TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4438 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 4 in this chapter
باب: قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كُنَّا نَخْبَأُ الْكُرَاعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَأْكُلُهُ .
It was narrated from 'Abdur'Rahman bin 'Abis that his father said: I asked 'Aishah about the meat of the sacrificial animals and she said: 'We used to keep the trotters for the Messenger of Allah for a month, then he would eat them.
عابس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانی کے گوشت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایک مہینے تک قربانی کے پائے رکھ چھوڑتے، پھر آپ اسے کھاتے۔
4438
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 4433 In-book reference : Book 43, Hadith 73 English translation : Vol. 5, Book 43, Hadith 4438
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4433
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ

Related Chapters

209
1
قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے کی اجازت
Sunnan Ibn e Maja
2
Chapter: What Has Been Related About Hoarding
باب: ذخیرہ اندوزی کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Eat From The Sacrificial Meat Beyond Three Days.
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat From It Beyond Three Days
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ کر کھانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
بَاب الاحتكار
ذخیرہ اندوزی کا بیان
Mishkat
6
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
7
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
8
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
9
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
10
(4) CHAPTER. Meat is desired on the day of Nahr.
قربانی کے دن گوشت کی خواہش کرنا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
11
(16) CHAPTER. What may be eaten of the meat of sacrifices and what may be taken as journey food.
قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اورکتناجمع کر کے رکھا جائے ۔
Sahih Bukhari
12
Chapter: Giving the meat, skin and blankets of the Hadi in charity; the butcher should not be given any of it; It is permissible to delegate someone else to offer the sacrifice
قربانی کے لیے لائے گئے جانوروں کا گوشت ‘ان کی کھالیں اور جھولیں (اوپر ڈالے گئے کپڑے )وغیرہ صدقہ کرنے چاہییں ‘ان میں سے کچھ بھی قصاب کو (بطور اجرت )نہیں دیا جا سکتا ‘اور ان کی نگرانی کےلیے کسی کو نائب بنانا جائز ہے
Sahih Muslim
13
Chapter: The prohibition of hoarding staple foods
غذائی اشیاء میں ذخیرہ اندوزی حرام ہے
Sahih Muslim
14
CHAPTER: Storing The Meat Of The Sacrifice.
باب: قربانی کے گوشت کو رکھ چھوڑنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of Hoarding.
باب: ذخیرہ اندوزی منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
16
ذخیرہ اندوزی اور جلب کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
17
قربانی کا گوشت کھانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
18
باب: تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانا اور اسے رکھ چھوڑنا منع ہے۔
Sunnan Nisai
19
باب: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی اجازت کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
(55)Chapter: What Has Been Related About The Urine Of That Whose Meat Is Eaten
باب: جس جانور کا گوشت کھانا حلال ہو اس کے پیشاب کا حکم
Jam e Tirmazi
21
(60)Chapter: [What Has Been Related About] Wudu From Camel Meat
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Talbiyah And the Nahr (Sacrifice)
باب: تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Muhrim Eating Hunted Animals
باب: محرم شکار کا گوشت کھائے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About: The Meat Of Game Is Disliked For You
باب: محرم کے لیے شکار کے گوشت کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Stoning On The Day Of An-Nahr During Duha (The Morning Light)
باب: قربانی کے دن چاشت کے وقت رمی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Sharing In Badanah (Sacrificial Camels) and Cows
باب: قربانی میں اونٹ یا گائے میں شرکت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: (Purchasing the Hadi)
باب: قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About One Who Shaved Before He Slaughtered, Or Offered The Sacrifice Before He Stoned
باب: ذبح کرنے سے پہلے سر مونڈا لینے یا رمی جمرات سے پہلے قربانی کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Rewards For One Whose Child Died Before Him
باب: اس شخص کے ثواب کا بیان جس نے کوئی لڑکا ذخیرہ آخرت کے طور پر پہلے بھیج دیا ہو
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About: Whatever Is Cut From Something Living, Then It Is Dead Flesh
باب: زندہ جانور سے کاٹا ہوا گوشت مردار کے حکم میں ہے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Slaughtering
باب: قربانی کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Sacrificing Two Male Sheep
باب: دو مینڈھوں کی قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering On Behalf Of The Deceased
باب: میت کی طرف سے قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended To Slaughter
باب: کس قسم کے جانور کی قربانی مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Is Not Allowed For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Is Disliked For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Jadha' Among Sheep For Slaughtering
باب: بھیڑ کے جذع کی قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Sharing In The Udhiyah
باب: قربانی میں اشتراک کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: Regarding A Sacrificial Animal With A Stump Horn Or Ear
باب: ٹوٹی سینگ اور پھٹے کان والے جانوروں کی قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Reported About: One Sheep Will Suffice For The People In The Household
باب: ایک بکری کی قربانی گھر کے سارے افراد کی طرف سے کافی ہے
Jam e Tirmazi
41
Chapter: The Evidence That The Udhiyah (sacrifice) Is A Sunnah
باب: قربانی کے سنت ہونے کی دلیل
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has been Related About Slaughtering After The Salat
باب: نماز عید کے بعد قربانی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: The Best Sacrifice Is The Male Sheep
باب: قربانی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
44
Chapter: To Avoid Removing One's Hair For Those Who Want To Offer Sacrifice
باب: جو قربانی کرنا چاہتا ہو وہ بال نہ کاٹے
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Eating Horse Meat
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Meat Of Domesticated Donkey
باب: پالتو گدھے کے گوشت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Consuming The Flesh Of The Jallalah And Milking It
باب: گندگی کھانے والے جانور کے گوشت اور دودھ کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Eating Roasted Meat
باب: بھنا ہوا گوشت کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: That He Said: Tear The Meat With Your Teeth
باب: دانت سے نوچ کر گوشت کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related From The Prophet (saws) Permitting One To Cut Meat With A Knife
باب: چھری سے گوشت کاٹنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

119
Sahih Bukhari
5423
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ ؟ قَالَتْ : مَا فَعَلَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِيهِ ، فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ ، وَإِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهُ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ ، قِيلَ : مَا اضْطَرَّكُمْ إِلَيْهِ ؟ فَضَحِكَتْ ، قَالَتْ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ . وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ بِهَذَا .
Narrated `Abis: I asked `Aisha Did the Prophet forbid eating the meat of sacrifices offered on `Id-ul-Adha for more than three days She said, The Prophet did not do this except in the year when the people were hungry, so he wanted the rich to feed the poor. But later we used to store even a trotter of a sheep to eat it fifteen days later. She was asked, What compelled you to do so? She smiled and said, The family of Muhammad did not eat to their satisfaction white bread with meat soup for three successive days till he met Allah.
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ صرف ایک سال اس کا حکم دیا تھا جس سال قحط پڑا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا تھا ( اس حکم کے ذریعہ ) کہ جو مال والے ہیں وہ ( گوشت محفوظ کرنے کے بجائے ) محتاجوں کو کھلا دیں اور ہم بکری کے پائے محفوظ رکھ لیتے تھے اور اسے پندرہ پندرہ دن بعد کھاتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کرنے کے لیے کیا مجبوری تھی؟ اس پر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں اور فرمایا آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی تین دن تک برابر کبھی نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے۔ اور ابن کثیر نے بیان کیا کہ ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے یہی حدیث بیان کی۔
Sunnan Ibn e Maja
3313
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبِي،‏‏‏‏ عَنْعَائِشَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ لَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَيَأْكُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ .
It was narrated that ‘Aishah said: “We used to store trotters and the Messenger of Allah (ﷺ) would eat them fifteen days after the sacrifice.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ قربانی کے گوشت میں سے پائے اکٹھا کر کے رکھ دیتے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ روز کے بعد انہیں کھایا کرتے تھے
Sunnan Nisai
2533
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ:‏‏‏‏ يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، ‏‏‏‏‏‏وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ مُخْتَصَرٌ .
It was narrated that Tariq Al-Muharibi said: We came to Al-Madinah and the Messenger of Allah was standing on the Minbar addressing the people and saying: 'The hand which gives is the upper hand. Start with those for whom you are responsible; your mother, your father, your sister, your brother, then the next closest, and the next closet. '
طارق محاربی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے ہیں آپ فرما رہے ہیں: دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہے، اور پہلے انہیں دو جن کی کفالت و نگہداشت کی ذمہ داری تم پر ہو: پہلے اپنی ماں کو، پھر اپنے باپ کو، پھر اپنی بہن کو، پھر اپنے بھائی کو، پھر اپنے قریبی کو، پھر اس کے بعد کے قریبی کو۔ یہ حدیث ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔
Sunnan Nisai
4437
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ أَصَابَ النَّاسَ شِدَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَت:‏‏‏‏ لَقَدْ رَأَيْتُ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُونَ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مِمَّ ذَاكَ ؟ فَضَحِكَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin 'Abis that his father said: I came in to 'Aishah and said: 'Did the Messenger of Allah forbid (eating) the meat of sacrificial animals after three day?' She said: 'Yes Hardship had befallen the people, and the Messenger of Allah wanted the rich to feed the poor.' Then she said: 'I remember the family of Muhammad eating the trotters after fifteen days. I said: 'Why is that She laughed and said: 'The family of Muhammad never ate their fill of bread and something to go with it, for three days in row, until he met Allah, the Mighty and Sublime, ' (Sahih )
عابس کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرماتے تھے؟ بولیں: ہاں، لوگ سخت محتاج اور ضروت مند تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مالدار لوگ غریبوں کو کھلائیں، پھر بولیں: میں نے آل محمد ( گھر والوں ) کو دیکھا کہ وہ لوگ پائے پندرہ دن بعد کھاتے تھے، میں نے کہا: یہ کس وجہ سے؟ وہ ہنسیں اور بولیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی بھی تین دن تک سالن روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے پاس تشریف لے گئے۔
Jam e Tirmazi
736
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ . وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ .
Umm Salamah narrated: I did not see the Prophet fasting two consecutive months except for Sha'ban and Ramadan.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لگاتار دو مہینوں کے روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے شعبان ۱؎ اور رمضان کے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام سلمہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- اور یہ حدیث ابوسلمہ سے بروایت عائشہ بھی مروی ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا، آپ شعبان کے سارے روزے رکھتے، سوائے چند دنوں کے بلکہ پورے ہی شعبان روزے رکھتے تھے۔
Jam e Tirmazi
1511
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ:‏‏‏‏ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ لَا،‏‏‏‏ وَلَكِنْ قَلَّ مَنْ كَانَ يُضَحِّي مِنَ النَّاسِ فَأَحَبَّ أَنْ يَطْعَمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي،‏‏‏‏ وَلَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهُ بَعْدَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ هِيَ:‏‏‏‏ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهَا هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
Narrated 'Abis bin Rabi'ah: I said to the Mother of the Believers: 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) prohibit from the meat of the sacrifice?' She said: 'No, but only a few people could slaughter, so he liked that they feed those who did not slaughter. (Later) we would store a leg to eat after ten days.
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرماتے تھے؟ وہ بولیں: نہیں، لیکن اس وقت بہت کم لوگ قربانی کرتے تھے، اس لیے آپ چاہتے تھے کہ جو لوگ قربانی نہیں کر سکے ہیں انہیں کھلایا جائے، ہم لوگ قربانی کے جانور کے پائے رکھ دیتے پھر ان کو دس دن بعد کھاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، ام المؤمنین ( جن سے حدیث مذکور مروی ہے ) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی الله عنہا ہیں، ان سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
Sunnan Abu Dawood
2161
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِسْمِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قُدِّرَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا .
Ibn Abbas reported the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying “If anyone who means to have intercourse with his wife says “In the name of Allaah, O Allaah, keep us away from the devil and keep the devil away from what You hast provided us. ” It will be ordained that no devil will ever harm the child born to them.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے: «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا» اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ہم کو شیطان سے بچا اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے گزند سے محفوظ رکھ پھر اگر اس مباشرت سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا یا شیطان اسے کبھی نقصان نہ پہنچ اس کے گا ۔
Sunnan Ibn e Maja
90
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْثَوْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِخَطِيئَةٍ يَعْمَلُهَا .
It was narrated that Thawban said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Nothing extends one's life span but righteousness, nothing averts the Divine Decree but supplication, and nothing deprives a man of provision but the sin that he commits.'
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز نہیں بڑھاتی ۱؎، اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں بدلتی ہے ۲؎، اور آدمی گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
Sunnan Ibn e Maja
1064
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفِطْرُ وَالْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، ‏‏‏‏‏‏تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
‘Umar said: “The prayer when traveling is two Rak’ah, and Friday is two Rak’ah, and Al-Fitr and Al-Adha are two Rak’ah, complete, not shortened, as told by Muhammad (ﷺ).”
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعت ہے، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر اور عید الاضحی کی دو دو رکعت ہے، بہ زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کامل ہیں ناقص نہیں۔