TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - Book 14 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 14 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 143 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

143 Hadith · 1 Chapters
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي مُوسَي الأَشْعَرِيِِّ رضی اللہ عنہ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: آمِرُوا اليَتِيْمَة فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: (کنواری) لڑکی سے اس کے بارے میں مشورہ کر لو اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (656). الجامع الکبیر للامام السيوطی (48)
1880
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي (مُعَاَوِيَة بْنِ حَيْدَه) قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهُنَّ وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ وَأَطْعِمْهَا إِذَا طَعِمْتَ وَاكْسُهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ وَلَا تُقَبِّحِ الْوَجْهَ وَلَا تَضْرِبْ.
بھز بن حکیم اپنے والد سے وہ ان کے دادا(معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ )سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہماری بیویاں ہیں ہم کس طرف سے ان کے پاس آئیں ،اور کون سی طرف چھوڑدیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کھیتی میں جہاں سے مرضی آؤ، اور جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، اور جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے کو برا مت کہو اور نہ مارو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (687)، سنن أبي داؤدكِتَاب النِّكَاحِ،بَاب فِي حَقِّ الْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا رقم (1831)
1881
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ خُزَيْمَة بْن ثَابِت عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِتْيَانُ النِّسَآء فِي أَدْبَارِهِنْ حَرَامٌ .
خزیمہ بن ثابت سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیویوں کی دبرمیں جماع کر نا حرام ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (873)، السنن الكبرى للنسائي
1882
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ كَانَ شَيْءٌ؟ قَالَ: أَجَلْ، مَرَّتْ بِي فُلَانَةُ، فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا فَإِنَّهُ مِنْ أَمَاثِلِ أَعْمَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ . ( )
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنےصحابہ میں بیٹھے تھے۔آپ (گھر میں) داخل ہوئے۔ پھر باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے غسل کیا ہوا تھا۔ہم نےکہا: اےاللہ کےرسول!کیاکوئی معاملہ ہوگیاتھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:ہاں،فلاں عورت میرےپاس سےگزری تومیرےدل میں بیویوں سےملنے کی خواہش پیداہوگئی،میں اپنی ایک بیوی کےپاس گیااوراس سےخواہش پوری کی۔ تم بھی اسی طرح کیاکروکیوں کہ تمہارابہترین عمل حلال کام کرناہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (235)، مسند أحمد رقم (17337) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (18292) .
1883
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَنَس مَرْفُوْعًا: أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللهِ تَعَالَى عَبْدُ اللهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَالْحَارِث .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اللہ کو سب سے زیادہ پیارے نام عبداللہ، عبدالرحمن اور حارث ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (904)، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (2715) .
1884
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: احْبِسُوا صِبْيَانَكُمْ حَتَّى تَذْهَبَ فَوْعَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّهَا سَاعَةٌ تَخْتَرِقُ فِيهَا الشَّيَاطِينُ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے بچوں کو رات کی شفق غائب ہونے تک روک کر رکھو، کیوں کہ یہ ایسی گھڑی ہے جس میں شیاطین پھیل جاتے ہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (905)، مسند أحمد رقم (14369) ، مستدرك الحاكم رقم (7871) .
1885
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: إِذَا أَتَاكُمْ مَّنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کا اخلاق اور دین تمہیں پسند ہو تو اس سے شادی کر دو، اگر اس طرح نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ فساد پھیل جائے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (9022)، سنن إبن ماجه رقم (1957) ،كِتَاب النِّكَاحِ ، بَاب الْأَكْفَاءِ ، مستدرك الحاكم رقم (2644) .
1886
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ جَابِر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ : قَدمْتُ مِنْ سَفَرٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: « إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَكَ فَاعْمَلْ عَمَلاً كَيِّساً » . فَلَمَّا أَتَيْتُ أَهْلِي، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: « إِذا أَتَيْتَ أَهْلَكَ فَاعْمَلْ عَمَلاً كَيِّساً ».قَالَتْ: دُوْنَكَ .
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے واپس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہواتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اپنی بیوی کے پاس آؤ تودانشمندی والا عمل کرو ۔ جب میں اپنی بیوی کے پاس آیا تو میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: جب تم اپنی بیوی کے پاس آؤ تو دانشمندی والا عمل کرو۔کہنے لگی: دور رہو
Takhreej
الصحيحة رقم (1190)، المعجم اللأوسط للطبراني رقم (5135) .
1887
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ طَلْقٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ مِّنِ امْرَأَتِهِ حَاجَةً فَلْيَأْتِهَا وَلَوْ كَانَتْ عَلَى تَنُّورٍ.
طلق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی سے حاجت پوری کرناچاہے تووہ اس کے پاس آجائے اگرچہ وہ تنورپر ہی کیوں نہ بیٹھی ہو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1202)، مسند أحمد رقم (15695) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (8156) .
1888
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي مُوْسَى ،أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: « إِذَا أَرَادَ الرَّجُلَ أَنْ يُّزَوِّجَ ابْنَتَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهَا » .
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہے تو اس سے اجازت لے لے
Takhreej
الصحيحة رقم (1206)، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (7072) .
1889
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ مَالِك بن الْحُوَيْرِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَرَادَ اللهُ - جَلَّ ذِكْرُه- أَنْ يَّخْلُقَ النَّسَمَةَ، فَجَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ طَارَ مَاؤُهُ فِي كُلِّ عِرْقٍ وَعَصْبٍ مِّنْهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ السَّابِعِ أَحْضَرَ اهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ كُلَّ عِرْقٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ آدَمَ، ثُمَّ قَرَأَ: فِیۡۤ اَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ ؕ(۸) (الانفطار) .
مالک بن حویرث‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ جب اللہ (عزوجل) کسی جان کو (بچے کو) پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو شوہر اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے اس کا پانی اس کی ہر رگ اور ہر پٹھے میں اڑ کر پہنچ جاتا ہے، جب ساتواں دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر رگ کو اپنے اور آدم کے درمیان حاضر کرتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی:(الانفطار:۸) جس صورت میں چاہا اسے ترتیب دیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3330)، المعجم الكبير للطبراني رقم (15999)
1890
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ مَرْفُوْعًا: إِذَا أُلْقى فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا .
سھل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:جب کسی شخص کے دل میں کسی عورت سے شادی کی خواہش پیدا ہو جائے تو اسےدیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (98)، سنن إبن ماجه كِتَاب النِّكَاحِ، بَاب النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ ... رقم (1854)، مسند أحمد رقم (17294) .
1891
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا مَرْفُوْعًا: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے: جب کوئی عورت فساد کی نیت کے بغیر اپنے گھر سے کھانا دے تو اس کے کھانا کھلانے کی وجہ سے اس کے لئے اجر ہے۔ اور اس کے شوہر کے لئے کمانے کی وجہ سے اجر ہے۔ اور گھر کے خادم کے لئے بھی اسی طرح اجرہے، کوئی کسی کا اجر کم نہیں کرے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (730)، صحيح البخاري كِتَاب الزَّكَاةِ، بَاب مَنْ أَمَرَ خَادِمَهُ بِالصَّدَقَةِ ... رقم (1336)
1892
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِهِ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: جب کوئی بیوی اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کر دے تو اس کے لئے نصف اجر ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (731)، صحيح البخاري كِتَاب الْبُيُوعِ ، بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{ أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ } رقم (1924)
1893
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَيِّب أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْر أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) پر کوئی شخص کنواری سے شادی کرے تو اس کے پاس سات دن ٹھہرے اور جب کنواری پر ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1271)، صحيح البخاري كِتَاب النِّكَاحِ، بَاب الْعَدْلِ بَيْنَ النِّسَاءِ ... رقم (4812)
1894
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « إِذاَ تَزَوَّجَ الْعَبْدُ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفُ دِيْنِه، فَلْيَتَّقِ اللهَ فِيْمَا بَقِيَ » .
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ شادی کرتا ہے تو اپنا نصف ایمان مکمل کرلیتا ہے، اب اسے چاہئےجوباقی ہے اس میں اللہ سے ڈرتا رہے۔(
Takhreej
الصحيحة رقم (625)، شعب الإيمان للبيهقي رقم (5246) .
1895
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَّنْظُرَ إِلَيْهَا إِذَا كَانَ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا لِخِطْبَتِهِ وَإِنْ كَانَتْ لَا تَعْلَمُ .
ابو حمید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے تو اسے دیکھنے میں کوئی گناہ نہیں جب وہ اسے شادی کے لئے دیکھے اگرچہ اسے (عورت کو)علم بھی نہ ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (97)، مسند أحمد رقم (22496) .
1896
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنھما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَطَـبَ أَحَدُكُمُ الْمَـرْأَةَ فَإِنِ اسْتَطَـاعَ أَنْ يَّنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے تو اگر وہ نکاح کی طرف مائل کرنے والی چیز دیکھ سکتا ہو تو دیکھ لے
Takhreej
الصحيحة رقم (99)، سنن أبي داؤد رقم (1783) ،كِتَاب النِّكَاحِ،بَاب فِي الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ ...، مسند أحمد رقم (14059) .
1897
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمْ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَلْتُجِبْ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شوہر اپنی بیوی کو بلائے تو وہ اس کے پاس جائے اگرچہ وہ سواری پر ہی کیوں نہ ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (1203).
1898
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنِ الْعِرْباَض بْنِ سَارِيَة، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: « إِذَا سَقَى الرَّجُلُ امْرَأَتَه أُجِرَ». فَقُمْتُ إِلَيْهاَ فَسَقَيْتُهاَ، وَأَخْبَرْتُهَا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌.
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو پانی پلائے تو اسے اجر دیا جاتا ہے۔ میں کھڑا ہوا اور اپنی بیوی کو پانی پلایا اور جو حدیث میں نے سنی تھی اسے بھی بتائی
Takhreej
الصحيحة رقم (2736)، مسند الشاميين للطبراني رقم (1619) .
1899
Sahih