1 of کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 6 · 5 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۶۱۶۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَحْیَا أَرْضًا مَیْتَۃً فَلَہُ فِیْہَایَعْنِیْ أَجْرًا وَمَا أَکَلَتِ الْعَوَافِیْ مِنْہَا فَہُوَ لَہُ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۲۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص مردہ زمین آباد کرے گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور رزق طلب کرنے والے جو جان دار بھی وہاں سے کھائیں گے، اس کے لیےیہ صدقہ ہو گا۔
Takhreej
(۶۱۶۰) حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۰۷۳، والترمذی: ۱۳۷۹، والنسائی: ۵۷۵۷ (انظر: ۱۴۳۷۱)
Explanation
فوائد:… مردہ زمین سے مراد وہ زمین ہے، جو کسی کی ملکیت نہ ہو، نہ عوام میں سے کسی کی اور نہ حکومت کی۔
6160
Sahih
۔ (۶۱۶۱)۔ وَعِنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلٰی أَرْضٍ فَہِیَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۹۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی زمین پر دیوار کا گھیرا کر لے گا تو وہ اسی کی ہو گی۔
Takhreej
(۶۱۶۱) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۷/ ۷۶، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۵۷۶۳، والبیھقی: ۶/ ۱۴۸، والطیالسی: ۹۰۶ (انظر: ۲۰۱۳۰)
Explanation
فوائد:… اس گھیراؤ سے مراد زمین کو زندہ کرنا اور آباد کرنا ہے، یہ معنی نہیں ہے کہ چاردیواری بنا کر قبضہ کر لیا جائے اور اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کیا جائے۔
6161
Sahih
۔ (۶۱۶۲)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ْبِن جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلٰی أَرْضٍ فَہِیَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۰۱)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی زمین پر دیوار کا گھیرا کر لے گا تو وہ اسی کی ہو گی۔
Takhreej
(۶۱۶۲) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۰۲۳۸)
6162
Sahih
۔ (۶۱۶۳)۔ عَنْ عَائِشَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَمَرَ أَرْضًا لَیْسَتْ لِأَحَدٍ فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا)) (مسند احمد: ۲۵۳۹۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایسی زمین آباد کرے، جو کسی کی ملکیت نہ ہو تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔
Takhreej
(۶۱۶۳) تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۳۳۵ (انظر: ۲۴۸۸۳)
6163
Sahih
۔ (۶۱۶۴)۔ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَکْحُوْلٍ رَفَعَہُ قَالَ: ((أَیُّمَا شَجَرَۃٍ أَظَلَّتْ عَلٰی قَوْمٍ فَصَاحِبُہُ بِالْخِیَارِ مِنْ قَطْعِ مَا أَظَلَّ أَوَ أَکْلِ ثَمْرِھَا)) (مسند احمد: ۱۶۱۶۴)
۔ مکحول تابعی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو درخت کسی قوم پر سایہ کرنے لگے تو سائے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سایہ کرنے والے حصے کو کاٹ دے یا اس کا پھل کھا لے۔
Takhreej
(۶۱۶۴) اسنادہ ضعیف لارسالہ، مکحول الشامی تابعی، لم یدرک النبیV۔ أخرجہ (انظر: ۱۶۰۶۷)
6164
Zaeef