۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع نامی جگہ کو اپنے گھوڑوں کے لئے بطور چراگاہ مقرر کر دیا۔
Takhreej
(۶۱۸۳) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن حبان: ۴۶۸۳ (انظر: ۵۶۵۵)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع کی جگہ کو گھوڑوں کے لئے بطورِ چراگاہ مقرر کر دیا، حماد کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، مسلمانوں کے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی۔
Takhreej
(۶۱۸۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مدینہ منورہ سے ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع ایک مقام کا نام نقیع ہے، یہ ایک میل کی چوڑائی اور آٹھ میل کی لمبائی پر مشتمل ہے۔
۔ سیدناصعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع مقام کو بطورِ چراگاہ خاص کیا اور فرمایا: اس طرح چراگاہ کو خاص کرنے کا حق صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول کو ہے۔
Takhreej
(۶۱۸۵) أخرجہ البخاری: ۲۳۷۰ دون قولہ: ’’حمی النقیع‘‘ لکن زاد البخاری وقال: بلغنا ان النبیV حمی النقیع، فھذہ الزیادۃ من بلاغات الزھری، لکنھا صحیحۃ بالحدیثین السابقین (انظر: ۱۶۶۵۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے دو مفہوم بیان کیے جاتے ہیں: (۱) آپ a نے جو علاقے کسی کے لیے خاص قرار دیئے، بس ان ہی علاقوں کو خاص سمجھا جائے گا، آپ a کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے، (۲) خلیفۂ راشد، جو کہ رسول اللہa کا قائم مقام ہوتا ہے، کو بھییہ حق حاصل ہے۔
دوسرا قول راجح ہے کہ خلیفۂ رسول کسی عام یا خاص مصلحت کے پیش نظر کوئی علاقہ کسی کو الاٹ کر سکتا ہے، سیدنا عمرb ایسا کرتے رہے ہیں۔