TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - Book 21 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 21 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 226 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

226 Hadith · 1 Chapters
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ خَبَّابٍ، عَنِ ِالنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: إِنَّ بني إِسْرَائِيلَ لَمَّا هَلَكُوا قَصُّوا.
خباب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل جب ہلاک ہوئےتو قے بیان کرنے لگے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2850) فوائد تمام رقم (965) .
2547
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرفُوعاً: إِنّ لِلْإِسْلَام شِرَّةً، وَإِن لِكُلّ شِرَّة فترةً، فَإِن (كَان) صَاحِبهُمَا سَدَّد وَقَارَب فارجوه، وَإِن أُشِير إِلَيْه بِالْأَصَابِع فَلَا تَرْجُوه.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:اسلام کے لئے ایک حرص ہوتی ہے اور ہر حرص کے لئے ایک وقفہ ہوتا ہےاگر اس دور کا حکمران سیدھا رہے اور درست رہے تو اس سے(خیر کی)امید رکھو،اور اگر اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں تو اس سے(خیر کی)امید مت رکھو۔
Takhreej
ابو ہریرہ ؓسے مرفوعاً مروی ہے کہ:اسلام کے لئے ایک حرص ہوتی ہے اور ہر حرص کے لئے ایک وقفہ ہوتا ہےاگر اس دور کا حکمران سیدھا رہے اور درست رہے تو اس سے(خیر کی)امید رکھو،اور اگر اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں تو اس سے(خیر کی)امید مت رکھو۔
2548
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ حِرَامِ بن حَكِيمِ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِاللهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: (إِنَّكُمْ) أَصْبَحْتُمْ فِي زَمَانٍ كَثِيرٍ فُقَهَاؤُهُ، قَلِيلٍ خُطَبَاؤُهُ، قَلِيلٍ سُؤَّالُهُ، كَثِيرٍ مُعْطُوهُ، الْعَمَلُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعِلْمِ، وَسَيَأْتِي زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ، كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ، كَثِيرٌ سُؤَّالُهُ، قَلِيلٌ مُعْطُوهُ، الْعِلْمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعَمَلِ.
حرام بن حکیم اپنے چچا عبداللہ بن سعد سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:(تم )ایسے زمانے میں ہو جس میں فقہاء زیادہ ہیں، خطباء کم ہیں، سوال کرنے والےکم دینے والے زیادہ ہیں، اس وقت عمل علم سے بہتر ہے اور عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جس میں فقہاء کم ہوں گے، خطباء زیادہ ہوں گے،سوال کرنے والے زیادہ ہوں گے دینے والے کم ہوں گے،اس وقت علم عمل سے بہتر ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (342) المعجم الكبير للطبراني رقم (1763) .
2549
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيرة مرفوعا: إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ، وَإِنَّمَا الْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ، مَنْ يَتَحَرَّ الْخَيْرَ يُعْطَهُ، وَمَنْ يَتَّوَقَّ الشَّرَّ يُوقَهُ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: علم سیکھنے سے ہے اور حلم بردباری کوشش کرنے سے ہے، اور جو شخص خیر کی کوشش کرتا ہے اسے خیر دے دی جاتی ہے اور جو شر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے شر سے بچالیا جاتا ہے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (342) المعجم الكبير للطبراني رقم (1763) .
2550
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرفُوعاً: إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ: كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: صاحب قرآن کی مثال بندے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے اگر اس کا خیال رکھے گا تو اسے قابو میں رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (3577) صحيح البخاري كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ بَاب اسْتِذْكَارِ الْقُرْآنِ وَتَعَاهُدِهِ رقم (4643) .
2551
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ:هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَوْمًا قَالَ:فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ:إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ:بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا، آپ نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیت کے بارے میں آپس میں اختلاف کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ،آپ کے چہرے سےغصہ جھلک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگ اپنی کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (241) صحيح مسلم كتاب الإمارة بَاب وُجُوبِ الْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ رقم (3431)
2552
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ:كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا وَتَجِيءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ :هَذِهِ هَذِهِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ. وَزَادَفِی آخِرِہ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَنْشُدُكَ اللهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَأَهْوَى إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللهُ يَقُولُ: ﮋ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷﭸ ﭹ ﭺ ﭻﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮊ (النساء) قَالَ: فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ. ( )
کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سےسنا فرما رہے تھے:یقیناً ہر امت کا ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (595) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ أَنَّ فِتْنَةَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي الْمَالِ رقم (2258)
2553
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، عَنِ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : «إن لِلهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ، قَسَمَ رَحْمَةً (وَاحِدَةً) بَيْنَ أَهْلِ الدنيا وَسِعَتْهُمْ إِلَى آجَالِهِمْ وأخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً لِأَوْلِيَائِهِ وَإِن اللهُ قَابِضُ تِلْكَ الرَّحْمَةِ الَّتِي قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الدنيا إِلَى التِّسْع وَالتِّسْعِينَ فَيُكَمِّلُهَا مِائَةَ رَحْمَةٍ لِأَوْلِيَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو (100)رحمتیں ہیں اللہ نے اہل دنیا پر ان کی موت تک ایک رحمت تقسیم کر دی ہے،اور ننانوے رحمتیں اپنے اولیاء کے لئے بچا کر رکھیں ہیں۔ اور اہل دنیا پر تقسیم کی جانے والی رحمت بھی قبضے میں لے لے گا اور ننانوے رحمتوں کے ساتھ ملا کر قیامت کے دن اپنے اولیاء کے لئے سو رحمتیں پوری کردے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1634) مستدرك الحاكم رقم (7737) مسند أحمد رقم (10256)
2554
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مَرفُوعاً: إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ أَبْيَضَ مِثْلَ اللَّبَنِ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ وَإِنِّي لَأَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ میراحوض خانۂ کعبہ اور بیت المقدس کے درمیانی علاقے جتنا بڑا ہوگا۔ دودھ کی طرح سفید ہوگا اور اس کے جام ستاروں کی تعداد جتنے ہوں گے اور قیامت کے دن انبیاء میں سب سے زیادہ پیروکارمیرے ہوں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (3949) سنن ابن ماجة كِتَاب الزُّهْدِ بَاب ذِكْرِ الْحَوْضِ رقم (4291) .
2555
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ: قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو لِحُذَيْفَةَ: أَلَا تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ مَاءً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا النَّارُ فَمَاءٌ بَارِدٌ وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ فَنَارٌ تُحْرِقُ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّهَا نَارٌ فَإِنَّهُ عَذْبٌ بَارِدٌ فَقَالَ عُقْبَةُ وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ تَصْدِيقًا لِحُذَيْفَةَ.
ربعی بن حراش رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ عقبہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم ہمیں وہ حدیث نہیں سناؤ گے جو تم نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہے؟ وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: دجال جب ظاہر ہو گا تو اس کے ساتھ آگ اور پانی ہوگا،جس کو لوگ آگ سمجھیں گے وہ ٹھنڈا پانی ہوگا، اور جسے لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی۔ تم میں سے جس شخص کو ملے
Takhreej
الصحيحة رقم (3542) صحيح البخاري كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ بَاب مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رقم (3194)
2556
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ فَجِئْنَا نَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا رَكَعَ النَّاسُ رَكَعَ عَبْدُ اللهِ وَرَكَعْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ نَمْشِي فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! فَقَالَ عَبْدُ اللهِ وَهُوَ رَاكِعٌ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ. فَلَمَّا انْصَرَفَ سَأَلَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: لِمَ قُلْتَ حِينَ سَلَّمَ عَلَيْكَ الرَّجُلُ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ إِذَا كَانَتِ التَّحِيَّةُ عَلَى الْمَعْرِفَةِ. وفي رواية: أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِلَّا لِلْمَعْرِفَةِ.
اسود بن یزید رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ مسجد میں نماز کی اقامت کہی گئی، ہم عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے آئے، جب لوگوں نے رکوع کیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بھی رکوع کیا اور ہم نے بھی چلتے چلتے ہی ان کے ساتھ رکوع کرلیا۔ ایک آدمی ان کے سامنے سے گذرا اور کہنے لگا: ابو عبدالرحمن السلام علیکم ۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رکوع کی حالت میں کہا: اللہ اور اس کے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے سچ کہا۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو کسی شخص نے کہا: جب اس آدمی نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے ایسا کیوں کہاکہ: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: قیامت کی نشانی ہے کہ لوگ پہنچاننے والوں کو سلام کریں گے،اور ایک روایت میں ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو صرف اس وجہ سے سلام کہے گا کہ اسے پہچانتا ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (648) مسند أحمد رقم (3482 3655) .
2557
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَفِيْضَ الْمَالُ وَيَكْثُرَ الجَهَلُ وتَظْهَرَ الفِتَنُ وَتَفْشُوَ التِّجَارَةُ (وَيَظْهَرَ الْعِلْمُ).
بن تغلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کی نشانیاں یہ بھی ہیں کہ مال عام ہو جائے گا، جہالت زیادہ ہوجائے گی، فتنے ظاہر ہو جائیں گے،تجارت پھیل جائے گی(اور علم (پڑھائی لکھائی) عام ہو جائے گا)
Takhreej
الصحيحة رقم (2767) سنن النسائي كِتَاب الْبُيُوعِ بَاب التِّجَارَةِ رقم (4380)
2558
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الجمحي أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُلْتَمَسَ الْعِلْمُ عِنْدَ الأَصَاغِرِ
ابو امیہ جمحی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم نااہل لوگوں کے پاس تلاش کیا جائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (695) المعجم الكبير للطبراني رقم (18343)
2559
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
) عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَرفُوعاً: إِنّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَمُرَّ الرَّجُلُ فِي الْمَسْجِدِ لا يُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ قیامت کی نشانی ہے کہ آدمی مسجد میں سے گزرے گا لیکن اس میں دو رکعت (تحیۃ المسجد) بھی ادا نہیں کرے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2767) سنن النسائي كِتَاب الْبُيُوعِ بَاب التِّجَارَةِ رقم (4380)
2560
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: إِنّ مِن أَشْرَاط السَّاعَة الْفُحْش وَالتَّفَحُّش، وَقَطِيعَةُ الْأَرْحَام، وائْتِمَان الْخَائِن أَحْسَبُه قَالَ: وَتَخْوِيْنُ الْأَمِين».
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ فحاشی، فحش گوئی اور قطع رحمی عام ہو جائے گی اور خائن کو امین سمجھا جانے لگے گا اور امین کو خائن سمجھا جانے لگے گا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2238) المعجم الأوسط للطبراني رقم (1410)
2561
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِالْمَدِينَةِ وَقَدْ طَافَ النَّاسُ بِهِ وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ مِنْ بَعْدِكُمُ الْكَذَّابُ الْمُضِلَّ وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ بَعْدِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَإِنَّهُ سَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَمَنْ قَالَ: لَسْتَ رَبَّنَا لَكِنَّ رَبَّنَا اللهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ أَنَبْنَا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّكَ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِ سُلْطَانٌ.
ابو قلابہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے مدینے میں ایک آدمی دیکھا لوگ اس کی زیارت کے لئے آرہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا،کیا دیکھتا ہوں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کا ایک صحابی ہے میں نے اسے کہتے ہوئے سنا: تمہارے بعد گمراہ کرنے والا کذاب آئے گا۔سخت گھنگھریالے بالوں والا تین دفعہ فرمایا اور وہ کہے گا: میں تمہارا رب ہوں،جو آدمی اسے یہ کہے گا کہ: تو ہمارا رب نہیں، لیکن ہمارا رب اللہ ہے، اسی پر ہم نے توکل کیا، اسی کی طرف ہم لوٹ کر جائیں گے تو وہ اس پر غالب نہیں ہو سکے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2808) مسند أحمد رقم (22077)
2562
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عُتْبَةَ بن غَزْوَانَ أَخِي بني مَازِنِ بن صَعْصَعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ، لِلْمُتَمَسِّكِ فِيهِنَّ يَوْمَئِذٍ بِمَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ. قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ! أَوَ مِنْهُمْ؟ قَالَ:بَلْ مِنْكُمْ.
عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے بعد صبر کے دن آئیں گے،جو اس دن حق کو تھامے رکھے گا گا اس کے لئے تمہارے پچاس آدمیوں کا ثواب ہوگا، صحابہ نے کہا:اے اللہ کے نبی! کیا وہ پچاس آدمی ان میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم میں سے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (4094) المعجم الكبير للطبراني رقم (13736)
2563
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَعَا بِثِيَابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَهَا ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْمَيِّتَ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي يَمُوتُ فِيهَا.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے، پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے:میت جن کپڑوں میں فوت ہوتی ہے انہی کپڑوں میں اٹھائی جائے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (1671) سنن أبي داؤد كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَطْهِيرِ ثِيَابِ الْمَيِّتِ عِنْدَ الْمَوْتِ رقم (2707)
2564
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ يَحْفِرُونَ كُلَّ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَنَحْفِرُهُ غَدًا فَيُعِيدُهُ اللهُ أَشَدَّ مَا كَانَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ وَأَرَادَ اللهُ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ حَفَرُوا، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَنَحْفِرُهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى وَاسْتَثْنَوْا فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ فَيُنْشِفُونَ الْمَاءَ وَيَتَحَصَّنُ النَّاسُ مِنْهُمْ فِي حُصُونِهِمْ فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ عَلَيْهَا الدَّمُ الَّذِي اجْفَظَّ فَيَقُولُونَ: قَهَرْنَا أَهْلَ الْأَرْضِ وَعَلَوْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ فَيَبْعَثُ اللهُ نَغَفًا فِي أَقْفَائِهِمْ فَيَقْتُلُون بِهَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ دَوَابَّ الْأَرْضِ لَتَسْمَنُ وَتَشْكُرُ شُكْرًا مِنْ لُحُومِهِمْ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یا جوج اور ماجو ج ہر دن دیوار کھرچتے ہیں، یہاں تک کہ جب اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ سورج کی شعاع دیکھ سکیں تو ان کا نگران کہتا ہے: واپس چلو، باقی کل کھرچیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس دیوار کو اس سے زیادہ موٹا کر دیتا ہے، حتی کہ جب ان کے نکلنے کا وقت آجائے گا اور اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں میں بھیجنا چاہےگا تو دیوار کھرچیں گے حتی کہ سورج کی کرن دیکھنے کے قریب پہنچ جائیں گے تو ان کا نگران کہے گا: واپس چلو باقی ان شاء اللہ کل کھرچیں گے ، جب وہ اس طرح کہیں گے اور دوسرے دن واپس آئیں گے تو دیوار اسی طرح ہوگی جس طرح چھوڑ کر گئے ہوں گے۔ وہ اسے کھرچ کر لوگوں میں آجائیں گے،پانی ختم کردیں گےاورلوگ قلعوں( گھروں) میں بند ہو جائیں گے۔ وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے، جب واپس آئیں گے تو ان پر خون لگا ہوا ہوگا۔ وہ کہیں گے:ہم زمین اور آسمان والوں پر غالب ہوگئے، تب اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا کر دے گا جس کی وجہ سے وہ مر جائیں گے،رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،زمین کے کیڑے مکوڑے ان کا گوشت کھا کر موٹے ہو جائیں گے اور خوب شکر ادا کریں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (1735) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ رقم (3078)
2565
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَنَسٍ بن مَالك: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: مُحَمَّدٌ. فَقَالَ لَه رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سوال کیا: قیامت کب آئے گی؟ آپ کے پاس انصار کا ایک محمد نامی بچہ بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے کہا: اگر یہ بچہ زندہ رہا تو ممکن ہے یہ بوڑھا بھی نہ ہو اور قیامت آجائے
Takhreej
الصحيحة رقم (3497) صحيح مسلم كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ بَاب قُرْبِ السَّاعَةِ رقم (5249) .
2566
Sahih