TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 654 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
بارش کی رات میں جماعت میں نہ آنے کے لیے اذان کے طریقہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ مُنَادِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ فِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ .
It was narrated that 'Amr bin Aws said: A man of Thaqif told us that he heard the caller of the Messenger of Allah (ﷺ) on a rainy night during a journey saying: 'Hayya 'ala as-salah, Hayya 'ala al'falah, sallu fi rihalikum (Come to prayer, come to prosperity, pray in your dwellings).'
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ ہمیں قبیلہ ثقیف کے ایک شخص نے خبر دی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو سفر میں بارش کی رات میں «حى على الصلاة، حى على الفلاح، صلوا في رحالكم»  نماز کے لیے آؤ، فلاح  ( کامیابی )  کے لیے آؤ، اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو  کہتے سنا ۱؎۔
654
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 7, Hadith 654 Arabic reference : Book 7, Hadith 660
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 654
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۱۵۷۰۶)، مسند احمد ۴/۱۶۸، ۳۴۶، ۵/۳۷۰، ۳۷۳ (صحیح الإسناد)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎: یہ نماز میں نہ آنے کے اجازت ہے، اور «حى على الصلاة» میں جو آنا چاہے اس کے لیے آنے کی نداء ہے، دونوں میں کوئی منافات نہیں۔

Related Chapters

307
1
جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
CHAPTER: Not Attending The Congregational Prayer On A Cold Night Or A Rainy Day.
باب: سرد رات یا بارش والی رات میں جماعت میں حاضر نہ ہونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
بارش کی رات میں باجماعت نماز کے حکم کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
4
Chapter: What Has Been Related About The Adhan At Night
باب: رات ہی میں اذان دے دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
7
نماز کسوف کی طوالت اور اس نماز کے لیے عورتوں کی مسجد میں جماعت کے لیے حاضری کا بیان
Musnad Ahmad
8
جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنے اور نماز کے بغیر یہ دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
9
(9) CHAPTER. To draw lots for pronouncing the Adhan.
اذان کے لیے قرعہ ڈالنے کا بیان
Sahih Bukhari
10
(18) CHAPTER. If there are many travellers, Adhan and Iqama should be pronounced, (the same is to be observed) in Arafat and Al-Muzdalifa too.
اگر کئی مسافر ہوں تو نماز کے لیے اذان دیں اور تکبیر بھی کہیں اور عرفات اور مزدلفہ میں بھی ایسا ہی کریں
Sahih Bukhari
11
(33) CHAPTER. Every step towards good deeds is rewarded.
( جماعت کے لیے ) ہر ہر قدم پر ثواب ملنے کا بیان
Sahih Bukhari
12
(45) CHAPTER. Offering Salat (prayer) in front of the people with the sole intention of teaching them the Salat of the Prophet and his Sunna (legal ways etc.).
کوئی شخص صرف یہ بتلانے کے لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیوں کر پڑھا کرتے تھے اور آپ کا طریقہ کیا تھا نماز پڑھائے تو کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
13
(161) CHAPTER. The ablution for boys (youngsters). When they should perform Ghusl (take a bath) and Tuhur (purification). Their attendance at congregational prayers, Eid prayers and funeral prayers and their rows in the prayers.
اس بارے میں کہ بچوں کے لیے وضو اور ان پر غسل اور وضو اور جماعت ، عیدین ، جنازوں میں ان کی حاضری اور ان کی صفوں میں شرکت کب ضروری ہو گی اور کیونکر ہو گی ۔
Sahih Bukhari
14
(35) CHAPTER. Istisqa (invoking Allah for rain) in the Khutba (religious talk) on Friday.
جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنا
Sahih Bukhari
15
(7) CHAPTER. Walking and riding for the Eid prayer. The Eid prayer is offered before delivering the Khutba (religious talk) and there is no Adhan or Iqama for it.
نمازعید کے لیے پیدل یا سوار ہو کر جانا اور نماز کا خطبہ سے پہلے اذان اور اقامت کے بغیر ہونا
Sahih Bukhari
16
(3) CHAPTER. Making a loud announcement of As-Salat (the prayer) in congregation for eclipse.
گرہن کے وقت یوں پکارنا کہ نماز کے لیے اکٹھے ہو جاؤ جماعت سے نماز پڑھو
Sahih Bukhari
17
(14) CHAPTER. Should the Adhan or Iqama be pronounced when the Maghrib and Isha prayers are offered together?
جب مغرب اور عشاء ملا کر پڑھے تو کیا ان کے لیے اذان وتکبیر کہی جائےگی ؟
Sahih Bukhari
18
(97) CHAPTER. Whoever pronounced (one) Adhan (for both) and Iqama for each of them (the Maghrib and the Isha prayer).
جس نے کہا کہ ہر نماز کے لیے اذان اور تکبیر کہنی چاہئے اس کی دلیل
Sahih Bukhari
19
(12) CHAPTER. If one visited a patient and when the time of the Salat (prayer) became due, he led the people present there, in a congregational Salat (prayer).
کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے گیا اور وہیں نماز کاوقت ہو گیا تو وہیں لوگوں کے ساتھ با جماعت نماز ادا کرے
Sahih Bukhari
20
Chapter: Description Of The Adhan
اذان کا طریقہ
Sahih Muslim
21
Chapter: It Is Recommended For The One Who Hears The Mu'adhdhin To Repeat His Words, Then To Send Salat Upon The Prophet (saws) And Ask Allah To Grant Him Al-Wasilah
اذان) سننے والے کے لیے مؤذن کے مانند کلمات کہنا مستحب ہے، پھر وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر درود پڑھے، پھر اللہ سے آپ کے لیے وسیلہ مانگے
Sahih Muslim
22
Chapter: The Congregation Appointing Someone To Lead Them If The Imam Is Delayed And If There Is No Fear Of Negative Repercussions
جب امام کی آمد میں تاخیر ہو جائے اور کسی دوسرے کو آگے کرنے میں فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی کو جماعت کے لیے آگے کر دینا (جائز ہے)
Sahih Muslim
23
Chapter: The recommendation to delay Zuhr (until it has cooled down) in severe heat for one who finds it too hot in route to join the congregation
سخت گرمی میں باجماعت نماز کے لیے جاتے وقت راستے میں شدید گرمی لگے تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنا مستحب ہے
Sahih Muslim
24
Chapter: It is obligatory for the one who hears the call to prayer to come to the masjid
جو اذان سنے اس کے لیے مسجد میں آنا واجب ہے
Sahih Muslim
25
CHAPTER: Regarding Abrogation Of The Command For Mass Deployment By Specific Deployment.
باب: جہاد کے لیے سارے آدمیوں کا نکلنا منسوخ ہے صرف مخصوص جماعت جہاد کرے گی ۔
Sunnan Abu Dawood
26
نماز میں جمع تقدیم کے لیے پہلی نماز کے وقت اذان کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
نماز میں جمع تاخیر کے لیے پہلی نماز کے ختم ہو جانے کے بعد کی اذان کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
29
ساری فوت شدہ نمازوں کے لیے ایک اذان کے کافی ہونے اور ہر ایک کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
30
اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے اذان کا بیان۔
Sunnan Nisai
31
اذان دینے کے لیے قرعہ اندازی کا بیان۔
Sunnan Nisai
32
امام بارش کے لیے کب دعا کرے ؟
Sunnan Nisai
33
بارش کی دعا کے لیے امام کے منبر پر بیٹھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
Chapter: What Has Been Related About How the Adhan Started
باب: اذان کی ابتداء کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: : What Has Been Related About At-Tarji In The Adhan
باب: اذان میں ترجیع کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The Adhan With Deliberateness And Slowly
باب: اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کے کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Putting The Fingers In The Ears For The Adhan
باب: اذان کے وقت شہادت کی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Whoever Calls The Adhan, He Is To Call The Iqamah
باب: جو اذان دے وہی اقامت کہے
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Call The Adhan Without Having Wudu
باب: بغیر وضو کے اذان دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Exiting The Masjid After The Adhan
باب: اذان کے بعد مسجد سے باہر نکلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Adhan While Traveling
باب: سفر میں اذان کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About What Is Said [by A Man] When the Mu'adh-dhin Calls The Adhan
باب: مؤذن کی اذان کے جواب میں آدمی کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For The Mu'adh-dhin Taking A Wage For the Adhan
باب: اذان کی اجرت لینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: [What Has Been Related About] What Supplications Is Said [By A Muslim] When The Mu'adh-dhin Calls The Adhan
باب: مؤذن اذان دے چکے تو آدمی کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
46
Chapter: Something Else
باب: اذان کے بعد آدمی کیا دعا پڑھے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
47
Chapter: Supplication Made Between Adhan and Iqamah Is Not Rejected
باب: اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About One Who Heard the Call (to Prayer) But Did Not Respond To It
باب: جو اذان سنے اور نماز میں حاضر نہ ہو اس کی شناعت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Man Who Performs Salat Alone, Then He Comes Upon A Congregation
باب: آدمی تنہا نماز پڑھ لے پھر جماعت پا لے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,243
Sunnan Nisai
1631
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ .
It was narrated from 'Amr bin Aws that he heard Abdullah bin Amr bin Al-'As say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud, peace be upon him. He used to fast one day and not the next. And the most beloved of prayer to Allah (SWT) is the prayer of Dawud. He used to sleep half the night, spend one-third of the night in prayer and sleep for one-sixth of it.'
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ آدھی رات تک سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے، پھر چھٹے حصہ میں سو جاتے تھے۔
Sunnan Nisai
2346
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ .
Abdullah bin 'Amr bin Al-As said: The Messenger of Allah said: 'The most beloved fasting to Allah, the mighty and sublime, is the fast of Dawud, peace be upon him. He used to fast one day and not the next. And the most beloved prayer to Allah, the mighty and sublime, is the prayer of Dawud, peace be upon him. He used to sleep half the night, stand for one-third of it (in prayer), and sleep for one-sixth of it. '
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کو روزوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے تھے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نماز بھی داود علیہ السلام کی نماز تھی، وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات قیام کرتے تھے، اور رات کے چھٹویں حصہ میں پھر سوتے تھے“۔
Jam e Tirmazi
157
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،‏‏‏‏ وَأَبِى سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَالْمُغِيرَةِ،‏‏‏‏ وَالْقَاسِمِ بْنِ صَفْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي مُوسَى،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا وَلَا يَصِحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ تَأْخِيرَ صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْإِبْرَادُ بِصَلَاةِ الظُّهْرِ إِذَا كَانَ مَسْجِدًا يَنْتَابُ أَهْلُهُ مِنَ الْبُعْدِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا الْمُصَلِّي وَحْدَهُ وَالَّذِي يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَالَّذِي أُحِبُّ لَهُ أَنْ لَا يُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَمَعْنَى مَنْ ذَهَبَ إِلَى تَأْخِيرِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ هُوَ أَوْلَى وَأَشْبَهُ بِالِاتِّبَاعِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الرُّخْصَةَ لِمَنْ يَنْتَابُ مِنَ الْبُعْدِ وَالْمَشَقَّةِ عَلَى النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ مَا يَدُلُّ عَلَى خِلَافِ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو ذَرٍّ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِصَلَاةِ الظُّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا بِلَالُ أَبْرِدْ ،‏‏‏‏ ثُمَّ أَبْرِدْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَوْ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ لَمْ يَكُنْ لِلْإِبْرَادِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ مَعْنًى لِاجْتِمَاعِهِمْ فِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانُوا لَا يَحْتَاجُونَ أَنْ يَنْتَابُوا مِنَ الْبُعْدِ.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: In very hot weather, delay the (Zuhr) prayer until it becomes (a bit) cooler, because the severity of heat is from the raging of the Hell.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈا ہونے پر پڑھو ۱؎ کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، ابوذر، ابن عمر، مغیرہ، اور قاسم بن صفوان کے باپ ابوموسیٰ، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس سلسلے میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، ۴- اہل علم میں کچھ لوگوں نے سخت گرمی میں ظہر تاخیر سے پڑھنے کو پسند کیا ہے۔ یہی ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: ظہر ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی بات اس وقت کی ہے جب مسجد والے دور سے آتے ہوں، رہا اکیلے نماز پڑھنے والا اور وہ شخص جو اپنے ہی لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو میں اس کے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ وہ سخت گرمی میں بھی نماز کو دیر سے نہ پڑھے، ۵- جو لوگ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنے کی طرف گئے ہیں ان کا مذہب زیادہ بہتر اور اتباع کے زیادہ لائق ہے، رہی وہ بات جس کی طرف شافعی کا رجحان ہے کہ یہ رخصت اس کے لیے ہے جو دور سے آتا ہوتا کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو تو ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جو امام شافعی کے قول کے خلاف ہیں۔ ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے، بلال رضی اللہ عنہ نے نماز ظہر کے لیے اذان دی، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! ٹھنڈا ہو جانے دو، ٹھنڈا ہو جانے دو“ ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے ) ، اب اگر بات ایسی ہوتی جس کی طرف شافعی گئے ہیں، تو اس وقت ٹھنڈا کرنے کا کوئی مطلب نہ ہوتا، اس لیے کہ سفر میں سب لوگ اکٹھا تھے، انہیں دور سے آنے کی ضرورت نہ تھی۔
Jam e Tirmazi
874
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ بِلَالٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ لَمْ يُصَلِّ وَلَكِنَّهُ كَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَشَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ بِلَالٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِالصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ بَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ النَّافِلَةِ فِي الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَرِهَ أَنْ تُصَلَّى الْمَكْتُوبَةُ فِي الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ أَنْ تُصَلَّى الْمَكْتُوبَةُ وَالتَّطَوُّعُ فِي الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ حُكْمَ النَّافِلَةِ وَالْمَكْتُوبَةِ فِي الطَّهَارَةِ وَالْقِبْلَةِ سَوَاءٌ.
Ibn Umar narrated from Bilal: The Prophet performed Salat in the interior of the Ka'bah. And Ibn Abbas said: He did not perform Salat in it, but he said the Takbir.
بلال رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی۔ جب کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: آپ نے نماز نہیں پڑھی بلکہ آپ نے صرف تکبیر کہی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بلال رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسامہ بن زید، فضل بن عباس، عثمان بن طلحہ اور شیبہ بن عثمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، ۴- مالک بن انس کہتے ہیں: کعبے میں نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، اور انہوں نے کعبہ کے اندر فرض نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے، ۵- شافعی کہتے ہیں: کعبہ کے اندر فرض اور نفل کوئی بھی نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اس لیے کہ نفل اور فرض کا حکم وضو اور قبلے کے بارے میں ایک ہی ہے۔
Jam e Tirmazi
1793
دَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لُحُومَ الْخَيْلِ وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرٍ وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏
Narrated Jabir: The Messenger of Allah (ﷺ) allowed us to eat horse meat, and he forbade us from eating donkey meat. He said: There is something on this from Asma' bin Abi Bakr. Abu 'Eisa said: This Hadith is Hasan Sahih. This is how it was reported by more than one narrator, from 'Amr bin Dinar from Jabir. Hammad bin Zaid reported it from 'Amr bin Dinar from Muhammad bin 'Ali, from Jabir. The narration of Ibn 'Uyainah (no. 1793) is more correct. He said: I heard Muhammad saying: Sufyan bin 'Uyainah is better at memorizing than Hammad bin Zaid.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا، اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے عمرو بن دینار کے واسطہ سے جابر سے روایت کی ہے، ۳- حماد بن زید نے اسے بسند «عمرو بن دينار عن محمد بن علي عن جابر» روایت کیا ہے، ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: سفیان بن عیینہ حماد بن زید سے حفظ میں زیادہ قوی ہیں، ۵- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي ۳۸ ( ۳۲۱۹ ) ، والصید ۲۷ ( ۵۵۲۰ ) ، و۲۸ ( ۵۵۲۴ ) ، صحیح مسلم/الصید ۶ ( ۱۹۴۱ ) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ۲۶ ( ۳۷۸۸ ) ، سنن النسائی/الصید ۲۹ ( ۴۳۳۲ ) ، وانظر: سنن ابن ماجہ/النکاح ۴۴ ( ۱۹۶۱ ) ، والذبائح ۱۲ ( ۳۱۹۱ ) ، ( تحفة الأشراف : ۲۵۳۹ ) ، و مسند احمد ( ۳/۳۲۲، ۳۲۵۶، ۳۶۱، ۳۶۲، ۳۸۵ ) ، سنن الدارمی/الأضاحي ۲۲ ( ۲۰۳۶ )
Sunnan Abu Dawood
554
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَتَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏فَحَيَّ:‏‏‏‏ هَلًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَكَذَا رَوَاهُ الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ حَيَّ هَلًا.
Narrated Ibn Umm Maktum: Messenger of Allah, there are many venomous creatures and wild beasts in Madina (so allow me to pray in my house because I am blind). The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Do you hear the call, Come to prayer, Come to salvation ? (He said: Yes. ) Then you must come. Abu Dawud said: Al-Qasim al-Jarmi has narrated this tradition from Sufyan in a similar manner. But his version does not contain the words Then you must come.
ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول! مدینے میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم «حى على الصلاة» اور «حى على الفلاح» ( یعنی اذان ) سنتے ہو؟ تو ( مسجد ) آیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے قاسم جرمی نے سفیان سے روایت کیا ہے، ان کی روایت میں «حى هلا» ( آیا کرو ) کا ذکر نہیں ہے۔
Sunnan Nisai
1208
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِي الصَّلَاةِ .
It was narrated from Abu Hurairah that: The Prophet (ﷺ) said: The Tasbih is for men, and clapping is for women. Ibn Al-Muthanna added: During the prayer.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔ ابن مثنیٰ نے «في الصلاة» کا اضافہ کیا ہے  ( یعنی نماز میں ) ۔
Sunnan Nisai
3017
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ يَزِيدَ بْنَ شَيْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا وُقُوفًا بِعَرَفَةَ مَكَانًا بَعِيدًا مِنَ الْمَوْقِفِ فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ:‏‏‏‏ كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام .
It was narrated from Amr bin Abdullah bin Safwan that Yazid bin Shaiban said: We were standing in Arafat in a place far from the place of standing, and Ibn Mirba Al-Ansari came and said: 'I am the messenger of Messenger of Allah to you; he says: 'Stay where you are (for it is a place of ritual), for you are following the legacy of you father Ibrahim, peace be upon him.'
یزید بن شیبان کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کے دن عرفات میں ”موقف“ ( ٹھہرنے کی خاص جگہ ) سے دور ٹھہرے ہوئے تھے۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور کہنے لگے تمہاری طرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں، آپ فرماتے ہیں: تم اپنے مشاعر میں رہو کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی میراث کے وارث ہو۔
Sunnan Nisai
4192
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ. ح وأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ فِيمَا اسْتَطَعْتَ . وَقَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ .
It was narrated that Ibn 'Umar said: We used to pledge to the Messenger of Allah to hear and obey, the he said: 'In as much as you can. '
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت ( سننے اور حکم بجا لانے ) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ فرماتے تھے: ”جتنی تمہاری طاقت ہے“ ۱؎۔