TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - Book 21 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 21 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 226 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

226 Hadith · 1 Chapters
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الدَوسِي قَالَ: دَخلتُ أَنَا وَصَاحِب لِي عَلى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِهِ وَإِنْ كَانَ عندنا مُصَدَّقًا قَالَ: نَعم، قَامَ فِيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَاتَ يَومِ فَقَالَ: أُنْذِركُم الدَجَّال، أُنْذِركُم الدَجَّال، أُنْذِركُم الدَجَّال، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ وَإِنَّهُ جَعْدٌ آدَمُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، وإن مَعَهُ جَنَّةً وَّنَارًا فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ، وَإِن مَعه نَهرَ مَاءٍ وَجبَلَ خُبْزٍ، وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا ثُم يُحيِيهَا، لَا يُسَلَّطُ عَلى غَيرِهَا، وَإِنَه يُمطِر السَّماء وَلَا تَنبُتُ الأَرض، وَإِنه يَلبَثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا حتى يَبْلُغُ منها كُلَّ مَنْهَلٍ، وإنه لا يَقْرُبُ أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسجِدَ الرسُول وَمَسجِدَ المَقْدَسِ والطُّورَ، وَمَا شبه عَلَيْكُمْ من الاشياء فَإِنَّ الله لَيْسَ بِأَعْوَرَ (مرتين).
جنادہ بن ابی امیہ دوسی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک دوست رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے ایک صحابی کے پاس آئے،ہم نے کہا:آپ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے جو سنا ہے وہ ہمیں بیان کیجئے،اس کے علاوہ کسی اور سے بیان نہ کیجئے اگرچہ وہ سچا ہی کیوں نہ ہو، انہوں نے کہا ٹھیک ہے،ایک دن رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے:میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں، میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں، میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں۔ کیوں کہ جو نبی بھی آیا ہے اس نے دجال سے اپنی امت کو ڈرایا ہے اور اے میری امت! وہ تم میں ظاہر ہوگا، وہ گندمی رنگ کا سخت گھنگریالے بالوں والا ہوگا، بائیں آنکھ سے کانا ہوگا۔اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہوگی، اس کی جہنم جنت ہے اور اس کی جنت جہنم ہے اور اس کے ساتھ پانی کی ایک نہر اور روٹی کا پہاڑ ہوگا۔ وہ ایک شخص پر غلبہ پائے گا تو اسے قتل کر کے زندہ کر دے گا۔ اس کے علاوہ کسی اور پر غلبہ نہیں پا سکے گا۔ وہ آسمان سے بارش برسائے گا لیکن زمین میں کھیتی نہیں اگے گی، وہ زمین میں چالیس دن رہے گا، اور زمین کے کونے کونے تک جائے گا، وہ چار مسجدوں کے قریب نہیں جاسکےگا۔مسجدحرام،مسجدنبوی،مسجداقصی اور طور۔تم اس کےبارےمیں شبہ میں نہ پڑجاناکیوں کہ تمہارارب کانا نہیں(دومرتبہ فرمایا)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2934) مصنف ابن أبي شيبة رقم (52)
2567
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي أَبُو حَبِيبَةَ: أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا أَوْ قَالَ: اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنْ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟! قَالَ: عَلَيْكُمْ بِالْأَمِينِ وَأَصْحَابِهِ وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ.
موسیٰ بن عقبہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ مجھے میرے نانا ابو حبیبہ نے بیان کیا کہ وہ اس گھر میں داخل ہوئے جس میں عثمان‌رضی اللہ عنہ محصور تھے،انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بات چیت کرنے کے لئے عثمان‌رضی اللہ عنہ سے اجازت لے رہے تھے۔ عثمان‌رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی، وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدو ثنا بیان کی، پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے:تم میرے بعد فتنے اور اختلاف میں پڑ جاؤ گے۔ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:اے اللہ کے رسول!ہماری رہنمائی کرنے والا کون ہوگا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم اس امین(امانتدار)اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ مل جانا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہے تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (3188) مسند أحمد رقم (8185) .
2568
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ بَهْزِ بن حَكِيمٍ بن معاوية عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، (معاوية بن حيدة) مرفوعاً: إِنَّكُمْ مَدْعُوُّونَ (يَوْمَ الْقِيَامَةِ) مُفَدَّمَةً أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ (وقال مرة: يُتَرْجِمُ، وفي رواية: يُعْرِبُ) عَنْ أَحَدِكُمْ لَفَخِذُهُ وَكَفُّهُ.
بہز بن حکیم بن معاویہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا (معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ )سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ تم قیامت کے دن بلائے جاؤ گے تمہارے منہ بند ہوں گے، پھر سب سے پہلے جو عضو بات کرےگا وہ تمہاری ران اور ہتھیلی ہو گی
Takhreej
الصحيحة رقم (2713) مسند أحمد رقم (19188) .
2569
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَرفُوعاً: إِنَّكُمْ اليَوم فِي زَمَانٍ كَثِيرٌ عُلَمَاؤُهُ، قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ مَنْ تَرَكَ عُشر مَا يعْرف فَقَد هَوَى وَيَأتِي مِنْ بَعدُ زَمَانٌ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ عُلَمَاؤُهُ مَنِ اسْتَمْسَكَ بِعُشْرٍ مَا يَعْرِفُ فَقَد نَجَا.
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: تم آج اس دور میں ہو جس میں علما ء زیادہ ہیں اور خطباءکم،جس شخص نے اپنے علم کے مطابق دسواں حصہ بھی عمل چھوڑ دیا وہ گمراہ ہوگا، اور اس کے بعد ایسا دور آئے گا جس میں خطباء زیادہ ہوں گے اور علما ءکم،جس شخص نے اپنے علم کے مطابق دسواں حصہ بھی عمل کیا وہ نجات پا جائے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2510) مسند أحمد رقم (20408) .
2570
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَقَالَ اقْرَءُوا فَلَا نُقِیۡمُ لَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَزۡنًا (۱۰۵) (الكهف).
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کے دن ایک موٹا تازہ بھاری بھرکم آدمی آئے گا لیکن اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھے گا۔ اور فرمایا: یہ آیت پڑھو:(الكهف:۱۰۵)۔’’پس ہم ان کے (اعمال کے وزن کے) لیے قیامت کے دن ترازو قائم کریں گے ‘‘۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3581) صحيح البخاري كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب { أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ ...} رقم (4360) .
2571
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
) عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَذْكُرُونَ الْحَوْضَ وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا كَانَ يَوْمًا مِنْ ذَلِكَ وَالْجَارِيَةُ تَمْشُطُنِي فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ! فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ: اسْتَأْخِرِي عَنِّي قَالَتْ: إِنَّمَا دَعَا الرِّجَالَ وَلَمْ يَدْعُ النِّسَاءَ! فَقُلْتُ: إِنِّي مِنَ النَّاسِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ فَإِيَّايَ! لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ فَيُذَبُّ عَنِّي كَمَا يُذَبُّ الْبَعِيرُ الضَّالُّ فَأَقُولُ: فِيمَ هَذَا؟ فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ؟ فَأَقُولُ: سُحْقًا.
عبداللہ بن رافع ام سلمہ زوجہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے آزادکردہ غلام سے مروی ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں لوگوں سے حوض (کوثر)کا ذکر سنا کرتی تھی لیکن رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے نہیں سنا تھا، ایک دن ایسا ہوا کہ لونڈی میری کنگھی کر رہی تھی،میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، فرما رہے تھے:لوگو!میں نے لونڈی سے کہا: پیچھے ہٹو، وہ کہنے لگی: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے تو مردوں کو بلایا ہے،عورتوں کو نہیں،میں نے کہا: میں بھی لوگوں میں سے ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں حوض پر تمہارا منتظر ہوں گا۔ اس بات سے بچنا کہ کوئی شخص میرے پاس آئے اور مجھ سے اس طرح دور کر دیا جائے جس طرح گمراہ(بھٹکا ہوا) اونٹ دور بھگا دیا جاتا ہے، اور میں کہوں، یہ کس وجہ سے ؟ تو مجھے بتایا جائے کہ:آپ نہیں جانتے آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا نئے کام ایجاد کر لئے تھے ؟اور میں کہوں انہیں دور کردو
Takhreej
الصحيحة رقم (3944) صحيح مسلم كِتَاب الْفَضَائِلِ بَاب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا ﷺ وَصِفَاتِهِ رقم (4247)
2572
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَن ابن عَباسٍ، عَن عُمر بنِ الخَطَاب رضوان الله عليهم، قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : «إِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُم عن النَّار وتَقَاحمُون فِيهَا تَقَاحُمَ الْفَرَاش والجَنَادِبَ، وَيُوشِكُ أَن أُرْسِلَ حُجَزَكُمْ وَأَنَا فَرَطٌ لَكُم عَلَى الْحَوْض فَتَرِدُوْنَ علي مَعًا وأشتاتاً فأَعْرِفُكُمْ بِأَسْمَائِكُم وبسيمَاكُمْ كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ الْغَرِيبَةَ مِنَ الْإِبِل في إبله، فَيَذْهَبُ بِكُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، وَأُنَاشِدُ فِيكُم رَبَّ الْعَالَمِين فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُمَّتِي، فيقال: إِنَّك لَا تَدْرِي ما أَحْدَثُوا بعدك، إِنَّهُم كَانُوا يَمْشُون القهقرى بَعْدَك، فَلَا أعرفن أَحَدَكُم يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَة يَحْمِل شَاةً لَهَا ثُغَاءٌ ينَادِي: يَا مُحَمِّدُ! يَا مُحَمَّدُ! فَأَقُوْلُ: لَا أَمْلِكُ لَك من الله شيئًا، قَد بَلّغْتُ وَلَا أَعْرِفَنّ أَحَدكُم يَأْتِي يَوِم الْقِيَامَة يَحْمِل بَعِيرًا لَه رُغَاءٌ ينادي: يَا محمد! يَا محمد! فأقول: لَا أَمْلِكُ لَك من الله شيئا، قَد بلغت، وَلَا أَعرفن أَحَدَكُم يَأْتِي يَوِم الْقِيَامَة يَحْمِل فَرَسًا لَه حَمْحَمَةٌ ينادي: يَا محمد! يَا محمد! فأقول: لَا أَمْلِكُ لَك من الله شيئا، قَد بلغت، وَلَا أعرفن أَحَدَكُم يَأْتِي يَوِم الْقِيَامَة يَحْمِل قِشْعاً مِنْ أَدَمٍ يُنَادِي: يَا محمد! يَا محمد! فأقول: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ الله شَيْئًا قَد بَلَّغْتُ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ،عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہیں پیچھے سے پکڑ کر آگ سے بچا رہا ہوں اور تم کیڑے مکوڑوں (پروانوں) اور ٹڈیوں کی طرح اس میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہو۔ قریب ہے کہ میں تمہیں پیچھے سے چھوڑ دوں،اور میں حوض پر تمہارا منتظر رہوں گا،تم ٹولیوں کی صورت میں اور الگ الگ میرے پاس آؤ گے،میں تمہیں تمہارے ناموں اور تمہارے نشانوں کے ساتھ اس طرح پہچانوں گا جس طرح کوئی شخص اپنے اونٹوں میں اجنبی اونٹ پہچانتا ہے ۔پھر تم میں سے (بعض کو) بائیں طرف لے جایا جائے گا، میں رب العالمین سے تمہارے بارے میں التجا کروں گا اور کہوں گا: اے میرے رب! یہ میری امت ہے،مجھے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا نئے کام ایجاد کر لئے، یہ آپ کے بعد الٹے قدموں پھر گئے۔میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کے کاندھوں پر کوئی بکری ہو جو منمنارہی ہو اور وہ شخص پکار رہا ہو: یا محمد! یا محمد! (میری مدد کرو) اور میں کہوں میں اللہ سے تمہیں نہیں چھڑا سکتا میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا۔ اور تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کے کاندھوں پر کوئی اونٹ ہو جو بلبلا رہا ہو، وہ شخص (مدد کے لئے) پکار رہا ہو یا محمد! یا محمد! اور میں کہوں: میں اللہ سے تمہیں نہیں چھڑا سکتا، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا۔اور کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اپنے کاندھوں پر گھوڑا اٹھائے ہوئے آئے جو ہنہنا رہا ہو اور وہ شخص پکار رہا ہو یا محمد! یا محمد! اور میں کہوں میں اللہ سے تمہیں نہیں چھڑا سکتا، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا۔اور نہ کسی شخص کو اس حال میں پاؤں کہ اس نے چمڑے کا ایک ٹکڑا اٹھا رکھا ہو اور وہ پکار رہا ہو یا محمد! یا محمد! اور میں کہوں میں اللہ سے تمہیں نہیں بچا سکتا، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا
Takhreej
الصحيحة رقم (2865) مسند الشهاب القضاعي رقم (1050)
2573
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَوَّلُ الآيَاتِ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِهَا .
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کی پہلی بڑی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3305) المعجم الكبير للطبراني رقم (7948)
2574
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ خَالِدِ بن مَعْدَانَ أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِيّٰ، حَدَّثَهُ: أَنَّهُ أَتَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَهُوَ نَازِلٌ فِي سَاحِلِ حِمْصٍ فِي بِنَاءٍ لَهُ، وَمَعَهُ أُمُّ حَرَامٍ، قَالَ عُمَيْرٌ: فَحَدَّثَتْنَا أُمُّ حَرَامٍ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا. قَالَتْ أُمُّ حَرَامٍ: قُلتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَنَا فِيهِمْ؟ فَقَالَ:أَنْتِ فِيهِمْ. ثُمَّ قَالَ: أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ. فَقُلتْ: أَنَا فِيهِمْ يَا رَسُولَ، اللهِ؟ قَالَ: لا.
خالد بن معدان رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ عمیر بن اسود عنسی نے بیان کیا کہ وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو حمص کے ساحل پر اترے تھے اور اپنے خیمے میں تھے ان کے ساتھ ام حرام رضی اللہ عنہا بھی تھیں،عمیر نے کہا کہ: ام حرام رضی اللہ عنہا نے ہمیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: میری امت کا پہلا گروہ جو سمندری جہاد کرے گا انہوں نے اپنے اوپر جنت واجب کرلی ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا کہ: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان میں ہوں گی ؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم ان میں ہوگی۔ پھر فرمایا: میری امت کا پہلا لشکر قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) سے جہاد کرے گا ان کی بخشش کر دی گئی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان میں سے ہوں گی ؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (268) صحيح البخاري كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَاب مَا قِيلَ فِي قِتَالِ الرُّومِ رقم (2707)
2575
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ آدَمُ فَتَرَاءَى ذُرِّيَّتُهُ فَيُقَالُ: هَذَا أَبُوكُمْ آدَمُ فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ! فَيَقُولُ: أَخْرِجْ بَعْثَ جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! كَمْ أُخْرِجُ؟ فَيَقُولُ: أَخْرِجْ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا؟ قَالَ: إِنَّ أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ كَالشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو بلایا جائے گا،ان کی اولاد (نسل انسانی) ان کو دیکھے گی۔ کہا جائے گا: یہ تمہارے والد آدم علیہ السلام ہیں۔ وہ کہیں گے: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ۔اللہ تعالیٰ فرمائےگا :اپنی اولاد سے جہنم کا حصہ نکالو۔ وہ کہیں گے: اے میرے رب! کتنا حصہ نکالوں؟ اللہ تعالیٰ فرمائےگا:ہر سو میں سے ننانوے، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تب تو ہم میں سے ہر سو میں سے ننانوے شخص پکڑ لئے جائیں گے تو ہم میں سے کتنے بچیں گے ؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: دوسری امتوں کے مقابلے میں میری امت کالے بیل میں سفید بال کی طرح ہوگی
Takhreej
الصحيحة رقم (3307) صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب كَيْفَ الْحَشْرُ رقم (6048)
2576
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّه قَالَ لِيَزِيْد بْنِ أَبِي سُفيَان: سَمِعْتُ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :أَوَّلُ مَنْ يُغَيِّر سُنَّتِي رَجلٌ من بَنِي أُميَّة.
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے یزید بن ابی سفیان سے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: پہلا شخص جو میری سنت(طریقے)کو تبدیل کرے گا بنو امیہ میں سے ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1749) الأوائل لابن أبي عاصم رقم (61)
2577
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَائِشَة مَرفُوعاً: أَوَّل من يُكْسَى خَلِيل اللهِ إِبْرَاهِيم عليه الصّلاة وَالسَّلَام.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ: سب سے پہلے جس شخص کو کپڑے پہنائے جائیں گے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہوں گے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1129) الأوائل لابن أبي عاصم رقم (18)
2578
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ: أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أَتَتْ عَلَى الْحَوْأَبِ سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ فَقَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةٌ إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَنَا: أَيَّتُكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ؟ فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ: تَرْجِعِينَ؟ عَسَى اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ.
قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب وہ حوأب (چشمے کا نام)کی طرف آئیں تو انہوں نے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنیں، کہنے لگیں: میرے خیال میں مجھے واپس جانا چاہیئے کیوں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہم سے فرمایا تھا: تم میں سے کون ہے جس پر حواب کے کتے بھونکیں گے؟زبیر‌رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ واپس جاتی ہیں؟ ممکن ہے اللہ عزوجل آپ کی وجہ سے لوگوں کے درمیان صلح کروا دے۔(
Takhreej
الصحيحة رقم (474) مسند أحمد رقم (23513)
2579
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْآيَاتُ خَرَزَاتٌ مَنْظُومَاتٌ فِي سِلْكٍ فَإِنْ يُقْطَع السِّلْكُ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: (قيامت كی)نشانیاں،لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں، اگر لڑی کاٹ دی جائے تو موتی ایک دوسرے کے پیچھے گرتے چلے جاتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1762) مسند أحمد رقم (6743) مستدرك الحاكم رقم (8596)
2580
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَلِيمٍ، قَال: كُنْتُ مَعَ عَابِس الغفَارِي عَلى سَطْحٍ فَرَأى قَوْمًا يَتحَمَّلُون مِن الطَاعُون فَقَالَ: مَا لِهؤلَاء يَتحَمَّلُون مِن الطَاعُون؟! يَا طَاعُونُ! خُذْنِي إِلَيْكَ (مَرَّتَيْن). فَقَالَ لَه ابْن عَمٍ ذُو صَحبَة: لِمَ تَتمَنَّى المَوت؟ وَقَد سَمِعتُ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: لا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ فَإِنَّهُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ، (وَلَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبَ) فَقَالَ: بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ خِصَالاً سِتاً: إِمرةُ السُّفَهَاءِ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ، وَبَيْعُ الْحُكْمِ، واسْتِخْفَافَاً بِالدَّمِ، وَنَشوًا يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ، يُقَدِّمُونَ الرجل لَيس بِأَفقهم وَلَا أَعلمهم مَا يُقَدِّمُونَهُ إلا لِيُغَنِّيَهُمْ.
علیم رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں عابس غفاری کے ساتھ چھت پر موجود تھا،انہوں نے لوگ دیکھے جو طاعون کی وجہ سےکوچ کرکے جارہے تھے ۔کہنے لگے: انہیں کیا ہوا جو طاعون کی وجہ سےکوچ کر کے جا رہے ہیں ؟اے طاعون مجھے پکڑ لو(دو مرتبہ کہا) ان کے چچازاد جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، نے ان سے کہا: تم موت کی تمنا کیوں کرتے ہو؟ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے، کیوں کہ موت اس کے اعمال کے ختم ہونے پر آئے گی(کہیں ایسا نہ ہو اس کی دعا قبول ہو جائے اوراسے توبہ کا موقعہ نہ ملے سکے۔) اور فرمایا: چھ چیزوں سے پہلے اعمال میں جلدی کرو، بےوقوفوں کی حکومت سے پہلے،سپاہیوں کی کثرت،قطع رحمی،فیصلہ بیچ دینے کے وقت سے،خون کو ہلکا سمجھا جانے کے وقت سے پہلے ۔کیف و سرور میں مست لوگ جو قرآن کو گانا بجانا بنالیں گے، لوگ ایسے شخص کو آگے کریں گے جو نہ تو فقیہہ ہوگا اور نہ عالم وہ صرف اس لئے اسے آگے کریں گے تاکہ وہ انہیں (قرآن مجید) گا کر سنائے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (979) مسند أحمد رقم (15462) مصنف ابن أبي شيبة رقم (83) مشكل الآثار للطحاوي رقم (1187)
2581
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّه قَالَ: بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالَ وَالدُّخَانَ وَدَابَّةَ الْأَرْضِ وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ وَأَمْرَ الْعَامَّةِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: چھ چیزوں سے پہلے اعمال میں جلدی کرو سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے، دجال، دھویں،دابۃ الارض اور کمینے لوگوں کا اکرام اور قیامت سے پہلے
Takhreej
الصحيحة رقم (759) صحيح مسلم كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ بَاب فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ رقم (5240)
2582
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعرضٍ مِنْ الدُّنْيَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:اندھیری رات کی طرح چھا جانے والے فتنوں کے ظہور سے پہلے اعمال میں جلدی کرو، آدمی صبح مومن ہوگا لیکن شام کو کافر ہو جائے گا، یا شام کو مومن ہوگا تو صبح کافر ہو جائے گا۔ دنیا کے مال کے بدلے اپنا دین بیچ دے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (758) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب الْحَثِّ عَلَى الْمُبَادَرَةِ بِالْأَعْمَالِ قَبْلَ تَظَاهُرِ الْفِتَنِ رقم (169)
2583
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ (بن أشيم) عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ.
ابو مالک اشجعی سعد بن طارق (بن اشیم) اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے:میرے صحابہ کےلئے قتل کا فتنہ کافی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1346) مسند أحمد رقم (15314) المعجم الكبير للطبراني رقم (8118)
2584
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي جُبَيْرة مَرفُوعاً: «بُعثت فِي نَسْمِ السَاعة».
ابو جبیرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: مجھے قیامت کی قریبی گھڑی میں بھیجا گیا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (808) معرفة الصحابة لأبي نعيم رقم (6115)
2585
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ سَهَل بْنِ سَعد السَاعدِي: أَنَّ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: بُعِثْتُ أَنا وَالسَّاعَةُ كهاتين، وَضَمَّ إِصْبَعَيْه الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَام وقال: ما مَثَلِي وَمثل السَّاعَة إِلَا كَفَرَسَيْ رِهَانٍ. ثم قال: ما مَثَلِي وَمثل السَّاعَة إِلَا كَمَثَل رَجُلٍ بَعَثَه قَوْمٌ طَلِيْعَة، فَلَمَّا خَشِي أَن يَسْبِق أَلَاحَ بِثَوْبِهِ: أَتَيْتُم أتيتم، أَنا ذاك، أَنا ذَاك
سہل بن سعد ساعدی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے، آپ نے شہادت اور درمیانی انگلی کو ملایا اور فرمایا: میری اور قیامت کی مثال دو دوڑنے والے گھوڑوں کی طرح ہے،پھر فرمایا: میری اور قیامت کی مثال اس شخص کی طرح ہے جسے اس کی قوم نے جاسوس بنا کر بھیجا،جب اسے ڈر ہوا کہ دشمن مجھ سے پہلے پہنچ جائے گا۔ تو اس نے اپنا کپڑاہلاکر اشارہ کیا اور شور مچانے لگا: تم دشمن کے سامنے آگئے، تم دشمن کے سامنے آگئے۔ میں وہی ہوں میں وہی ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (3220) شعب الإيمان للبيهقي رقم (9872)
2586
Sahih