أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح، وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ، وَهَلْ أَتَى .
It was narrated from Abu Hurairah that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite: Alif-Lam-Mim. The revelation of the Book and: Has there not been over man in Subh prayer on Friday.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «الم تنزیل» ( سورۃ الم سجدہ ) اور «ھل أتی» ( سورۃ الدہر ) پڑھتے تھے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة ۱۰ (۸۹۱)، سجود القرآن ۲ (۱۰۶۸)، صحیح مسلم/الجمعة ۱۷ (۸۸۰)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۶ (۸۲۳)، (تحفة الأشراف: ۱۳۶۴۷)، مسند احمد ۲/۴۳۰، ۴۷۲، سنن الدارمی/الصلاة ۱۹۲ (۱۵۸۳) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جمعہ کو نماز فجر میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے «کان یقرأ» کے صیغے سے اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مواظبت کا پتہ چلتا ہے، بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں جس کی تخریج طبرانی نے کی ہے اس پر آپ کی مداومت کی تصریح آئی ہے۔
956
Sahih