باب: لوگوں سے کچھ نہ مانگنے والے کی فضیلت کا بیان۔
Chapter 86 of The book of zakah in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
It was narrated that Thawban said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever can promise me one thing. Paradise will be his. (One of the narrators) Yahya said: Here a statement which means: That he will not ask the people for anything.
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مجھے ایک بات کی ضمانت دے تو اس کے لیے جنت ہے“ ( یحییٰ کہتے ہیں: یہاں ایک لفظ تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ ) ”وہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة۲۵ (۱۸۳۷)، (تحفة الأشراف: ۲۰۹۸)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة۲۷ (۱۶۴۳)، مسند احمد (۵/۲۷۷، ۲۷۹، ۲۸۱)
It was narrated that Qabisah bin Mukhariq said:
I heard the Messenger of Allah says: 'It is not right to ask (for help) except in three cases: A man whose wealth has been destroyed by some calamity, so he asks until he gets enough to keep him going, then he refrains from asking: a man who undertakes a financial responsibility, and asks for help until he pays off whatever needs to be paid; and a man concerning whom three wise men from his own people swear by Allah that it is permissible for so-an-so to ask for help, so he asks until he has enough to be independent of means, then he refrains from asking. Apart from that. (asking) is unlawful. '
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تین شخصوں کے علاوہ کسی اور کے لیے سوال کرنا درست نہیں ہے: ایک وہ شخص جس کا مال کسی آفت کا شکار ہو گیا ہو تو وہ مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ حاصل کر لے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں، پھر رک جائے، ( دوسرا ) وہ شخص جو کسی کا قرض اپنے ذمہ لے لے تو وہ قرض لوٹانے تک مانگ سکتا ہے، پھر ( جب قرض ادا ہو جائے ) تو مانگنے سے رک جائے۔ اور ( تیسرا ) وہ شخص جس کی قوم کے تین سمجھدار افراد اللہ کے نام کی قسم کھا کر اس کی محتاجی و تنگ دستی کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کے لیے مانگنا جائز ہے تو وہ مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ نہ حاصل کر لے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں، ان ( تین صورتوں ) کے علاوہ مانگنا حرام ہے“۔