TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بیت المال کے جانوروں کے لئے چراگاہوں کا بیان

Chapter 6 of کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 6 · 3 Hadith
۔ (۶۱۸۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمٰی النَّقِیْعَ لِخَیْلِہِ۔ (مسند احمد: ۵۶۵۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نقیع نامی جگہ کو اپنے گھوڑوں کے لئے بطور چراگاہ مقرر کر دیا۔
Takhreej
(۶۱۸۳) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن حبان: ۴۶۸۳ (انظر: ۵۶۵۵)
6183
Sahih
۔ (۶۱۸۴)۔ (وَلَہُ طَرِیْقٌ ثَانٍ عِنْدَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ أَیْضًا) قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أن النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمَی النَّقِیْعَ لِلْخَیْلِ قَالَ حَمَّادٌ: فَقُلْتُ لَہُ: (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ (یَعْنِی الْعُمَرِیَّ)! لِخَیْلِہِ؟ قَالَ: لَا، لِخَیْلِ الْمُسْلِمَیْنِ۔ (مسند احمد: ۶۴۳۸)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نقیع کی جگہ کو گھوڑوں کے لئے بطورِ چراگاہ مقرر کر دیا، حماد کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، مسلمانوں کے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی۔
Takhreej
(۶۱۸۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مدینہ منورہ سے ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع ایک مقام کا نام نقیع ہے، یہ ایک میل کی چوڑائی اور آٹھ میل کی لمبائی پر مشتمل ہے۔
6184
Sahih
۔ (۶۱۸۵)۔ عَنِ الصَّعْبِ بنِ جَثَّامَۃَ اللَّیْثِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمَی النَّقِیْعَ وَقَالَ: ((لَاحِمٰی اِلَّا لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۸۰)
۔ سیدناصعب بن جثامہ لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نقیع مقام کو بطورِ چراگاہ خاص کیا اور فرمایا: اس طرح چراگاہ کو خاص کرنے کا حق صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول کو ہے۔
Takhreej
(۶۱۸۵) أخرجہ البخاری: ۲۳۷۰ دون قولہ: ’’حمی النقیع‘‘ لکن زاد البخاری وقال: بلغنا ان النبیV حمی النقیع، فھذہ الزیادۃ من بلاغات الزھری، لکنھا صحیحۃ بالحدیثین السابقین (انظر: ۱۶۶۵۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے دو مفہوم بیان کیے جاتے ہیں: (۱) آپ a نے جو علاقے کسی کے لیے خاص قرار دیئے، بس ان ہی علاقوں کو خاص سمجھا جائے گا، آپ a کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے، (۲) خلیفۂ راشد، جو کہ رسول اللہa کا قائم مقام ہوتا ہے، کو بھییہ حق حاصل ہے۔ دوسرا قول راجح ہے کہ خلیفۂ رسول کسی عام یا خاص مصلحت کے پیش نظر کوئی علاقہ کسی کو الاٹ کر سکتا ہے، سیدنا عمرb ایسا کرتے رہے ہیں۔
6185
Sahih