باب: ریشم پہننے کی سخت ممانعت اور یہ بیان کہ اسے دنیا میں پہننے والا آخرت میں نہیں پہنے گا۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ .
Khalifah said:
I heard 'Abdullah bin Az-Zubair say: 'Do not let your womenfolk wear silk, for I heard 'Umar bin Al-Khattab say: The Messenger of Allah [SAW] said: Whoever wears it in this world will not wear it in the Hereafter.'
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تم اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ اس لیے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس ۲۵ (۵۸۳۴)، صحیح مسلم/اللباس ۲ (۲۰۶۹)، (تحفة الأشراف: ۱۰۴۸۳)، مسند احمد (۱/۴۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی اپنی سمجھ ہے، انہوں نے اس فرمان کو عام سمجھا حالانکہ یہ مردوں کے لیے ہے، ممکن ہے ان کو وہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پہنچ سکی ہو جس میں صراحت ہے کہ ” ریشم امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہے “، واللہ اعلم۔
5307
Sahih