ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - Book 21 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation
Book 21 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 226 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
معاذ بن جبلرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: چھ چیزیں قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ میری موت، بیت المقدس کی فتح، اور پھر موت تم میں ایسے شدت سے پھیلے گی جیسے بکریوں میں طاعون پھیلتا ہے۔ ایسا فتنہ جس کی گرمی ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہو جائے گی، اور آدمی کو ایک ہزار دینار دیئے جائیں تب بھی ناراض ہوگا، اور رومی لوگ دھوکہ کریں گے اور اسی(۸۰) جھنڈوں کے نیچے چلے جائیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) لوگ ہوں گے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے حضر موت کے سمندر سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو جمع کرے گی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شام کو لازم کر پکڑنا
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا حَتَّى تُنَجَّدُ الْكَعْبَةُ، قُلْنَا: وَنَحْنُ عَلَى دِينِنَا اليوم؟ قَالَ وَأَنْتُم عَلَى دِيْنِكُم اليَوم، قُلْنَا: فَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ أم الْيَوْمَ؟ قَالَ:بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ.
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عنقریب تم پر دنیاکی دولت کے خزانے کھول دیئے جائیں گےحتی کہ کعبہ کو آراستہ و مزین کیا جائے گا۔ہم نے کہا: کیا ہم اس دن اپنے دین پر ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس دن اپنے دین پر ہو گے۔ ہم نے کہا: ہم آج کے دن بہتر ہیں یا اس دن بہتر ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج بہتر ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (1884) المعجم الكبير للطبراني رقم (17730)
بنی سلیم کے ایک فرد سے مروی ہے وہ اپنے دادا سے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چاندی کا ایک ٹکڑا لائے انہوں نے کہا: یہ ہماری کان کا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسی کانیں ہوں گی جن پر بد بخت ترین لوگ جمع ہوں گے
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی ۔اہل زمین کے بہترین لوگ ابراہیم علیہ السلام کی جائے ہجرت کی طرف آئیں گے،اور زمین پربدترین لوگ باقی رہ جائیں گے۔ ان کی زمین انہیں اگل دے گی۔ اللہ کی ذات انہیں پرا گندہ سمجھے گی، اور آگ انہیں بندروں اور خنزیروں کے ساتھ جمع کرے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (3203) مسند أحمد رقم (6657) المعجم الكبير للطبراني رقم (1538)
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینے آمد پر آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے:اے اللہ کے رسول! میں آپ سے تین باتوں کے بارے میں سوال کروں گا۔جنہیں نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پوچھو، عبداللہ بن سلام نے کہا: قیامت کی پہلی نشانی کونسی ہے؟ اہل جنت سب سے پہلے کیا کھائیں گے ؟ بچہ اپنے ماں باپ کے مشابہہ کیسے ہوتا ہے؟ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبر یل علیہ السلام نے ابھی مجھے ان کے بارے میں بتایا ہے ۔انہوں نے کہا: یہ یہودیوں کا دشمن فرشتہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی پہلی نشانی آگ ہوگی جو مشرق سے نکلے گی اور لوگوں کو مغرب کی طرف جمع کرے گی۔ اور اہل جنت سب سے پہلے مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہوگا، اور بچہ اپنے ماں باپ سے کس طرح مشابہہ ہوتا ہے؟ جب آدمی کا پانی عورت کے پانی سے سبقت لے جائے تو وہ باپ کے مشابہہ ہوجاتا ہے،اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی سے سبقت لے جائے تو وہ ماں کے مشابہہ ہوجاتا ہے ۔ عبداللہ بن سلامرضی اللہ عنہ نے کہا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! یہودی بہتان بازقوم ہے، اگر وہ میرے اسلام لانے کے بارے میں جان لیں تو وہ مجھے آپ کے پاس،دیکھ کر بہتان لگائیں گے ان کی طرف پیغام بھیجئے اور ان سے میرے بارے میں پوچھئے کہ ابن سلام تم میں کس طرح کا آدمی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ عبداللہ بن سلام تم میں کیا مقام رکھتا ہے؟ یہودی کہنے لگے: ہمارے بہترین شخص اور بہترین شخص کے بیٹے، ہمارے عالم اور عالم کے بیٹے اور ہم میں سب سے زیادہ سمجھ دار۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو تمہار اسلام لانے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کہنے لگے: اللہ تعالیٰ انہیں اس سے محفوظ رکھے۔ ابن سلامرضی اللہ عنہ باہر نکلے اور کہنے لگے: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، یہودی کہنے لگے: ہمارے بدترین شخص، بدترین شخص کی اولاد،جاہل اور جاہل کی اولاد ۔ابن سلام نے کہا: یہی وہ بات تھی جس کا مجھے ڈر تھا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3493) صحيح البخاري كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب { مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ } مسند أحمد رقم (11615)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب لوگوں پر بدترین سال آئیں گے جن میں جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور سچے کی تکذیب، اس میں خائن کو امانتدارسمجھا جائے گا اور امین کو خائن اور ان سالوں میں رُوَيْبِضَةُبولیں گے۔ پوچھاگیا: رُوَيْبِضَةُ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کمینہ (نااہل)شخص جو عام لوگوں کے معاملات میں گفتگو کرے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1887) سنن ابن ماجةكِتَاب الْفِتَنِ بَاب شِدَّةِ الزَّمَانِ رقم (4026) مسند أحمد رقم (7571)
عن أبي هُرَيْرَة، قال: سَمعتُ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَقُولُ: «سَيُصِيْبُ أُمَّتِي دَاءُ الْأُمَم» فَقَالُوا: يَا رَسُول الله! وَمَا دَاءُ الْأُمَمِ؟ قال: «الْأَشَر والبَطَر والتَّكَاثُر وَالتَّنَاجُش في الدُّنْيَا وَالتَّبَاغُض وَالتَّحَاسُد حَتَّى يَكُون الْبَغْي».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب میری امت کو داء الامم (امتوں کی بیماری) جکڑ لے گی۔صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول: یہ داء الامم کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: بدگوئی، تکبر، ایک دوسرے سے مال کی کثرت کی خواہش، دنیا میں مقابلہ، بغض،حسد حتی کہ وہ شخص سرکش بن جائے
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے آخر میں ایسے آدمی ہوں گے جوایسی سواریوں پر سوار ہوں گے،جو اونٹ کے کجاوں کے مشابہ ہوں گی،مساجد کے دروازوں پر اتریں گے، ان کی عورتیں کپڑے پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کے کوہان کی مانند ہوں گے، ان پر لعنت کرو کیوں کہ وہ ملعون ہیں، اگر تمہارے بعد کوئی امت ہوتی تو تمہاری عورتیں اسی طرح ان کی خدمت کرتیں جس طرح تم سے پہلے امتوں کی عورتوں نے تمہاری خدمت کی
Takhreej
الصحيحة رقم (2683) مسند أحمد رقم (6786) صحيح ابن حبان رقم (5847)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو مساجد میں حلقے بنا کر بیٹھیں گے،ان کا امام دنیا ہوگی، تم ان کے ساتھ مت بیٹھنا کیوں کہ اللہ کو ان میں کوئی دل چسپی نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1163) المعجم الكبير للطبراني رقم (10300)
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَنْ تَنَالَهُمَا شَفَاعَتِي إِمَامٌ ظَلُومٌ غَشُومٌ وَكُلُّ غَالٍ مَارِقٍ.
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو قسم کے آدمیوں کو میری شفاعت فائدہ نہیں دے گی۔ ظالم دھوکے باز حکمران اور غلو کرنے والادین سے نکل جانے والا
Takhreej
الصحيحة رقم (470) المعجم الكبير للطبراني رقم (8005)
عن مُحَمّد بن عبد الرّحمن بن أبي لَيْلَى عن أَبِيه عن جَدّه مَرْفُوعًا: صِنْفَان من أُمَّتِي لَا يَرِدَانِ عَلَيَّ الْحَوْضَ: الْقَدَرِيَّة وَالمُرجِئَة.
محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی اپنے والد سے وہ ان کے دادا رضی اللہ عنہ سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ: میری امت کے دو قسم کے لوگ حوضِ کوثر پر نہیں آ سکیں گے،قدریہ اور مرجئہ
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: صور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: صور ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (1580) سنن الترمذي كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ بَاب مَا جَاءَ فِي شَأْنِ الصُّورِ رقم (2354)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی کھال کی چوڑائی ستر ہاتھ ہوگی۔ اس کا بازوبیضاء(علاقے کانام) کی مانند اور اس کی ران ورقان(علاقے کانام) کی مانند ہوگی، جہنم میں اس کی (مقعد) یہاں سے لے کر ربذہ تک ہوگی
Takhreej
الصحيحة رقم (1105) سنن الترمذي كِتَاب صِفَةِ جَهَنَّمَ بَاب مَا جَاءَ فِي عِظَمِ أَهْلِ النَّارِ رقم (2501) مسند أحمد رقم (7995)
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سےمروی ہےکہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو إِنَّا لِله وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھ رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!آپ کو کیا ہوا؟ فرمانے لگے: میری امت کا ایک گروہ زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ وہ ایک آدمی ی طرف اکٹھے کئے جائیں گے پھر وہ انہیں مکہ کی طرف لے کر چڑھائی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ مکہ کو ان سے محفوظ رکھے گا۔ اور انہیں دھنسا دیا جائے گا،دھنسائے جانے کی جگہ ایک ہی ہوگی لیکن نکلنے کی جگہیں مختلف ہوں گی۔ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں زبردستی لایا گیا ہوگا تو وہ اپنی زبردستی والی جگہ پر آئیں گے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: مسیح علیہ السلام کے بعد کی زندگی مبارک ہو، مسیح علیہ السلام کے بعد کی زندگی مبارک ہو، آسمان کو بارش برسانے کی اجازت دے دی جائے گی، اور زمین کو سبزہ اگانے کی۔ اگر تم اپنا دانہ صفا پتھر پر بھی ڈالو گے تو وہاں بھی سبزہ اگ آئے گا، نہ مفاد پرستی ہوگی، نہ حسد اور نہ بغض، حتی کہ آدمی شیر کے پاس سے گزرے گا تو اسے نقصان نہیں دے گا اور اگر سانپ کے اوپر پیر آجائے گا تو وہ بھی اسے نقصان نہ دے گا، نہ مفاد پرستی ہوگی نہ حسد اور نہ بغض
Takhreej
الصحيحة رقم (1926) فوائد العراقيين لأبي سعيد رقم (28)
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ مجھ پر ایام پیش کئے گئے،جمعہ پیش کیا گیا تو وہ صاف آئینے کی مانند تھا اور اس کے درمیان میں ایک سیاہ نکتہ تھا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ تو کا گیا:قیامت ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1933) المعجم الأوسط للطبراني رقم (7518)
حذیفہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:(الأعراف: ١٨٧) ”اس کا علم میرے رب کے پاس ہے جسے اس کے وقت پر وہ خود ہی ظاہر کرے گا“۔ لیکن میں تمہیں اس کی نشانیاں بتا دیتا ہوں ۔ اس سے پہلے فتنہ اور هَرَج ہوگا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول فتنہ کے بارے میں تو ہمیں معلوم ہے یہ ہرج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حبشہ کی زبان میں هَرَجْ قتل عام کو کہتے ہیں اور لوگوں کے مابین اجنبیت ڈال دی جائے گی، کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔( )