TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب - کتاب - Book 99 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 99 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 26 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

26 Hadith · 6 Chapters
بے آباد زمین آباد کرنے والے کی فضیلت کا بیان
۔ (۶۱۶۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَحْیَا أَرْضًا مَیْتَۃً فَلَہُ فِیْہَایَعْنِیْ أَجْرًا وَمَا أَکَلَتِ الْعَوَافِیْ مِنْہَا فَہُوَ لَہُ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۲۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص مردہ زمین آباد کرے گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور رزق طلب کرنے والے جو جان دار بھی وہاں سے کھائیں گے، اس کے لیےیہ صدقہ ہو گا۔
Takhreej
(۶۱۶۰) حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۰۷۳، والترمذی: ۱۳۷۹، والنسائی: ۵۷۵۷ (انظر: ۱۴۳۷۱)
Explanation
فوائد:… مردہ زمین سے مراد وہ زمین ہے، جو کسی کی ملکیت نہ ہو، نہ عوام میں سے کسی کی اور نہ حکومت کی۔
6160
Sahih
بے آباد زمین آباد کرنے والے کی فضیلت کا بیان
۔ (۶۱۶۱)۔ وَعِنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلٰی أَرْضٍ فَہِیَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۹۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی زمین پر دیوار کا گھیرا کر لے گا تو وہ اسی کی ہو گی۔
Takhreej
(۶۱۶۱) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۷/ ۷۶، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۵۷۶۳، والبیھقی: ۶/ ۱۴۸، والطیالسی: ۹۰۶ (انظر: ۲۰۱۳۰)
Explanation
فوائد:… اس گھیراؤ سے مراد زمین کو زندہ کرنا اور آباد کرنا ہے، یہ معنی نہیں ہے کہ چاردیواری بنا کر قبضہ کر لیا جائے اور اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کیا جائے۔
6161
Sahih
بے آباد زمین آباد کرنے والے کی فضیلت کا بیان
۔ (۶۱۶۲)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ْبِن جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلٰی أَرْضٍ فَہِیَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۰۱)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی زمین پر دیوار کا گھیرا کر لے گا تو وہ اسی کی ہو گی۔
Takhreej
(۶۱۶۲) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۰۲۳۸)
6162
Sahih
بے آباد زمین آباد کرنے والے کی فضیلت کا بیان
۔ (۶۱۶۳)۔ عَنْ عَائِشَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَمَرَ أَرْضًا لَیْسَتْ لِأَحَدٍ فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا)) (مسند احمد: ۲۵۳۹۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایسی زمین آباد کرے، جو کسی کی ملکیت نہ ہو تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔
Takhreej
(۶۱۶۳) تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۳۳۵ (انظر: ۲۴۸۸۳)
6163
Sahih
بے آباد زمین آباد کرنے والے کی فضیلت کا بیان
۔ (۶۱۶۴)۔ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَکْحُوْلٍ رَفَعَہُ قَالَ: ((أَیُّمَا شَجَرَۃٍ أَظَلَّتْ عَلٰی قَوْمٍ فَصَاحِبُہُ بِالْخِیَارِ مِنْ قَطْعِ مَا أَظَلَّ أَوَ أَکْلِ ثَمْرِھَا)) (مسند احمد: ۱۶۱۶۴)
۔ مکحول تابعی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو درخت کسی قوم پر سایہ کرنے لگے تو سائے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سایہ کرنے والے حصے کو کاٹ دے یا اس کا پھل کھا لے۔
Takhreej
(۶۱۶۴) اسنادہ ضعیف لارسالہ، مکحول الشامی تابعی، لم یدرک النبیV۔ أخرجہ (انظر: ۱۶۰۶۷)
6164
Zaeef
جو آدمی درخت لگا کر یا کنواں کھود کر زمین کو آباد کرتا ہے، اس کی حد ملکیت کتنی ہو گی؟
۔ (۶۱۶۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَرِیْمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُوْنَ ذِرَاعًا مِنْ حَوَالِیْہَا کُلِّہَا لِأَعْطَانِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، وَابْنُ السَّبِیْلِ أَوَّلُ شَارِبٍ، وَلاَ یُمْنَعُ فَضْلُ مَائٍ لِیُمْنَعَ بِہِ الْکَلَأُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۱۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنویں کا احاطہ اس کی تمام اطراف سے چالیس ہاتھ ہو گا، یہ جگہ اونٹوں اور بکریوں کے بیٹھنے کے لیے ہو گی اور ایسے کنویں سے پینے والا پہلا شخص مسافر ہو گا اور زائد پانی سے اس مقصد کے لیے نہیں روکا جائے گا کہ اس کے ذریعے سے گھاس سے منع کر دیا جائے۔
Takhreej
(۶۱۶۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ البیھقی: ۶/ ۱۵۵ (انظر: ۱۰۴۱۱)
Explanation
فوائد:… جب کوئی آدمی مردہ زمین میں کنواں کھودے گا تو اس کے ارد گرد چالیس چالیس ہاتھ تک جگہ از خود اس کا احاطہ بن جائے گی،یہ جگہ اونٹوں اور بکریوں کے بیٹھنے کے لیے استعمال ہو گی، کوئی دوسرا شخص اس احاطے کو ذاتی استعمال میں نہیں لا سکے گا۔ یہ نبی کریمa کا دور رس اور حکیمانہ فیصلہ ہے۔ ’’مسافر پینے والا پہلا شخص ہو گا‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ تمام حاضرین میں مسافر کو ترجیح دی جائے گی اور کنویں کے مالک کو اس کو روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہو گا۔ آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ کسی علاقے میں جانوروں کے چرنے کے لیے گھاس وغیرہ پائی جاتی ہے، لیکن وہاں پانی کا صرف ایک چشمہ یا کنواں ہے یا محدود پانی ہے، اب لوگ اس علاقے میں اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے تب لے جائیں گے، جب ان کو وہاں کا پانی استعمال کرنے کا حق ہو گا، اگر کوئی آدمی اس نیت سے اس پانی پر قبضہ کر کے بیٹھ جائے تاکہ لوگ اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے سرے سے اس علاقے میں ہی نہ جائیں تو ایسے آدمی کو آپa ایسا کرنے سے روک رہے رہیں۔
6165
Sahih
جو آدمی درخت لگا کر یا کنواں کھود کر زمین کو آباد کرتا ہے، اس کی حد ملکیت کتنی ہو گی؟
۔ (۶۱۶۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی فِی النَّخْلَۃِ أَوِ النَّخْلَتَیْنِ أَوِ الثَّلَاثِ فَیَخْتَلِفُوْنَ فِیْ حُقُوْقِ ذٰلِکَ، فَقَضٰی أَنَّ لِکُلِّ نَخْلَۃٍ مِنْ أُوْلٰئِکَ مَبْلَغَ جَرِیْدَتِہَا حَیِّزٌ لَھَا۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایکیا دو یا تین کھجور کے درختوں کے بارے میںیہ فیصلہ کیا تھا، جبکہ لوگ ان کے حقوق کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہیہ کیا کہ ہر کھجور کی ٹہنیاں جہاں تک پہنچ رہی ہیں، وہ جگہ اسی درخت کا احاطہ ہو گا۔
Takhreej
(۶۱۶۶) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۸۸ (انظر: ۲۲۷۷۸)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو سعید خدریbسے مروی ہے کہ کھجور کے احاطے کے بارے میں دو آدمی جھگڑا لے کر نبی کریمa کے پاس آئے، آپ a نے حکم دیا کہ کھجور کے اس درخت کی پیمائش کی جائے، پس وہ سات ہاتھ نکلا، ایک روایت میں ہے کہ وہ درخت پانچ ہاتھ بلند تھا، پس آپ a نے اس کے مطابق فیصلہ کر دیا۔ (ابوداود: ۳۶۴۰) کھجور کے احاطے کے بارے میںیہ دو روایات ہیں، ان میں جمع و تطبیق کی دو صورتیں ہیں: (۱) یہ دو مختلف واقعات ہیں اور جہاں جو ضابطہ مناسب ہو گا، اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے گا۔ (۲) سیدنا عبادہ b کی حدیث ، سیدنا ابو سعیدb کی حدیث کی تفسیر بیان کر رہی ہے، یعنی آپa نے حکم دیا کہ کھجور کی ٹہنی کو ایک ہاتھ کے بقدر شکل دے کر اس کے ذریعے کھجور کی پیمائش کی جائے۔ پہلی صورت زیادہ مناسب ہے اور وہ اس طرح کہ لمبے درخت کا فیصلہ سیدنا عبادہ b کی حدیث کی روشنی میں اور چھوٹے درخت کا فیصلہ سیدنا ابو سعیدb کی حدیث کی روشنی میں کیا جائے گا۔ یہ کھجور کے درخت کا احاطہ ہو گا، اگر کوئی دوسرا آدمی اس زمین سے مستفید ہونا چاہے تو اس کا حق اس احاطے کے بعد ہو گا۔
6166
Sahih
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
۔ (۶۱۶۷)۔ عَنْ اَبِیْ خِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُسْلِمُوْنَ شُرَکَائُ فِیْ ثَلَاثٍ، فِیْ الْمَائِ وَالْکَلَأِ وَالنَّارِ)) (مسند احمد: ۲۳۴۷۱)
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں مسلمان برابر کے شریک ہیں، پانی ، گھاس اور آگ میں۔
Takhreej
(۶۱۶۷) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۴۷۷ (انظر: ۲۳۰۸۲)
Explanation
فوائد:… پانی کا مسئلہ حدیث نمبر (۵۸۲۳)میں گزر چکا ہے۔ امام خطابی نے کہا: اس سے مراد وہ گھاس ہے، جو ایسی زمین میں اگی ہو، جو کسی کی ملکیت نہیں ہے، کسی کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس گھاس سے روکے، اور اگر وہ گھاس کسی کی ملکیت والی زمین اُگی ہو تو اس سے اجازت لینا پڑے گی۔ آگ کی اشتراکیت سے مراد جلتی ہوئی آگ سے چراغ یا مزید جلانا اور اس سے روشنی حاصل کرنا ہے، اسی طرح غیر مملوکہ زمین میں اگنے والے درختوں کی لکڑیاں حاصل کرنا۔
6167
Sahih
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
۔ (۶۱۶۸)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسٰی اَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو (بْنِ الْعَاصِ) کَتَبَ إِلٰی عَامِلٍ لَہُ عَلٰی أَرْضٍ لَہُ أَنْ لَا تَمْنَعَ فَضْلَ مَائِ کَ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَائِ لِیَمْنَعَ بِہِ الْکَلَأَ مَنَعَ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَضْلَہُ۔)) (مسند احمد:۶۷۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی زمین کے ایک عامل کو لکھا کہ زائد پانی سے کسی کو نہ روکنا‘ کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اس مقصد کے لیے زائد پانی کو روک لیاکہ گھاس کو روک لے، اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے اپنا فضل روک لے گا۔
Takhreej
(۶۱۶۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۶۷۲۲)
6168
Sahih
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
۔ (۶۱۶۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُمْنَعُ فَضْلُ مَائٍ بَعْدَ أَنْ یُسْتَغْنٰی عَنْہُ وَلَا فَضْلُ مَرْعًی)) (مسند احمد: ۱۰۵۷۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرورت پوری ہو جانے کے بعد زائد پانی کو نہ روکا جائے اور نہ زائد چراگاہ کو۔
Takhreej
(۶۱۶۹) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۰۵۷۱)
6169
Sahih
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
۔ (۶۱۷۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًایَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایُمْنَعُ فَضْلُ الْمَائِ لِیُمْنَعَ بِہِ الْکَلَأُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۷۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زائد پانی نہ روکاجائے تاکہ اس سے گھاس میں رکاوٹ ڈال دی جائے۔
Takhreej
(۶۱۷۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۵۴، ومسلم: ۱۵۶۶ (انظر: ۸۰۸۴)
6170
Sahih
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
۔ (۶۱۷۱)۔ عَنْ عَائِشَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُمْنَعُ نَقْعُ مَائٍ وَلَا رَھْوُ بِئْرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۲۲)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ کنویں کا زائد پانی روکا جائے اور نہ کنویں سے بہہ کر نشیبی جگہ میں اکٹھا ہو جانے والا پانی روکا جائے۔
Takhreej
(۶۱۷۱) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۷۹ (انظر: ۲۴۸۱۱)
6171
Sahih
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
۔ (۶۱۷۲)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: إِنَّ مِنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (فَذَکَرَ أَحْکَامًا مُتَنَوِّعَۃً مِنْہَا) وَقَضٰی بَیْنَ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ فِی النَّخْلِ لَا یُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ، وَقَضٰی بَیْنَ أَھْلِ الْبَادِیَّۃِ أَنْ لَا یُمْنَعَ فَضْلُ مَائٍ لِیُمْنَعَ فَضْلُ الْکَلَأِ (وَقَضٰی) فِیْ شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّیْلِ أَنَّ الْأَعْلٰییُشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَیُتْرَکُ الْمَائُ إِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ یُرْسَلُ الْمَائُ إِلَی الْأَسْفَلِ الَّذِیْیَلِیْہِ وَکَذٰلِکَ حَتّٰی تَنْقَضِیَ الْحَوَائِطُ أَوْ یَفْنَی الْمَائُ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فیصلوں میں سے بعض فیصلےیہ ہیں، (اس حدیث میں انھوں نے کئی فیصلے ذکر کیے، بیچ میں دو فیصلےیہ تھے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مدینہ کے مابینیہ فیصلہ کیا کہ کنویں کے زائد یا جمع شدہ پانی سے نہ روکا جائے اور دیہاتی لوگوں کے درمیانیہ فیصلہ کیا کہ زائد گھاس سے منع کرنے کے ارادے سے زائد پانی کو نہ روکا جائے۔ اور نالوں میں بہتے ہوئے پانی سے کھجوروں کو سیراب کرتے وقت نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین اس طرح سیراب کی جائے کہ پانی ٹخنوں تک آ جائے، پھر اس کو اس سے متصل نیچے والی زمین کی طرف چھوڑا جائے، پھر اسی طریقے سے پانی آگے کی طرف پہنچایا جائے، یہاں تک باغات ختم ہو جائیںیا پانی ختم ہو جائے۔
Takhreej
(۶۱۷۲) تخریج: صحیح بالشواھد۔ أخرج قصۃ شرب النخل ابن ماجہ: ۲۴۸۳ (انظر: ۲۲۷۷۸)
6172
Sahih
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
۔ (۶۱۷۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ الزُّبَیْرَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ شِرَاجِ الْحَرَّۃِ الَّتِیْیَسْقُوْنَ بِہَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِیُّ لِلزُّبَیْرِ: سَرِّحِ الْمَائَ، فَاَبٰی فَکَلَّمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْقِ یَا زُبَیْرُ! ثُمَّ اَرْسِلْ إِلٰی جَارِکَ۔)) فَغَضِبَ الْأَنْصَارِیُّ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنْ کَانَ ابنَ عَمَّتِکَ، فَتَلَوَّنَ وَجْہُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((احْبِسِ الْمَائَ حَتّٰییَبْلُغَ إِلَی الْجَدْرِ۔)) قَالَ الزُّبَیْرُ: وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَأَحْسِبُ ھٰذِہٖالْأٰیَۃَ نَزَلَتْ فِیْ ذٰلِکَ: {فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ…} إِلٰی قَوْلِہِ: {وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} (مسند احمد: ۱۶۲۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک انصاری کے درمیان حرہ کے ایک نالے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا، وہ اس نالے سے کھجوروں کو سیراب کیا کرتے تھے۔ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میری کھجوروں کے لئے پانی چھوڑدو، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، انصاری وہ مقدمہ لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زبیر! تم پہلے سیراب کر کے پانی کواپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ لیکن اس فیصلے سے انصاری کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا: یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے اس لئے یہ فیصلہ کیا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زبیر! اب اتنی دیر پانی روک کر رکھنا کہ منڈیر تک پہنچ جائے، پھر آگے چھوڑنا۔ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں ہی نازل ہوئی تھی: {فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! وہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ وہ آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔ (سورۂ نسائ: ۶۵)
Takhreej
(۶۱۷۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۵۹، ومسلم: ۲۳۵۷(انظر: ۱۶۱۱۶)
Explanation
فوائد:… مذکورہ بالا دو احادیث سے معلوم ہوا کہ قدرتی پانی کا سب سے زیادہ مستحق وہ ہے، جس کی زمین اس کے سب سے زیادہ قریب ہو گی، لیکن جب وہ ضرورت پوری کر لے گا تو اس کو پانی روک لینے کا کوئی حق حاصل نہ ہو گا، وہ اپنے ہمسائے کے لیے پانی چھوڑ دے گا، پھر وہ اپنی ضرورت پوری کر لینے کے بعد تیسرے نمبر پر آنے والے ہمسائے کے لیے پانی چھوڑ دے گا۔ علی ہذا القیاس۔ پانی، آگ اور گھاس، یہ تین اتنی اہم ضروریات ِ زندگی ہیں کہ اگر ان میں سے زائد چیز کو روک لیا جائے یا اس کی خرید و فروخت شروع کر دی جائے تو یہ عذاب لوگوں کے لیے کسی بڑی مصیبت سے کم نہ ہو گا، اس وقت پاکستان کے جن علاقوں میں ایندھن اور پانی خریدنا پڑتا ہے، وہاں معتدل آمدنی والے آدمی کا گزارہ بھی بہت مشکل ہو چکا ہے، حکومت اور علاقے کے بااثر اور سرمایہ دار لوگوں کی فکر یہ ہونی چاہیے کہ کس طرح یہ نعمتیں آسان طریقے سے لوگوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں، مثلا دیہی علاقوں میں کچھ رقبے میں درخت وغیرہ لگا کر اس کو عام چراگاہ قرار دینا اور غریب لوگوں کو وہاں سے لکڑیاں وغیرہ کاٹنے کی اجازت دے دینا، اسی طرح جن علاقوں میں پانی کی کمی ہے، مختلف ذرائع اختیار کر کے وہاں پانی سپلائی کرنا۔ جن شہروں میں ایندھن کے لیے گیس کے سلنڈر استعمال ہو رہے ہیں،یا جہاں گیس کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے، چند سرمایہ داروں کے علاوہ وہاں کے لوگ ذہنی طور پر اپنے آپ کو عجیب اذیت میں مبتلا محسوس کرتے ہیں۔ نبی کریمa نے مخصوص دور میں پانی ، آگ اور گھاس کا تعین کیا تھا، آپ a کے فرمان کا منشا یہ ہے کہ آج بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل، آئل اور منرل واٹرکی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ یہ تمام خزانے گورنمنٹ کی تحویل میں ہوں اور عہدیدارانِ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان نعمتوں پر مشتمل نئے نئے ذخائر تلاش کر کے عوام الناس کی زندگیوں کو سہولت آمیز بنائیں، پینے والا پانی سپلائی کرنے والے شعبے کو فعال بنا کر اس کی کڑی نگرانی کی جائے۔
6173
Sahih
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
۔ (۶۱۷۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَقْطَعَ الزُبَیْرَ حُضْرَ فَرْسِہِ بِأَرْضٍ یُقَالَ لَھَا: ثُرَیْرٌ، فَأَجْرَی الْفَرَسَ حَتّٰی قَامَ ثُمَّ رَمٰی بِسَوْطِہِ، فَقَالَ: ((اَعْطُوْہُ حَیْثُ بَلَغَ السَّوْطُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ثریر نامی زمین سے سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اتنی جگہ الاٹ کر دی، جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے، پس انھوں نے گھوڑا دوڑایا،یہاں تک کہ جب وہ کھڑا ہو گیا تو انھوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اتنی جگہ دے دو، جہاں تک اس کا کوڑا پہنچا ہے۔
Takhreej
(۶۱۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ العمری۔ أخرجہ ابوداود: ۳۰۷۲ (انظر: ۶۴۵۸)
Explanation
فوائد:… سیدہ اسماء cکہتی ہیں: میں سیدنا زبیرbکی اس زمین سے اپنے سر پر گٹھلیاں لاتی تھی، جو آپa نے ان کو الاٹ کی تھی، وہ مجھ سے دو تہائی فرسخ کے فاصلے پر تھی۔ (صحیح بخاری: ۳۱۵۱، ۵۲۲۴)
6174
Zaeef
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
۔ (۶۱۷۵)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ قَالَ: أَقْطَعَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا فَذَھَبَ الزُّبَیْرُ اِلٰی آلِ عُمَرَ فَاشْتَرٰی نَصِیْبَہُ فَأَتٰی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْطَعَہُ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا وَاِنِّی اِشْتَرَیْتُ نَصِیْبَ آلِ عُمَرَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: عَبْدُالرَّحْمٰنِ جَائِزُ الشَّھَادَۃِ، لَہُ وَعَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۰)
۔ سیدنا عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی، پھر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،آلِ عمر کے پاس گئے اور ان کا حصہ خرید کر سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور کہا: سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی تھی اور میں نے آل عمر کا حصہ خرید لیا ہے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سچی شہادت والے ہیں، وہ ان کے حق میں ہے یا ان کی مخالفت میں۔
Takhreej
(۶۱۷۵) تخریج: رجالہ ثقات الا ان فی سماع عروۃ من عبد الرحمن بن عوف وقفۃ۔ أخرجہ البیھقی: ۱۰/ ۱۲۴ (انظر: ۱۶۷۰)
6175
Sahih
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
۔ (۶۱۷۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا الْأَنْصَارَ لِیُقْطِعَ لَھُمُ الْبَحْرَیْنِ، فَقَالُوْا: لَا، حَتّٰی تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا الْمُہَاجِرِیْنَ مِثْلَنَا، فَقَالَ: ((إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ أَثْرَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوْنِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۰۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کی زمین ان کو الاٹ کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: جی نہیں، (ہم اس وقت تک یہ زمین نہیں لیں گے) جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اسی طرح کی جاگیر نہیں دیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تم میرے بعد اپنے آپ پر ترجیح کو پاؤ گے، پس صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھ سے ملاقات ہو جائے۔
Takhreej
(۶۱۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۷۶، ۳۷۹۴ (انظر: ۱۲۰۸۴)
6176
Sahih
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
۔ (۶۱۷۷)۔ عَنْ کُلْثُوْمٍ عَنْ زَیْنَبَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَّثَ النِّسَائَ خِطَطَھُنَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۸۹)
۔ سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوںکو ان کے گھروں کا وارث بنایا تھا۔
Takhreej
(۶۱۷۷) تخریج: حدیث حسن، وانظر الحدیث الآتی (انظر: ۲۷۰۴۹)
Explanation
فوائد:… اگلی حدیث میں قدرے تفصیل بیان کی گئی ہے۔
6177
Sahih
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
۔ (۶۱۷۸)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: کَانَتْ زَیْنَبُ تَفْلِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعِنْدَہُ اِمْرَأَۃُ عُثْمَانَ بْنِ مَعْظُوْنٍ وَنِسَائٌ مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ یَشْکُوْنَ مَنَازِلَھُنَّ وَأَنَّہُنَّ یُخْرَجْنَ مِنْہُ وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِنَّ فِیْہِ، فَتَکَلَّمَتْ زَیْنَبُ وَتَرَکَتْ رَأْسَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکِ لَسْتِ تَکَلَّمِیْنَ بِعَیْنَیْکِ، تَکَلَّمِیْ وَاعْمَلِیْ عَمَلَکِ۔)) فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَوْمَئِذٍ أَنْ یُوَرَّثَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ النِّسَائُ، فَمَاتَ عَبْدُ اللّٰہِ (بْنُ مَسْعُوْدٍ) فَوَرِثَتْہُ اِمْرَأَتُہُ دَارًا بِالْمَدِیْنَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۹۰)
۔ (دوسری سند)کلثوم کہتے ہیں: سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جوئیں نکال رہی تھیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی اور کچھ مہاجر خواتین بیٹھی ہوئی تھیں،یہ اپنے گھروں کے بارے میں شکایت کر رہی تھیں کہ (خاوند کی وفات کے بعد) ان کو گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر تنگی کر دی جاتی ہے، سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک چھوڑ کر بات کرنے لگ گئیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اپنی آنکھوں سے تو باتیں نہیں کرنی، بات بھی کرو اور اپنا کام بھی کرو۔ (یہ ساری باتیں سن کر) اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ عورتوں کو (ان کے مہاجر خاوندوں) کا وارث بنا یا جائے، پس جب سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ ان کے مدینہ والے گھر کی وارث بنیں۔
Takhreej
(۶۱۷۸) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۰۸۰(انظر: ۲۷۰۵۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب خاوند فوت ہو جائے تو اس کے ورثاء کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کی بیوی کو اس کے گھر سے نکال دیں، بلکہ ان پر یہ لازم ہے کہ وہ اس کے لیے اس کے گھر کو خالی کر دیں، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم مہاجرین کے ساتھ خاص تھا اور ان کے ختم ہونے کے ساتھ یہ حکم بھی ختم ہو گیا، واللہ اعلم۔ اب میراث کے احکام مرتّب ہو چکنے کے بعد بیوی کو اس کا مخصوص حصہ دیا جائے گا، لیکن اس معاملے میں اس کو جتنی سہولت پہنچائی جا سکتی ہو، وہ پہنچانی چاہیے، مثلا اگر اس کا حصہ اس کے خاوند کے گھر کی قیمت کے برابر ہو تو اس کو گھر دے دیا جائے، بہرحال جتنا ممکن ہو ترکہ کی تقسیم میں بیوی کی رضامندی کا خیال رکھا جائے۔
6178
Sahih
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
۔ (۶۱۷۹)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ اَبِیْہِ (وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْطَعَہُ أَرْضًا قَالَ: فَاَرْسَلَ مَعِیَ مُعَاوِیَۃَ أَنْ أَعْطِہَا إِیَّاہُ أَوْقَالَ: اَعْلِمْہَا اِیَّاہُ۔ قَالَ: فَقَالَ لِیْ مُعَاوِیَۃُ: أَرْدِفْنِیْ خَلْفَکَ، فَقُلْتُ: لَا تَکُوْنُ مِنَ أَرْدَافِ الْمُلُوْکِ، قَالَ: فَقَالَ: أَعْطِنِیْ نَعْلَکَ، فَقُلْتُ: انْتَعِلْ ظِلَّ النَّاقَۃِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِیَۃُ أَتَیْتُہُ فَأَقْعَدَنِیْ مَعَہُ عَلٰی السَّرِیْرِ فَذَکَّرَنِی الْحَدِیْثَ، فَقَالَ سِمَاکٌ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ): فَقَالَ: وَدِدْتُ اَنِّیْ کُنْتُ حَمَلْتُہُ بَیْنَیَدَیَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۸۱)
۔ سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ایک زمین الاٹ دی اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا کہ وہ مجھے یہ زمین دے سکیںیا اس کی نشاندہی کر سکیں۔ سیدنا وائل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے اپنے پیچھے سوار کر لو، لیکن میں نے کہا: اے معاویہ! آپ بادشاہوں کے پیچھے سوار ہونے والوں (یا ان کے نائب بننے والوں میں سے) نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: تو پھر مجھے اپنا جوتا دے دو (تاکہ میں زمین کی شدت سے بچ سکوں)، میں نے کہا: اونٹنی کے سائے میں چل لو۔ پھر جب سیدنا معاویہ خلیفہ منتخب ہوئے اورمیں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور مجھے یہ بات یاد کرا دی، میں نے کہا: اب تو میںیہ پسند کر رہا ہوں کہ کاش آپ کو اپنے سامنے بٹھا لیتا۔
Takhreej
(۶۱۷۹) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۰۵۹ (انظر: ۲۷۲۳۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا وائل bحمیر کے شہزادے تھے اور اس وقت سیدنا امیر معاویہbکی مالی حالت درست نہ تھی، آداب اسلامی سے نا آشنائی اور تعلیمات دین سے عدم واقفیت کی بناء پر سیدنا وائل bنے سیدنا معاویہb کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا، انسانی ہمدردی اور حسن سلوک کا تقاضا کچھ اور تھا، جبکہ بعد میں ان کو احساس بھی ہو گیا تھا۔
6179
Sahih