أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ .
It was narrated from Abu Salamah that Umm Salamah said:
U never saw the Messenger of Allah fast two consecutive months, but he used to join shaban to Ramadan. '
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی لگاتار دو مہینہ روزے رکھتے نہیں دیکھا، البتہ آپ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم ۱۱ (۲۳۳۶)، سنن الترمذی/الصوم ۳۷ (۷۳۶)، سنن ابن ماجہ/الصوم ۴ (۱۶۴۸)، (تحفة الأشراف: ۱۸۲۳۲)، مسند احمد ۶/۲۹۳، ۳۰۰، ۳۱۱، سنن الدارمی/الصوم ۳۳ (۱۷۸۰)، ویأتی عند المؤلف برقم: ۲۳۵۴
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی آپ شعبان میں برابر روزے رکھتے کہ وہ رمضان کے روزوں سے مل جاتا تھا، چونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لیے روزے آپ کے لیے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ شعبان کے نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں، تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے فرض روزوں کے لیے برقرار رہے۔
2177
Sahih