عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اگر اللہ نے چاہا اورمیں اگلے سال زندہ رہا تو میں نویں تاریخ (محرم) كا روزہ ركھوں گا اس ڈرسے كہ كہیں عاشورا كا دن مجھ سے چھوٹ نہ جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (350) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (10664) .
) ام ھانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا، پھر پینے كے لئے برتن انہیں دے دیا۔ انہوں نے كہا: میں روزے سے ہوں لیكن آپ كا جھوٹا پانی لوٹا نا پسند نہیں كرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ رمضان كی قضا ہے تو اس كی جگہ كسی اور دن قضا كر لینا، اگر یہ نفلی روزہ ہےتو چاہو تو اس كی قضا ادا كر لینا اور اگرنہ چاہو تو قضا نہ دینا
) ابو ہریر ہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس ایك بھنا ہوا خرگوش لایا ۔ اس كے ساتھ اس كا سالن بھی تھا، لا كر آپ كے سامنے ركھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں كھایا، اور آپ كے صحابہ نے بھی نہیں كھایا۔ اعرابی بھی رك گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں كھانے سے كس نے روكا؟ اس نے كہا: میں مہینے میں تین دن روزہ ركھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم (تین دن کا) روزہ رکھنا چاہتے ہو تو پھر ایام غر(ایام بیض ١3۔ 14۔15تاریخ) كا روزہ ركھا كرو
) نافع سے مروی ہے كہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بیان كیا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عاشورہ كے دن فرمایا: یہ وہ دن ہے جس دن اہل جاہلیت روزہ ركھتے تھے۔ جو شخص اس دن روزہ ركھنا چاہے وہ روزہ ركھ لے اور جو شخص اس دن روزہ نہ ركھنا چاہے وہ روزہ نہ ركھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3548) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الصِّيَامِ، بَاب صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ رقم (1903) .
انس رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ مجھے عبادہ بن صامترضی اللہ عنہ نے بتایا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر كے بارے میں بتانے كے لئے باہر نكلے تو دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں شبِ قدر كے بارے میں بتانے كے لئے باہر آیا تھا فلاں فلاں جھگڑ رہے تھے ، مجھےشبِ قدر بھلا دی گئی۔ ممكن ہے یہ بات تمہارے لئے بہتر ہو۔ اسے ستائیسویں ،انتیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش كرو
Takhreej
الصحيحة رقم (3592) ، صحيح البخاري،كِتَاب الْإِيمَانِ، بَاب خَوْفِ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَنْ يَحْبَطَ عَمَلُهُ رقم (47) .
عن حَمْزة بن عَمْرٍو: أَنَّه سَأَل رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن الصِّيَام في السَّفَر؟ فقال: أَيُّ ذَلِكَ عَلَيْك أَيْسَر فَافْعَل.
حمزہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ ركھنے كے بارے میں سوال كیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے جو كام آسان ہو كر لو
Takhreej
الصحيحة رقم (2884) ، أخرجه تمام في الفوائد ( ق 161 / 1 ) .
عن أبي هُرَيْرَة عن أَسَامَة بن زيد (وَلَم يَقُلِ النَّسَائِي: عن أبي هُرَيْرَة ) قَال: قُلْت: يَا رَسُول الله! أَرَاك تَصُوم في شَهْرٍ مَّا لَم أَرَك تَصُوم في شَهْرٍ مِّثْل ما تَصُوم فِيه قال: أَيُّ شَهْرٍ؟ قُلْتُ: شَعْبَان، قال: شَعْبَانُ بَيْن رَجَب و رَمَضَان يَغْفُل النَّاسُ عَنْه تُرْفَع فِيه أَعْمَالُ الْعِبَاد، فَأُحِبُّ أَن لَا يُرْفَع عَمَلِي إِلَا و أَنا صَائِمٌ. قال: أَرَاك تَصُومُ الاثنينِ و الْخَمِيسَ فَلَا تَدَعُهُمَا؟ قال: إِن أَعْمَال الْعِبَاد... الحديث.
اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ كو ایك مہینے میں (کثرت سے) روزہ ركھتے دیكھتاہوں، آپ اس كے علاوہ كسی اور مہینے میں اس طرح روزہ نہیں ركھتے۔ آپ نے پوچھا: وہ كون سا مہینہ ہے؟ میں نے كہا: شعبان میں۔ آپ نے كہا: شعبان ، رجب اور رمضان كے درمیان آتا ہے۔ لوگ اس سے غافل رہتے ہیں اس میں بندوں كے اعمال اوپرلےجائےجاتے ہیں۔ مجھے یہ بات پسند ہے كہ جب میرا عمل اوپر لے جایا جائے تو میں روزے كی حالت میں ہوں ۔ اسامہرضی اللہ عنہ نے كہا: میں آپ كو دیكھتا ہوں كہ آپ پیر اور جمعرات كا روزہ ركھتے ہیں؟ انہیں چھوڑتے نہیں ؟ آپ نے فرمایا: بندوں كے اعمال ۔۔۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1898) ، أخرجه النسائي رقم ( 1 / 322 ) .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مسلسل روزہ رکھنے سےبچو۔ كہا گیا: آپ تومسلسل روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات كے وقت مجھے میرا رب كھلاتا پلاتا ہے۔ تم میں جتنی طاقت ہے اتنی ہی تكلیف اٹھاؤ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3604) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الصَّوْمِ، بَاب التَّنْكِيلِ لِمَنْ أَكْثَرَ الْوِصَالَ، رقم (1830) .
) عبید اعرج سے مروی ہے كہتے ہیں كہ مجھے میری دادی نے بیان كیا كہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس ہفتے كے دن آئیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم كھانا كھارہے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ اور كھانا كھاؤ۔ انہوں نے كہا: میں روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے كہا: كیا تم نے كل روزہ ركھا تھا؟ انہوں نے كہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تم كھاؤ، كیوں كہ ہفتے كے دن کے روزے کا نہ تمہیں ثواب ہے اور (نہ اس کے چھوڑنے پر) تمہیں گناہ یا سزا ہے
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو بن العَاص، أَنَّ رَجُلًا جَـاءَ إِلَى النَّـبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: يَا رَسُـولَ اللهِ! أَتـأْذَنْ لِي أَنْ أَخْتَصِيَ؟ فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : خِصَاءُ أُمَّتِي الصِّيَامُ وَالْقِيَامُ.
) عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہا كہ: كیا آپ مجھے خصی ہونے كی اجازت دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت كا خصی پن روزے اور قیام اللیل ہے۔
)عائشہ رضی اللہ عنہاكہتی ہیں كہ حمزہ بن عمرو اسلمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں مسلسل روزے رکھتا ہوں کیا میں سفر میں روزہ ركھ سكتا ہوں؟ آپ نے فرمایا، چاہو تو روزہ ركھ لو، چاہو تو چھوڑ دو
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیكھ كر روزہ ركھو، چاند دیكھ كر افطار كرو، اگر تمہارے اورچاند كے درمیان كوئی بادل یا اندھیرا یا گرد و غبار حائل ہو جائے تو گنتی پوری كرو۔ مہینے كا استقبال (اس سے پہلے روز رکھ کر) نہ كرو اور رمضان كے ساتھ شعبان كا روزہ نہ ملاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (1917) ، سنن النسائي ،كِتَاب الصِّيَامِ،صِيَامُ يَوْمِ الشَّكِّ، رقم (2160) .
عَنِ ابن عَبَّاس، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، فَذَكَرَتْ لَه أَنَّ أُخْتَهَا نَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا ، وَأَنَّهَا رَكِبَتِ الْبَحْرَ فَمَاتَتْ وَلَم تَصُمْ، فَقَال لَهَا رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : صُوْمِي عَنْ أُخْتِكِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ ایك عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئی اور كہا كہ اس كی بہن نے نذر مانی تھی كہ وہ ایك مہینے كے روزے ركھے گی۔ وہ سمندر كے سفر پر گئی اور مر گئی، اس نے روزے نہیں ركھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی بہن كی طرف سے روزے ركھو
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ وہ دن ہے جس دن تم روزہ ركھتے ہو اور افطار(عیدالفطر) وہ دن ہے جس دن تم افطار كرتے ہو، اور اضحی(عید الاضحی) وہ دن ہے جس دن تم قربانی كرتے ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (224) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الصَّوْمِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، بَاب مَا جَاءَ الصَّوْمُ ...، رقم (633) .