أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلَاهُ يَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ، فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتَلَمَّظُ فَضْلَهُ الَّذِي مَنَعَ .
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said:
No man comes to his Mawla and asks him for something from the surplus of what he has, and he withholds it from him, but on the Day of Resurrection a bald-headed Shuja'a [1] will be called to him and will be licking the surplus that he withheld.
بہز بن حکیم اپنے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی اپنے مالک کے پاس اس کی ضرورت سے زائد و فاضل چیز مانگنے آئے، اور وہ اسے نہ دے تو اس کے لیے قیامت کے دن ایک گنجا ( زہریلا ) سانپ بلایا جائے گا، جو اس کے فاضل مال کو جسے اس نے دینے سے انکار کر دیا تھا چاٹتا پھرے گا“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۲۴۳۸
Explanation
وضاحت: ۱؎ : وہ فاضل و زائد مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا الٹا اس کے لیے وبال بن جائے گا۔
2567
Sahih