TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان - زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان - Book 13 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 13 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 82 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

82 Hadith · 1 Chapters
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ الضَّمْرِيِّ أَنَّ أُمَّ الْحَكَمِ أَوْ ضُبَاعَةَ ابْنَتَيِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَدَّثَتْهُ عَنْ إِحْدَاهُمَا أَنَّهَا قَالَتْ أَصَابَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سَبْيًا: فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُخْتِي وَفَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَحْنُ فِيهِ وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَأْمُرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِّنَ السَّبْيِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سَبَقَكُنَّ يَتَامَى بَدْرٍ وَلَكِنْ سَأَدُلُّكُنَّ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُنَّ مِنْ ذَلِكَ تُكَبِّرْنَ اللهَ عَلَى إِثْرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ .
فضل بن حسن ضمری سے مروی ہے کہ ام حکم یا ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب میں سے کسی ایک نے انہیں بیان کیا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس میں کچھ قیدی آئے، میں،میری بہن اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکلیف کی شکایت کی اور آپ سے درخواست کی کہ ہمیں بھی کچھ قیدی دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدر کے یتیم تم سے سبقت لے گئے، لیکن میں تمہیں ایسے عمل کی طرف راہنمائی کروں گا جو تمہارے لئے اس سے بھی بہتر ہے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس (۳۳)مرتبہ اللہ اکبر،تینتیس(۳۳)مرتبہ سبحان اللہ ،تینتیس (۳۳)مرتبہ الحمدللہ اور ایک مرتبہ یہ کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، کہا کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1882)، سنن أبي داؤد رقم (2594) ،كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ ، بَاب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ...
1838
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:آدمی میں بدترین خصلتیں شدیدترین حرص اورحدسےزیادہ بزدلی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (560)، سنن أبي داؤد رقم (2150) ،كِتَاب الْجِهَادِ، بَاب فِي الْجُرْأَةِ وَالْجُبْنِ ، مسند أحمد رقم (7668) .
1839
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : صدَقَةُ السِّرِّ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ .
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پوشیدہ صدقہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے غصے کو دور کرتا ہے۔( ) یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن جعفر، ابوسعید خدری، عبداللہ بن عباس، عمر بن خطاب، عبداللہ بن سعود، ام سلمہ، ابو امامہ، معاویہ بن حیرہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1908)، المعجم الكبير للطبراني رقم (7939) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (6491) .
1840
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعًا : عَلَى كُلِّ عُضْوٍ مِنْ أَعْضَاءِ بَنِي آدَمَ صَدَقَةٌ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بنی آدم کے ہر عضو پر صدقہ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (574)، مسند أحمد رقم ( 8770) .
1841
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنِ ابْن عُمَر رضی اللہ عنھما، قَالَ: كَتَبَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى أَهْلِ الْيَمَن إِلَى الْحَارِث بن عَبْد كَلاَل وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَهْلِ الْيَمَن مِنْ مَعاَفِرَ وَهَمْدَان: عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ صَدَقَةِ الثِّمَار - أَوْ مَالِ الْعقَار- عُشْر مَا سَقَتِ الْعَيْن وَسَقَت السَّمَاءُ وَعَلَى مَا يُسْقَى بِالْغَرْبِ نِصْفُ الْعُشْر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہےکہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن میں سے حارث بن عبد کلال اور اس کے معافری اور ہمدانی ساتھیوں کو خط لکھا کہ:مومنین پر پھلوں (جنہیں چشمےکےذریعےپانی دیاگیاہویابارش برسی ہو)کی زکاۃمیں عشر(دسواں حصہ)ہےاور جس کھیتی کو ڈول کے ذریعے سیراب کیا جائے اس میں نصف عشر ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (142)، مصنف إبن أبي شيبه .
1842
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنْ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ مَرْفُوْعًا : فِي الإِبِلِ فَرْعٌ، وَفِي الْغَنَمِ فَرْعٌ .
عبد مزنی سے مرفوعا مروی ہے کہ: اونٹوں میں اوربکریوں میں پہلا بچہ (اللہ کے نام ذبح کرنا جائز یا مستحب) ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1996)، المعجم الكبير للطبراني رقم (242) ، السنن الكبير للبيهقي ، معرفة الصحابه لأبي نعيم رقم (4256) .
1843
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضی اللہ عنہ مَرْفُوْعًا :كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ (قَائِمًا) (عَلَى رِجْلَيْهِ) فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ (بِوَجْهِهِ) وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَكَانَ يَقُولُ: تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا. وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن باہر نکلتے اور نماز سے ابتداء کرتے جب نماز مکمل کر لیتے تو(اپنے پاؤں پر)کھڑے ہو جاتے اور(اپنے چہرے کا رخ کر کے)لوگوں کی طرف متوجہ ہوجاتے جبکہ لوگ اپنی جگہوں پربیٹھے ہوتے، اگر آپ کو کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو لوگوں سے اس کا تذکرہ کرتے یا اگر اس کے علاوہ کوئی ضرورت ہوتی تو آپ انہیں اس کا حکم دیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایاکرتے: صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو، اکثر عورتیں صدقہ کرتیں، پھر واپس چلے جاتے
Takhreej
الصحيحة رقم (2968)، صحيح مسلم رقم (1472) ،كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ .
1844
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَيُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلُهُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے، ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے: دو آدمیوں کے درمیان عدل کرے تو یہ صدقہ ہے ، کسی آدمی کو اپنی سواری پر سوار کر کے یا اس پر اس کا سامان اٹھا کر اس کی مدد کرےتو یہ صدقہ ہے، اچھی بات صدقہ ہے، ہر قدم جو نماز کی طرف اٹھاتا ہے صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹاتا ہے تو یہ صدقہ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1025)، صحيح البخاري رقم (2767) ،كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ ، بَاب مَنْ أَخَذَ بِالرِّكَابِ وَنَحْوِهِ .
1845
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مَرْفُوْعًا : لَيْسَ فِي الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ زَكَاةٌ إِلَّا زَكَاةُ الْفِطْرِ فِي الرَّقِيقِ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: گھوڑے اور غلام میں زکاۃ نہیں، سوائے غلام میں صدقہ فطر کے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2189)، سنن أبي داؤد ( رقم : 1359) ، كِتَاب الزَّكَاةِ ، بَاب صَدَقَةِ الرَّقِيقِ .
1846
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ وَلَا فِي الْأَرْبَعِ شَيْءٌ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعًا فَإِذَا بَلَغَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعَ عَشْرَةَ فَإِذَا بَلَغَتْ عِشْرِينَ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَإِذَا لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا فَفِيهَا بِنْت لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ سِتِّينَ فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً ثُمَّ فِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ سے کم اونٹوں میں زکاۃ نہیں، چار میں بھی کچھ نہیں، جب تعداد پانچ سےنوتک ہو جائے تو اس میں ایک بکری ہے، جب تعداد دس سے چودہ تک ہو جائےتو اس میں دو بکریاں ہیں ، جب تعداد پندرہ سے انیس تک ہو جائے تو اس میں تین بکریاں ہیں، جب تعداد بیس سے چوبیس تک ہو جائے تو اس میں چار بکریاں ہیں ،جب تعدادپچیس سے پینتیس تک پہنچ جائے تو اس میں بنت مخاض(جسے پہلا سال مکمل ہوجائے اور دوسرا سال شروع ہو)ہے۔اگر بنت مخاض نہ ہو تو ایک مذکر ابن لبون(جسے دوسال مکمل ہوجائیں اور تیسرا شروع ہوتو )، اگر ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں ایک بنت لبون(جسے دوسال مکمل ہوجائیں اور تیسرا شروع ہو،مادہ)ہے۔ جب تک تعداد پنتالیس تک رہے ،اگر اس سے ایک اونٹ بھی زائد ہو جائے ،تو اس میں ایک حقہ(جسے تین سال مکمل ہوجائیں اورچوتھا شروع ہو)ہے، ساٹھ کی تعداد تک ،اگر اس سے بھی ایک اونٹ زائد ہو جائے تو اس میں جذعہ ہے(جسےچارسال مکمل ہوجائیں اورپانچواں شروع ہو) پچھتر کی تعداد تک، اگر ایک اونٹ بھی زائد ہو جائے تو اس میں دو بنت لبون ہیں، نوے تک، اگر ایک اونٹ بھی زائد ہو جائے تواس میں دوحقّہ ہیں۔ ایک سو بیس تک پھر ہر بچاس میں ایک حقہ اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2192)، سنن إبن ماجه رقم (1789) ،كِتَاب الزَّكَاةِ ، بَاب صَدَقَةِ الْإِبِلِ .
1847
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ مَرْفُوْعًا : مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ .
مقدام بن معدی کرب سے مرفوعا مروی ہے کہ : تم اپنے آپ کو جو کھلاتےہو وہ صدقہ ہے،اپنی اولاد کو جو کھلاتےہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہے، اپنی بیوی کو جو کھلاتےہو وہ صدقہ ہے، اپنے خادم کو جو کھلاتےہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (452)، مسند أحمد رقم (16550) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (17022) .
1848
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ! أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ .
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں سونے کے کڑے پہنتی تھی ،میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ خزانہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو زکاۃ کے نصاب تک پہنچ جائے اور اس کی زکاۃ ادا کر دی جائے تو وہ خزانہ نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (559)، سنن أبي داؤد رقم (1337) ،كِتَاب الزَّكَاةِ ، بَاب الْكَنْزِ مَا هُوَ وَزَكَاةِ الْحُلِيِّ .
1849
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء مَرْفُوْعًا: مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ فَإِنَّ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى وَلَا آبَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَأَعْطِ مُمْسِكًا مَالًا تَلَفًا
ابودردآء‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ سورج جب بھی طلوع ہوتا ہے اس کے دونوں جانب دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں جو آواز لگاتے ہیں اورجن و انس کے علاوہ تمام اہل زمین کو سناتے ہیں کہ:اے لوگو!اپنے رب کی طرف آؤ، یقیناً جو کم ہے اور کفایت کرنے والا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہے لیکن غافل کرنےوالا ہے۔ اور جب بھی سورج غروب ہوتا ہے تو اس کے دونوں جانب دو فرشتےبھیجے جاتے ہیں جو پکار لگاتے ہیں اور اہل زمین کو سناتے ہیں سوائے جن و انس کے: اے اللہ خرچ کرنے والے کو بہترین بدلہ دے اور روکنے والے کو تباہ ہونے والا مال دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (443)، مسند أحمد رقم (20728) ، شعب الإيمان للبيهقي رقم (3682) .
1850
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنْ عَبَّاد بْن شُرَحْبِيلَ قَالَ: أَصَابَتْنِي سَنَةٌ ، فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَان الْمَدِيْنَة فَفَرَكْتُ سُنْبُلًا فَأَكَلْتُ وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي فَجَاءَ صَاحِبُهُ، فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ لَهُ: مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ سَاغِبًا أَوْ جَائِعًا . وَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيَّ ثَوْبِي وَأَعْطَانِي وَسْقًا أَوْ نِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ .
عباد بن شرحبیل کہتے ہیں کہ مجھے قحط سالی نے آلیا،میں مدینے کے ایک باغ میں داخل ہوا اور ایک خوشہ توڑ لیا، میں نے کھایا بھی اور کپڑے میں بھی اٹھا لیا۔ باغ کا مالک آیا مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اس سے کہا: جب اسے علم نہیں تھا تو تم نے اسے بتلایا نہیں، اور جب یہ بھوکا پیاسا تھا تو تم نے اسے کھلایا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا تو اس نے میرا کپڑا مجھے واپس کر دیا اور ایک یا نصف وسق غلے میں سے دیا
Takhreej
الصحيحة رقم (453)، مسند أحمد رقم (16865) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7289) .
1851
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي ، قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: إِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ .
صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے ملا میں نے کہا: مجھے حدیث بیان کیجئے، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو مسلمان بندہ اپنے ہر قسم کے مال میں سے ایک جوڑی اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے پہرےدار اس کا استقبال کرتے ہیں، ہر ایک اپنے پاس موجود انعام کی طرف بلاتا ہے۔ میں نے کہا: یہ کس طرح ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اونٹ ہے تو دو اونٹ اور اگر گائے ہے تو دو گائے
Takhreej
الصحيحة رقم (567)، سنن النسائي رقم (3134) ،كِتَاب الْجِهَادِ ، فَضْلُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّه تَعَالَى ، مسند أحمد رقم (20379) .
1852
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللَّهُمَّ! أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا. وَيَقُولُ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ! أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: ہر دن صبح کے وقت دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ خرچ کرنے والے کو بہترین بدلہ عنایت فرما، اور دوسرا کہتا ہے : اے اللہ روکنے والے کے مال کو تباہ کردے
Takhreej
الصحيحة رقم (920)، صحيح البخاري،كِتَاب الزَّكَاةِ ،بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى... رقم (1351)
1853
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: « مَا نَفَعَنَا مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنَا مَالُ أَبِى بَكْرٍ » .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی (شخص کے) مال نے اتنا نفع نہیں دیا جتنا نفع ابو بکر‌رضی اللہ عنہ کے مال نے دیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2718)، مسند الحميدي رقم (265) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (4780) .
1854
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ مَرْفُوْعًا: مَا يُخْرِجُ رَجُلٌ صَدَقَتهُ حَتَّى يَفُكَّ بِهاَ لَحْيَيْ سَبْعِينَ شَيْطَانًا
ابن بریدہ اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ آدمی اس وقت تک صدقہ نہیں کرتاجب تک ستر شیطانوں کی رکاوٹ دور نہ کردے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1268)، مسند أحمد رقم (21884) ، المستدرك الصحيحين للحاكم رقم (1468) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (1046) .
1855
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
) عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم بَيْنَا هُوَ فِي بَيْتِهَا وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِّنْ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُونَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَمْ صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا مِنَ التَّمْرِ؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :كَذَا وَكَذَا مِنَ التَّمْر، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ فُلانًا تَعَدَّى عَلَيَّ فَأَخَذَ مِنِّي كَذَا وَكَذَا ، فَازْدَادَ صَاعًا؟ فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم :فَكَيْفَ إِذَا سَعَى عَلَيْكُمْ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي؟، فَخَاضَ النَّاسُ وَبَهَرَهُمُ الْحَدِيثُ حَتَّى قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللهِ اِنْ كَانَ رَجُلٌ غَائِبٌ عَنْكَ فِي إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَتَعَدَّى عَلَيْهِ الْحَقُّ فَكَيْفَ يَصْنَعُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْكَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسَه يُرِيدُ وَجْهَ اللهِ وَالدَّارَ الآخِرَةِ، لَمْ يُغِيبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ، وَأَقَامَ الصَّلاةَ، وَأَدَّى الزَّكَاةَ فَتَعَدَّى عَلَيْهِ الْحَق، فَأَخَذَ سِلاحَهُ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ .
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے، آپ کے پاس آپ کے صحابہ بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے، اتنے میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اتنی کھجور میں کتنی زکاۃ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنی کھجور میں اتنی زکاۃ ہے، وہ آدمی کہنے لگا: فلاں شخص نے مجھ پر زیادتی کی ہے، مجھ سے اتنی زکاۃ لی ہے اور ایک صاع زیادہ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس وقت کیا ہوگا جب تم پر ایسے حکمران آئیں گے جو تم پر اس سے بھی زیادہ زیادتی کریں گے۔ لوگ چہ مگوئیاں کرنے لگے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نے انہیں حیران کردیا۔حتی کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص آپ سے دور ہو وہ اپنے اونٹ اور جانور چرا رہا ہو اور اپنی فصل میں ہو اور اپنے مال کی زکاۃ بھی ادا کرتا ہو اور زکاۃ لینے والا اس پر زیادتی کرے تو وہ کس طرح کا رویہ اختیار کرے، اور وہ آپ سے دور بھی ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے مال کی زکاۃ خوشدلی سے ادا کی، اللہ کی خوشنودی اور آخرت کی بھلائی چاہتے ہوئے، اپنے مال میں سے کوئی چیز غائب بھی نہ کرے، نماز قائم کرے، زکاۃ ادا کرے، پھر بھی زکاۃ لینے والا اس پر زیادتی کرےتو وہ اپنا اسلحہ لے کر اس سے لڑائی کرے اور قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2655)، المعجم الكبير للطبراني رقم (19125) ، السنن الكبرى للبيهقي .
1856
Sahih
زکاة، سخاوت، صدقہ اور ہبہ کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ مَرْفُوْعًا: مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِوَجْهِ اللهِ فَأَعْطُوهُ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سےمرفوعا مروی ہےکہ:جوشخص اللہ کےنام پرپناہ مانگےاسےپناہ دو،اورجواللہ کےنام پرسوال کرے اسے دیا کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (253)، سنن أبي داؤد رقم (4444) ،كِتَاب الْأَدَبِ،بَاب فِي الرَّجُلِ يَسْتَعِيذُ ... ، مسند أحمد رقم (2136) .
1857
Sahih