عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رضی اللہ عنہ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّ صَدَقَة أَفْضَل؟ قَالَ: إِبْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى .
حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر والوں سے ابتداء کرو، اورصدقہ خرچ پورا کرنے کے بعد ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2243)، صحيح البخاري رقم (1338) ، كِتَاب الزَّكَاةِ، بَاب لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غِنًى .
عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر-یا ثعلبہ سے- وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہر آزاد،غلام،چھوٹے اور بڑےکی طرف سے گندم میں سے ایک صاع دو آدمیوں کی طرف سے یا کھجور میں سے ایک صاع یا جَومیں سے ایک صاع ادا کرو
Takhreej
الصحيحة رقم ( 1177)، مسند أحمد رقم (22552) ، بَاقِي مُسْنَدِ الْأَنْصَارِ، سنن الدارقطني رقم (2141) .
زید بن اسلم( اپنے والد سے) بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ: اہل شام میں ایک شخص بہت پسندیدہ تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اہل شام میں تم کس بات کی وجہ سے محبوب ہو؟ اس نے کہا: میں ان کے ساتھ مل کر لڑائی کرتا ہوں اور ان سے انس رکھتا ہوں ۔عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دس ہزار(درہم/دینار) دیئے اور کہا، یہ لو اور اپنے معرکے میں ان سے مدد حاصل کرو۔ اس نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے کم مال دیا جو میں نے تمہیں دیا ہے، میں نے بھی آپ سے وہی بات کہی جو تم نے مجھ سے کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ تمہیں بغیر سوال کئے مال عطا کرے اور تم نے اس کا لالچ بھی نہ کیا ہوتو اسے قبول کر لو کیوں کہ یہ اللہ کا رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف بھیجا ہے۔
قبیصہ بن ذویب سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (ابن) سعدی کو ایک ہزار دینار دیئے تو اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں تم سے وہ بات کرنے لگا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہی تھی: جب اللہ تعالیٰ بغیر سوال کےتاور بغیر کسی لالچ کے تمہاری طرف رزق کھینچ کر لائےتو اسے لے لو کیوں کہ وہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1324)، صحيح مسلم ،كِتَاب الْإِمَارَةِ ، بَاب النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ... رقم (3398)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جب آدمی (نکاح کے ذریعے کسی) عورت کا مالک بن جائے تو اس کی اجازت کے بغیر اس بیوی کے لئے عطیہ کرناجائز نہیں
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: افضل صدقہ دودھ والا جانور (کسی کو ادھار دینا ہے) جوصبح بھی دودھ کا پیالہ دیتا ہے اور شام کو بھی دودھ کا پیالہ دیتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2587)، مسند أحمد رقم (8347) ، مسند الحميدي رقم (1110) .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ:خبردار جوشخص کسی ایسے گھروالوں کو (جن کے لئےدودھ کا سہارا نہیں) (اپنے اونٹوں میں سے) کوئی اونٹنی عطیہ کرتا ہےجو صبح بھی دودھ کا بڑا پیالہ دیتی ہے اور شام کو بھی دودھ کا بڑا پیالہ دیتی ہے، تو اس کا اجر بہت بڑا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3601)، صحيح مسلم رقم (1693) ، كِتَاب الزَّكَاةِ ، بَاب فَضْلِ الْمَنِيحَةِ .
عَنْ أَسْوَدِ بن أَصْرَمَ الْمُحَارِبِيِّ رضی اللہ عنہ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، أَوْصِنِي، قَالَ: امْلِكْ يَدَكَ ، وَفِيْ رِوَايَةٍ « لا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلا إِلَى خَيْرٍ » .
اسود بن اصرم محاربیرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھ کو قابو میں رکھو ،اور ایک روایت میں ہے: اپنے ہاتھ کو سوائے خیر کے کسی اور طرف نہ لے جاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (1560)، الآحاد والمثاني لإبن أبي عاصم رقم (1186) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (816) .
عن عَمْروٍ بْن تَغْلِب: أَنَّ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أُتِيَ بِمَالٍ أَوْ سَبْيٍ فَقَسَمَهُ فَأَعْطَى رِجَالًا وَتَرَكَ رِجَالًافَبَلَغَهُ أَنَّ الَّذِينَ تُرِكَ عَتَبُوا فَحَمِدَ الله ثُمَّ أَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ! فَوَالله! إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِي وَلَكِنْ أُعْطِي أَقْوَامًا لِّمَا أَرَى فِي قُلُوبِهِمْ مِّنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ الله فِي قُلُوبِهِمْ مِّنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِفِيهِمْ عَمْرُوبْنُ تَغْلِبَ قال عمرو: فَوَالله! مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ الله صلی اللہ علیہ وسلم حُمُرُ النَّعَمِ.
عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال یا قیدی لائے گئے۔آپ نے انہیں تقسیم کر دیا، کچھ آدمیوں کو دیا اور کچھ کو نہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ جن لوگوں کو آپ نے نہیں دیا ہے وہ ناراض ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمدو ثنا کی پھر فرمایا: اما بعد! واللہ! میں کسی آدمی کو دیتا ہوں(اور کسی کونہیں دیتا)جس شخص کو میں نہیں دیتا،وہ مجھے اس شخص سے پیارا ہوتا ہے جس کومیں دیتا ہوں، لیکن جب میں کچھ لوگوں کے دلوں کی پریشانی اور گھبراہٹ دیکھتا ہوں تو انہیں دے دیتا ہوں، اور کچھ لوگوں کے دلوں میں غنا اور خیر دیکھتا ہوں تو انہیں اللہ کے عطا کردہ خیر کے سپرد کر دیتا ہوں۔ ان لوگوں میں سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ کلمات مجھے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر لگے
Takhreej
الصحيحة رقم (3494)، صحيح البخاري رقم (871)،كِتَاب الْجُمُعَةِ، بَاب مَنْ قَالَ فِي الْخُطْبَةِ بَعْدَ الثَّنَاءِ... .
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س موجود تھا۔ آپ کے پاس دو آدمی آئے، ایک تنگدستی کا شکوہ کر رہا تھااور دوسرا ڈاکہ زنی کی شکایت کر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ڈاکہ زنی کا معاملہ اس طرح ہے کہ تھوڑی مدت گزرے گی اور کیفیت یہ ہوگی کہ مکہ کی طرف کوئی قافلہ بغیر کسی محافظ کےسفر کرے گااورتنگدستی کی صورتحال یہ ہوگی کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کوئی شخص اپنا صدقہ(زکاة وغیرہ)اٹھائے گھوم رہا ہوگا اور اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو اس صدقے کو قبول کرلے۔ پھر آدمی اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوگا نہ کوئی ترجمان ہوگا جو اس کے لئے ترجمانی کرے۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائےگا:کیا میں نے تمہیں مال نہیں دیا تھا؟ وہ کہے گا:کیوں نہیں؟پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا:کیا میں نے تمہاری طرف رسول نہیں بھیجا تھا؟ وہ کہے گا کیوں نہیں وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو آگ نظر آئے گی، پھر اپنے بائیں طرف دیکھے گا تو بھی آگ نظر آئے گی، اس لئے اسےچاہیئےکہ وہ آگ سےبچےاگرچہ ایک کھجورکےٹکڑےکےذریعےہی کیوں نہ بچے۔اگریہ بھی میسرنہ اچھی بات کےذریعےہی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3495)، صحيح البخاري رقم (1324) ، كِتَاب الزَّكَاةِ ، بَاب الصَّدَقَةِ قَبْلَ الرَّدِّ .
عَنْ أَبی هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ تُعْطِ الْفَضْلَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ وَإِنْ تُمْسِكْهُ فَهُوَ شَرٌّ لَكَ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَلَايَلُومَ اللهُ عَلَى الْكَفَافِ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! اگر تم ضرورت سے زائد(اللہ کی راہ میں) دے دو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور اگر تم اسے روک لو تو یہ تمہارے لئے برا ہے، اور اللہ تعالیٰ کفاف (برابر برابر روزی) پر ملامت نہیں کرتا۔ اور اپنے اہل و عیال سے ابتداء کرو، اللہ تعالیٰ کفایت کی (برابر سرابر) روزی پر ملامت نہیں کرتا۔ اور اوپر والا(دینے والا) ہاتھ نیچے والے (لینے والے)ہاتھ سے بہتر ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2473)، مسند أحمد رقم (8388) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (223) .
ابن اذنان کہتے ہیں کہ میں نے علقمہ کو دو ہزار درہم ادھار دیئے جب مقررہ مدت پوری ہوگئی تو میں نے اس سے کہا کہ مجھے قرض واپس کرو، اس نے کہا: مجھے اگلے سال تک مہلت دو ،(مدت پوری ہونے پر) اگلے سال آیا، پھر اس کے بعد آیا ،اس نے کہا: تم مجھے تکلیف دینے پر مصر ہو اور تم نے مجھے روک رکھا ہے۔میں نے کہا: ہاں، وہ تمہارا ہی عمل ہے۔ اس نے کہا میرا عمل کیسے ہے؟ اس نے کہا: یہ کیسے؟، میں نے کہا: آپ نے ہی تومجھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرض ،صدقے کے نصف(اجر)کے برابرہے۔ انہوں نے کہا:جی ہاں، اسی طرح ہے، اس نے کہا: لو اب (اپنا قرضہ)لے لو
Takhreej
الصحيحة رقم (1553)، مسند أحمد رقم (3716) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (5240) .
خبابرضی اللہ عنہ سے مروی ہے، راوی کہتا ہے: اس نے سات داغ لگوائے، ہم ان کے پاس عیادت کرنے آئے، انہوں نے کہا:اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا،آپ فرما رہے تھے:‘‘موت کی خواہش نہ کرو’’ تو میں موت کی خواہش کرتا، وہ اپنے باغ کی دیوار درست کر رہے تھے کہنے لگےکہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےسنافرمارہےتھے،آدمی کواس کےسارےخرچ میں اجردیاجاتاہےسوائےاس مٹی(میں خرچ کرنے)کے (ایک رایت میں ہے تعمیرات کرنے کے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2831)، سنن إبن ماجه رقم (4153) ،كِتَاب الزُّهْدِ ،بَاب فِي الْبِنَاءِ وَالْخَرَابِ .
عَنْ عُقْبَةَ بن عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِيءُ عَنْ أَهْلِهَا حَرَّ الْقُبُورِ، وَإِنَّمَا يَسْتَظِلُّ الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ .
عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ، صدقہ کرنے والوں سے قبر کی گرمی کو ختم کرتا ہے، اور مومن قیامت کے دن اپنے صدقے کا سایہ حاصل کرے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3484)، المعجم الكبير للطبراني رقم (14207) ، شعب اللإ يمان للبهقي رقم (3198) .
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبَ مِنْهَا فَقَالَ: لَا حَتَّى آتِيَ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم فَأَسْأَلَهُ فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ: إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا وَإِنَّ مَوَالِيَ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ .
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو زکاة لینے کے لئے بھیجا، اس نے ابو رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے ساتھ چلو تاکہ تم بھی اس میں سے حاصل کر سکو۔ انہوں نےکہا: جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں نہیں جاؤں گا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:زکات(صدقہ)ہمارےلئےجائزنہیں اورلوگوں کے غلامانہیں میں سے ہوتےہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1613)، سنن الترمذي رقم (593) ،كِتَاب الزَّكَاةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ، بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الصَّدَقَةِ لِلنَّبِيِّﷺ ...