TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - Book 21 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 21 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 226 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

226 Hadith · 1 Chapters
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
) عَنِ ابنِ مَسْعُوْدٍ مَرْفُوعاً: «اقْتَرَبَت السَّاعَة وَلَا يَزْدَاد النَّاس عَلَى الدُّنْيَا إِلَا حِرْصًا وَلَا يزدادون من الله إِلَا بُعْدًا».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: قیامت قریب آ گئی، لوگ دنیا کی حرص میں زیادہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سے دور ہوں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (1510) مستدرك الحاكم رقم (8034)
2527
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ:كَسِّرُوا قَسِيَّكُمْ - يعني فِي الْفِتْنَةِ- وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ وَالْزَمُوا أَجْوَافَ البُيُوتِ وَكُونُوا فِيهَا كَالخيرِ من ابْنِي آدَمَ
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنی کمانیں تو ڑ دو،یعنی فتنے کے دوران، ان کی تاریں کاٹ دو، اور گھروں میں بند ہو جاؤ،اور فتنوں میں بنی آدم کے بہترین شخص کی طرح رہو
Takhreej
الصحيحة رقم (3983) مسند أحمد رقم (12360) .
2528
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرفُوعاً: أَلا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا، أَلا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا (قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا)، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ (يُشِيرُ (بِيَده) إِلَى الْمَشْرِقِ، وَفي رواية: العِرَاقِ).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: خبردار فتنہ یہاں ہے، خبردار !فتنہ یہاں ہے۔(آپ نے یہ بات دو یا تین مرتبہ فرمائی) جہاں سے شیطان کے سینگ نمودار ہوتے ہیں(اور اپنے ہاتھ سے)مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ اور ایک روایت میں ہے عراق کی طرف
Takhreej
الصحيحة رقم (2494) صحيح البخاري كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ بَاب صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ رقم (3037 3249)
2529
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ. جَآءَ مِنْ حَدِیْثِ ابن عمر وَاَبِیْ مَسْعُوْدِ الْاَنصَارِیِّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَاَبِیْ ھُرَیْرَہَ رَضی اللہ عنہم
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: خبردار فتنہ یہاں ہے جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔ یہ حدیث سیدنا ابن عمر، ابومسعود انصاری، ابن عباس اور ابوھریرہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3597) صحيح البخاري كِتَاب الْفِتَنِ بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفِتْنَةُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رقم (6564)
2530
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ قَامَ فِينَا فَقَالَ: أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَامَ فِينَا فَقَالَ: أَلَا إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَإِنَّ هَذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ: ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ الْجَمَاعَةُ.
معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہما ہمارے درمیان کھڑے ہو کر کہنے لگے: خبردار !رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: خبردار! تم سے پہلے اہل کتاب بہتّر (۷۲) فرقوں میں تقسیم ہو گئے اور یہ امت تہتّر(۷۳) فرقوں میں تقسیم ہو گی۔ بہتّر (۷۲) آگ میں ہوں گے اور ایک جنت میں اور یہ (حق پر قائم) جماعت ہوگی
Takhreej
الصحيحة رقم (204) سنن أبي داؤد كِتَاب السُّنَّةِ بَاب شَرْحِ السُّنَّةِ رقم (3981)
2531
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمر أَنَّ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اِسْتَعمَل رَجُلاً عَلَى عَملٍ فَقَال: يَا رَسُول الله: خِرْ لِي فَقَال: اِلْزَم بَيْتَكَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایک آدمی کو کسی کام پر مقرر کیا، وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میرے لئےبہترین کام پسند کیجئے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنے گھر میں ٹھہرے رہو
Takhreej
الصحيحة رقم (1535)
2532
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌دَعَا فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَكَّتِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِيْنَتِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا فَقَال رَجَلٌ: يَا رَسُول الله! وَفِي عراقنا، فَأَعْرَض عَنْه فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا كل ذَلِك يَقول الرجل: وَفِي عِرَاقِنَا، فَيَعْرِضُ عَنْه، فَقَال:«بِهَا الزَّلَازِل وَالْفِتَنُ وَفِيهَا يَطَّلِعُ قَرْنُ الشَّيْطَان.
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! ہمارے مکہ میں ہمارے لئے برکت عطا کر، اے اللہ! ہمارے مدینہ میں ہمارے لئے برکت عطا کر، اے اللہ! ہمارے شام میں ہمارے لئے برکت عطا کر، ہمارے صاع میں برکت عطا کر، ہمارے مُد میں ہمارے لئے برکت عطا کر، ایک آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ہمارے عراق میں بھی۔ آپ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تین مرتبہ یہ دعا دہرائی۔ ہر مرتبہ وہ آدمی کہتا: ہمارے عراق میں بھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منہ پھیر لیتے۔ (پھر) آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہاں پر زلزلے اور فتنے برپا ہوں گے اور وہیں شیطان کا سینگ طلوع ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (2240) مسند الشاميين للطبراني رقم (1244) .
2533
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ قَتَادَةَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ! يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ قَتَادَةُ: بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا.
قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہمیں انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! قیامت کے دن کافر اپنے چہرے کے بل چلایا جائے گا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:کیا وہ ذات جس نے دنیا میں اسے ٹانگوں کے بل چلایا اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے اس کے چہرے کے بل چلائے؟ قتادہ کہنے لگے: ہمارے رب کی عزت کی قسم! کیوں نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3507) صحيح البخاري كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب قَوْلِهِ { الَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ ...،} رقم (4388) .
2534
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَنْسٍ، قَالَ: أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَرَّ بِقَوْمٍ مبتلين، فَقَال: أَمَا كَان هَؤُلَاء يَسْأَلُون الْعَافِيَة ؟.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایک مصیبت زدہ قوم کے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا یہ لوگ عافیت کا سوال نہیں کرتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2197) مسند البزار رقم (6643) .
2535
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا عَذَابٌ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْفِتَنُ وَالزَّلَازِلُ وَالبَراكِين.
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت پر رحم کیا گیا ہے، آخرت میں اس پر عذاب نہیں، اس کا عذاب دنیا میں فتنوں، زلزلوں اور آتش فشاں کی صورت میں ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (959) سنن أبي داؤد كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ بَاب مَا يُرْجَى فِي الْقَتْلِ رقم (3730) .
2536
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : « إِنَّ الرَجُل يَشْفَع لِلرَّجُلَيْن وَالثَّلَاثَة وَالرَّجُل لِلرَّجُل ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کوئی شخص دو آدمیوں کی سفارش کر سکے گا، کوئی تین کی اور کوئی شخص ایک آدمی کی ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2505) التوحيد لابن خزيمة رقم (435)
2537
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ مَرفُوعاً: إِنَّ اللهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا.
شداد بن اوس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یقیناً اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین سکیڑدی، میں نے اس کے مشرق ومغرب دیکھے اور میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچے گی جہاں تک میرے لئے زمین سکیڑ دی گئی
Takhreej
الصحيحة رقم (2) مسند أحمد رقم (16492)
2538
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبْد اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعتُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَقُولُ: أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ! فَيَقُولُ: أَفَلَكَ عُذْرٌ؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ فَيَقُولُ: بَلَى إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً فَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ فَتَخْرُجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولُ: احْضُرْ وَزْنَكَ فَيَقُولُ: مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَقَالَ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كَفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كَفَّةٍ فَطَاشَتْ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ فَلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللهِ شَيْءٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اللہ میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن سب لوگوں کے سامنے کھڑا کردے گا اور اس شخص کے سامنے ننانوے(۹۹)رجسٹر کھولے گا (جن میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوں گے) ،ہر رجسٹر تاحد نگاہ پھیلا ہوا ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا میرے فرشتوں نے تم پر کوئی ظلم کیا؟ وہ کہے گا:نہیں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہارا کوئی عذر ہے؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب!اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیوں نہیں میرے پاس تمہاری ایک نیکی ہے اور آج تم پر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ ایک پر چی نکالی جائے گی اس میں لکھا ہوگا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ،اللہ تعالیٰ فرمائے گا: (اپنے اعمال کے) وزن ہونے کی جگہ پہنچ کر وہ کہے گا: ا تنے رجسٹروں کے مقابلے میں اس پرچی کی کیا حیثیت ؟اللہ تعالیٰ فرمائے گا:تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ رجسٹروں کو ایک پلڑےمیں رکھا جائے گا اور اس پرچی کو دوسرے پلڑے میں،رجسٹر اوپر اٹھ جائیں گے اور پرچی بھاری ہو جائے گی، اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو سکتی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (135) سنن الترمذي كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَمُوتُ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ رقم (2563)
2539
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: إِنَّ اللهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا (وفي رواية: يُثَابُ عَلَيْهَا بِهَا للهِ فِي الدُّنْيَا) وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَى بِهَا.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ مومن پر اس کی کسی نیکی کے بارے میں ظلم نہیں کرے گا(ایک روایت میں ہے: دنیا میں اس نیکی کی وجہ سے اسے ثواب دیا جائے گا) اجر دیا جائے گا۔ اور آخرت میں بھی اس کی وجہ سے بدلہ دیا جائے گا۔جب کہ کافر کو اللہ کے لئے کی جانے والی نیکیوں کی وجہ سے دنیا میں کھلایا جائے گا لیکن آخرت میں اس کے لئے کچھ نہیں ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (53) صحيح مسلم كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ بَاب جَزَاءِ الْمُؤْمِنِ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَتَعْجِيلِ... رقم (5022)
2540
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ رِيحًا مِّنْ الْيَمَنِ أَلْيَنَ مِنَ الْحَرِيرِ فَلَا تَدَعُ أَحَدًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یمن سے ایک ہوا بھیجے گاجو ریشم سے زیادہ نرم ہوگی، جس شخص کے دل میں (رائی کے) دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا اس کی روح قبض کر لے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (1669) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب فِي الرِّيحِ الَّتِي تَكُونُ قُرْبَ الْقِيَامَةِ...رقم (168)
2541
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ اللهَ يَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى لَيَقُولَ: فَمَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ أَنْ تُنْكِرَهُ؟ فَإِذَا لَقَّنَ اللهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ قَالَ: أَي رَبِّ! وَثِقْتُ بِكَ وَفَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے یہاں تک سوال کرے گا کہ: جب تم نے برائی دیکھی تو تمہیں کس چیز نے منع کیا تھا کہ اس کا انکار نہ کرو؟ جب اللہ تعالیٰ بندے کو اس کی حجت سکھا دے گا۔ تو وہ بندہ کہے گا:اے میرے پروردگار! میں نے تجھ پر بھروسا کیا تھا اور لوگوں سے ڈر گیا تھا
Takhreej
الصحيحة رقم (929) سنن ابن ماجة كِتَاب الْفِتَنِ بَاب قَوْلِهِ تَعَالَى { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ } رقم (4007)
2542
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ». يَعْنِى الإِسْلاَمَ: «كَمَا يُكْفَأُ، يَعني الْخَمْر». فَقِيلَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ! وَقَدْ بَيَّنَ اللهُ فِيهَا مَا بَيَّنَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :«يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سب سے پہلی چیز جو الٹ دی جائے گی یعنی اسلام میں سے جیسے برتن کو الٹ دیا جاتا ہے۔ یعنی شراب ہے۔ پوچھا گیا کہ: اے اللہ کے رسول یہ کیسے ہوگا جبکہ اس کے بارے یں تو اللہ تعالیٰ نے پوری وضاحت فرمادی ہے؟ کہا گیا: اے اللہ کے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌!اللہ تعالیٰ نے تو اس میں واضح طور پر بیان کر دیا ہے ؟رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ اس کا نام بدل لیں گے۔(
Takhreej
الصحيحة رقم (89) سنن الدارمي كتابة الأشربة باب مَا قِيلَ فِى الْمُسْكِرِ رقم (2153)
2543
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَر أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي النَّارِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے جھوٹ منسوب کرتا ہے اس کے لئے جہنم میں ایک گھر بنایا جائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1618) معرفة السنن والآثار للبيهقي رقم (17) مسند الشافعي رقم (1107) .
2544
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
) عَنْ أَنسٍ مَرفُوعاً: إِن الله احتجز التَّوْبَة عن صَاحب كُلِّ بِدْعَة .
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی کی توبہ سے پردہ کیا ہوا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1620)
2545
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عن ابن عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: إِنَّ أَمْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ لا يَزَالُ مُقَارِبًا أَوْ مُوَاتِيًا حَتَّى يَكَلَّمُوا فِي الْوِلْدَانِ وَالْقَدَرِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ: اس امت کا معاملہ اس وقت تک درست رہے گا جب تک یہ اولاد اور تقدیر کے بارے میں شک کرنے سے بچے رہیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1675) المعجم الكبير للطبراني رقم (12595) .
2546
Sahih