TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - Book 21 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 21 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 226 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

226 Hadith · 1 Chapters
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: مَا مِنْ أُمَّتِي مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالُوا: وَكَيْفَ تَعْرِفُهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ فِي كَثْرَةِ الْخَلَائِقِ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ دَخَلْتَ صَيْرَةً فِيهَا خَيْلٌ دُهْمٌ بُهْمٌ وَفِيهَا فَرَسٌ أَغَرُّ مُحَجَّلٌ أَمَا كُنْتَ تَعْرِفُهُ مِنْهَا؟ قَالَ: بَلَى قَالَ: فَإِنَّ أُمَّتِي يَوْمَئِذٍ غُرٌّ مِنْ السُّجُودِ مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوءِ.
عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں اپنی امت کے ہر شخص کوقیامت کے دن پہچانوں گا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اتنی زیادہ مخلوقات میں آپ انہیں کسی طرح پہچانیں گے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے خیال میں اگر تم گھوڑوں کے کسی اصطبل میں جاؤ جس میں کالے سیاہ گھوڑے ہوں اور اس میں چمکدار اعضا والا گھوڑا ہو تو کیا تم اسے پہچانو گے نہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس دن میری امت کے اعضا سجدوں اور وضوء کی وجہ سے چمک رہے ہوں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (2836) مسند أحمد رقم (17033)
2707
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدیلمی قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ يَوْمًا مِّنَ الْأَيَّامِ فَقَالَ: يَا أَبَا الْأَسْوَدِ! فَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَنَّ رَجُلًا مِّنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مِنْ مُّزَيْنَةَ أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ أَوْ مَضَى عَلَيْهِمْ فِي قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَاتُّخِذَتْ عَلَيْهِمْ بِهِ الْحُجَّةُ؟ قَالَ: بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ. قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُونَ إِذًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَنْ كَانَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَهُ لِوَاحِدَةٍ مِّنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ يُهَيِّئُهُ لِعَمَلِهَا وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا ۪ۙ(۷) فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ(۸) (الشمس).
ابو الاسود دیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک دن میں صبح کے وقت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی طرف گیا تو وہ کہنے لگے: ابو الاسود! اور حدیث ذکر کی کہ ایک جہنی یا مزنی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آج لوگ جو عمل کر رہے رہیں اور اس میں سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں یہ ان کا فیصلہ ہو چکا ہے یا مقدر میں لکھا جا چکا ہے یا اس وجہ سے کہ ان کا نبی ان کے پاس لایا اور آپ ان کے خلاف اسے دلیل بنائیں گے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس بات کا فیصلہ ہو چکا ہے اور لکھا جا چکا ہے۔اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تب لوگ عمل کس وجہ سے کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو بھی کسی ایک درجے کے لئے پیدا کیا ہے اس کے لئے اس کا عمل آسان کر دیتا ہے اور اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں بھی ہے۔ (الشمس:۷،۸)،”قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی، پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اوربچ کرچلنے کی“
Takhreej
الصحيحة رقم (2336) مسند أحمد رقم (19089)
2708
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِعَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِّنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْف عُصِمَ مِنْ (فِتْنَةِ) الدَّجَّالِ.
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے سورۂ کہف ابتدائی کی دس آیات یاد کر لیں وہ دجال (کے فتنے)سےمحفوظ رہے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (582) صحيح مسلم كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَاب فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ رقم (1342
2709
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ انْتِفَاخُ الأَهِلَّةِ، وَأَنْ يُرَى الْهِلالُ لِلَيْلَةٍ، فَيُقَالُ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کے قرب سے چاند کا پھول جانا ہے،پہلی رات کا چاندنظر آئے گا تو لوگ سمجھیں گے کہ یہ دوسری رات کا چاند ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2292) المعجم الكبير للطبراني رقم (185)
2710
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَلِيٍّ مَرفُوعاً: الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ يُصْلِحُهُ اللهُ فِي لَيْلَةٍ.
علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: مہدی ہم اہل بیت میں سے ہوگا، اللہ تعالیٰ اسے ایک رات میں درست کرے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2371) سنن ابن ماجة كِتَاب الْفِتَنِ بَاب خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ رقم (4075)
2711
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ: الشَّفَاعَةُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: مقام محمود”شفاعت“ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2369) مسند أحمد رقم (9810)
2712
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيْد قَالَ: قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : مِنَّا الذِي يُصَلِي عِيْسَى ابْن مَريَم خَلفَه.
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ ہم میں سے ہوگا جس کے پیچھے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نماز پڑھیں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (2293)
2713
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ وَيَتَقَارَبَ الْأَسْوَاقُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ قِيلَ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک فتےج ظاہر نہ ہو جائیں، جھوٹ زیادہ نہ ہو جائے، بازار قریب نہ آجائیں،وقت قریب نہ آجائے(تیزی سےگزرنے لگے)اورهَرْجُ زیادہ نہ ہو جائے۔ پوچھا گیا: هَرْجُ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:قتل
Takhreej
الصحيحة رقم (2772) مسند أحمد رقم (10306)
2714
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عرب کی سر زمین سر سبز اور نہروں والی نہ ہوجائے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (6) صحيح مسلم كِتَاب الزَّكَاةِ بَاب التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ قَبْلَ أَنْ لَا يُوجَدَ مَنْ يَقْبَلُهَا رقم (1681)
2715
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مَرفُوعاً: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ عِرَاضَ الْوُجُوهِ كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ حَتَى يَرْبِطُوا خُيولَهُمْ بِالنَّخْلِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم چھوٹی آنکھوں والی چوڑے چہروں والی قوم سے قتال نہ کر لو۔گویا کہ ان کی آنکھیں ٹڈی کی طرح گول اوران کےچہرے چپٹی ڈھال ہیں، بال سے جوتے پہنیں گے، چمڑے کی ڈھال پکڑے ہوئے ہوں گے۔حتی کہ اپنے گھوڑوں کو کھجور کے درختوں سے باندھیں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (2429) سنن ابن ماجةكِتَاب الْفِتَنِ بَاب التُّرْكِ رقم (4089)
2716
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مَرفُوعاً: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُحَجَّ الْبَيْتُ
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی حتی کہ بیت اللہ کا حج کرنے والا کوئی نہ رہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2430) صحيح البخاري كِتَاب الْحَجِّ بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ...} رقم (1490)
2717
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي مُوسَى: قَالَ: قَالَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : «لَا تَقُوم السَّاعَة حَتَّى يَقْتُل الرَّجُلُ جَارَه وَأَخَاه وَأَبَاه».
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک آدمی اپنے پڑوسی ،بھائی اور والد کو قتل کرنے نہ لگ جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (3185) مصنف ابن أبي شيبة رقم (276) الأدب المفرد للبخاري رقم (118)
2718
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولَ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ مَا بِهِ حُبُّ لِقَاءِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کوئی شخص کسی قبر کے پاس سے گزرے اور تمنا کرے کہ کاش اس کی جگہ میں ہوتا، اسے اللہ عزوجل کی ملاقات کی محبت نہ ہوگی
Takhreej
الصحيحة رقم (578) مسند أحمد رقم (10446)
2719
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَاتَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا عَامًّا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگوں پر عام بارش ہو اور زمین سبزہ نہ اگائے
Takhreej
الصحيحة رقم (2773) مسند أحمد رقم (11979)
2720
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا لَا تُكِنُّ مِنْهُ بُيُوتُ الْمَدَرِ وَلَا تُكِنُّ مِنْهُ إِلَّا بُيُوتُ الشَّعَرِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگوں پر عام بارش ہواس بارش کے پانی سے کوئی گھر بچ نہیں سکے گا نہ مضبوط اینٹوں والا اور نہ بالوں والا (یعنی خیمے وغیرہ)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3266) مسند أحمد رقم (7248)
2721
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِّنَ الْمَوَالِي يُقَالُ لَهُ: جَهْجَاهُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: رات اور دن اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک وہ جہجاہ نامی غلام بادشاہ نہ بن جائے۔(
Takhreej
الصحيحة رقم (2441) صحيح مسلم كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ بَاب لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ...رقم (5183)
2722
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَاتَقُوم السَّاعَة حَتَّى يَبْنِي النَّاس بُيُوتًا يُوشونها وَشْيَ المراحیل.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگ گھر بنا کران میں نقش و نگار نہ کرنے لگ جائیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2773) مسند أحمد رقم (11979)
2723
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن عَمْرو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَقُوم السَّاعَة حَتَى يَتَسَافَدوا فِي الطَّرِيق تَسَافُدَ الْحَمِير قُلْتُ: إِنَّ ذَلِك لكَائِنٌ؟ قال نَعَم لَيَكُونَنّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگ گدھوں کی طرح راستے میں ہی جفتی کرنے نہ لگ جائیں ۔میں نے کہا: کیا ایسا ہوگا؟آپ نے فرمایا: ہاں ایسا ضرور ہوگا
Takhreej
لصحيحة رقم (481) مصنف ابن أبي شيبة رقم (169) صحيح ابن حبان رقم (6892)
2724
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا تَنْتَهِي الْبُعُوثُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يُخْسَفَ بِجَيْشٍ مِنْهُمْ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: لشکر اس گھر(بیت اللہ )سےاس وقت تک جنگ کرنے سے باز نہیں آئیں یہاں تک کہ ان کا ایک لشکر زمین میں دھنسا دیا جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (2432) سنن النسائي كِتَاب مَنَاسِكِ الْحَجِّ بَاب حُرْمَةُ الْحَرَمِ رقم (2829)
2725
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ مَرفُوعاً: لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزَّى فَقَالَتْ عَائِشَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ حِينَ أَنْزَلَ اللهُ: ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ (۳۳) (التوبة) أَنَّ ذَلِكَ تَامًّا قَالَ: إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ:رات اور دن اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک لات اور عزی کی عبادت نہ کی جانے لگے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: (التوبۃ:۳۳) ،”وہ ذات جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے اگرچہ مشرکوں کو یہ بات نا پسند ہی کیوں نہ ہو“۔ تو یہ معاملہ مکمل ہوگیا۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تک اللہ چاہے گا یہ دین غالب رہے گا۔(
Takhreej
الصحيحة رقم (1) صحيح مسلم كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ بَاب لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعْبُدَ دَوْسٌ ذَا الْخَلَصَةِ رقم (5174)
2726
Sahih