ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اس شخص کی مثال جو دے کر واپس لیتا ہے اس کتے کی طرح ہے جس نے سیر ہو کر کھایا، جب پیٹ بھر گیا تو قے کر دی، پھر اپنی قے کی طرف پلٹ کر اسے کھانے لگا
Takhreej
الصحيحة رقم (1699)، سنن إبن ماجه رقم (2375) ،كتاب الأحكام ، بَاب الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ ، مسند أحمد رقم (7212
) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : « إِنَّ الْمَعُوْنَةَ تَأْتِي مِنَ اللهِ عَلَى قَدْرِ المؤنة ، وَإِنَّ الصَّبْر يَأَتِي مِنَ اللهِ عَلَى قَدرِ الْبَلاَءَ »
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی مدد بقدرِمشقت آتی ہے اور اللہ کی طرف سے صبر آزمائش کے مطابق آتا ہے ۔( ) یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1664)، شعب الإ يمان للبيهقي رقم (9600) .
ثوبان رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : میری امت میں ایسے لوگ ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی شخص تمہارے پاس آکر ایک دینار کا مطالبہ کرے تو کوئی اسے ایک دینار نہ دےاگر ایک درہم کا سوال کرے تو اسے ایک درہم نہ دے، اگر ایک پیسے کا سوال کرے تو ایک پیسہ نہ دے لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت دے دے۔پرانے بوسیدہ کپڑوں والا ،جس کی پرواہ بھی نہیں کی جاتی اگر وہ اللہ پر قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم پوری کردے
Takhreej
الصحيحة رقم (2643)، المعجم الأوسط للطبراني رقم (7761)
عَنْ عِيسَى بن الْحَضْرَمِيِّ بن كُلْثُومِ بن عَلْقَمَةَ بن نَاجِيَةَ بن الْحَارِثِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ جَدِّهِ كُلْثُومٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ لَهُمْ عَامَ الْمُرَيْسِيعِ حِينَ أَسْلَمُوا: إِنَّ مِنْ تَمَامِ إِسْلامِكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ
عیسیٰ بن حضرمی بن کلثوم بن علقمہ بن ناجیہ الخزاعی اپنے دادا کلثوم سے وہ اپنے والدسے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے(مریسیع)کے سال جب وہ مسلمان ہوئے تو ان سے کہا کہ: تمہارے اسلام کی تکمیل یہ ہے کہ تم اپنے اموال کی زکاة اداکرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3232)، المعجم الكبير للطبراني رقم (14434) ،معرفة الصحابة لأبي نعيم رقم (4881) .
حکیم بن حزام سے مروی ہے کہتے ہیں کہ دور جاہلیت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بہت زیادہ محبوب تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کونبوت ملی اور آپ مدینے کی طرف (ہجرت کر) آئے تو حکیم بن حزام تجارت کے موسم میں بازار آئے ابھی وہ کافر تھے۔ انہوں نے ذی یزن کا ایک جبہ دیکھا جو فروخت کے لئے پیش کیا گیا تھا، اسے پچاس دینار کے بدلے خرید لیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دے سکیں۔ اس جبے کو لے کر مدینے آگئے اور آپ کو بطور تحفہ دینا چاہا تو آپ نے انکار کر دیا۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم مشرکین سے کوئی چیز قبول نہیں کرتے لیکن اگر تم چاہو تو ہم قیمت کے بدلے اسے لے سکتے ہیں۔ جب انہوں نے تحفہ لینے سے انکار کیا تو میں نے انہیں (قیمتاً) دے دیا۔( )
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ خرچ کرو اور عرش والے کی طرف سے تنگدستی سے مت ڈرو۔ ( )یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ، بلال بن رباح، عبداللہ بن مسعود اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2661 )، المعجم الكبير للطبراني رقم (1018) ، مسند أبي يعلى الموصلي (5905) ، معرفة الصحابة لأبي نعيم (1064) .
عائشہ رضی اللہ عنہا سےمرفوعا مروی ہے کہ: ہر انسان کی تین سو ساٹھ جوڑوں پر تخلیق کی گئی ہے۔ جس شخص نے اللہ اکبر کہا، الحمدللہ کہا، لا الہ الااللہ کہا، سبحان اللہ کہا، استغفراللہ کہا، راستے سے پتھر ہٹایا، یا کانٹا یا ہڈی (ہٹا دی) نیکی کا حکم دیا، برائی سے منع کیا، اس طرح آپ نے تین سو ساٹھ جوڑوں کی گنتی کی تو شام اس حال میں کرے گا کہ اس نے اپنے آپ کو آگ سے آزاد کروالیاہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (1717)، صحيح مسلم رقم (1675) ،كِتَاب الزَّكَاةِ ، بَاب بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ ... .
عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي أُعْطِي قُرَيْشًا أَتَأَلَّفُهُمْ لِأَنَّهُمْ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ .
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں قریش کو تالیف قلب کے لئے دیتا ہوں کیوں کہ وہ جاہلیت سے نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں
عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ لوگوں کو نہ دیا۔ انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کچھ لوگوں کو دیتا ہوں اس لئے کہ میں ان کی پریشانی اور گھبراہٹ دیکھتا ہوں اور کچھ لوگوں کواس غنیٰ اور خیرکےسپردکردیتا ہوں جواللہ تعالیٰ نےانہیں دیاہوتاہے۔(ان لوگوں میں سےعمروبن تغلب رضی اللہ عنہ بھی ہیں)عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلمے کے بدلے سرخ اونٹ ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3591)، صحيح البخاري رقم (2912) ، كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ ، مَا كَانَ النَّبِيُّ ﷺيُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ ... .
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عَبْدِ اللهِ بِنْ كَعْبِ بن مَالِكٍ السلمي : أَنَّ عَامِرَ بن مَالِكِ بن جَعْفَرٍ، الَّذِي يُدْعَى مُلاعِبَ الأَسِنَّةِ، قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ مُشْرِكٌ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم الإِسْلامَ،فَأَبَى أَنْ يُّسْلِمْ،وَأَهْدَى لِرَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم هَدِيَّة، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي لا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ .
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سلمی سے مروی ہے کہ عامر بن مالک بن جعفر جسے نیزوں کا کھلاڑی کہا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی، اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کرنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا
Takhreej
الصحيحة رقم (1727)، المعجم الكبير للطبراني رقم (15489) .
ابو امامہ اور دیگر اصحاب نبی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ۱۔کسی بھی مسلمان آدمی نے کسی مسلمان (غلام) کو آزاد کیا تو وہ آگ سے اس کی آزادی کا باعث ہوگا، اس کے ہر عضو کے بدلے اس کا ہر عضو آزاد کر دیا جائے گا۔۲۔ اور جس مسلمان مرد نے دو مسلمان عورتوں (لونڈیوں) کو آزاد کیا تو وہ دونوں آگ سے اس کی آزادی کا باعث ہوں گی۔ ان دونوں کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو آزاد کر دیا جائے گا۔ ۳۔ جس مسلمان عورت (لونڈی) نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو وہ آگ سے اس کی آزادی کا باعث ہوگی۔ اس کے ہرعضو کو اس کے ہر عضو کے بدلے آزاد کر دیا جائے گا
ابو ذررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ میں نے کہا: کون سا غلام (آزاد کرنا )افضل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیمتی اور ایک روایت میں ہے: جس کی قیمت زیادہ ہو اور جو مالکوں کے نزدیک عمدہ ہو۔ میں نے کہا: اگر میں یہ کام نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کام کرنے والے کی مدد کرو، یا بے ہنرکو کام کرکےدو۔میں نے کہا: اگر میں یہ نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو شر نہ پہنچاؤ کیوں کہ یہ صدقہ ہے جسےتم اپنے آپ پر صدقہ کرتےہو
Takhreej
الصحيحة رقم (3989)، صحيح مسلم رقم (119) ، كِتَاب الْإِيمَانِ، بَاب بَيَانِ كَوْنِ الْإِيمَانِ ... .
انس بن مالکرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو طلحہرضی اللہ عنہ مدینے میں انصاریوں میں سب سے زیادہ کھجوروں والے اور مالدار تھے۔ ان کا پسندیدہ باغ بیرحاء تھاجو مسجد کے سامنے تھااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں داخل ہوکر اس کا پاک وصاف پانی پیا کرتے تھے۔انسرضی اللہ عنہ فرماتےہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی:”تم نیکی(کی حقیقت)تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی محبوب چیز(اللہ کے راستے میں)خرچ نہیں کر دیتے“۔ابو طلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: تم نیکی (کی حقیقت) تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی محبوب چیز اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کر دیتے۔ میری محبوب چیز بیر حاء باع ہے۔ اور یہ اللہ کے راستے میں صدقہ کرتا ہوں۔ میں اس کے اجر اور بدلے کا اللہ سے امید وار ہوں۔ اے اللہ کے رسول! جہاں اللہ چاہے اسے وہاں استعمال کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واہ واہ، یہ تو نفع مندمال ہے، میں نے تمہاری بات سن لی ہے اور میرا خیال ہے تم اسے قریبی عزیزوں میں تقسیم کر دو
Takhreej
الصحيحة رقم (3982)، صحيح البخاري رقم (1368) ،كِتَاب الزَّكَاةِ ، بَاب الزَّكَاةِ عَلَى الْأَقَارِبِ ... .
)عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضی اللہ عنھما أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مِيَاهِهِمْ. يَعْنِي: مَوَاشِيْهِمْ.
عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں سے ان کی زکاۃ ان کے (پانی کے)گھاٹوں پر وصول کی جائے یعنی جہاں جانور جمع ہوتے ہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: أُتِي رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِجَنَازَةِ رَجُل مِّنَ الْأَنْصَار فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: مَا تَرَكَ ؟ قَالُوْا: تَرَكَ دِيْنَارَيْنِ أَوْ ثَلاَثَة قَالَ: تَرَكَ كيَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثَ كَيَّات
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری آدمی کا جنازہ لایا گیا آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی پھر فرمایا: اس نے کیا ترکہ چھوڑا؟ لوگوں نے کہا: اس نے دو یا تین دینار چھوڑے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس نے(آگ کے)دو یا تین داغ چھوڑے۔
عَنْ سَعِيْد بْن جُبَيْر رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْل اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لاَ تصَدَّقُوْا إِلَّا عَلَى أَهْلِ دِيْنِكُمْ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى:لَیۡسَ عَلَیۡکَ ہُدٰىہُمۡ الی قولہ:وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یُّوَفَّ اِلَیۡکُمۡ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : تَصَدَّقُوْا عَلٰى أَهْلِ الْأَدْيَان .
سعید بن جبیررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف دین(اسلام) والوں پر صدقہ کرو، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی: تمہارے ذمے انہیں ہدایت دینا نہیں۔۔۔ اور تم جو خرچ کرو گے تمہیں پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دین والے پر صدقہ کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو،محفوظ کر کے نہ رکھو،کہ تمہارے خلاف اسں(مال کو)محفوظ کر کے رکھا جائے۔ یہ اسماء اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث کے الفا ظ ہیں(وہ شمار کرکے رکھتی تھیں)کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس صرف وہ مال ہے جو مجھے زبیر رضی اللہ عنہ نے دیا ہے ۔ کیا میں اسے صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو، محفوظ کر کے نہ رکھو کہ اسے تم سے محفوظ کر لیا جائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3617)، صحيح البخاري رقم (2401) ،كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا ،بَاب هِبَةِ الْمَرْأَةِ ... .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دینا رخزانہ ہے، درہم خزانہ ہے، اور قیراط خزانہ ہے۔صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !دینار و درہم تو ہمیں معلوم ہے یہ قیراط کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نصف درہم، نصف درہم ،نصف درہم
عقبہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مدینہ میں عصر کی نماز پڑھی ، آپ نے سلام پھیرا، پھر جلدی سے کھڑے ہوئے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی کسی بیوی کے حجرے میں گئے۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیزی سے گھبرا گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو دیکھا کہ لوگ آپ کی تیزی سے تعجب میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(میں نماز میں تھا)کہ مجھے اپنے پاس(صدقے کی)ایک سونے کی ڈلی یادآئی ۔مجھے یہ بات نا پسندلگی کہ وہ میرے پاس رہے(اور ایک روایت میں ہے: کہ وہ شام تک یا رات تک ہمارے پاس رہے)اس لئے میں نے اس کی تقسیم کا حکم دے دیا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3594)، صحيح البخاري رقم (804) ،كِتَاب الْأَذَانِ، بَاب مَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَذَكَرَ حَاجَةً فَتَخَطَّاهُمْ ... .