TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

روزے اور تہجد کا بیان - روزے اور تہجد کا بیان - Book 17 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 17 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 78 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

78 Hadith · 1 Chapters
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: كُنْتُ فِي بَيْتٍ فِيهِ عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَ بِحَدِيثٍ وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَأَنَّهُ أَوْلَى بِالْحَدِيثِ مِنِّي فَحَدَّثَ الرَّجُلُ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: فِي رَمَضَان تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ (وَفِي رِوَايَةٍ: الْجَنَّة) وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النِّيْرَان وَيُصَفَّدُ فِيهِ كُلُّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ وَيُنَادِي مُنَادٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: مَلَكٌ) كُلَّ لَيْلَةٍ: يَا طَالِبَ الْخَيْرِ هَلُمَّ وَيَا طَالِبَ الشَّرِّ أَمْسِكْ.
عرفجہ كہتے ہیں كہ میں ایك گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ بھی تھے،میں ایك حدیث بیان كرنا چاہتا تھا لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابہ میں سے تھے اور حدیث بیان كرنے كے مجھ سے زیادہ لائق تھے۔ انہوں نے روایت كی كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں آسمان كے دروازے كھول دیئے جاتے ہیں(اور ایك روایت میں ہے: جنت كے)اور جہنم كے دروازے بند كر دیئے جاتے ہیں۔ ہر سر كش شیطان قید كر لیا جاتا ہے، اور ایك اعلان كرنے والا ہر رات اعلان كرتا ہے(اور ایك روایت میں ہے كہ: فرشتہ) كہ: اے خیر كے طالب! آؤ، اور اے شر كے طالب! رك جاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (1868) ، سنن النسائي،كِتَاب الصِّيَامِ، باب ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى مَعْمَرٍ فِيهِ، رقم (2081) .
2245
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عن عَائَشَة كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا تضوَّر من اللَّيْل قال: لَا إِلَه إِلَا الله الواحد الْقَهَّار، رَبُّ السَّمَاوَات و الْأَرَض و ما بَيْنَهُمَا الْعَزِيز الْغَفَّار.
عائشہ rسے مروی ہے كہ رات كے وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ محسوس كرتے تو فرماتے: لَا إِلَه إِلَا الله الواحدُ الْقَهَّارُ، رَبُّ السَّمَاوَات و الْأَرَض و ما بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُاللہ كے علاوہ كوئی معبودِبرحق نہیں، اكیلا زبردست، آسمانوں اور زمین كا رب اور جو كچھ ان كے درمیان ہے ،غالب بخشش كرنے والا
Takhreej
الصحيحة رقم (2066) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم ( 1 /540 ) .
2246
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ: كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا تَهَجَّد يُسَلِّمُ بَيْن كُل رَكْعَتَيْن.
عائشہ rسے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد پڑھتے تو ہر دو ركعتوں كے بعد سلام پھیرتے
Takhreej
الصحيحة رقم (2365) ، مصنف ابن أبي شيبة رقم ( 1 /540 )
2247
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عن سَهلِ بن سَعدٍ: كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا كَان صَائِمًا أَمَرَ رَجُلًا فَأَوْفَى عَلَى نَشْرٍ، فَإِذَا قال: قَد غَابَتِ الشَّمْسُ
سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب روزے سے ہوتے تو كسی آدمی كو حكم دیتے وہ اونچی جگہ پربیٹھ جاتا،جب وہ كہتا كہ سورج غروب ہو چكا ہے تو آپ افطار كر لیتے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2081) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (1535) .
2248
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ أَنَسٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا كَانَ مُقِيمًا اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ وَإِذَا سَافَرَ اعْتَكَفَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرِينَ
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مقیم ہوتے تو رمضان كے آخری دس دنوں میں اعتكاف كرتے اور جب سفر میں ہوتے تو آئندہ برس بیس دن اعتكاف كرتے
Takhreej
الصحيحة رقم (1410) ، مسند أحمد رقم (11579) .
2249
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عن أَنسٍ: كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يُصَلِّي الْمَغْرِب وَهو صَائِمٌ حَتَّى يُفْطِرَ، وَلَو عَلَى شَرْبَةٍ مِّنْ مَّاءٍ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار كرنے تك مغرب كی نماز نہ پڑھتے، چاہے ایك گھونٹ پانی ہی سے كیوں نہ ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2110) ، المعجم الأوسط للطراني رقم (9038) .
2250
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يُفْطِرُ أَيَّامَ الْبِيضِ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ.
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرو سفر میں ایامِ بیض (13۔14۔15) كا روزہ نہیں چھوڑا كرتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (580) ، سنن النسائي،كِتَاب الصِّيَامِ، باب صَوْمُ النَّبِيِّ ﷺ...، رقم (2305) .
2251
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ يَجْعَلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ثَوْبًا، يَعْنِي: الْفَرْجَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے كی حالت میں قربت اختیاركرتے تھے(جماع کے علاوہ)، اور شرمگاہ كے درمیان كپڑاحائل كر لیتے
Takhreej
الصحيحة رقم (221) ، مسند أحمد رقم (23178) .
2252
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عن أَنس: كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَبْدَأُ إِذَا أَفْطَرَ بِالتَّمْرِ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب افطار كرتے تو كھجور سے ابتدا ءكرتے
Takhreej
الصحيحة رقم (2117) ، سنن الكبرى للنسائي رقم ( 65 / 2 ) .
2253
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ
عائشہ rسے مروی ہےكہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں اتنی محنت(عبادت)كرتے،جتنی محنت(عبادت)بقیہ دنوں میں نہ كرتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2123) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الِاعْتِكَافِ، بَاب الِاجْتِهَادِ فِي الْعَشْرِ...، رقم (2009) .
2254
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لَا يَدَعُهُمَا يَقُولُ: لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا. يَعْنِي: الْفَرِيضَةَ.
) عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں روزہ بھی ركھتے اور افطار بھی كرتے، اور دو ركعتیں پڑھتےانہیں چھوڑتے نہ تھے۔ عبداللہ كہتے ہیں كہ آپ ان دو فرض رکعتوں سے زیادہ (سنن) نہیں پڑھتے تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (191) ، مسند أحمد رقم (3622) .
2255
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رُطَبَات فَعَلَى تَمَرَات فَإِنْ لَمْ يَكُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِّنْ مَاءٍ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے سے پہلے چند تازہ كھجوروں سے افطار كرتے۔اگر تازہ كھجوریں نہ ملتیں تو خشك كھجوروں سے ،اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو آپ پانی كے چند گھونٹ پی لیتے
Takhreej
الصحيحة رقم (2840) ، مسند أحمد رقم (12215) .
2256
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَلَكِنَّهُ أَمْلَكُكُمْ لِإِرْبِهِ.
عائشہ rسے مروی ہے كہتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے كی حالت میں بوسہ لیتےاور روزے كی حالت میں قربت اختیاركرتے(جماع کے علاوہ)، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جذبات پر تم سے بہت زیادہ قابو ركھتے تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (220) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الصِّيَامِ، بَاب بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ...، رقم (1854) .
2257
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ.
عائشہ rسے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے كی حالت میں بوسہ لیتے اور میں بھی روزے سے ہوتی
Takhreej
الصحيحة رقم (219) ، سنن أبي داؤد،كِتَاب الصَّوْمِ، القبلة للصائم، رقم (2036) .
2258
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنِ ابن عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَتِ امْرَأَة تُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(حسناءمِنْ) أَجْمَل النَّساء ، فَكَان نَاس يُصَلُّون فِي آخَر صُفُوفِ الرِّجَال فَيَنْظُرُوْا إِلَيْهَا ، فَكَانَ أَحَدُهُم يَنْظُر إِلَيْهَا مِنْ تَحْتِ إِبِطِه (إِذاَ رَكَعَ) ، وَكَانَ أَحَدُهُم يَتَقَدَّم إِلَى الصَّفِّ الْاوَّل حَتَّى لَا يَرَاهَا ، فَأَنْزَلَ اللهُ -عَزَّ وَجَلَّ- هَذِهِ الْآيَة: وَ لَقَدۡ عَلِمۡنَا الۡمُسۡتَقۡدِمِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ لَقَدۡ عَلِمۡنَا الۡمُسۡتَاۡخِرِیۡنَ (۲۴) الحجر.
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ایك عورت جو عورتوں میں( انتہائی حسین و جمیل تھی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پیچھے نماز پڑھتی تھی۔كچھ لوگ مردوں كی آخری صف میں نماز پڑھتے تھے اور اس كی طرف دیكھتے تھے۔ كوئی شخص(جب ركوع كرتا) تو اسے اپنی بغل كے نیچے سے دیكھتا اور كوئی اگلی صف میں آگے بڑھ جاتا تاكہ اسے نہ دیكھ سكے۔ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:(الحجر:۲۴) یقینا ہم نے تم میں سے آگے بڑھنے والوں كو جان لیا اور پیچھے رہنے والوں كو بھی
Takhreej
الصحيحة رقم (2472) ، مسند الطيالسي رقم (2827) .
2259
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ النُّعْمَانِ السُّحَيْمِىِّ قَالَ: أَتَانِى قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ فِى رَمَضَانَ فِى آخِرِ اللَّيْلِ بَعْدَ مَا رَفَعْتُ يَدِى مِنَ السَّحُورِ لِخَوْفِ الصُّبْحِ فَطَلَبَ مِنِّى بَعْضَ الإِدَامِ فَقُلْتُ يَا عَمَّاه! لَوْ كَانَ بَقِىَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّيْلِ شَىْءٌ لَأُدُخْلَتُكَ إِلَى طَعَامٍ عِنْدِى وَشَرَابٍ. قَالَ: عِنْدَكَ؟ فَدَخَلَ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ثَرِيدًا وَلَحْمًا وَنَبِيذًا فَأَكَلَ وَشَرِبَ وَأَكْرَهَنِى فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ وَإِنِّى لَوَجِلٌ مِنَ الصُّبْحِ ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِى طَلْقُ بْنُ عَلِىٍّ أَنَّ نَبِىَّ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: « كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلاَ یَھِیْدَنَّکُمْ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْتَرِضَ لَكُمُ الأَحْمَرُ.
عبداللہ بن نعمان سحیمی كہتے ہیں كہ قیس بن طلق آخری رات رمضان میں میرے پاس آئے ، جب صبح كے خوف سے میرا ہاتھ سحری سے اٹھ چكا تھا۔ انہوں نے مجھ سے تھوڑا سا سالن مانگا، میں نے ان سے كہا: چچا جان اگر آپ كے نزدیك رات كا كچھ حصہ باقی ہے تو میں اپنے پاس موجود كھانے پینے كی چیزیں آپ كے سامنے پیش كر سكتا ہوں؟ انہوں نے كہا: تمہارے پاس كیا ہے؟ وہ آئے تو میں نے ثرید ،گوشت اور نبیذ ان كے قریب كر دی۔ انہوں نے خود بھی كھایا پیا اور مجھے بھی كھانے پینے پر مجبور كیا۔ میں صبح طلوع ہونے سے ڈر رہا تھا۔ پھر وہ كہنے لگے طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان كیا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كھاؤ اور پیواور لمبائی میں جانے والی دھاری تمہیں کھانے سے نہ روکے،كھاؤ اور پیو حتی كہ تمہارے لئے سرخ پٹی نمودار ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (2031) ، سنن الدارقطني رقم (2213)
2260
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس لہسن اور پیاز كا ذكر كیا گیا ، پوچھا گیا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان میں لہسن زیادہ تیز ہے كیا آپ اسے حرام قراردیتے ہیں؟ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے كھاؤ اور تم میں سے جو شخص اسے كھائے وہ اس مسجد كے قریب نہ آئے، جب تك اس كی بو ختم نہ ہو جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (2032) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب الْأَطْعِمَةِ، بَاب فِي أَكْلِ الثُّومِ، رقم (3327) .
2261
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عن أبي هُرَيْرَة مَرْفُوْعاً: لَيْلَةُ الْقَدَر لَيْلَةَ سَابِعَة أَو تَاسِعَة وَعِشْرِين ، وَإِن الْمَلَائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَة في الْأَرَض أَكْثَرُ من عَدَدِ الْحَصَى.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: شب قدر ستائیسویں یا انتیسویں رات ہے۔ اس رات زمین پر فرشتوں كی تعداد كنكریوں كی تعداد سے زیادہ ہوتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2205) ، مسند الطيالسي رقم (2659) .
2262
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَنَعَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ فَوَاللهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
عائشہ rسے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك حكم دیا ،پھر اس میں رخصت دی، آپ كے صحابہ تك یہ بات پہنچی تو انہیں یہ بات ناپسند لگی اور اس کام سے ركے رہے۔ آپ تك یہ بات پہنچی تو آپ خطبہ دینے كے لئے كھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں كو كیا ہو گیا ہے كہ میری طرف سے انہیں ایك حكم ملا، پھر میں نے اس میں رخصت دی تو لوگوں كو نا پسند لگا، اور اس سے ركے رہے؟ واللہ! میں اللہ كے بارے میں ان سے زیادہ علم ركھتا ہوں اور ان سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (328) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْفَضَائِلِ، بَاب عِلْمِهِ ﷺ بِاللَّهِ تَعَالَى وَشِدَّةِ خَشْيَتِهِ، رقم (4345) .
2263
Sahih
روزے اور تہجد کا بیان
عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَتَسَحَّرْ بِشَيْءٍ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جو شخص روزہ ركھنا چاہے وہ كسی چیز سے سحری كر لے
Takhreej
الصحيحة رقم (2309) ، مسند أحمد رقم (14422)
2264
Sahih

Chapters

1